نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے نئی دہلی میں عالمی مراقبہ قائدین کی کانفرنس میں مراقبہ کو باطنی سکون اور ذہنی وضاحت کا ذریعہ قرار دیا
مراقبہ اندرونی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ہے: نائب صدر
بہتر ذہن بہتر دنیا کی تعمیر کرتے ہیں: عالمی مراقبہ کانفرنس میں نائب صدر
مراقبہ نوجوانوں میں منشیات کی لت کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتا ہے: نائب صدر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 APR 2026 12:12PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے آج بھارت منڈپم میں ’’عالمی کانفرنس برائے مراقبہ قائدین — ہمہ جہتی زندگی اور پُرامن دنیا کے لیے مراقبہ‘‘ سے خطاب کیا۔ یہ کانفرنس پیرامیڈ اسپرچول سوسائٹیز موومنٹ اور بدھّا-سی ای او کوانٹم فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی۔
منتظمین، مقررین، مراقبہ کے اساتذہ اور شرکاء کو مبارکباد دیتے ہوئے نائب صدر نے ہمہ جہتی طرزِ زندگی اور عالمی امن کے لیے مراقبہ کے فروغ میں ان کی لگن کو سراہا۔
تمل کے عظیم صوفی بزرگ تھیرومولر کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے جناب سی۔ پی۔ رادھا کرشنن نے کہا کہ مراقبہ ایک اندرونی چراغ جلانے کے مترادف ہے جو جہالت کو دور کر کے انسان کو سچائی اور سکون کی راہ دکھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھیرومولر کے مطابق انسانی جسم ایک مندر کی مانند ہے اور مراقبہ اس میں موجود الوہیت کو پہچاننے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے مشاہدہ کیا کہ آج کی دنیا کئی چیلنجز سے دوچار ہے اور تنازعات صرف بیرونی نہیں بلکہ انسان کے اندر بھی موجود ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے زور دیا کہ مراقبہ سکون، وضاحت اور مثبت سوچ پیدا کر کے انسان کو دوسروں کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے، جو ایک انقلابی کردار ادا کر سکتا ہے۔
نائب صدر نے اس بات پر زور دیا کہ مراقبہ کی اصل طاقت انسان کی شخصیت میں تبدیلی لانے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذہنی دباؤ کو کم کرتا ہے، توجہ کو بہتر بناتا ہے، جذباتی مضبوطی کو بڑھاتا ہے اور ضرورت سے زیادہ سوچنے اور کام کرنے جیسے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔
انہوں نے مادی کامیابی کی اندھی دوڑ کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دولت سہولت فراہم کرے مگر زندگی پر حاوی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ مراقبہ سوچ کو نکھارتا ہے اور انسان کو متوازن اور بامقصد زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس غلط فہمی کو بھی دور کیا کہ مراقبہ صرف روحانیت کے متلاشی افراد کے لیے ہے، بلکہ یہ ہر ایک کے لیے ہے اور عام انسان کو بھی اعلیٰ شعور تک لے جا سکتا ہے۔
2047 تک ترقی یافتہ بھارت کے ویژن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کی پرورش بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ان کے مطابق مراقبہ اندرونی سکون، جذباتی توازن اور فکری وضاحت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جو ایک ترقی پذیر قوم کے لیے ناگزیر ہیں۔
منشیات کے خاتمے کے لیے اپنی دیرینہ کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے 2004 کی اپنی پدیاترا کو یاد کیا جو منشیات کے خلاف مہم کے لیے کی گئی تھی۔ نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے نشے کے رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مراقبہ ذہنی دباؤ، بے چینی اور بے مقصدیت پر قابو پا کر اس مسئلے کے حل میں مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
فلسفی جڈو کرشن مورتی کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا: ’’بغیر کسی فیصلہ کیے مشاہدہ کرنے کی صلاحیت ذہانت کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مراقبہ انسان کو اپنے خیالات کا غیر جانبدارانہ مشاہدہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، جس سے ذاتی تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔ ایسی تبدیلی دانشمند افراد، ہم آہنگ معاشروں، باہمدرد قیادت اور زیادہ انسان دوست اداروں کی تشکیل کا باعث بنتی ہے۔
اندرونی تبدیلی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ایک بہتر دنیا کی تعمیر ایک بہتر اور پُرسکون ذہن سے شروع ہوتی ہے اور مراقبہ اس سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔
اس موقع پر سابق ڈائریکٹر سی بی آئی اور سی آر پی ایف جناب ڈی۔ آر۔ کارتھیکین، پرمارتھ نکیتن آشرم رشی کیش کے صدر اور روحانی پیشوا سوامی چدانند سرسوتی جی، کوانٹم لائف یونیورسٹی کے چیئرمین ڈاکٹر نیوٹن کونڈاویتی، بدھّا-سی ای او کوانٹم فاؤنڈیشن کے بانی جناب چندرا پولاماراسیٹی، پیرامیڈ اسپرچول ٹرسٹ (حیدرآباد) کے چیئرمین جناب وجے بھاسکر ریڈی، سمیت مراقبہ کے قائدین، پالیسی ساز اور دانشور موجود تھے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-5404
(ریلیز آئی ڈی: 2249117)
وزیٹر کاؤنٹر : 23