امور داخلہ کی وزارت
سائبر معاملات سے نمٹنے کے لئے ریاستوں کو امداد
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 MAR 2026 4:24PM by PIB Delhi
انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سی ای آر ٹی-اِن) کو اطلاعاتی ٹیکنالوجی قانون 2000 کی دفعہ 70 بی کے تحت سائبر سیکیورٹی معاملات سے نمٹنے کے لیے قومی ایجنسی مقرر کیا گیا ہے۔سی ای آر ٹی-اِن کو موصول اور اس کے ذریعے ریکارڈ کی گئی معلومات کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پیش آنے والے سائبر سیکیورٹی معاملات کی کل تعداد ذیل میں دی گئی ہے:
|
سال
|
سائبر سیکیورٹی کے واقعات کی تعداد
|
|
2021
|
14,02,809
|
|
2022
|
13,91,457
|
|
2023
|
15,92,917
|
|
2024
|
20,41,360
|
|
2025
|
29,44,248
|
سی ای آر ٹی-اِن کے مطابق مختلف شعبوں سمیت سب سے زیادہ سائبر واقعات قومی دارالحکومت علاقہ دہلی سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ سائبر واقعات کے باعث ہونے والے مالی نقصانات کا تخمینہ سی ای آر ٹی-اِن کے پاس دستیاب نہیں ہے۔
سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور سائبر حملوں کی روک تھام کے لیے سی ای آر ٹی-اِن نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو درج ذیل اقدامات کے ذریعے مدد فراہم کی ہے:
- تازہ ترین سائبر خطرات اور کمزوریوں کے حوالے سے الرٹس اور ایڈوائزریز جاری کی جاتی ہیں تاکہ کمپیوٹرز، نیٹ ورکس اور ڈیٹا کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
- نیشنل سائبر کوآرڈینیشن سینٹر (این سی سی سی) کے ذریعے سائبر اسپیس کی نگرانی کی جاتی ہے اور خطرات کی معلومات متعلقہ ریاستی حکومتوں اور اداروں کے ساتھ مشترک کی جاتی ہیں۔
- ایک خودکار سائبر خطرات کے تبادلے کے پلیٹ فارم کے ذریعے خطرات سے متعلق معلومات جمع، تجزیہ اور مشترک کی جاتی ہیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
- سائبر سوچھتا کیندر (سی ایس کے) کے ذریعے نقصان دہ پروگراموں اور کمزور خدمات کی نشاندہی کر کے ان کے حل فراہم کیے جاتے ہیں۔
- سی ای آر ٹی-اِن نے 237 سیکیورٹی آڈٹ تنظیموں کو شامل کیا ہے تاکہ اطلاعاتی سیکیورٹی کے بہترین طریقوں کے نفاذ کی نگرانی کی جا سکے۔
- سرکاری اور اہم شعبوں میں سائبر سیکیورٹی کی تیاری جانچنے کے لیے باقاعدہ ہنگامی مشق اور ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں۔
- “سائبر بھارت سیتو” پروگرام کے ذریعے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سائبر سیکیورٹی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس میں مدھیہ پردیش، تریپورہ، اتراکھنڈ اور جموں و کشمیر نے 2025 میں حصہ لیا۔
- صنعت کے اشتراک سے تربیتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ سرکاری اور نجی اداروں میں سائبر سیکیورٹی افرادی قوت کی مہارت کو بہتر بنایا جا سکے۔
آئینِ ہندوستان کے ساتویں شیڈول کے مطابق پولیس اور امن و امان ریاستی موضوعات ہیں، اس لیے سائبر جرائم کی روک تھام، تفتیش اور کارروائی کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر عائد ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت مختلف اسکیموں کے تحت مشوروں اور مالی مدد کے ذریعے ان کی معاونت کرتی ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) اپنی اشاعت “کرائم اِن انڈیا” میں جرائم کے اعداد و شمار شائع کرتا ہے، جس کی تازہ ترین رپورٹ سال 2023 کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2023 کے دوران سائبر جرائم کے مقدمات اور سزا یافتہ افراد کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں:
below:
|
Year
|
Cases Registered
|
Persons Convicted
|
|
2019
|
44735
|
486
|
|
2020
|
50035
|
1369
|
|
2021
|
52974
|
736
|
|
2022
|
65893
|
1407
|
|
2023
|
86420
|
1104
|
این سی آر بی کے پاس سائبر جرائم کے نتیجے میں برآمد کی گئی رقم سے متعلق اعداد و شمار محفوظ نہیں کیے جاتے۔
سائبر جرائم سے جامع اور مربوط انداز میں نمٹنے کے لیے مرکزی حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:
- وزارتِ داخلہ نے انڈین سائبر جرائم ہم آہنگی مرکز (آئی فور سی) قائم کیا ہے تاکہ ملک بھر میں سائبر جرائم سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔
- نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (این سی آر پی) شروع کیا گیا ہے، جس کے ذریعے عوام ہر قسم کے سائبر جرائم، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔ ان شکایات پر کارروائی ریاستی اور یو ٹی کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں قانون کے مطابق کرتی ہیں۔
- شہری مالیاتی سائبر دھوکہ دہی رپورٹنگ و مینجمنٹ نظام (سی ایف سی ایف آر ایم ایس) (2021) کے تحت مالی دھوکہ دہی کی فوری رپورٹنگ ممکن بنائی گئی، جس کے ذریعے 31 جنوری 2026 تک 8690 کروڑ روپے سے زائد رقم کو بچایا گیا۔ اس کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1930 بھی فراہم کیا گیا ہے۔
- سائبر دھوکہ دہی روک تھام مرکز (سی ایف ایم سی) قائم کیا گیا ہے، جہاں بینکوں، مالیاتی اداروں، ادائیگی کے نظام فراہم کرنے والوں، ٹیلی کام سروس فراہم کنندگان اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے مل کر فوری کارروائی کرتے ہیں۔
- آئی فور سی کے تحت باقاعدگی سے اسٹیٹ کنیکٹ، تھانہ کنیکٹ اور باہمی سیکھنے کے سیشن منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ بہترین طریقوں کا تبادلہ اور صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔
- قومی ڈیجیٹل تحقیقاتی معاونت مرکز (سابقہ قومی سائبر فارنزک لیبارٹری برائے تفتیش) نئی دہلی اور آسام میں قائم کیا گیا ہے، جو ریاستی پولیس کے تفتیشی افسران کو ابتدائی مرحلے میں سائبر فرانزک مدد فراہم کرتا ہے، اور اب تک 13,417 سے زائد معاملات میں معاونت کر چکا ہے۔
- خواتین اور بچوں کے خلاف سائبر جرائم کی روک تھام اسکیم (سی سی پی ڈبلیو سی) کے تحت 132.93 کروڑ روپے کی مالی مدد فراہم کی گئی اور 33 ریاستوں/یوٹیز میں سائبر لیبارٹریز قائم کی گئیں، جبکہ 24,600 سے زائد اہلکاروں کو تربیت دی گئی۔
- سائ تربیت پورٹل کے ذریعے آن لائن تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جہاں 1.51 لاکھ سے زائد افسران رجسٹرڈ ہیں اور 1.42 لاکھ سے زیادہ سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے ہیں۔
- سائبر مجرموں کی شناخت کے لیے مشتبہ رجسٹری قائم کی گئی، جس کے ذریعے لاکھوں مشتبہ اکاؤنٹس کی نشاندہی اور ہزاروں کروڑ روپے کے مشکوک لین دین کو روکا گیا۔
- ملک بھر میں 7 مشترکہ سائبر کوآرڈینیشن ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ مختلف ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
- سمنویہ پلیٹ فارم کو ایک انتظامی معلوماتی نظام، ڈیٹا جمع کرنے اور ہم آہنگی کے پلیٹ فارم کے طور پر فعال کیا گیا ہے، جس کے ذریعے سائبر جرائم کے ڈیٹا کا تجزیہ اور بین الریاستی روابط کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں 21,857 سے زائد ملزمان کی گرفتاری ممکن ہوئی۔
- 2 جنوری 2026 کو ایک جامع معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) جاری کیا گیا، جس کے تحت شکایات کے ازالے کے لیے یکساں اور متاثرہ فرد پر مبنی نظام نافذ کیا گیا ہے۔
یہ اطلاع وزارتِ داخلہ کے وزیر مملکت جناب بندی سنجے کمار نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U :4829 )
(ریلیز آئی ڈی: 2244711)
وزیٹر کاؤنٹر : 10