سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پیٹ کا موٹاپا مجموعی موٹاپے سے بڑا خطرہ ہے، خاص طور سے بھارتی پس منظر میں جہاں دبلے پتلے لوگوں میں بھی کافی مقدار میں اندرونی چربی ہوتی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


بظاہر غیر فربہ افراد میں بھی پیٹ کا موٹاپا  ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں، جگر کی سوجن، خون میں چربی، وغیرہ سمیت میٹابولزم سے متعلق متعدد بیماریوں کی  وجہ بنتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے  ’دل کے امراض میں موٹاپے اور چربی کے علاج ‘پر ایک جامع نصابی کتاب کا اجراء کیا

اس کتاب میں موٹاپے سے نمٹنے کی غرض سے بیداری عام کرنے اور طرز حیات کو تبدیل کرنے پر وزیر اعظم مودی  کی خصوصی اپیل کو اجاگر کیا گیا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 MAR 2026 5:08PM by PIB Delhi

سائنس اور تکنالوجی ، ارضیاتی سائنس کے مرکز وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن ایٹمی توانائی کے محکمے اور خلاء کے محکمے کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ پیٹ کا موٹاپا مجموعی موٹاپے سے بڑا خطرہ ہے، خاص طور سے بھارتی پس منظر میں جہاں دبلے پتلے افراد میں بھی کافی مقدار میں اندرونی چربی ہوتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پیٹ کا موٹاپا اپنے آپ میں ایک خطرہ ہے، جو کہ موٹاپے سے الگ ہے۔

آج یہاں ’’سی وی ڈی میں موٹاپے اورخون کی چربی کے علاج میں ترقی‘‘ کے موضوع پر امراض قلب سے متعلق ایک جامع نصابی کتاب کا اجراء کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پیٹ کا موٹاپا،  بظاہر غیر فربہ افراد میں بھی پیٹ کا موٹاپا ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں، جگر کی سوجن، خون میں چربی، وغیرہ سمیت میٹابولزم سے متعلق متعدد بیماریوں کی  وجہ بنتا ہے۔

بھارتیوں کے جسم کی نمایاں مخصوص ساخت  کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ مرد و خواتین میں مجموعی موٹاپے میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم پیٹ کے موٹاپے میں حد سے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے اور یہ دل اور نظام ہضم سے متعلق امراض کا  ایک بڑا خطرہ ہے۔ عمومی موٹاپا نہ ہونے کے باوجود پیٹ کے ارد گرد اندرونی چربی کی موجودگی کے بھی غیر معمولی طبی اثرات ہوتے ہیں اور اس کی جلد شناخت اور مخصوص علاج ضروری ہے۔

اس کتاب کی اشاعت کو بروقت اور اہم قرار دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ کتاب  موٹاپے کے بڑھتے بوجھ سے نمٹنے کی قومی ترجیح سے ہم آہنگ ہے، جیسا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی اس پر روشنی ڈال چکے ہیں، جنہوں نے عوامی بیداری میں اضافے، اور تیل  کے استعمال اور غیر صحت مند خوراک میں تخفیف سمیت طرز حیات میں تبدیلی کی اپیل کی ہے۔ یہ پہل قدمی  ’’وکست بھارت، سوَستھ بھارت اور موٹاپے سے مبرا بھارت‘‘ کی وسیع تر تصوریت کے عین مطابق ہے۔

تغیر پذیر طبی تفہیم کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر موصوف نے ان بڑھتے ہوئے ثبوتوں کا ذکر کیا جو پیٹ کی چربی کو جگر کی سوجن کی بیماری ، انسولین کا بے اثر ہونا، اور کم عمری میں امراض قلب کی پیچیدگیوں جیسی صحتی صورتحال سے جوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان آبادی میں ٹائپ 2 ذیابیطس اور امراض قلب سمیت میٹابولزم سے متعلق امراض میں اضافہ بدلتے ہوئے طرز حیات، کھانے پینے کی عادات اور جسمانی حرکت میں تخفیف کی عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے متوازن صحتی طور طریقوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، اور اشارہ کیا کہ  مناسب تیاری یا آرام کے بغیر حد سے زیادہ محنت سمیت انتہائی اور غیر سائنسی نقطہ نظر بھی صحتی خطرات کھڑے کر سکتا ہے۔ مستقل طرز حیات کا نظم و ضبط ،  مناسب نیند، اور سائنس پر مبنی احتیاطی تدابیر پر زور دیا گیا۔

ڈاکٹر ایچ کے چوپڑا کے ذریعہ تدوین کردہ نصابی کتاب میں بھارت اور غیر ممالک کے 300 سے زائد معاونین کی جدید ترین معلومات شامل ہیں۔ یہ کتاب خطرے کے عوامل کے مطابق علاج کے روایتی طریقہ سے درست روک تھام کی جانب تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، میٹابولک علاج، لپڈ مینجمنٹ، ڈیجیٹل ہیلتھ، اور اے آئی کے تابع طبی فیصلہ کے نظام میں پیشرفت کو مربوط کرتی ہے۔

اس اشاعت میں جامع طور پر ابھرتے ہوئے علاج پر احاطہ کیا گیا ہے جس میں جی ایل پی -1 ریسیپٹر ایگونسٹ جیسے سیماگلوٹائیڈ اور ترزیپاٹائیڈ کے ساتھ ساتھ لپڈ کو کم کرنے والی حکمت عملیوں کا احاطہ کیا گیا ہے جس میں اسٹیٹنس، ایزیٹیمائب، بیمپی ڈوئک ایسڈ، پی سی ایس کے 9 انہیبٹرس، انکلیسران، افیرسس اور جینیاتی بنیادوں پر طبی مداخلت  شامل ہیں۔ ان پیش رفتوں سے قلبی نتائج میں نمایاں بہتری اور بیماری کے بوجھ کو کم کرنے کی امید ہے۔

کتاب کے اپنے پیش لفظ میں، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے موٹاپے اور خون میں چربی کی غیر معمولی سطح  کو صحت عامہ کی بڑی چنوتیوں کے طور پر بیان کیا ہے جو ہندوستان اور عالمی سطح پر امراض قلب اور اموات کے بڑھتے ہوئے بوجھ میں ایک بڑا عنصر ہے۔ انہوں نے ان چنوتیوں سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے بہتر آگاہی، بچاؤ کی حکمت عملیوں اور شواہد پر مبنی طبی طریقوں کی ضرورت پر زور دیا۔

2050 تک ہندوستان میں موٹاپے کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافے کی نشاندہی کرنے والے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے طویل مدتی صحت اور معاشی خطرات کو کم کرنے کے لیے مضبوط بیداری، جلد اسکریننگ، اور تدارکی حفظانِ صحت کے اقدامات پر زور دیا۔

یہ کتاب 23 حصوں اور 172 ابواب پر مشتمل ہے، جو ایک جامع، ثبوت پر مبنی طبی وسائل پیش کرتی ہے جو تحقیق اور تیمارداری کے درمیان فرق کو ختم کرتی ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ یہ کتاب صلاحیت سازی، طبی فضیلت، اور مریض کے بہتر نتائج میں نمایاں طور پر تعاون دے گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ڈاکٹر ایچ کے چوپڑا اور ادارتی ٹیم کی ان کی قیادت اور  عالمی ماہرین کی آراء کو ایک مستند کتاب میں یکجا کرنے کے لیے ستائش کی۔ سرکردہ ماہرین امراض قلب اور دیگر معاونین مثلاً ڈاکٹر وویک مار، ڈاکٹر پروین چندر، ڈاکٹر جے پی ایس ساہنی، ڈاکٹر مونا بھاٹیا، ڈاکٹر انو گرووَر، شریکانت بھاٹیا اور آنند کمار  بھی اس موقع پر موجود تھے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/B01YF9C.JPG

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/B2(1)OOIT.JPG

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/B3(1)8LH2.JPG

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/B4W5H4.JPG

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:5091


(ریلیز آئی ڈی: 2246703) وزیٹر کاؤنٹر : 13