وزیراعظم کا دفتر
راجیہ سبھا میں وزیراعظم کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 APR 2026 1:13PM by PIB Delhi
عزت مآب چیئرمین صاحب،
میں ایوان کی طرف سے اور اپنی جانب سے جناب ہری ونش جی کو دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے طور پر مسلسل تیسری بار منتخب ہونا بذات خود اس ایوان کا آپ کے تئیں گہرے اعتماد کا اظہار ہے۔ گزشتہ عرصے میں آپ کے تجربے سے اس ایوان کو جو فائدہ پہنچا ہے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی آپ کی جو کوشش رہی ہے، اس پر آج ایوان نے ایک طرح سے مہرثبت کر دی ہے۔ یہ دراصل تجربے کا احترام ہے، آپ کے سادہ اور منظم طرزعمل کی قدر ہے اور اسی طرز عمل کی قبولیت بھی ہے۔ہم سب نے جناب ہری ونش کی قیادت میں ایوان کی طاقت کو مزید مؤثر ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ وہ صرف ایوان کی کارروائی چلانے تک محدود نہیں رہتے ،بلکہ اپنی زندگی کے ماضی کے تجربات کو بھی بہت درست انداز میں ایوان کی بہتری اور اسے مزید مالا مال کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا یہ تجربہ پوری کارروائی، نظام اور ایوان کے ماحول کو مزید پختہ بناتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ ڈپٹی چیئرمین صاحب کی نئی مدت کار بھی اسی جذبے، توازن اور لگن کے ساتھ آگے بڑھے گی اور ہم سب کی کوششوں سے ایوان کے وقار کو نئی بلندی حاصل ہوگی۔
عزت مآب چیئرمین صاحب،
جناب ہری ونش جی کی پیدائش اتر پردیش کے ایک گاؤں میں ہوئی اور اپنی دیہی پس منظر کی وجہ سے وہ طالب علمی کے زمانے سے ہی اپنے گاؤں کی ترقی کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہے ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ کاشی میں ہوا۔ ان تمام موضوعات پر ماضی میں مجھے بولنے کا موقع ملا تو میں کافی کچھ کہہ چکا ہوں، اس لیے میں آج ان باتوں کو دوہرا نہیں رہا۔البتہ ایک بات کا ذکر آج ضرور کرنا چاہوں گا۔ آج 17 اپریل ہے اور 17 اپریل 1927 ہمارے سابق وزیر اعظم چندر شیکھر جی کا یوم پیدائش بھی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ آج ہی 17 اپریل کو آپ جب تیسری بار اس ذمہ داری کو سنبھالنے جا رہے ہیں اور وہ بھی چندر شیکھر جی کا یوم پیدائش کا ہی دن اور چندر شیکھر جی کے ساتھ آپ کا تعلق، ان کے ساتھ آپ کی وابستگی اور ایک طرح سے آپ کا ان کے ساتھ ان کے پورے دور میں ہم سفر رہنا—یہ سب ایک بہت بڑا اتفاق ہے۔آپ نے چندر شیکھر جی کی زندگی پر کتابیں بھی لکھی ہیں اور ان کی وسیع زندگی کو نئی نسل تک پہنچانے کا بہت اہم کام بھی کیا ہے۔ اس لیے آپ کے لیے یہ ایک نہایت خاص موقع بن جاتا ہے کہ چندر شیکھر جی کے یوم پیدائش پر آپ کی تیسری مدت کار کا آغاز ہو رہا ہے۔ جناب ہری ونش کا عوامی زندگی کا سفر صرف پارلیمانی امور تک محدود نہیں رہا۔ صحافت کے اعلیٰ معیارات آج بھی ایک مثال کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان کی طویل صحافتی زندگی رہی ہے، لیکن انہوں نے ہمیشہ صحافت میں اعلیٰ معیار کو بنیاد بنایا۔ہم سب جانتے ہیں کہ ان کی تحریر میں دھار(اثر) ہے، لیکن ان کی گفتگو اور رویّے میں ہمیشہ نرمی اور شائستگی پائی جاتی ہے۔ جب میں گجرات میں تھا، تب بھی میں ان کے مضامین پڑھنے کا عادی تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ وہ اپنے مؤقف کو مضبوطی سے پیش کرتے ہیں اور محسوس ہوتا تھا کہ اس میں گہرے مطالعے کا نچوڑ موجود ہے۔انہوں نے صحافت کے ذریعے عام آدمی تک پہنچنے کی مسلسل کوشش کی اور اس میں کامیابی بھی حاصل کی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایوان میں بھی چاہے پالیسی ہو یا طریقہ کار، ان کے خیالات کا اثر کہیں نہ کہیں ضرور نظر آتا ہے، جو ہمارے لیے ایک خوشگوار تجربہ ہے۔وہ سماج کی حقیقی صورتحال کے ساتھ گہری وابستگی کے ساتھ کام کرنے والے شخص ہیں۔ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ چاہے لوک سبھا ہو یا راجیہ سبھا، نئے ممبران پارلیمنٹ آتے ہیں، وہ جناب ہری ونش جی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور ان سےبہت کچھ باتیں کر کے جان سکتےہیں،کیونکہ جب وہ صحافت میں تھے تو ان کا ایک کالم شائع ہوتا تھا، جس کا عنوان تھا کہ ’ہماراممبر پارلیمنٹ کیسا ہو، ہمارا رکن پارلیمان کیسا ہونا چاہیے‘۔ شاید اس وقت انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ کبھی خود انہیں بھی ایوان میں بیٹھنا پڑے گا، لیکن وہ یہ سب لکھتے تھے اور ان کی باتوں میں بڑی وسعت ہوتی تھی۔ایوان کا وقار، ارکان کی ذمہ داری اور ان کے اخلاق و کردار کے حوالے سے ان کا مطالعہ بہت گہرا تھا اور ان باتوں سے آج ہمارے ایوان کے ساتھی ان کے ساتھ بیٹھ کر بہت کچھ جان سکتے ہیں، سیکھ سکتے ہیں۔وقت کی پابندی، نظم و ضبط والی زندگی اور اپنے فرائض کے بارے میں سنجیدگی آپ کی نمایاں خصوصیات رہی ہیں اور شاید اسی وجہ سے آپ ایک ہمہ گیر طور پر قابل قبول شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔ہم نے دیکھا ہے کہ جب سے وہ راجیہ سبھا کے رکن بنے ہیں وہ پورا وقت ایوان میں موجود رہتے ہیں۔ چیئرمین صاحب کی عدم موجودگی میں ایوان کو سنبھالنے کا کام تو وہ کرتے ہی ہیں، لیکن باقی وقت میں بھی یہاں جب کسی کمیٹی کے ارکان بیٹھے ہوں ،تب بھی وہ ایوان میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ وہ ہر بات کو غور سے سنتے ہیں، اس وقت ایوان کی جو کارروائی چل رہی ہوتی ہے اس پر بھی نظر رکھتے ہیں اور ان کے کام کو بھی دیکھتے ہیں۔ یہ سب ان کی اپنی ذمہ داری کے احساس اور اپنے فرائض کے تئیں ان کی گہری وابستگی کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے اور یہ ہم سب کے لیے سبق آموز باتیں ہے، میں نے دیکھا ہے کہ وہ اپنا پورا وقت انہی امور کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین صاحب،
ڈپٹی چیئرمین کے طور پر انہوں نے ایوان کو کس طرح چلایا اوربطور رکن ایوان انہوں نے کیا کردار ادا کیا—اس پر ہم فطری طور پر ایک مثبت گفتگو کرتے رہتے ہیں، لیکن ایوان کے باہر، عوام کے درمیان وہ اپنے جمہوری اور سماجی فرائض کس طرح انجام دیتے ہیں، یہ بھی ہماری عوامی زندگی سے وابستہ شخصیات کے لیے واقعی توجہ طلب پہلو ہے اور ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے۔میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ ان کا کام نہ صرف قابل تعریف ہے ،بلکہ قابل تقلید بھی ہے۔ ہمارا ملک ایک نوجوان ملک ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ جناب ہری ونش جی نے اپنا زیادہ تر وقت نوجوانوں کے درمیان گزارنا پسند کیا ہے۔وہ نوجوانوں میں مسلسل سنجیدہ موضوعات پر آگاہی پیدا کرتے ہیں تاکہ ایک طرح سے عوامی تعلیم کا سلسلہ جاری رہے۔ وہ یہ کام مسلسل کرتے رہتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کا ملک بھر میں سفر جاری رہتا ہے۔اگرچہ انہیں میڈیا کی توجہ میں زیادہ رہنے کا شوق نہیں ہے، لیکن ان کے دوروں اور پروگراموں کا سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے۔ 2018 میں جب انہوں نے راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کا کردار سنبھالا، تب سے میری معلومات کے مطابق انہوں نے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 350 سے زائد پروگرام کیے ہیں۔یہ ایک بہت بڑا کام ہے—ملک کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں 350 سے زیادہ پروگرام، وہاں جانا، طلبہ کے ساتھ بیٹھنا، بات چیت کرنا، موضوعات کی تیاری کرنا—یہ سب اپنے آپ میں ایک وسیع اور منظم کوشش ہے۔ آپ نے نوجوانوں سے جڑنے کے مقصد کو کبھی نظر انداز نہیں ہونے دیا۔“وکست بھارت” کا خواب نوجوانوں کے لیے کیوں ضروری ہے، اس بنیادی موضوع کو آپ مختلف انداز میں طلبہ کے مزاج کے مطابق بیان کرتے رہتے ہیں۔ طلبہ اور نوجوانوں میں خوداعتمادی کیسے پیدا ہواور مایوسی سے وہ ہمیشہ دور رہیں، ان سارے موضوعات پر وہ تبادلہ خیال کرتے ہیں۔آپ کچھ تاریخی حوالوں کے ساتھ یہ بات سمجھاتے ہیں کہ ہم کن وجوہات کی بنا پر اتنی تیزی سے ترقی نہیں کر سکے جتنی کرنی چاہیے تھی، لیکن اب کون سے مواقع موجود ہیں اور کس طرح ملک بڑی چھلانگ لگا سکتا ہے—یہ سب آپ نوجوانوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں۔آج کل ملک میں لٹریچر فیسٹیولز کا ایک بڑا سلسلہ چل پڑا ہے اور اب یہ ٹیئر-2 اور ٹیئر-3 شہروں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ ان لٹریچر فیسٹیولز میں بھی جناب ہری ونش جی اکثر شرکت کرتے ہیں اور وہاں کے معاشرے اور طبقے کو اپنے خیالات سے متاثر اور راغب کرتے رہتے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین صاحب،
میں نے ان کی زندگی کا ایک واقعہ سنا ہے، ممکن ہے عوامی طور پر میری معلومات مکمل طور پر درست نہ ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ 1994 میں جناب ہری ونش جی نے پہلی بار بیرون ملک کا سفر کیا اور وہ امریکہ گئے۔جب وہ امریکہ گئے تو اپنے تمام پروگراموں کے علاوہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کہیں اور جانا چاہتے ہیں یا کچھ اور کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر انہوں نے درخواست کے ساتھ کہا کہ چونکہ یہ ایک ترقی یافتہ ملک ہے، اس لیے وہ اس کی یونیورسٹیوں کو دیکھنا اور سمجھنا چاہتے ہیں اور یہ جاننا چاہتا ہوں کہ وہاں ایسا کون سا تعلیمی نظام اور کلچر ہے ،جس کی وجہ سے یہ ملک اس قدر ترقی کر رہا ہے اورانہوں نے امریکہ کے اپنے دورے میں اپنے طے شدہ پروگراموں کے علاوہ زیادہ تر وقت یونیورسٹیوں میں گزارا اور وہاں کے نظام کا مطالعہ کیا۔یعنی ان کے دل میں یہ جستجو تھی کہ اگر ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں سے جو نکلتا ہے، تو ہندوستان کی یونیورسٹیاں بھی ایسی ہونی چاہئیں، تاکہ’وکست بھارت‘کا خواب بھی وہیں سے تشکیل دیا جا سکے۔
عزت مآب چیئرمین صاحب،
ممبران پارلیمنٹ کےایم پی ایل اے ڈی فنڈ کے حوالے سے کافی بحث ہوتی رہتی ہے اور یہ ایک اہم موضوع بھی رہتا ہے۔ اراکین پارلیمان کے درمیان بعض اوقات یہ بحث بھی ہوتی ہے کہ ایم پی ایل اے ڈی فنڈ اتنا ہے، جبکہ ایم ایل اے فنڈ زیادہ ہے، اس پر بھی گفتگو ہوتی رہتی ہے،لیکن ایم پی فنڈ کا استعمال کیسے ہونا چاہیے،ایم پی ایل اے ڈی فنڈ کے بارے میں جناب ہری ونش جی کے خیالات کو میں نے خود بھی سنا ہے اور میں اس سے متاثر ہوا ہوں۔ تاہم ہماری بھی کچھ مجبوریاں رہی ہیں، شاید ہم ان کی توقعات کے مطابق اس کو مکمل طور پر نافذ نہیں کر سکے، کیونکہ اس طرح کے معاملات میں سب کو ساتھ لے کر چلنا کچھ مشکل ہوتا ہے،لیکن انہوں نے اپنی اس ذمہ داری کو جس طرح نبھایا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب نے دیکھا ہے۔ انہوں نےایم پی ایل اے ڈی فنڈ کو اپنے خیالات کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کے لیے استعمال کیا، جس میں تعلیم اور نوجوان نسل ہمیشہ مرکز میں رہی۔انہوں نےایم پی ایل اے ڈی فنڈ کے استعمال میں ایک مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں ایسے مطالعاتی مراکز قائم کیے ،جن کا اثر طویل عرصے تک رہنے والا ہے اور ان منصوبوں میں انہوں نے مسئلے کے حل اور تحقیق کو مرکز میں رکھا۔مثال کے طور پر معدوم ہوتی ہوئی ہندوستانی زبانوں کے تحفظ کے لیے انہوں نے آئی آئی ٹی پٹنہ میں ایک مطالعاتی مرکز کے قیام کے لیے ایم پی ایل اے ڈی فنڈ استعمال کیا، جو وہاں مسلسل کام کر رہا ہے۔ انہوں نے ایک اور اہم کام بھی کیا ہے۔ بہار کے کچھ ایسے علاقے ہیں ،جہاں شدید زلزلہ کا خطرہ رہتا ہے اور اگر نیپال میں بھی کوئی معمولی زلزلہ آ جائے تو یہ علاقے متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے ایم پی ایل اے ڈی فنڈ کے ذریعے “سینٹر فار ارتھ کوئیک انجینئرنگ” کے نام سے ایک تحقیقی و مطالعاتی مرکز قائم کروایا ہے، جہاں مسلسل تحقیق اور مطالعہ جاری ہے۔ہم جانتے ہیں کہ جیسا میں نے پہلے ذکر کیا، جے پرکاش جی کا گاؤں سیتاب دیارا ہے اور جناب ہری ونش جی بھی وہیں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ گاؤں گنگا اور گھاگرا ندیوں کے درمیان واقع ہے، جہاں پانی کے باعث کٹاؤ کا مسئلہ ہمیشہ رہتا ہے۔ دریا کا رخ بدلتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے کافی تباہی بھی ہوتی رہتی ہے۔اس مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے ایم پی ایل اے ڈی فنڈ کے ذریعے پٹنہ کی آریہ بھٹہ نالج یونیورسٹی میں اس کے سائنسی مطالعے کے لیے ایک دریائی تحقیقاتی مرکز قائم کروایا ہے۔ اسی طرح پٹنہ کے چندرگپت مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں وہ بزنس انکیوبیشن اینڈ انوویشن سینٹر قائم کر رہے ہیں اور موجودہ دور میں اے آئی کو مدنظر رکھتے ہوئے مگدھ یونیورسٹی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔یعنی ایم پی ایل اے ڈی فنڈ کو ایک واضح اور بامقصد سمت میں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے، اس کی ایک بہترین مثال آپ نے پیش کی ہے۔
عزت مآب چیئرمین صاحب،
ہم سب نے یہ تجربہ کیا ہے کہ جب لوگ اپنے گاؤں سے ہجرت کر کے کسی دوسرے شہر میں چلے جاتے ہیں تو زندگی میں کسی حد تک اپنے گاؤں سے کٹ جاتے ہیں، لیکن جناب ہری ونش جی کی زندگی آج بھی اپنے گاؤں سے جڑی ہوئی ہے، وہ مسلسل اپنے گاؤں سے وابستہ رہتے ہیں۔ وہ وہاں کے خوشی اور غم کے ساتھی بن کر اپنی طرف سے جو بھی حصہ ڈال سکتے ہیں، وہ کرتے رہتے ہیں۔
عزت مآب چیئرمین صاحب،
جس پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں ہم بیٹھے ہیں، اس کے تعمیراتی کام کے دوران مجھے ان کے ساتھ قریب سے کام کرنے کا موقع ملا اور میں یہ محسوس کرتا تھا کہ جو خیالات میرے ذہن میں آتے تھے، میں ہری ونش جی سے کہتا تھا کہ اگر ہم ایسا کریں تو کیسا رہے گا، تو وہ دو دن کے اندر اسے بالکل مکمل اور درست شکل میں لے آتے تھے۔کہیں نام رکھنا ہو، یا اس ایوان کی پہچان کس طرح قائم کی جائے—اس حوالے سے انہوں نے پارلیمنٹ کی تعمیر میں، اس کی آرٹ گیلری میں، مختلف دروازوں کے نام رکھنے میں، یعنی ہر لحاظ سے ایک ساتھی کے طور پر بہت اہم کردار ادا کیا۔یہ میرے لیے ایک نہایت خوشگوار اور یادگار تجربہ رہا۔
عزت مآب چیئرمین صاحب،
ہم نے جناب ہری ونش جی کی ایوان کو چلانے کی مہارت کو بخوبی دیکھا ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں، قانون ساز کونسلوں اور وہاں کے پریزائیڈنگ افسران کی معاونت اور رہنمائی کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ان کی تربیت کے لیے ضروری کاموں میں بھی کافی وقت دیا ہے اور مسلسل ان کے لیے وقت نکالتے رہے ہیں۔انہوں نے کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن میں بھی ہندوستان کے جمہوری نظام کی ایک مضبوط جھلک پیش کرنے میں بہت فعال کردار ادا کیا ہے۔مجھے پورا یقین ہے کہ اکیسویں صدی کے اس دوسرے حصے میں یہ ایوان ملک کی ترقی اور اہداف کے حصول میں بھرپور کردار ادا کرے گا۔مجھے پورا یقین ہے کہ ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے میں،ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں ایوان کے ذریعہ بہت کچھ ہوگااور اس وجہ سے ایوان کے سربراہ کی ذمہ داری بھی نہایت اہم ہوتی ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم سب ساتھی آپ کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے مسلسل تعاون کرتے رہیں گے اور اس بات کا خیال رکھیں گے کہ آپ کے کام کو مشکلات میں تبدیل نہ ہونے دیں، تاکہ آپ بہتر نتائج حاصل کر سکیں۔ مجھے یقین ہے کہ سب لوگ اس ذمہ داری کو نبھائیں گے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ سب کچھ ’ہری کرپا‘پر منحصر ہے اور ’ہری‘یہاں کے بھی ہیں، وہاں کے بھی ہیں اور یہیں موجود رہیں گے۔ لہٰذا’ہری کرپا‘ برقرار رہے۔اسی امید کے ساتھ میں آپ کو دل کی گہرائیوں سےبہت سی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ!
******
ش ح ۔م ع ن۔ن ع
U. No.5887
(ریلیز آئی ڈی: 2253012)
وزیٹر کاؤنٹر : 8