PIB Headquarters
زراعت میں ہندوستان کا مستحکم پیداواری نظام
“کھیتوں سے بازار تک”
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 MAR 2026 3:05PM by PIB Delhi
اہم نکات
ہندوستان نے 2024-25 میں 357.73 ملین میٹرک ٹن غذائی اجناس کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی، جبکہ باغبانی کی پیداوار 362.08 ملین ٹن رہی، جو زیادہ قدر والی فصلوں کی جانب مضبوط رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔
ہندوستان عالمی سطح پر سرفہرست پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں 150.18 ملین ٹن چاول، 117.94 ملین ٹن گندم، 25.68 ملین ٹن دالیں اور 18.59 ملین ٹن باجرہ کی پیداوار ہوئی، جو عالمی غذائی تحفظ میں اس کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔
زرعی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جو مالی سال 2020 میں 34.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 51.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ پراسیسڈ فوڈ کا حصہ بڑھ کر 20.4 فیصد ہو گیا، جو ویلیو ایڈیڈ ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔
زرعی بجٹ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2013-14 میں 21,933 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026-27 میں 1.30 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا، جو زرعی ترقی پر مسلسل توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔
پی ایم کسان کے تحت 4.27 لاکھ کروڑ روپے کی رقم 22 قسطوں میں جاری کی جا چکی ہے، جبکہ فصل بیمہ کے تحت دعووں کی ادائیگی 1.90 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے کسانوں کی آمدنی اور خطرات کے تحفظ کو مضبوطی ملی ہے۔
تعارف
ہندوستان کا زرعی شعبہ دیہی روزگار کو برقرار رکھنے، معیشت کو مضبوط بنانے اور قومی غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیاں موجودہ قیمتوں پر ملک کی مجموعی قدرِ افزوده کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں، جبکہ یہ تقریباً 46.1 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہیں اور لگ بھگ 55 فیصد آبادی کی کفالت کرتی ہیں، جو اس کی سماجی و معاشی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس شعبے نے مستقل قیمتوں پر اوسطاً 4.4 فیصد سالانہ ترقی کی شرح حاصل کی، جو بہتر زرعی طریقوں، ٹیکنالوجی کے استعمال اور مضبوط پیداواری نظام کا نتیجہ ہے۔
ہندوستان کی زرعی پیداوار کی کارکردگی
زرعی سال 2024-25 میں ہندوستان نے 357.73 ملین میٹرک ٹن غذائی اجناس کی ریکارڈ پیداوار حاصل کی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 25.43 ملین میٹرک ٹن زیادہ ہے۔ یہ اضافہ پیداواری صلاحیت میں بہتری، بہتر وسائل کے استعمال اور کسانوں کے لیے مضبوط ادارہ جاتی حمایت کا نتیجہ ہے۔ اس اضافے میں چاول، گندم، مکئی اور موٹے اناج (بشمول باجرہ جسے شری اَنّا کہا جاتا ہے) کی زیادہ پیداوار نے اہم کردار ادا کیا۔
باغبانی کا شعبہ بھی زرعی تبدیلی اور اضافی اقدار والی پیداوار کا ایک اہم محرک بن کر ابھرا ہے۔ سال 2024-25 میں باغبانی کی مجموعی پیداوار 362.08 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جو زیادہ قدر والی فصلوں کی جانب واضح رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسرے پیشگی اندازوں کے مطابق یہ پیداوار 2013-14 میں 280.70 ملین ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 367.72 ملین ٹن ہو گئی ہے۔ اس میں تقریباً 114.51 ملین ٹن پھل، 219.67 ملین ٹن سبزیاں اور 33.54 ملین ٹن دیگر باغبانی فصلیں شامل ہیں۔
غذائی اجناس اور باغبانی دونوں شعبوں میں مسلسل اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہندوستان کا زرعی ڈھانچہ مضبوط ہو رہا ہے اور عالمی زرعی و غذائی نظام میں اس کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
عالمی زرعی منڈیوں میں ہندوستان کا مقام

عالمی زرعی منڈیوں میں ہندوستان کا مقام
حالیہ برسوں میں ہندوستان کی زرعی برآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ زرعی برآمدات کی آمدنی مالی سال 2020 میں 34.5 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 51.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو 8.2 فیصد سالانہ مرکب شرح نمو (سی اے جی آر) کو ظاہر کرتی ہے۔ مالی سال 2025 میں زرعی و غذائی برآمدات، جن میں پراسیسڈ فوڈ بھی شامل ہے، 49.43 ارب ڈالر رہیں، جو کل برآمدات کا تقریباً 11.2 فیصد ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ پراسیسڈ فوڈ کا حصہ مالی سال 2018 کے 14.9 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 20.4 فیصد ہو گیا، جو ویلیو ایڈیڈ مصنوعات کی جانب بڑھتے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پراسیسڈ اور متنوع زرعی مصنوعات نہ صرف برآمدی مسابقت کو مضبوط کر رہی ہیں بلکہ پیداوار، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں میں شمولیت کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہیں۔
ہندوستان عالمی زراعت میں ایک مضبوط مقام رکھتا ہے، جس کی بنیاد متنوع پیداواری نظام اور مختلف خطوں کی مخصوص صلاحیتوں پر ہے، جن میں اناج، دالیں، باغبانی اور شجرکاری کی فصلیں شامل ہیں۔ دنیا میں زرعی زمین کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا ملک ہونے کے ناطے، ہندوستان متعدد اجناس کی پیداوار میں عالمی سطح پر سرفہرست ممالک میں شامل ہے، جو اس کی پیداوار کے حجم اور پائیداری دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔
اناج، دالوں اور باجرہ میں ہندوستان کی برتری
چاول اور گندم کے معاملے میں ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے، جہاں 2024-25 میں چاول کی پیداوار 150.18 ملین ٹن اور گندم کی پیداوار 117.94 ملین ٹن رہی۔ چاول کی پیداوار زیادہ تر اتر پردیش، تلنگانہ اور مغربی بنگال میں ہوتی ہے، جبکہ گندم کی پیداوار میں اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور پنجاب نمایاں ہیں۔
دالوں اور باجرہ میں بھی ہندوستان عالمی سطح پر سرفہرست ہے۔ دالوں کی پیداوار 25.68 ملین ٹن رہی، جس میں مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور راجستھان اہم ریاستیں ہیں۔ اسی طرح باجرہ کی پیداوار 18.59 ملین ٹن رہی، جس میں راجستھان، مہاراشٹر اور کرناٹک نمایاں ہیں۔
تجارتی لحاظ سے چاول کی برآمدات 12.95 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ دالوں اور باجرہ کی برآمدات بالترتیب 855 ملین ڈالر اور 59.20 ملین ڈالر رہیں، جو عالمی سطح پر متنوع اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط فصلوں کی بڑھتی مانگ کو ظاہر کرتی ہیں۔
باغبانی میں ہندوستان کا عالمی مقام
ہندوستان پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں 2024-25 میں 114.51 ملین ٹن پھل اور 219.67 ملین ٹن سبزیاں پیدا ہوئیں۔ پھلوں کی پیداوار میں آندھرا پردیش، مہاراشٹر، اتر پردیش، گجرات، کرناٹک اور تمل ناڈو نمایاں ہیں، جبکہ سبزیوں کی پیداوار میں اتر پردیش، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، بہار اور گجرات سرفہرست ہیں۔
پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات 2024-25 میں 1,818.56 ملین ڈالر رہیں، جو اعلیٰ قدر والی فصلوں کی بڑھتی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
خشک پیاز کی پیداوار میں بھی ہندوستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جو عالمی پیداوار کا تقریباً 25 فیصد فراہم کرتا ہے، اور اس میں مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور گجرات نمایاں ہیں۔
اعلیٰ قدر کی نقد آور فصلوں میں قیادت
گنے کی پیداوار میں ہندوستان دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے، جہاں 2024-25 میں 454.61 ملین ٹن پیداوار ہوئی، جس میں اتر پردیش اور مہاراشٹر اہم ہیں۔
کپاس کی پیداوار میں بھی ہندوستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 2024-25 میں تقریباً 5.05 ملین ٹن پیداوار ہوئی، اور کرناٹک، مہاراشٹر اور گجرات اہم ریاستیں ہیں۔ عالمی تجارتی چیلنجوں کے باوجود، جنوری سے اکتوبر 2025 کے دوران امریکہ کو کپاس کی برآمدات 31.31 ارب ڈالر رہیں۔
چائے کی پیداوار میں ہندوستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں اپریل تا دسمبر 2024-25 کے دوران 1.203 ملین ٹن پیداوار ہوئی۔ اس کی پیداوار آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور کرناٹک میں ہوتی ہے۔ اپریل تا اکتوبر 2025-26 میں چائے کی برآمدات 605.90 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.16 فیصد زیادہ ہیں۔
مصالحہ جات کی پیداوار میں ہندوستان عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے، جہاں 2023-24 میں 12 ملین میٹرک ٹن پیداوار ہوئی۔ مدھیہ پردیش، گجرات اور آندھرا پردیش اس کے اہم مراکز ہیں، جبکہ مصالحہ جات کی برآمدات مالی سال 2025 میں 4.52 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
ناریل کی پیداوار میں بھی ہندوستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جہاں سالانہ تقریباً 21.3 ارب ناریل پیدا ہوتے ہیں۔ 2024-25 میں ناریل کی برآمدات 513 ملین ڈالر رہیں۔
کافی کی سالانہ پیداوار تقریباً 0.36 ملین ٹن ہے، جس کا تقریباً 70 فیصد حصہ 128 ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ اس کی پیداوار میں کرناٹک، کیرالہ اور تمل ناڈو اہم ہیں۔ اپریل تا اکتوبر 2025-26 میں کافی کی برآمدات 1,176.31 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد زیادہ ہیں۔
یہ تمام اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہندوستان نہ صرف زرعی پیداوار میں بلکہ عالمی زرعی تجارت میں بھی ایک مضبوط اور ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر رہا ہے۔

یونین بجٹ 2026-27 میں اعلیٰ قدر والی فصلوں کے فروغ پر خاص زور دیا گیا ہے، جس کے تحت ساحلی علاقوں میں ناریل، صندل کی لکڑی، کوکو اور کاجو، شمال مشرقی ریاستوں میں اگر کے درخت اور پہاڑی علاقوں میں بادام، اخروٹ اور چلغوزہ جیسی قیمتی فصلوں کے لیے ہدفی معاونت کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ علاقہ مخصوص حکمتِ عملی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مقامی زرعی و موسمی خصوصیات سے فائدہ اٹھایا جائے اور ایسی فصلوں کی طرف تنوع کو فروغ دیا جائے جو زیادہ معاشی منافع فراہم کرتی ہیں۔
اس طرح ہندوستان کی متنوع اجناس پر مبنی بنیاد اور جغرافیائی طور پر متوازن پیداواری نظام عالمی غذائی سپلائی چین کو مستحکم بنانے میں اس کے کردار کو مضبوط کرتے ہیں۔ بہتر زرعی طریقوں کو بڑھتی ہوئی برآمدی منڈیوں کے ساتھ جوڑنے سے ایک ایسے مستحکم زرعی نظام کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے جو معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ طویل مدتی ماحولیاتی توازن کو بھی فروغ دیتا ہے۔
پائیدار پیداواری نظام کے لیے حکومتی پالیسی اقدامات
ہندوستان کا زرعی پالیسی فریم ورک مالی معاونت، پیداوار میں اضافہ اور خطرات کے نظم و نسق جیسے اقدامات کو یکجا کرتا ہے تاکہ کسانوں کی فلاح اور شعبے کی مضبوطی کو یقینی بنایا جا سکے۔
بجٹ میں اضافہ
حکومت نے زرعی شعبے کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جو کسانوں کی فلاح، دیہی روزگار کے فروغ اور طویل مدتی زرعی ترقی کے لیے مسلسل حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

بجٹ میں اضافہ اور زرعی ترجیح
محکمۂ زراعت و کسان بہبود کے لیے بجٹ مختص رقم 2013-14 میں 21,933.50 کروڑ روپے (تقریباً 2.64 ارب ڈالر) سے بڑھ کر 2025-26 میں 1,27,290.16 کروڑ روپے (تقریباً 15.34 ارب ڈالر) ہو گئی، جو اس عرصے کے دوران عوامی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے 2026-27 کے لیے 1,30,561.38 کروڑ روپے (تقریباً 15.73 ارب ڈالر) مختص کیے گئے، جو زرعی ترقی کو مسلسل ترجیح دینے کی عکاسی کرتے ہیں۔
حاصل ہونے والے تعاون سے مستحکم ترقی تک: ہندوستان کی پیداوار پر مبنی حکمتِ عملی
ہندوستان کی زرعی ترقی کی حکمتِ عملی اب پیداوار میں اضافے، وسائل کے مؤثر استعمال، ٹیکنالوجی کے فروغ اور پائیدار زرعی طریقوں کی جانب منتقل ہو چکی ہے۔ مختلف مشن جیسے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ نیوٹریشن مشن، دالوں میں خود انحصاری مشن (2025–31) اور نیشنل مشن آن ایڈیبل آئلز اس تبدیلی کو آگے بڑھا رہے ہیں، جس سے پیداوار میں اضافہ، درآمدات میں کمی اور زرعی نظام کی مضبوطی ممکن ہو رہی ہے۔
قومی غذائی تحفظ اور تغذیہ مشن (این ایف ایس این ایم) کا مقصد چاول، گندم، دالوں اور موٹے اناج کی پیداوار بڑھانا ہے۔
دالوں میں خود انحصاری مشن (2025–31) کا ہدف ملکی پیداوار میں اضافہ کر کے درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔
خوردنی تیل کے قومی مشن (این ایم ای او) کے تحت 2030-31 تک خوردنی تیل میں خود کفالت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
معیاری بیج اور مٹی کی صحت
بیج اور شجرکاری مواد کے ذیلی مشن (ایس ایم ایس پی) کے تحت تقریباً 6.85 لاکھ سیڈ ولیجز قائم کیے گئے، جن سے 1,649.26 لاکھ کوئنٹل معیاری بیج تیار ہوئے۔
نومبر 2025 تک 25.55 کروڑ سوائل ہیلتھ کارڈ جاری کیے گئے تاکہ متوازن کھاد کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا کے تحت زیرِ آبپاشی رقبہ بڑھ کر 55.8 فیصد ہو گیا، جس سے پانی کے مؤثر استعمال میں بہتری آئی۔
سوئل ہیلتھ کارڈ کسانوں کو مٹی کے 12 اہم عناصر جیسے نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاشیم، زنک اور دیگر اجزاء کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ مناسب کھاد اور مٹی کی دیکھ بھال کر سکیں۔
کریڈٹ، میکانائزیشن اور ٹیکنالوجی
مالی سال 2024-25 میں زرعی قرضہ 28.67 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو زرعی شعبے میں مالی رسائی کے فروغ کو ظاہر کرتا ہے۔
31 مارچ 2025 تک 7.72 کروڑ کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) فعال تھے، جس سے کسانوں کو بروقت قرض کی سہولت حاصل ہوئی۔
سال 2014-15 سے 2025-26 کے درمیان 27,554 کسٹم ہائرنگ سینٹرز قائم کیے گئے، جن کے ذریعے کسان کرائے پر زرعی مشینری حاصل کر سکتے ہیں۔
مویشی پروری کے شعبے میں بھی ترقی کے لیے اقدامات کیے گئے، جن میں 2020 سے اب تک 125 کروڑ ویکسینیشن (منہ کھر بیماری کے خلاف) اور 2024-25 میں 88.32 ملین مصنوعی تولیدی عمل شامل ہیں۔
کسان کریڈٹ کارڈ اسکیم کے تحت کسانوں کو ایک ہی پلیٹ فارم سے آسان اور بروقت مالی مدد فراہم کی جاتی ہے، جس میں فصلوں کی کاشت، بعد از برداشت اخراجات، زرعی سرمایہ کاری اور دیگر ضروریات شامل ہیں۔
پائیدار زراعت، توسیعی خدمات اور مشن طرز اقدامات
یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہندوستان زرعی شعبے میں پائیداری، ٹیکنالوجی کے استعمال اور کسانوں کی فلاح کو یقینی بناتے ہوئے ایک مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار زرعی نظام کی تشکیل کی جانب گامزن ہے۔

قدرتی کاشتکاری کو وسعت دیتے ہوئے 17,632 کلسٹرز قائم کیے گئے، جو 6.39 لاکھ ہیکٹیئر رقبے پر محیط ہیں، اور اس میں 15.79 لاکھ کسانوں کی شمولیت ہوئی۔
کسان کال سینٹرز نے سال 2024-25 کے دوران 30.65 لاکھ کسانوں کے سوالات کا حل فراہم کیا۔
تیل بیج مشن کے تحت 2014-15 سے 2024-25 کے درمیان تیل بیج کے زیرِ کاشت رقبے میں 18 فیصد سے زائد، پیداوار میں تقریباً 55 فیصد اور پیداواری صلاحیت میں قریب 31 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملک میں خوردنی تیل کی دستیابی 2023-24 میں 121.75 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔
ایتھنول ملانے کے پروگرام کے ذریعے اگست 2025 تک 1.44 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کا زرمبادلہ بچایا گیا۔
یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ زرعی نظام تیزی سے ٹیکنالوجی پر مبنی، وسائل کے مؤثر استعمال پر مرکوز اور بہتر پیداوار کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے زرعی پیداوار اور مضبوطی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کسانوں کی فلاح، خطرات کے نظم و نسق اور اجتماعی نظام کے لیے مربوط معاونت
کسانوں کی مستحکم آمدنی کو یقینی بنانا، خطرات سے نمٹنے کے ادارہ جاتی نظام کو مضبوط کرنا اور تعاون پر مبنی ڈھانچوں کو فروغ دینا زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے نہایت اہم ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب موسمیاتی اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
قیمت اور آمدنی کی معاونت
کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) 22 مقررہ فصلوں کے لیے اعلان کی گئی ہے اور اسے پیداوار کی لاگت سے کم از کم ڈیڑھ گنا مقرر کیا گیا ہے، جبکہ خریف کے بازار 2025-26 اور ربیع کے بازار 2026-27 کے لیے اس میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔
پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم کسان) کے تحت 17 مارچ 2026 تک 4.27 لاکھ کروڑ روپے کی رقم 22 قسطوں میں کسانوں کو براہِ راست فراہم کی جا چکی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہر اہل کسان خاندان کو سالانہ 6,000 روپے کی مالی مدد تین مساوی قسطوں میں ڈی بی ٹی کے ذریعے دی جاتی ہے۔
پردھان منتری کسان مان دھن یوجنا (پی ایم کے ایم وائی) کے تحت 2 فروری 2026 تک 24.95 لاکھ کسان شامل ہو چکے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کو 60 سال کی عمر کے بعد 3,000 روپے ماہانہ پنشن فراہم کی جاتی ہے، جو ایک رضاکارانہ اور اشتراکی پنشن اسکیم ہے۔
فصل بیمہ کے ذریعے تحفظ
پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) کے تحت 2024-25 میں 4.19 کروڑ کسانوں کو بیمہ فراہم کیا گیا، جس میں 6.2 کروڑ ہیکٹیئر رقبہ شامل ہے۔
سال 2016-17 سے اب تک 86 کروڑ سے زائد درخواستیں پراسیس کی جا چکی ہیں اور 1.90 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے دعوے ادا کیے جا چکے ہیں۔
اس اسکیم کے تحت بیمہ کوریج میں 2022-23 کے مقابلے میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے موسمیاتی اور مارکیٹ کے خطرات کے خلاف کسانوں کا تحفظ مزید مضبوط ہوا ہے۔ یہ اسکیم قدرتی آفات، کیڑوں اور بیماریوں کی صورت میں فصلوں کے نقصان پر مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
تعاون اور اجتماعی نظام کو مضبوط بنانا
یہ اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کسانوں کو نہ صرف مالی تحفظ حاصل ہو بلکہ وہ اجتماعی نظام کے ذریعے اپنی پیداوار، مارکیٹنگ اور آمدنی میں بھی بہتری لا سکیں، جس سے زرعی شعبے کی مجموعی مضبوطی اور پائیداری کو فروغ ملتا ہے۔

تعاون اور اجتماعی نظام کی مضبوطی
کمپیوٹرائزیشن کے تحت آنے والی 67,930 پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز (پی اے سی ایس) میں سے 54,150 کو انٹرپرائز وسائل منصوبہ بندی (ای آر پی) پلیٹ فارمز پر شامل کیا جا چکا ہے، جن میں سے 43,658 مکمل طور پر فعال ہیں۔
مارچ 2025 تک مجموعی طور پر 18,183 نئی کثیر المقاصد کوآپریٹو سوسائٹیوں کا اندراج کیا گیا۔
مقامی سطح پر ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 11 پی اے سی ایس میں غیر مرکزی اناج ذخیرہ پروگرام فعال ہے، جبکہ 2024 میں 500 نئے گوداموں کے قیام کا اعلان کیا گیا۔
نیشنل کوآپریشن پالیسی اور تری بھوون سہکاری یونیورسٹی کے ذریعے ادارہ جاتی اصلاحات کا مقصد کوآپریٹو شعبے میں گورننس اور صلاحیت سازی کو مضبوط بنانا ہے۔
مجموعی طور پر یہ اقدامات کسانوں کی آمدنی کے استحکام، ادارہ جاتی سطح پر خطرات کے تحفظ اور اجتماعی مارکیٹ تک رسائی کو وسعت دیتے ہیں، جس سے ہندوستان کی زرعی معیشت کی مضبوطی اور طویل مدتی پائیداری کو تقویت ملتی ہے۔

ن
مارکیٹ اصلاحات، ویلیو چین کی جدید کاری اور عوامی غذائی تقسیم کا نظام
ہندوستان میں خوراک کے نظم و نسق، بازار کے بنیادی ڈھانچے اور اضافی قدر نظام کو مضبوط بنانا “کھیت سے بازار تک” حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بن چکا ہے۔ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، پروسیسنگ سہولیات، ڈیجیٹل مارکیٹ پلیٹ فارمز اور عوامی تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری کے ذریعے سپلائی چین کو مؤثر بنایا جا رہا ہے، قیمتوں کو مستحکم کیا جا رہا ہے اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری لائی جا رہی ہے۔
مارکیٹ روابط اور بنیادی ڈھانچہ
زرعی اضافی قدر کو مضبوط بنانے کے لیے مارکیٹ روابط اور بعد از برداشت بنیادی ڈھانچے میں نمایاں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ 28 فروری 2026 تک 49,796 ذخیرہ منصوبوں کو 4,832.70 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ 25,009 بازار کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو 2,193.17 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی۔
ای-قومی زرعی مارکیٹ (ای-نام) پلیٹ فارم نے اپنی رسائی بڑھاتے ہوئے 1.8 کروڑ کسانوں، 2.72 لاکھ تاجروں اور 4,724 کسان پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف پی اوز) کو شامل کیا، جو 23 ریاستوں اور 4 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی 1,656 منڈیوں میں فعال ہیں۔ یہ پلیٹ فارم ڈیجیٹل قیمتوں کے تعین، شفاف تجارت اور ایک قومی منڈی کے تصور کو فروغ دیتا ہے۔
سال 2020 میں شروع کی گئی 10,000 ایف پی اوز اسکیم کے تحت 28 فروری 2026 تک 10,000 ایف پی اوز کا قیام مکمل کیا جا چکا ہے۔ ماہی گیری کے شعبے میں بھی 2,195 ایف ایف پی اوز تشکیل دیے گئے اور 4.39 لاکھ ماہی گیروں کو کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت فراہم کی گئی۔
فوڈ پروسیسنگ اور اضافی قدر
فوڈ پروسیسنگ کا شعبہ ملک میں منظم صنعت کے روزگار کا 12.91 فیصد فراہم کرتا ہے۔ پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کے تحت 30 نومبر 2025 تک 1,185 منصوبے مکمل کیے گئے، جن سے جدید پروسیسنگ اور کولڈ چین بنیادی ڈھانچے کو تقویت ملی۔
پیداوار سے منسلک رعایتی اسکیم (پی ایل آئی ایس ایف آئی) کے تحت 169 منصوبوں کو منظوری دی گئی، جس سے 9,207 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری آئی اور 2,162.55 کروڑ روپے کی ترغیبات جاری کی گئیں۔
اسی طرح پردھان منتری مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائز اسکیم (پی ایم ایف ایم ای) کے تحت 4,04,062 درخواستوں کی حمایت کی گئی، 1,72,707 قرضے فراہم کیے گئے اور خواتین کے اپنی مدد آپ گروپوں کو 1,277.45 کروڑ روپے کی ابتدائی سرمایہ امداد دی گئی، جس سے مقامی سطح پر اضافی قدر اور کاروباری ترقی کو فروغ ملا۔
خریداری اور غذائی تحفظ
حکومت کم از کم امدادی قیمت کے ذریعے کسانوں کو قیمت کا تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ غذائی اجناس کی خریداری کر کے قومی غذائی تحفظ کو یقینی بناتی ہے۔
- ربیع موسم 2025-26 (گندم): 300.35 لاکھ میٹرک ٹن خرید، 25.13 لاکھ کسان مستفید
- خریف موسم 2024-25 (دھان): 832.17 لاکھ میٹرک ٹن خرید، 118.59 لاکھ کسان مستفید
- خریف موسم 2025-26 (دھان، 17 نومبر 2025 تک): 243.48 لاکھ میٹرک ٹن خرید
- موٹے اناج/باجرا 2024-25: 11.72 لاکھ میٹرک ٹن
- 2025-26 (جاری): 64,365 میٹرک ٹن خرید
ان اقدامات کے ذریعے حکومت مناسب ذخائر برقرار رکھتی ہے، عوامی تقسیم کے نظام کے تحت مسلسل فراہمی یقینی بناتی ہے اور کھلی منڈی میں قیمتوں کو مستحکم رکھتی ہے۔
غذاء کی فراہمی کے قومی قانون کے تحت 81.35 کروڑ مستحق افراد کو سبسڈی والا اناج فراہم کیا جا رہا ہے، جو دیہی آبادی کے 75 فیصد اور شہری آبادی کے 50 فیصد تک پہنچتا ہے۔
ذخیرہ اور عوامی تقسیم کا نظام
یہ تمام اقدامات ایک مضبوط، شفاف اور مربوط غذائی نظام کی تشکیل میں مدد دیتے ہیں، جو کسانوں اور صارفین دونوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے زرعی معیشت کی پائیدار ترقی کو یقینی بناتا ہے۔

ایک ملک ایک راشن کارڈ اور عوامی تقسیم میں بہتری
ایک ملک ایک راشن کارڈ (او این او آر سی) کے نفاذ کے تحت راشن کارڈوں کی 99.8 فیصد آدھار سیڈنگ مکمل ہو چکی ہے اور یہ نظام ملک کی تمام 36 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کیا جا چکا ہے، جس سے مستحقین کے لیے پورٹیبلٹی اور شمولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ملک بھر کی 5.43 لاکھ سے زائد مناسب قیمت کی دکانوں میں سے 99 فیصد سے زیادہ کو الیکٹرانک پوائنٹ آف سیل (ای-پی او ایس) مشینوں سے لیس کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 98 فیصد سے زائد لین دین ڈیجیٹل ہو چکے ہیں اور تقسیم کے نظام میں شفافیت مزید مضبوط ہوئی ہے۔
مالی سال 2024 میں 267.6 کروڑ روپے کی رقم براہِ راست منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے 10 لاکھ سے زائد مستحقین کو منتقل کی گئی، جس سے ہدفی فراہمی اور جوابدہی میں بہتری آئی۔ مجموعی طور پر یہ اصلاحات مارکیٹ کے انضمام کو فروغ دیتی ہیں، تقسیم میں غیر مؤثریت کو کم کرتی ہیں اور ایک ڈیجیٹل زرعی و غذائی نظام کے تحت غذائی تحفظ کو مضبوط بناتی ہیں۔
پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) سے ہم آہنگی
ہندوستان کی زرعی پالیسیاں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ پیداوار میں اضافہ، عوامی خریداری اور غذائی تحفظ کے اقدامات ایس ڈی جی 2 (بھوک کا خاتمہ) میں معاون ہیں۔ مٹی کی زرخیزی کے انتظام، قدرتی کاشتکاری اور وسائل کے مؤثر استعمال جیسے اقدامات ایس ڈی جی 12 (ذمہ دارانہ پیداوار و کھپت) اور ایس ڈی جی 13 (ماحولیاتی اقدام) کو فروغ دیتے ہیں۔
اسی طرح بعد از برداشت بنیادی ڈھانچے، اضافی قدر، ذخیرہ اور ڈیجیٹل زرعی منڈیوں میں سرمایہ کاری ایس ڈی جی 9 (صنعت، جدت اور بنیادی ڈھانچہ) کو تقویت دیتی ہے۔ یہ تمام اقدامات ایک مضبوط اور پائیدار زرعی نظام کی تشکیل میں مددگار ہیں جو عالمی ترقیاتی اہداف کے مطابق ہے۔
نتیجہ
ہندوستان کا زرعی شعبہ ایک متوازن حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں پیداوار میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں مضبوط موجودگی اور کھیت سے بازار تک مربوط پالیسی اقدامات شامل ہیں۔ غذائی اجناس اور باغبانی کی ریکارڈ پیداوار، بڑھتی ہوئی برآمدات اور متنوع اجناس میں قیادت اس شعبے کی مضبوطی اور بدلتے معاشی و موسمی حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔
ان پٹ سپورٹ، آمدنی کے تحفظ، مارکیٹ بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل غذائی نظام کے ذریعے مشن طرز اقدامات نے پیداوار میں اضافہ، کسانوں کی فلاح اور غذائی تحفظ کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ جیسے جیسے مستحکم پیداواری نظام ترقی کر رہے ہیں، زرعی شعبہ دیہی روزگار، اضافی اقدار اور طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔
References
Ministry of Agriculture and Farmers Welfare
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2192315®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1776584®=3&lang=2#:~:text=189.56-,Andhra%20Pradesh%2C%20Maharashtra%2C%20Uttar%20Pradesh%2C%20Madhya%20Pradesh%2C%20Gujarat,Estimates%20of%202020%2D21).
https://teaboard.gov.in/pdf/State_Region_wise_tea_production_2024_and_2024_25_Apr_Dec_pdf4332.pdf
https://coconutboard.gov.in/Statistics.aspx
Nov Journal, Pg:14
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2197698®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2114891®=3&lang=2
https://naturalfarming.dac.gov.in/NaturalFarming/Concept
https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1705511®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2061646®=3&lang=2#:~:text=The%20National%20Mission%20on%20Edible%20Oils%20%E2%80%93,**Boosting%20farmers'%20incomes**%20*%20**Enhancing%20environmental%20benefits**
Ministry of Finance
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/stat/tab1.18.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/doc/budget_speech.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/budget2025-26/doc/eb/vol1.pdf
https://www.indiabudget.gov.in/doc/eb/allsbe.pdf
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2221410®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetail.aspx?PRID=1515649®=3&lang=2
Ministry of Commerce & Industry
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2182209®=3&lang=2#:~:text=Eight%20technical%20sessions%20shall%20be,third%20most%2Dtraded%20food%20commodity
https://agriexchange.apeda.gov.in/India/ExportAnalyticalReport/Index
https://apeda.gov.in/FreshOnions
https://apeda.gov.in/FreshFruitsAndVegetables
https://www.ibef.org/industry/agriculture-india
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2201284®=3&lang=2
https://www.ibef.org/exports/spiceindustryindia#:~:text=The%20largest%20spices%2Dproducing%20states,total%20export%20earnings%20in%20FY25.
Indian Spices, Spices Manufacturers and Exporters in India - IBEF
Ministry of Textiles
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2206688®=3&lang=2
Ministry of Food Processing Industries, Government of India
https://plimofpi.ifciltd.com/
myScheme
https://www.myscheme.gov.in/schemes/ky-smsp
https://www.myscheme.gov.in/schemes/pmksypdmc
https://www.myscheme.gov.in/schemes/pmfby
https://www.myscheme.gov.in/schemes/e-nam
https://www.myscheme.gov.in/schemes/pmfmpe
United Nations
https://sdgs.un.org/goals
PIB Backgrounder
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=154991&utm®=3&lang=2#:~:text=India%20is%20currently%20the%20largest,across%20diverse%20agro%2Dclimatic%20regions
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?id=154385&NoteId=154385&ModuleId=3®=3&lang=2#:~:text=Leading%20States%20in%20India's%20Spice,in%20the%20global%20spice%20market
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=156255&ModuleId=3®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2177847®=3&lang=2#:~:text=The%20Mission%20for%20Aatmanirbharta%20in,and%20sustainably%20improving%20farmers'%20incomes
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=155036®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2191651®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=156980&ModuleId=3®=22&lang=13
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154987&ModuleId=3®=3&lang=2
Click here to see pdf
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :4967)
(ریلیز آئی ڈی: 2245718)
وزیٹر کاؤنٹر : 16