نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے سندھی زبان میں آئین ہند کا اجرا کیا
نائب صدر جمہوریہ نےسندھی اجرا کی تقریب میں آئین کو ہندوستان زبانوں میں دستیاب کرانے کی کوششوں کو سراہا
’زبانیں ثقافت، روایت اور شناخت کی علمبردار ہوتی ہیں‘: نائب صدرجمہوریہ
’مادری زبان میں آئین شہریوں کو بااختیار بناتا ہے‘: نائب صدرجمہوریہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 APR 2026 1:48PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج اپ راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران آئین ہند کے سندھی زبان میں جدید ترین ورژن کا اجرا کیا، جو دیوناگری اور فارسی دونوں رسم الخط میں دستیاب ہے۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے سندھی زبان بولنے والی برادری کو سندھی بھاشا دیوس کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے سندھی کو قدیم ترین اور نہایت شیریں زبانوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ اس کی ادبی روایت ویدانتی فلسفہ اور صوفیانہ فکر کے حسین امتزاج کی عکاس ہے، جو وحدت، محبت اور بھائی چارے جیسی آفاقی قدروں کو فروغ دیتی ہے۔
اس موقع کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھی زبان میں آئین کا اجرا، خصوصاً آزادی کے بعد پہلی بار دیوناگری رسم الخط میں، لسانی شمولیت کے فروغ کی سمت ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین محض ایک قانونی دستاویز نہیں ،بلکہ قوم کی زندہ روح ہے، جو اس کی امنگوں کی عکاسی کرتی ہے، حقوق کا تحفظ کرتی ہے اور جمہوری حکمرانی کی رہنمائی کرتی ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کی ان کوششوں کو سراہا، جن کے تحت آئین کو متعدد ہندوستانی زبانوں دستیاب کرایا جارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات شہریوں اور نظام حکمرانی کے درمیان فاصلے کو کم کرتے ہیں، کیونکہ لوگ اپنی مادری زبان میں آئین کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں، جس سے جمہوری شمولیت اور اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔
انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ہندوستان اس لحاظ سے منفرد مقام رکھتا ہے کہ اس کا آئین متعدد زبانوں میں دستیاب ہے۔ انہوں نے حالیہ برسوں میں کی گئی اسی نوعیت کی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن میں بوڈو، ڈوگری، سنتھالی، تمل، گجراتی اور نیپالی زبانوں میں تراجم شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ہندوستان کی لسانی تنوع کا جشن مناتے ہیں اور جمہوری اقدار کو مضبوط بناتے ہیں۔
نائب صدر جمہوریہ نے سندھی برادری کے تاریخی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تقسیم کے بعد کے مشکل دور میں سندھی زبان استقامت اور اتحاد کی علامت بنی رہی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1967 میں اکیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے سندھی کو آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کیا گیا، جس سے اس کی ثقافتی اہمیت کو تسلیم کیا گیا اور آنے والی نسلوں کے لیے اس کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔
تمام زبانوں کے احترام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہر فرد اپنی مادری زبان سے محبت کرتا ہے، تاہم تمام زبانوں کو یکساں عزت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان کی طاقت اس کے تنوع میں ہے اور زبانیں ثقافت، روایت اور شناخت کی اہم علمبردار ہیں۔
نائب صدر جمہوریہ نے وزارت قانون و انصاف، بالخصوص علاقائی زبانوں کے افسران کی کوششوں کو سراہا، جنہوں نے آئین کو علاقائی زبانوں میں دستیاب کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ایسے اقدامات شہریوں کو بااختیار بنانے اور 2047 تک وکست بھارت کے وژن کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
آخر میں انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی مادری زبانوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مشترکہ لسانی ورثے کا بھی جشن منائیں اور ’ملک سب سے پہلے – راشٹر پرتھم‘ کے اصول کو دوہراتے ہوئے اتحاد میں تنوع کی روح کو برقرار رکھیں۔
اس موقع پر موجود معزز شخصیات میں وزیر مملکت برائے قانون و انصاف و پارلیمانی امور جناب ارجن رام میگھوال، اسپیکر راجستھان قانون ساز اسمبلی جناب واسودیو دیونانی، رکن پارلیمان لوک سبھا جناب شنکر لالوانی اور محکمہ قانون سازی کے سکریٹری ڈاکٹر راجیو مانی سمیت دیگر معززین شامل تھے۔
******
ش ح۔م ع ن۔ ش ب ن
U-NO.5667
(ریلیز آئی ڈی: 2250787)
وزیٹر کاؤنٹر : 25