وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

محکمہ اعلیٰ تعلیم نے مشن سادھنا سپتاہ2026کے تحت ہندوستانی علم کے نظام(آئی کے ایس)پر انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 APR 2026 12:10PM by PIB Delhi

محکمہ اعلیٰ‎‎ٰتعلیم نے ’’ قومی ترقی کے لیے موافقت پذیر ترقی اور انسانی استعداد کو مضبوط بنانا(سادھنا) ہفتہ 2026‘‘ کے تحت ہندوستانی علم کے نظام (آئی کے ایس) پر ایک انٹرایکٹو سیشن کامیابی کے ساتھ منعقد کیا، جو 2 سے 8 اپریل 2026 تک منعقدکیا گیا۔

یہ ہفتہ صلاحیت سازی سے متعلق کمیشن (سی بی سی)کے یومِ تاسیس اور مشن کرمایوگی کے پانچ سال مکمل ہونے کی یاد میں منایا گیا، جو شہریوں پر مرکوز حکمرانی کے لیے بھارت کا ایک اہم اقدام ہے۔ 

استقبالیہ خطاب محکمہ اعلیٰ تعلیم کے جوائنٹ سکریٹری (ایڈمنسٹریشن) سید اکرام رضوی نے پیش کیا، جنہوں نے مشن کرمایوگی کے تحت صلاحیت سازی سے متعلق کمیشن کے کردار کو اجاگر کیا، جو شہریوں پر  مرکوز حکمرانی کے لیے علم، مہارت اور صلاحیت کو بڑھانے کے مقصد سے مختلف آن لائن کورسز فراہم کر رہا ہے۔

یہ سیشن اس مقصد کے لیے ترتیب دیا گیا تھا کہ منظم طریقے سے مل کر سیکھنے اور ہندوستانی علم کے نظام (آئی کے ایس) کی عصری تعلیم، تحقیق اور حکمرانی میں اہمیت پر بامعنی مباحثے کو فروغ دیا جا سکے۔ اس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ بھارت کی علمی روایات کس طرح جدید مسائل کے حل، جدت اور پالیسی سازی کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔

اس پروگرام کی خاص بات ڈاکٹر موہن راگھون کا خطاب تھا، جو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی حیدرآبادمیں ڈپارٹمنٹ آف بایومیڈیکل انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ ڈپارٹمنٹ آف ہیریٹیج سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بانی سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بھی وابستہ ہیں۔ ڈاکٹر موہن راگھون نے اپنے بین الشعبہ جاتی کام کے تجربات شیئر کیے، جو ٹیکنالوجی، سائنس اور بھارت کے علمی نظام کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں۔

پروفیسرڈاکٹر موہن راگھون نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ہندوستانی علم کے نظام (آئی کے ایس) کی مارکیٹ کی صلاحیت اہم ہے، لیکن اس کی اصل طاقت اعلیٰ تعلیم میں اس کے تغیراتی کردار میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی کے ایس کو ایک الگ شعبہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک کثیر الشعبہ جاتی فریم ورک کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جو موجودہ علمی شعبوں جیسے سائنس، انجینئرنگ، ہیومنٹیز اور مینجمنٹ کو تقویت دے سکتا ہے۔ آئی کے ایس کو اعلیٰ تعلیم میں شامل کرنے سے یونیورسٹیاں رٹ کرپڑھائی سے آگے بڑھ کر ایک جامع ماڈل اختیار کر سکتی ہیں جو علم، عملی استعمال اور اقدار (دھرم) کو یکجا کرتا ہے۔  پروفیسرڈاکٹر موہن راگھون نے یہ بھی کہا کہ یہ نقطۂ نظر عصری تعلیمی اصلاحات کے مطابق ہے، جو تحقیق، جدت اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیتا ہے اور بھارت کی ثقافتی و علمی وراثت سے جڑا ہوا ہے۔وہ ادارے جو آئی کے ایس کو اپنا رہے ہیں، بین الشعبہ جاتی پروگرام پیش کر سکتے ہیں، اصل تحقیق کو فروغ دے سکتے ہیں اور ایسے فارغ التحصیل  طلبہ تیار کر سکتے ہیں جو نہ صرف ماہر پیشہ ور ہوں، بلکہ ثقافتی طور پر آگاہ اور سماجی طور پر ذمہ دار بھی ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ انضمام ایک مستقبل کے لیے تیار تعلیم کے نظام کی تعمیر کے لیے ضروری ہے، جو عالمی معیار پر مسابقتی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی جڑوں سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہو۔

اس کے بعد شرکاء کے ساتھ ایک دلچسپ سوال و جواب کے سیشن کے ذریعے بات چیت کی گئی۔ سیشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہندوستانی علم کے نظام (آئی کے ایس) آج بھی جامع تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور پائیدار قومی ترقی کے لیے روایتی حکمت کو حکمرانی کے طریقوں میں شامل کرنا ضروری ہے۔

اس سیشن میں محکمہ اعلیٰ تعلیم، وزارتِ تعلیم کے سینئر عہدیداران نے شرکت کی۔ مفکرین اور ماہرین کو اکٹھا کر کے محکمہ اعلیٰ تعلیم نے مشن کرمایوگی کے تحت علم پر مبنی، معقول اور انسانی حکمرانی کے نظام کو فروغ دینے کے اپنے عزم کی تصدیق کی۔

*******

(ش ح  ۔ع ح ۔ ش ت)

U.No. 5608


(ریلیز آئی ڈی: 2250390) وزیٹر کاؤنٹر : 44