وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

پردھان منتری مدرا یوجنا  (پی ایم ایم وائی)  کے تحت چھوٹے اور بہت چھوٹے  کاروباری افراد کو بااختیار بنانے کے 11 سال مکمل ہوگئے ہیں


پی ایم ایم وائی نے ملک میں ایم ایس ایم ایز اور بے شمار انفرادی کاروباری افراد کے لیے قرض کے منظرنامے کو نئی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے: مرکزی وزیرخزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن

پی ایم ایم وائی، چھوٹے کاروباری افراد کو بینکوں، این بی ایف سیز اور ایم ایف آئیز سے قرض تک رسائی کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے اور کریڈٹ سے متعلق شمولیت کو فروغ دیتی ہے: وزیر مملکت  جناب پنکج چودھری

مدرا یوجنا غیر کارپوریٹ اور غیر زرعی آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے لیے20 لاکھ روپے تک بغیر ضمانت کے ادارہ جاتی قرض تک آسان رسائی فراہم کرتی ہے

پی ایم ایم وائی کے تحت 57.79 کروڑ قرضوں کے ذریعے40.07 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے، جس سے چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے قرض کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 APR 2026 9:37AM by PIB Delhi

 پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی)، جس کا آغاز وزیراعظم جناب نریندر مودی  نے 8 اپریل 2015 کو کیا تھا، آج زمینی سطح کے کاروباری افراد کو مضبوط بنانے میں کامیابی کے 11 سال مکمل کر رہی ہے۔ یہ اقدام مالی رسائی کے خلا کو پر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جو غیر کارپوریٹ اور غیر زرعی آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے لیے چھوٹے پیمانے کے کاروبار کو سہارا دینے کی خاطر 20 لاکھ روپے تک آسان اور بغیر ضمانت قرض فراہم کرتا ہے۔

 بہت چھوٹی ، چھوٹی اوراو سط درجے کی صنعتیں( ایم ایس ایم ای) ،صنعتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، جو بڑی کارپوریشن کے اہم شراکت دار کے طور پر کام کرتی ہیں اور متوازن معاشی ترقی کو فروغ دیتی ہیں۔ نئی صنعتوں میں اپنی رسائی بڑھا کر اور اپنی پیداوار کو بہتر بنا کر، یہ ادارے مقامی صارفین اور عالمی منڈیوں دونوں کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کر رہی ہیں۔

کاروباری مالیات کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جہاں ڈیجیٹل اختراعات اور ڈیٹا اینالیٹکس نے چھوٹی کمپنیوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنا مزید آسان بنا دیا ہے۔ اس پیش رفت کی بنیاد پردھان منتری مدرا یوجنا ہے، جو ایک اہم سرکاری اقدام ہے اور جسے ’’فنڈ دی اَن فنڈڈ‘‘(محروم طبقات کو مالی سہولت فراہم کرنا) کے مشن سے پہچانا جاتا ہے، تاکہ وہ افراد بھی قرض تک رسائی حاصل کر سکیں جو روایتی بینکاری نظام میں نظر انداز ہو جاتے تھے۔

پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) کے کامیابی سے11 سال مکمل ہونے کے موقع پر خزانہ و کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن نے کہاکہ گزشتہ دہائی کے دوران بھارت میں ایک خاموش تبدیلی دیکھنے کو ملی، جہاں کروڑوں عام شہریوں نے نئے اعتماد اور اختیار کے ساتھ کاروبار کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس کے مرکز میں8 اپریل2015 کو وزیراعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے شروع کی گئی ایک اہم پہل، پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) ہے، جس کا بنیادی مقصد ’فنڈ دی اَن فنڈڈ‘ یعنی محروم طبقات کو مالی سہولت فراہم کرنا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ11 سال بعد یہ اسکیم ملک میں ایم ایس ایم ایز اور بے شمار انفرادی کاروباری افراد کے لیے قرض کے منظرنامے کو نئی شکل دینے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ یہ وہ کاروباری افراد تھے جو پہلے رسمی بینکاری نظام سے باہر تھے۔ اس اقدام کے ذریعے قرض تک رسائی کی رکاوٹیں ختم کرکے کاروبار کو حقیقی معنوں میں آسان  بنایا گیا ہے۔

پی ایم ایم وائی کے ذریعے لاکھوں افراد کو بااختیار بنانے اور ہمہ گیر ترقی کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں اس کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ مجموعی طور پر 57.79 کروڑ سے زائد قرض منظور کیے جا چکے ہیں، جن کی مالیت40.07 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ ان میں سے دو تہائی قرض خواتین کاروباریوں کو دیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً پانچواں حصہ پہلی بار کاروبار شروع کرنے والوں کو فراہم کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ12.15 کروڑ قرضوں اور 12 لاکھ کروڑ روپے کی رقم کے طور پر نئے کاروباری افراد کو دی گئی سہولت کی عکاسی کرتا ہے۔

مرکزی وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن نے بینکوں، مختلف مالیاتی اداروں اور تمام متعلقہ فریقوں کی بھی تعریف کی کہ انہوں نے اس اسکیم کو عام آدمی تک پہنچایا اور اسے ایک بڑی کامیابی کا حصہ  بنایا۔

انہوں نے کہا کہ پردھان منتری مدرا یوجنا  آئندہ بھی کاروباری افراد کو بااختیار بناتی رہے گی تاکہ وہ 2047 تک وکست بھارت کے قومی سفر میں فعال کردار ادا کر سکیں۔

اس موقع پر خزانہ  کے وزیر مملکت پنکج چودھری نے کہاکہ پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) چھوٹے پیمانے کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ایک نہایت اہم اقدام ہے۔ مالی شمولیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ یہ ہمہ گیر ترقی کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پی ایم ایم وائی چھوٹے کاروباری افراد کو بینکوں، این بی ایف سیز اور ایم ایف آئیز سے قرض تک رسائی کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے اور کریڈٹ سے متعلق شمولیت کو فروغ دیتی ہے۔

خزانہ کے وزیر مملکت پنکج چودھری  نے کہا کہ پردھان منتری مدرا یوجنا  کا آغاز وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی  نے 8 اپریل 2015 کو کیا تھا۔ اسکیم کی شروعات کے وقت وزیراعظم نے کہا تھا کہ بھارت کے چھوٹے کاروباری افراد کی مدد کرنا معیشت کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نہایت مؤثر طریقوں میں سے ایک ہے۔ اس اسکیم نے بڑی تعداد میں کاروباری افراد کو اہم مالی معاونت فراہم کی ہے، جس سے انہیں اپنے کاروبار قائم کرنے اور چلانے میں مدد ملی اور ان میں مالی تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم نے پورے ملک میں خود روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں، خاص طور پر معاشرے کے محروم طبقات جیسے درج فہرست ذاتیں/درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات (51 فیصد قرض لینے والے) اور خواتین (67 فیصد قرض لینے والے) کے لیے۔

مدرا یوجنا کے اثرات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کا بنیادی مقصد ’فنڈنگ دی اَن فنڈڈ‘ ہے۔ اس نے بھارت کے چھوٹے کاروباری افراد کو غیر رسمی قرض دہندگان کے استحصال سے نجات دلائی ہے۔ گزشتہ 11 برسوں میں اس کے تحت 57.7 کروڑ قرضوں کے ذریعے 40 لاکھ کروڑ روپے سے زائد فراہم کیے گئے ہیں، جس سے قرض لینے والوں میں نیا اعتماد پیدا ہوا ہے۔ یہ حکومت کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ مالی شمولیت کے ذریعے ہمہ گیر ترقی کو فروغ دیتے ہوئے 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے سفر کو تیز کرے گی۔

جب ہم مدرا یوجنا کے بنیادی اصولوں کے ذریعے مالی شمولیت کو فروغ دینے کے گیارہ سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں، تو آئیے اس اسکیم کی چند اہم خصوصیات اور نمایاں سنگِ میلوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

ملک میں مالی شمولیت کے پروگرام کا نفاذ تین ستونوں پر مبنی ہے، یعنی:

  1. بغیر بینک والوں کو بینکنگ نظام سے جوڑنا
  2. غیر محفوظ افراد کو تحفظ فراہم کرنا
  3. مالی سہولت سے محروم افراد کو قرض فراہم کرنا

یہ تینوں مقاصد ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور مختلف شراکت داروں کے باہمی اشتراک کے ذریعے حاصل کیے جا رہے ہیں، تاکہ اُن طبقات تک بھی خدمات پہنچائی جا سکیں جو اب تک مالی نظام سے محروم یا کم مستفید رہے ہیں۔

مالی شمولیت کے ان تین ستونوں میں سے ایک، یعنی ’فنڈنگ دی اَن فنڈڈ‘، پردھان منتری مدرا یوجنا کے ذریعے عملی شکل اختیار کرتا ہے، جس کا مقصد چھوٹے اوراوسط درجے کے کاروباری افراد کو بغیر ضمانت قرض تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

پی ایم ایم وائی کی اہم خصوصیات:

  1. مدرا قرضے چار زمروں میں پیش کیے جا رہے ہیں ، یعنی ’شیشو‘ ، ’کشور‘ ، ’ترون‘ اور ’ترون پلس‘ جو قرض لینے والوں کی ترقی یا فروغ اور مالی ضروریات کے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں: -
  • شیشو:پچاس ہزار تک کے قرضوں کی فراہمی ۔
  • کشور:  پچاس ہزار سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ روپے تک قرضوں کو کور کرنا۔
  • ترون: 5 لاکھ روپے سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپے تک کے قرضوں کو کور کرنا۔
  • ترون پلس: 10 لاکھ روپے سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ 20 لاکھ روپے تک قرضوں کو کور کرنا۔
  1. قرضے ،مینوفیکچرنگ ، تجارت اور خدمات کے شعبوں میں ٹرم فنانسنگ اور ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کا احاطہ کرتے ہیں ، جن میں زراعت سے وابستہ سرگرمیاں جیسے پولٹری ، ڈیری اور شہد کی مکھی پالنا وغیرہ شامل ہیں ۔
  2. سود کی شرح آر بی آئی کے رہنما خطوط کے مطابق ہوتی ہے ، جس میں ادائیگی کی مضبوط شرائط ہوتی ہیں ۔

پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) کے تحت27 مارچ 2026تک کی کامیابیاں

قرض لینے والی خواتین: شیشو زمرے کے تحت کل 9.02 لاکھ کروڑ روپے ، کشور کے تحت 6.22 لاکھ کروڑ روپے  اور ترون زمرے کے تحت 1.09 لاکھ کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ۔ 

 

 

اقلیتی برادری کےقرض لینے والے افراد: شیشو کے تحت 1.33 لاکھ کروڑ روپے ، کشور کے تحت 1.54 لاکھ کروڑ روپے ، اور ترون کے تحت 0.62 لاکھ کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی ۔

 

 

نئے کاروباری/اکاؤنٹس:

شیشو زمرہ: 2.47 لاکھ کروڑ روپے کی منظور شدہ رقم اور 2.42 لاکھ کروڑ روپے کی تقسیم شدہ رقم کے ساتھ 8.80 کروڑ کھاتے ۔

کشور زمرہ: 5.09 لاکھ کروڑ روپے کی منظوری اور 4.87 لاکھ کروڑ روپے کی تقسیم کے ساتھ 2.79 کروڑ کھاتے ۔

ترون زمرہ: 4.82 لاکھ کروڑ روپے کی منظور شدہ رقم اور 4.67 لاکھ کروڑ روپے کی تقسیم کے ساتھ 55 لاکھ کھاتے ۔

 

 

زمرہ کے لحاظ سےرقم کی تقسیم:-(قرضوں کی تعداد اور منظور شدہ رقم)

 

زمرہ

قرضوں کی تعداد کے مطابق فیصد

منظور شدہ رقم کے مطابق فیصد

شیشو

74 فیصد

32 فیصد

کشور

24 فیصد

43 فیصد

ترون

2 فیصد

25 فیصد

ترون پلس

0.004 فیصد

0.095 فیصد

کل

100 فیصد

100 فیصد

 

 

 

سال وار منظوری کی رقم حسب ذیل ہے:-

 

مالی سال

منظور شدہ قرضوں کی تعداد

(کروڑ روپےمیں)

منظور شدہ رقم

لاکھ کروڑ میں)

2015-16

3.49

1.37

2016-17

3.97

1.80

2017-18

4.81

2.54

2018-19

5.98

3.22

20-2019

6.23

3.37

21-2020

5.07

3.22

22-2021

5.38

3.39

2022-23

6.24

4.56

2023-24

6.67

5.41

2024-25

5.47

5.53

2025-26

(27مارچ 2026 تک ) *

4.49

5.65

کل

57.79

40.07

 

 

پی ایم ایم وائی کی سرگرمیاں  ایک دہائی سے زیادہ  ہونے کے موقع پر ، ہندوستان پسماندہ لوگوں کو باضابطہ معیشت میں شامل کرنے کے اپنے مخصوص مشن کی نشاندہی کرتا ہے ۔  ’بینکنگ دی ان بینکڈ‘ ، ’سیکیورنگ دی ان سیکیورڈ‘ ، اور ’فنڈنگ دی ان فنڈڈ‘ کے بنیادی اصولوں پر توجہ مرکوز کرکے ، حکومت مالی خلاء کو پر کرنے اور خواہش مند کاروباری افراد کی امنگوں کو حقیقت میں بدلنا جاری رکھے ہوئے ہے ۔

 

----------------------------------------------

ش ح۔ع ح۔ش ت

UN-NO-5527


(ریلیز آئی ڈی: 2249927) وزیٹر کاؤنٹر : 19