صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
ہندوستان کی عزت مآب صدر جمہوریہ نےجنوبی کوریا کے صدر کی میزبانی کی
صدرجمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نےکہا کہ ہم ہندوستان کی مہارت ، رفتار اور پیمانے کو یکجا کرکے اور کوریا کی اعلی تکنیکی تیاری میں تجربہ کرکے اپنے نوجوانوں کے لیے متعدد مواقع پیدا کر سکتے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 APR 2026 10:18PM by PIB Delhi
ہندوستان کی صدرجمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو سے جنوبی کوریا کےعزت مآب صدر لی جے میونگ نے آج(20 اپریل 2026) کو راشٹرپتی بھون میں ملاقات کی۔ صدر جمہوریہ نے ان کےاعزاز میں ایک ضیافت کا اہتمام بھی کیا ۔
جنوبی کوریا کے صدر جناب لی جے میونگ کےہندوستان کے پہلے دورے پران کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے ہندوستان-کوریا باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے میں ،بالخصوص کوریا-ہندوستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے سربراہ کے طور پر ان کے اہم تعاون کے لیے بھی ان کی تعریف کی ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ان کی صدارت کے پہلے سال کے اندر ہی ان کا یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ہمارے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں ۔
صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ ہندوستان اور کوریا دونوں متحرک جمہوریتیں ہیں جو مشترکہ اقدار رکھتی ہیں ۔ انہوں نے ہندوستان کی پارلیمنٹ میں حال ہی میں قائم ہونے والے ہندوستان-کوریا پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا ذکر کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہندوستانی پارلیمنٹ اور کوریا کی قومی اسمبلی کے درمیان بات چیت اور تبادلوں کو فروغ حاصل ہو گا ، جس سے باہمی افہام و تفہیم اور اعتماد کو مزید تقویت ملے گی ۔
صدر جمہوریہ کو یہ جان کر بھی خوشی ہوئی کہ دونوں فریقوں نے جہاز سازی ، بندرگاہ کے فروغ ، ڈیجیٹل تعاون ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں ، اسٹیل ، تعلیم ، تحقیق ، ثقافت اور عوام سے عوام کے درمیان رابطوں سمیت متعدد شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے لیے ایک پرجوش ایجنڈا طے کیا ہے ۔ انہوں نے اس بات کابھی تذکرہ کیا کہ دونوں فریقوں نے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان باہمی فائدہ مند تجارتی تعلقات کو آگے لے جانے اور کوریا کے ساتھ مصنوعی ذہانت ، سیمی کنڈکٹر ، الیکٹرانکس ، صاف توانائی ، خدمات اور سیاحت جیسے شعبوں میں تعاون کو مستحکم کرنے کا خواہشمند ہے ۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کے پاس مہارت ، رفتار اور پیمانہ ہے ، جبکہ کوریا کو ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ میں مہارت حاصل ہے ۔ اپنی طاقتوں کو یکجا کرکے ہم اپنے نوجوانوں کے لیے بے شمار مواقع پیدا کر سکتے ہیں ۔
صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ ہندوستان اور کوریا کو انسانیت کے پائیدار مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ماحول کے لیے ساز گار اور صاف توانائی کے ساتھ ساتھ دیگر آب و ہوا سے متعلق ٹیکنالوجیز میں تعاون کے مواقع تلاش کرنے چاہئیں ۔
دونوں لیڈروں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ بھارت اور کوریا کے درمیان قریبی تعاون سے ہمارے لوگوں کو بے پناہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں اور دونوں کو ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھنا ہے ۔ ہمارے لوگ ماحولیات ، اختراع ، تعلیم ، ہنر مندی کے فروغ اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں مل کر کام کر کےاس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔
صدر جمہوریہ کی تقریر دیکھنے کے لیے براہ کرم یہاں کلک کریں -




*****
( ش ح ۔ ش م۔اش ق)
U. No. 6103
(ریلیز آئی ڈی: 2254036)
وزیٹر کاؤنٹر : 8