وزارت خزانہ
خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر نے سیبی کے 38ویں یوم تاسیس کی تقریبات سے کلیدی خطاب کیا
محترمہ نرملا سیتا رمن نے سیبی اور اس کے زیرِ انتظام تمام اداروں کو ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجز کے پیشِ نظر سائبر سکیورٹی اقدامات کو مضبوط بنانے کی تلقین کی
وزیر خزانہ نے کہا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا کو چاہیے کہ وہ عوامی آگاہی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے اور ہر اہم پلیٹ فارم پر علاقائی زبانوں میں معلومات فراہم کرے
مرکزی وزیر خزانہ نے سیبی کی ملک گیر سرمایہ کار آگاہی مہم ’’مشن جاگرُک‘‘ کا بھی آغاز کیا
محترمہ نرملا سیتارمن نے غیر رجسٹرڈ ’’مالیاتی طور پراثر رکھنے والے افراد‘‘ کے خلاف سیبی کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے ذمہ دار مالی معلومات کے فروغ کے لیے مؤثر فریم ورک تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 APR 2026 2:42PM by PIB Delhi
خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج ممبئی میں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کے 38ویں یومِ تاسیس کے پروگرام سے کلیدی خطاب کیا۔
اس موقع پر محترمہ نرملا سیتارمن نے سیبی کی ملک گیر سرمایہ کار آگاہی مہم ’’مشن جاگرُک‘‘ کا بھی ڈیجیٹل طور پر آغاز کیا۔
اپنے کلیدی خطبے میں مرکزی وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن نے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) پر زور دیا کہ وہ ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار رہے، جن میں سب سے اہم سائبر سکیورٹی کے مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بڑے ایکسچینج، ڈپازٹری، کلیئرنگ کارپوریشن یا بڑے بروکر پر ایک بھی کامیاب سائبر حملہ ہو جائے تو یہ قومی سطح پر مارکیٹوں میں خلل ڈال سکتا ہے، سرمایہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور عوامی اعتماد کو اس حد تک متاثر کر سکتا ہے کہ اسے بحال ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔محترمہ سیتارمن نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)پر مبنی ٹولز سائبر حملوں کو زیادہ تیز، زیادہ موافق، زیادہ وسیع اور بعض صورتوں میں خودکار بنا رہے ہیں۔ یہ خطرات مختلف شکلیں اختیار کر سکتے ہیں، جیسے نظام کی کمزوریوں کی خودکار نشاندہی، سورس کوڈ میں مداخلت، سافٹ ویئر سپلائی چین پر حملے اور ایسے مربوط حملے جو بر وقت اپنی حکمت عملی تبدیل کرکے سکیورٹی نظام سے بچ نکلتے ہیں۔ محترمہ سیتا رمن نے مزید کہا کہ’’ایسے حالات میں نہ صرف سیبی بلکہ اس کے زیرِانتظام تمام اداروں کو غیر معمولی چوکسی اختیار کرنا ہوگی۔ حملوں کے طریقے تیزی سے بدل رہے ہیں اور دفاع کے نظام کو اس سے بھی زیادہ تیزی سے ترقی دینا ہوگا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سوشل میڈیا پر جعلی سرمایہ کاری ویڈیوز اور ایپس کی بھرمار ہو گئی ہے، جن میں سے بہت سی ڈیپ فیک اے آئی کے ذریعے رہنماؤں کی نقل کر کے عوام کو گمراہ کرتی ہیں۔
اس تناظر میں مرکزی وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے اپریل 2025 میں نافذ ہونے والے سائبر سکیورٹی اور سائبر ریزیلینس فریم ورک کے ذریعے قابلِ تعریف کام کیا ہے، جو آئندہ مزید اقدامات کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ سیبی کی ڈیٹا اینالیٹکس اور ڈیجیٹل فورینسکس لیبارٹری جدید تجزیاتی طریقوں اور اے آئی / ایم ایل ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے پیچیدہ مارکیٹ ہیرا پھیری اور نیٹ ورک پر مبنی دھوکہ دہی کی نشاندہی کر رہی ہے۔ محترمہ سیتارمن نے’’سیبی چیک‘‘کے اجراء کو بھی سراہا، جو سرمایہ کاروں کو رقم منتقل کرنے سے پہلے رجسٹرڈ بیچولیوں کی ادائیگی کی تفصیلات کی تصدیق کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ اہم اقدامات ہیں اور انہیں فوری طور پر مزید وسعت اور نمایاں تشہیر دی جانی چاہئے‘‘ ساتھ ہی انہوں نے سیبی پر زور دیا کہ وہ عوامی آگاہی کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے، علاقائی زبانوں میں ہر بڑے پلیٹ فارم پر مہم چلائے اور عوامی شخصیات کی نقالی کرنے والے جعلی مواد کے خلاف فوری کارروائی کا نظام قائم کرے۔
محترمہ سیتارمن نے مزید کہا کہ نرم ضابطہ کاری اور عوامی مشاورت معاشی کارکردگی اور مؤثر حکمرانی کے لیے ضروری ہیں۔ اصولوں پر مبنی ضابطہ کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے بجائے اس کے کہ حد سے زیادہ تفصیلی قوانین بنائے جائیں۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ یونین بجٹ 2023 میں واضح کیا گیا تھا کہ ضابطہ سازی کے عمل میں عوامی مشاورت کو شامل کیا جائے گا تاکہ تعمیل کے معیار اور آسانی کو بہتر بنایا جا سکے۔
مرکزی وزیر خزانہ نے سیبی کی جانب سے مشاورتی طریقہ کار اپنانے، عوامی آراء لینے، کمیٹیوں اور مارکیٹ کے شرکاء کے ساتھ رابطہ رکھنے کی کوششوں کو سراہا۔
محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ’’ہمارے سرمایہ کار عالمی ہیں، ہمارے اجرا کنندگان بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ذرائع سے منسلک ہیں، اور کسی ایک بڑے دائرہ اختیار میں ہونے والی ضابطہ جاتی تبدیلی دنیا بھر میں مارکیٹ کے طریقہ کار کو متاثر کرتی ہے۔‘‘ اس لیے ضابطہ جاتی گفتگو صرف ملکی سطح تک محدود نہیں رہ سکتی۔
انہوں نے شکایات کے ازالے کے نظام پر بھی زور دیا، جو قابلِ اعتماد، آسانی سے قابلِ رسائی اور بروقت ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں اعتماد صرف منافع پر نہیں بلکہ اس یقین پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ ناانصافی کا ازالہ منصفانہ طریقے سے کیا جائے گا۔ محترمہ سیتارمن نے غیر رجسٹرڈ ’’مالیاتی طور پر اثر رکھنے والے افراد‘‘ کے خلاف سیبی کی کارروائیوں کو سراہا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ریگولیٹر غیر لائسنس یافتہ مالی مشوروں کو کس سنجیدگی سے لیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں ذمہ دار مالی معلومات کے لیے سازگار فریم ورک کی ضرورت ہے، لیکن ذاتی فائدے کے لیے غیر معلومات یافتہ خردہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کا استحصال کسی صورت برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘
مرکزی وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن نے اس بات کو بھی سراہا کہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نےسرمایہ کار کی معلومات اور تحفظ سے متعلق فنڈ اتھارٹی (آئی ای پی ایف اے) اور دیگر مارکیٹ اداروں کے ساتھ مل کر متعدد مشترکہ ’’نویشک شیوِر‘‘ پروگرامز منعقد کیے ہیں، جن کا مقصد غیر دعویٰ شدہ مالی اثاثوں کو کم کرنا اور اس بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔
مرکزی وزیر خزانہ نے سیبی پر زور دیا کہ وہ بھارتی سیکیورٹیز مارکیٹ میں یکساں کے وائی سی(اپنے صارف کو جانیں) اصولوں کے نفاذ اور کے وائی سی کے عمل کو سادہ اور ڈیجیٹل بنانے میں اہم کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سیبی کے پاس سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد، مضبوط ڈیجیٹل ڈھانچہ، اور دیگر ریگولیٹرز کے درمیان ادارہ جاتی اعتبار موجود ہے، جس کی بنیاد پر وہ اس شعبے میں قیادت کر سکتا ہے۔‘‘
پچھلے برسوں کے دوران سیبی کے مسلسل اصلاحاتی سفرکے بارے میں بات کرتے ہوئے چیئرمین توہین کانت پانڈےنے کہا کہ سیبی نے وقت کے ساتھ کئی بنیادی اصلاحات کی قیادت کی ہے، جن میں اسکرین پر مبنی تجارت کی طرف منتقلی، ڈی میٹریلائزیشن کا نفاذ، رولنگ سیٹلمنٹس کا آغاز، کارپوریٹ گورننس کو مضبوط بنانا اور مؤثر رسک مینجمنٹ نظام قائم کرنا شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھارت میں 5,900 سے زائددرج شدہ کمپنیاں اور 140 ملین سے زیادہ منفرد سرمایہ کار موجود ہیں۔ گزشتہ دہائی میں مارکیٹ کی مجموعی قدر میں تقریباً 15 فیصد کی سالانہ مرکب شرح (سی اے جی آر)سے اضافہ ہوا ہے، جبکہ میوچل فنڈ کے اثاثے ہر سال 20 فیصد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھے ہیں۔ کارپوریٹ بانڈ مارکیٹ بھی مسلسل ترقی کر رہی ہے اور ہر سال پرائمری مارکیٹ تقریباً 10 لاکھ کروڑ روپے کے سرمائے کی تشکیل میں مدد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سیبی نے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ وسیع مشاورت کی ہے تاکہ کاروبار میں آسانی کے لیے وسیع اصلاحات متعارف کرائی جا سکیں، ضوابط کو سادہ اور مؤثر بنایا جا سکے، ابہام کودور کیا جاسکے، مسائل حل کیےسکیں اور سرمایہ اکٹھا کرنے پر زور دیا جاسکے۔
****
ش ح-م ع ۔ر ا
U-No- 6300
(ریلیز آئی ڈی: 2255517)
وزیٹر کاؤنٹر : 11