وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈّے کے پہلے مرحلے  کا افتتاح کیا، جو تقریباً 11,200 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے


نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈّے کے پہلے مرحلے  کا افتتاح اتر پردیش کی ترقی  اور بھارت کے ہوا بازی کے مستقبل  کی جانب  ایک اہم قدم ہے: وزیرِ اعظم

اتر پردیش اب بھارت کی ان ریاستوں میں شامل ہو گیا ہے جہاں سب سے زیادہ بین الاقوامی ہوائی اڈے موجود ہیں: وزیرِ اعظم

ہوائی اڈے کسی بھی ملک میں صرف بنیادی سہولیات نہیں ہوتے بلکہ یہ ترقی کو رفتار  دیتے ہیں: وزیرِ اعظم

ہماری حکومت ایک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے جدید بنیادی ڈھانچے میں غیرمعمولی سرمایہ کاری کر رہی ہے: وزیرِ اعظم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 MAR 2026 2:23PM by PIB Delhi

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے آج اتر پردیش کے جیور میں نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈّے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اپنے فخر اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ آج "وکست یوپی، وکست بھارت ابھیان" میں ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اب ان ریاستوں میں شامل ہو گئی ہے جہاں سب سے زیادہ بین الاقوامی ہوائی اڈے موجود ہیں۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہیں دوہری خوشی محسوس ہو رہی ہے—پہلی یہ کہ انہوں نے اس ہوائی اڈے کا سنگِ بنیاد رکھا تھا اور اب اس کا افتتاح بھی کر رہے ہیں، اور دوسری یہ کہ اس عظیم ہوائی اڈے کا نام اتر پردیش سے جڑا ہوا ہے۔ جناب مودی  نے کہا، "یہ وہ ریاست ہے جس نے مجھے اپنا نمائندہ منتخب کیا اور رکنِ پارلیمنٹ بنایا، اور اب اس کی شناخت اس شاندار ہوائی اڈے سے وابستہ ہے۔"

وزیرِ اعظم نے اس نئے ہوائی اڈے کے وسیع اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نوئیڈا ایئرپورٹ آگرہ، متھرا، علی گڑھ، غازی آباد، میرٹھ، اٹاوہ، بلند شہر اور فرید آباد سمیت ایک وسیع علاقے کو فائدہ پہنچائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سے مغربی اتر پردیش کے کسانوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور نوجوانوں کے لیے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔ جناب مودی نے ریاست، خاص طور سے مغربی اترپردیش کے باشندوں کو اپنی دلّی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ "یہاں سے ہوائی جہاز دنیا بھر کے لیے روانہ ہوں گے اور یہ ایئرپورٹ ترقی یافتہ اتر پردیش کی پرواز کی علامت بنے گا۔"

موجودہ عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا فکر مند ہے، کیونکہ مغربی ایشیا میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جنگ جاری ہے جس کی وجہ سے کئی ممالک میں خوراک، پیٹرول، ڈیزل، گیس اور کھاد جیسی ضروری اشیاء کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بڑی مقدار میں خام تیل اور گیس اسی خطے سے درآمد کرتا ہے۔ جناب مودی نے یقین دہانی کرائی کہ  حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے کہ اس بحران کا بوجھ عام شہریوں اور کسانوں پر نہ پڑے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی بحران کے باوجود بھارت تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مغربی اتر پردیش میں ہی حالیہ ہفتوں کے دوران یہ چوتھا بڑا منصوبہ ہے جس کا یا تو افتتاح کیا گیا ہے یا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ جناب مودی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ  "اس عرصے میں نوئیڈا میں ایک بڑی سیمی کنڈکٹر فیکٹری کا سنگِ بنیاد رکھا گیا، ملک کی پہلی دلّی-میرٹھ نمو بھارت ٹرین نے رفتار پکڑی، میرٹھ میٹرو کو وسعت دی گئی، اور آج نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح کیا جا رہا ہے۔"

وزیرِ اعظم نے اتر پردیش کی ترقی میں ان نمایاں کامیابیوں کا سہرا موجودہ حکومت کو دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر فیکٹری بھارت کو ٹیکنالوجی میں خود کفیل بنا رہی ہے، جبکہ میرٹھ میٹرو اور نمو بھارت ریل تیز اور جدید رابطہ فراہم کر رہے ہیں، اور جیور ایئرپورٹ پورے شمالی بھارت کو دنیا سے جوڑ رہا ہے۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ  "آج موجودہ حکومت کے تحت یہی نوئیڈا اتر پردیش کی ترقی کا ایک مضبوط انجن بن رہا ہے۔"

ہوائی اڈے کے منصوبے کی تاریخ بیان کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے یاد دلایا کہ جیور ایئرپورٹ کو 2003 میں اٹل جی کے دور میں منظوری دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد اس کا سنگِ بنیاد رکھا گیا، تعمیر مکمل ہوئی اور اب یہ فعال ہو چکا ہے۔

علاقے کے لاجسٹکس حب کے طور پر ابھرتے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ خطہ دو بڑے فریٹ کوریڈورز کا مرکز بن رہا ہے، جہاں مال بردار ٹرینوں کے لیے خصوصی ریلوے لائنیں بچھائی گئی ہیں، جس سے شمالی بھارت کا بنگال اور گجرات کی سمندری بندرگاہوں سے رابطہ بہتر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دادری وہ اہم مقام ہے جہاں یہ دونوں کوریڈورز آپس میں ملتے ہیں، جس کے نتیجے میں یہاں کے کسانوں اور صنعتوں کی پیداوار زمین اور فضاء کے ذریعے تیزی سے دنیا بھر تک پہنچ سکتی ہے۔ جناب مودی نے وضاحت کی کہ اس طرح کی ملٹی موڈل کنیکٹیویٹی اتر پردیش کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا پر کشش مقام بنا رہی ہے۔

خطے  کی بدلتی ہوئی تصویر پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا، "آج نوئیڈا پوری دنیا کا خیرمقدم کرنے کے لیے تیار ہے، اور یہ پورا خطہ آتم نربھر بھارت کے عزم کو مضبوط کر رہا ہے۔"

وزیرِ اعظم نے ان کسانوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس منصوبے کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی زمینیں دیں، اور کہا کہ اس علاقے کی معیشت میں زراعت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ جناب مودی  نے کہا کہ جدید رابطوں کے پھیلاؤ سے مغربی اتر پردیش میں فوڈ پروسیسنگ کے امکانات مزید بڑھیں گے، اور یہاں کی زرعی پیداوار عالمی منڈیوں تک زیادہ مؤثر طریقے سے پہنچ سکے گی۔

گنے کے کسانوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ گنے سے تیار ہونے والے ایتھنول نے بھارت کی خام تیل پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایتھنول کی پیداوار اور اس کا پیٹرول میں استعمال نہ بڑھایا جاتا تو بھارت کو سالانہ تقریباً ساڑھے چار کروڑ بیرل (تقریباً 700 کروڑ لیٹر) اضافی خام تیل درآمد کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا، "ہمارے کسانوں کی محنت نے مشکل وقت میں ملک کو بڑی راحت فراہم کی ہے۔"

وزیرِ اعظم نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایتھنول نے نہ صرف ملک کو فائدہ پہنچایا ہے بلکہ کسانوں کو بھی بہت زیادہ فائدہ ہوا ہے، جس سے تقریباً 1.5 لاکھ کروڑ روپے کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے پرانے دنوں کو یاد کیا جب گنے کے کسانوں کو اپنی ادائیگیوں کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ جناب مودی نے زور دے کر  کہا، "آج موجودہ حکومت کی کوششوں کی بدولت گنے کے کسانوں کی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔"

وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہوائی اڈے محض سہولیات نہیں بلکہ ترقی کے محرک ہوتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے میں غیر معمولی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں 160 سے زائد ہوائی اڈے موجود ہیں اور فضائی رابطہ اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ چھوٹے شہروں تک بھی پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "موجودہ حکومت نے ہوائی سفر کو عام بھارتی کے لیے قابلِ رسائی بنا دیا ہے"، اور بتایا کہ اتر پردیش میں ہوائی اڈوں کی تعداد بڑھ کر 17 ہو گئی ہے۔

اڑان اسکیم کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت نے مسلسل کوشش کی ہے کہ جہاں ہوائی اڈے تعمیر ہوں، وہیں ہوائی جہاز کے  کرایے بھی عام لوگوں کی پہنچ میں رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زیادہ شہری اس اسکیم کے تحت سستے داموں ہوائی سفر کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، "حال ہی میں مرکزی حکومت نے تقریباً 29,000 کروڑ روپے کی منظوری کے ساتھ اڑان اسکیم کو مزید وسعت دی ہے، جس کے تحت آئندہ برسوں میں 100 نئے ہوائی اڈے اور 200 نئے ہیلی پیڈ تعمیر کیے جائیں گے، اور اتر پردیش کو اس سے بڑا فائدہ ہوگا۔"

بھارت کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ہوابازی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ جیسے جیسے نئے ہوائی اڈے بن رہے ہیں، ویسے ویسے نئے طیاروں کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے، اور مختلف ایئرلائنز سینکڑوں نئے جہازوں کے آرڈر دے رہی ہیں۔ جناب مودی  نے کہا کہ اس سے نوجوانوں کے لیے پائلٹ، کیبن کریو اور رکھ رکھاؤ سے متعلق  شعبوں میں بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں، اور حکومت اس بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تربیتی سہولیات کو بھی وسعت دے رہی ہے۔

ہوابازی کے شعبے میں ایک اہم خلا کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ آج بھی 85 فیصد بھارتی طیاروں کو ایم آر او (مرمت، دیکھ بھال اور اوورہال) خدمات کے لیے بیرونِ ملک جانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس شعبے میں بھی خود کفالت کا عزم کیا ہے، اور آج جیور میں ایم آر او سہولت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ جناب مودی نے اعلان کیا کہ  "تیار ہونے کے بعد یہ بھارت اور بیرونِ ملک کے طیاروں کو خدمات فراہم کرے گا، ملک کے لیے آمدنی پیدا کرے گا، ہمارا پیسہ ملک میں رکھے گا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔"

شہریوں کے لیے سہولت اور وقت و پیسے کی بچت کو حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے جدید ریل خدمات جیسے میٹرو اور وندے بھارت کی توسیع کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دلّی-میرٹھ نمو بھارت ریل سے اب تک ڈھائی کروڑ سے زیادہ مسافر فائدہ حاصل کر چکے ہیں اور جو سفر پہلے گھنٹوں میں طے ہوتا تھا اب منٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔

وکست بھارت کے لیے جدید بنیادی ڈھانچے میں بے مثال سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ گزشتہ گیارہ برسوں میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق  بجٹ میں چھ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 17 لاکھ کروڑ روپے شاہراہوں اور ایکسپریس ویز پر خرچ کیے گئے اور ایک لاکھ کلومیٹر سے زائد سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ ریلوے کی بجلی کاری  2014 سے پہلے کے 20,000 کلومیٹر سے بڑھ کر 40,000 کلومیٹر سے زیادہ ہو چکی ہے اور براڈ گیج نیٹ ورک کی تقریباً مکمل طور پربجلی کاری  ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم نے اجاگر کیا  کہ پہلی بار کشمیر وادی اور شمال مشرقی ریاستوں کے دارالحکومتوں کو ریلوے نیٹ ورک سے مربوط کیا  جا رہا ہے، جبکہ بندرگاہوں کی صلاحیت دوگنی سے زیادہ ہو چکی ہے اور اندرونی آبی گزرگاہوں  میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جناب مودی نے کہا، "بھارت وکست بھارت کی تعمیر کے لیے ہر ضروری شعبے میں تیزی سے کام کر رہا ہے۔"

عالمی چیلنجز کے پیش نظر اجتماعی کوشش اور قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور وزرائے اعلیٰ کے ساتھ بھی جاری بحران سے نمٹنے کے لیے تفصیلی مشاورت کی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس بحران کا مقابلہ پرسکون ذہن اور صبر کے ساتھ کریں، اور اسے بھارتی عوام کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔وزیرِ اعظم مودی نے اس بات کو دہرایا کہ جو کچھ بھارتیوں اور بھارت کے مفاد میں ہے، وہی حکومتِ ہند کی پالیسی اور حکمتِ عملی ہے۔ جناب مودی نے اختتام کرتے ہوئے کہا، "مجھے مکمل یقین ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملک کی متحدہ کوششوں کو مزید مستحکم  کریں گی۔"

*****

ش ح-ا ع خ   ۔ر  ا

U-No- 5066


(ریلیز آئی ڈی: 2246438) وزیٹر کاؤنٹر : 18