کامرس اور صنعت کی وزارتہ
مغربی ایشیا کی صورتحال کے پیش نظر پیکیجنگ، لاجسٹکس اور شپنگ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے محکمہ تجارت اوربندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کی وزارت کی اعلیٰ سطحی میٹنگیں
تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے، متعلقہ فریقین کے خدشات دور کرنے اور سپلائی چینز کو مستحکم بنانے کے لیے مربوط کوششیں کی گئیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 APR 2026 5:40PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اپنی فعال اور مربوط حکمت عملی کو جاری رکھتے ہوئے اسٹیک ہولڈروں کے ساتھاعلیٰ سطحی مشاورت کا انعقاد کیا ہے، تاکہ ہندوستان کی تجارت اور برآمدات کے نظام کو متاثر کرنے والے لاجسٹکس، پیکیجنگ اور شپنگ سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔
اس سلسلے میں دو اہم میٹنگیں منعقدکی گئیں، جن میں سے ایک کی صدارت محکمہ تجارت کے سکریٹری نے کی جبکہ دوسری میٹنگ بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں (ایم او پی ایس ڈبلیو) کی وزارت کے سکریٹری اور محکمہ تجارت کے سکریٹری کی مشترکہ صدارت میں ہوئی۔ ان میٹنگوں میں اعلیٰ حکام، بندرگاہوں سے متعلق اداروں، شپنگ ایجنسیوں، برآمدات کے فروغ کی کونسلز(ای پی سی ایز)، صنعتی نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقین نے شرکت کی۔
محکمہ تجارت کے سیکریٹری کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ میں پیکیجنگ مواد اور اس سے متعلقہ خام مال کی سپلائی میں رکاوٹوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر توجہ مرکوز کی گئی۔ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی پیش رفت پولیمرز اور ریزنز جیسے اہم پیٹرو کیمیکل خام مال کی دستیابی اور قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں پیکیجنگ مواد کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صنعتی نمائندوں نے اہم خام مال کی قیمتوں میں اضافے کو اجاگر کیا، جس سے خاص طور پر بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانی سطح کی صنعتوں(ایم ایس ایم ای ایز) پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
شعبہ جاتی معلومات کے مطابق سپلائی چینز میں دباؤ، لاجسٹکس کی رکاوٹیں اور بڑھتی ہوئی لاگتیں ملبوسات، لیدر، ٹیلی کام/آپٹیکل فائبر اور طبی آلات جیسے شعبوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اسٹیک ہولڈرز نے حکومت ہند کی جاری کوششوں کو سراہتے ہوئے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ اہم خام مال جیسے ایل این جی، ہیلیئم اور پیٹرو کیمیکل مشتقات کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنایا جائے، ساتھ ہی لیکویڈیٹی بہتر بنانے کے لیے جی ایس ٹی ریفنڈز کی جلد ادائیگی بھی ضروری ہے۔
مسئلے کی بین القطاعی نوعیت کو تسلیم کرتے ہوئےمحکمہ تجارت کے سکریٹری نے حکومت کی جاری کوششوں پر زور دیا کہ اہم خام مال کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور پیداوار کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پیکیجنگ سے متعلق اہم خام مال کا وقت مقررہ کے اندر جائزہ لیا جائے، جس میں ملکی پیداواری صلاحیت کی نشاندہی اور درآمدی انحصار کا تعین شامل ہو۔ انہوں نے بتایا کہ برآمدات و درآمدات کے رجحانات اور شعبہ جاتی دباؤ کے اشاریوں کی ہفتہ وار بنیاد پر نگرانی کے لیے ایک منظمنگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے گا۔ صنعت اور برآمدات کے فروغ کی کونسلز کے ساتھ باقاعدہ مشاورت جاری رہے گی تاکہ ابھرتے ہوئے چیلنجز کی نشاندہی کی جا سکے اور بروقت اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔
دوسری میٹنگ بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں(ایم او پی ایس ڈبلیو) کے سکریٹری اور محکمہ تجارت کے سکریٹرکی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے اٹھائے گئے لاجسٹکس اور شپنگ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ایک تعمیری پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔ اس میٹنگ میں بالواسطہ ٹیکسز اور کسٹمز کے مرکزی بورڈ(سی بی آئی سی) کے چیئرمین اور دیگر کسٹمز حکام نے بھی شرکت کی، جس سے جامع اور مربوط گفتگو کو یقینی بنایا گیا۔
شپنگ محکمہ ک سکریٹری نے مختلف امور کا احاطہ کیا، جن میں دستاویزی کارروائیاں، بیک ٹو ٹاؤن اور ٹرانزٹ کارگو کے معاملات، شپنگ لائنز کی جانب سے دی جانے والی سہولیات، فضائی مال برداری کے اخراجات، ریلوے رعایات اور بنکر فیول کی دستیابی شامل تھے، جو عملی چیلنجز کے حل کے لیے ایک فعال اور پیشگی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسٹیک ہولڈرز کو جہازوں کی دستیابی، کارگو ہینڈلنگ اور ٹرانس شپمنٹ کی موجودہ عملی صورتحال سے آگاہ کیا گیا، جس میں کارگو کی ہموار نقل و حرکت رپورٹ کی گئی اور کسی بڑی رکاوٹ کا مشاہدہ نہیں کیا گیا، جو نظام کی مضبوطی اور لچک کو ظاہر کرتا ہے۔
سی بی آئی سی کے چیئر مین نے بندرگاہوں پر کارگو کی کلیئرنس کے عمل کو ہموار بنانے کے لیے کیے گئے مختلف اقدامات سے آگاہ کیا۔
خطرناک کارگو سے متعلق امور پر مثبت انداز میں گفتگو کی گئی اور کسٹمز نے طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ڈسٹفنگ سے متعلق مخصوص کیسز کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔
مختلف اسٹیک ہولڈرز نے مزید بتایا کہ شپنگ لائنز کی جانب سے فوائد منتقل نہ کرنے سے متعلق مسائل کو فعال طور پر حل کیا جا رہا ہے۔
مستقبل میں کسی بھی مسئلے کے بروقت اور مؤثر حل کے لیے برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ مخصوص کیسز کی بنیاد پر مسائل رپورٹ کریں تاکہ فوری اقدامات کیے جا سکیں۔
میٹنگوں کے بعد بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں(ایم او پی ایس ڈبلیو) کی وزارت نے تمام بندرگاہوں اور ٹرمینل آپریٹرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ شفافیت اور عملی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ان اقدامات میں کارگو اور جہازوں کو دی جانے والی رعایتوں اور چھوٹ کی اشاعت، بنکر فیول کی دستیابی کا جائزہ اور پھنسے ہوئئے کنٹینرز کی فوری نکاسی شامل ہیں، تاکہ پورے نظام میں کارکردگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے پیش رفت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ عملی چیلنجز کا فوری اور مؤثر حل یقینی بنایا جا سکے۔ مختلف وزارتوں کے درمیان یہ مربوط حکمت عملی ہندوستان کے تجارتی نظام کو زیادہ مضبوط بنا رہی ہے، رکاوٹوں کو کم کررہی ہے اور موجودہ بدلتی ہوئی صورتحال میں تجارت اور صنعت کو فعال طور پر سہارا فراہم کر رہی ہے۔
محکمہ تجارت ، بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کی وزارت اور بالواسطہ ٹیکسز و کسٹمز کا مرکزی بورڈ(سی بی آئی سی) متعلقہ وزارتوں اور صنعتی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے ذریعے تمام ضروری اقدامات جاری رکھیں گے تاکہ لاجسٹکس کے ہموار آپریشنز کو یقینی بنایا جا سکے اور قومی تجارتی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
*****
ش ح۔م ع ن۔ ش ب ن
U-NO.5689
(ریلیز آئی ڈی: 2250903)
وزیٹر کاؤنٹر : 11