لوک سبھا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

اٹھارھوں لوک سبھا کے ساتویں اجلاس کے دوران ایوان کی کارکردگی تقریباً 93 فیصد رہی: لوک سبھا اسپیکر


ساتویں اجلاس کے دوران لوک سبھا کے 31 اجلاس منعقد ہوئے، جو مجموعی طور پر 151 گھنٹے 42 منٹ جاری رہے: لوک سبھا اسپیکر

مرکزی بجٹ 27-2026 پرعام  بحث تقریباً 13 گھنٹے جاری رہی اور 63 ارکان نے اس بحث میں حصہ لیا: لوک سبھا اسپیکر

آئین (ایک سو اکتیسویں ترمیم) بل، 2026؛ یونین ٹیریٹریز لاز (ترمیمی) بل، 2026؛ اور حدبندی  بل، 2026 پر 21 گھنٹے 27 منٹ تک بحث ہوئی اور 131 ارکان نے اس میں حصہ لیا: لوک سبھا اسپیکر

لوک سبھا میں 12 سرکاری بل پیش کیے گئے جن میں سے 9 بل منظور کیے گئے: لوک سبھا اسپیکر

اٹھارھویں  لوک سبھا کے ساتویں اجلاس کے دوران عوامی اہمیت کے 326 معاملات اٹھائے گئے: لوک سبھا اسپیکر

اٹھارھویں  لوک سبھا کا ساتواں اجلاس اختتام پذیر ہوا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 APR 2026 3:22PM by PIB Delhi

اٹھارھویں  لوک سبھا کے ساتویں اجلاس کا آغاز 28 جنوری 2026 کو ہوا اور یہ اجلاس آج اختتام پذیر ہوا۔

اس موقع پر جناب اوم برلا نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اجلاس کے دوران 31 نشستیں منعقد ہوئیں، جو مجموعی طور پر تقریباً 151 گھنٹے 42 منٹ جاری رہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے دوران ایوان کی کارکردگی 93 فیصد رہی۔

جناب برلا نے مطلع کیا کہ معزز صدرِ جمہوریہ ہند نے 28 جنوری 2026 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان سے خطاب کیا اور صدر کے خطاب پر اظہارِ تشکر کی بحث تقریباً 2 گھنٹے 46 منٹ تک جاری رہی ۔

وزیر خزانہ نے 1 فروری 2026 کو ایوان میں مرکزی بجٹ 2027-2026 پیش کیا۔ بجٹ پر عام  بحث تقریباً 13 گھنٹے جاری رہی اور اس میں 63 ارکان نے حصہ لیا۔ وزیر خزانہ نے اس بحث کا جواب 11 فروری 2025 کو دیا۔

متعدد وزارتوں/محکموں کے مطالباتِ زر پر 16 سے 18 مارچ 2026 کے دوران ایوان میں بحث ہوئی، جس کے بعد انہیں منظور کر لیا گیا۔ اخراجات سے متعلق بل  18 مارچ 2026 کو منظور کیا گیا جبکہ فنانس بل 25 مارچ 2026 کو منظور ہوا۔

جناب برلا نے مزید بتایا کہ اجلاس کے دوران 12 سرکاری بل پیش کیے گئے جن میں سے 9 منظور ہوئے۔ منظور ہونے والے اہم بلوں میں شامل ہیں:

  1. صنعتی تعلقات سے متعلق کوڈ (ترمیمی) بل، 2026
  2. تیسری صنف  کے حقوق (تحفظ) ترمیمی بل، 2026
  3. فنانس بل، 2026
  4. قرض کی نادہندگی اور دیوالیہ پن سے متعلق کوڈ (ترمیمی) بل، 2026
  5. آندھرا پردیش تنظیمِ نو (ترمیمی) بل، 2026
  6. جن وشواس (ترمیمی دفعات) بل، 2026
  7. مرکزی مسلح پولیس افواج (عمومی انتظامیہ) بل، 2026

اس موقع پر جناب برلا نے یہ بھی بتایا کہ آئین (ایک سو اکتیسویں ترمیم) بل، 2026؛ یونین ٹیریٹریز لاز (ترمیمی) بل، 2026؛ اور حدبندی بل، 2026 پر 16 اور 17 اپریل 2026 کو ایوان میں بحث ہوئی، جو 21 گھنٹے 27 منٹ تک جاری رہی۔ ان تین بلوں پر 131 ارکان نے حصہ لیا۔ تاہم آئینی ترمیمی بل ایوان سے منظور نہیں ہو سکا۔

جناب اوم برلا نے مزید بتایا کہ 23 مارچ 2026 کو وزیر اعظم نے مغربی ایشیا میں جاری محاذ آرائی اور بھارت کے سامنے ابھرتے ہوئے چیلنجز کے حوالے سے ایک بیان دیا۔

اجلاس کے دوران 126 سوالات کے زبانی جواب دیے گئے۔ ارکان نے  وقفۂ صفر  کے دوران عوامی اہمیت کے کل 326 معاملات اٹھائے، جبکہ رول 377 کے تحت 650 معاملات پر کارروائی کی گئی۔

جناب برلا نےاطلاع دی کہ 73 رپورٹس متعلقہ محکموں کی قائمہ کمیٹیوں کی جانب سے پیش کی گئیں اور ایوان میں مجموعی طور پر 2089 دستاویزات رکھے گئے۔

مورخہ30 مارچ 2026 کو رول 193 کے تحت ’’ملک کو بائیں بازو کی انتہاپسندی سے آزاد کرانے کی کوششیں‘‘ کے موضوع پر ایک مختصر دورانیے کی بحث ہوئی۔ یہ بحث 6 گھنٹے 7 منٹ جاری رہی اور اس میں 36 ارکان نے حصہ لیا۔ بحث کا اختتام مرکزی وزیر داخلہ کے جواب کے ساتھ ہوا۔

جناب برلا نے یہ بھی بتایا کہ 16 اپریل 2026 کو صدر نشیں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بھارت کے 500 میگاواٹ پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر نے کامیابی کے ساتھ پہلی بارکام کرنا شروع کردیا ہے ، جو ایک اہم سائنسی سنگ میل ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس اجلاس کے دوران ارکان نے 18 بھارتی زبانوں میں 181 بیانات دیے، جن کا بیک وقت ترجمہ کامیابی کے ساتھ کیا گیا۔

************

 

ش ح-ا ع خ   ۔ر  ا

U-No- 6011


(ریلیز آئی ڈی: 2253308) وزیٹر کاؤنٹر : 6