زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
مرکزی وزیرِ زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے زراعتی شعبے کا جامع جائزہ لیا، جس میں فصلوں کے نقصان، بیمہ کے دعووں اور کسانوں کو بروقت مدد فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی
مرکزی وزیرِ زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ہدایت دی کہ شدید بارش، ژالہ باری اور خراب موسمی حالات سے متاثرہ کسانوں کو سائنسی بنیاد پر فوری راحت اور بیمہ کے دعووں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے
مرکزی وزیر نے کسانوں کی فلاح، باہمی ہم آہنگی، فصل کٹائی کے تجربات اور مقررہ وقت میں امداد کی فراہمی پر مبنی نئے زراعتی ایکشن پلان پر زور دیا
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے دالوں میں خود کفالت کے مشن کو تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس میں پیداوار، خریداری، کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور کسانوں کے فوائد پر خصوصی توجہ دی جائے
مزید برآں، وکست کرشی سنکلپ ابھیان، علاقائی کانفرنس اور فصل کے لحاظ سے منصوبہ بندی کے ذریعے زمینی سطح تک سائنسی مشاورتی خدمات پہنچانے کے لیے جامع تیاریاں جاری ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 MAR 2026 5:45PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی، جناب شیوراج سنگھ چوہان نے جمعہ کے روز نئی دہلی کے کرشی بھون میں زراعتی شعبے کی مجموعی صورتحال کا اعلیٰ سطحی اور جامع جائزہ لیا۔ اس اجلاس میں حالیہ دنوں میں شدید بارش، موسلا دھار بارش، ژالہ باری اور دیگر خراب موسمی حالات کے باعث مختلف ریاستوں میں کسانوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات پر تفصیل سے غور وخوض کیا گیا۔اجلاس کے دوران کسانوں کی فوری ضروریات، بیمہ کے دعووں پر کارروائی اور امدادی نظام کے کام کرنے کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ جائزہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جناب شیوراج سنگھ چوہان نے واضح کیا کہ حکومت کی توجہ صرف پیداوار تک محدود نہیں بلکہ فصلوں کے نقصان کے سائنسی جائزے، بیمہ کے دعووں کی درست ادائیگی اور کسانوں کو بروقت مدد فراہم کرنے پر بھی مرکوز ہے۔
یہ جائزہ اجلاس ایسے وقت میں بلایا گیا جب متعدد ریاستوں میں خراب موسمی صورتحال، فصلوں کو نقصان کے خدشات اور کسانوں کو فوری مدد کی ضرورت اہم مسائل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اس اجلاس کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ حکومتی پالیسی اقدامات، امدادی نظام اور مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں کی رسائی کو تمام سطحوں پر مؤثر طریقے سے ہم آہنگ کیا جائے، تاکہ کسانوں کو بروقت اور مناسب مدد فراہم کی جا سکے۔
فصلوں کے نقصان کے سائنسی جائزے اور بیمہ کے دعووں پر خصوصی زور
اجلاس کے دوران جناب شیوراج سنگھ چوہان نے زراعتی سیکریٹری، زراعتی کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام کو ہدایت دی کہ جہاں کہیں بھی کسانوں کو مدد کی ضرورت ہو، وہاں ریاستی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ فصل کٹائی کے تجربات فوری طور پر کیے جائیں، نقصانات کا سائنسی انداز میں جائزہ لیا جائے اور بغیر کسی تاخیر کے فوری راحت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شدید بارش، ژالہ باری یا دیگر خراب موسمی حالات سے متاثرہ علاقوں میں زمینی سطح پر بروقت کارروائی نہایت ضروری ہے تاکہ کسی بھی کسان کو امداد کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ فوری رابطہ اور تال میل قائم کیا جائے تاکہ فصل کٹائی کے تجربات درست طریقے سے انجام دیے جائیں، نقصانات کا درست اندازہ لگایا جائے اور بیمہ دعوے سائنسی بنیادوں پر تیار کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسانوں کو نقصان ہوا ہے تو ان کے بیمہ دعوے درست اور سائنسی طریقے سے تیار کیے جائیں تاکہ انہیں مناسب مدد فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں مزید دو مغربی ہواؤں کے نظام (ویسٹرن ڈسٹربینس) کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کے پیش نظر کسانوں کے لیے جاری کیے جانے والے مشوروں پر تفصیلی غور کیا گیا اور ضروری ہدایات دی گئیں۔
خراب موسم، پیش گوئی اور خطرات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی
اجلاس میں موسمی پیش گوئیوں اور فصلوں کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ آنے والے دنوں میں ممکنہ موسمی خطرات کے مطابق تیاری کی جا سکے۔ جناب چوہان نے کہا کہ محکمہ زراعت، ریاستی حکومتیں اور متعلقہ ادارے مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کریں تاکہ کسانوں کو بروقت مشورہ، مدد اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ زرعی شعبے کا مقصد صرف پیداوار تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں کسانوں کا تحفظ، آمدنی کا استحکام اور بروقت مدد بھی شامل ہونی چاہیے۔ اس کے لیے فصلوں کی صورتحال، موسمی خطرات، خریداری کی تیاری اور امدادی نظام کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا ضروری ہے۔
دالوں میں خود کفالت، ایم ایس پی اور پیداوار کی خریداری
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گندم اور دھان کی خریداری جلد شروع ہونے والی ہے اور رواں ربیع سیزن میں اچھی پیداوار ہوئی ہے، جس کے باعث ملک میں گندم، دھان اور چاول کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گندم اور دھان کی خریداری جاری رہے گی، تاہم دالوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ کسان تور، مسور اور اُڑد جتنی چاہیں فروخت کر سکتے ہیں اور حکومت ان کی خریداری کرے گی۔
مرکزی وزیر نے واضح کیا کہ دالوں کی خریداری نہ صرف ریاستی حکومتوں کے ذریعے بلکہ نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن (نیفڈ) اور نیشنل کوآپریٹو کنزیومرز فیڈریشن (این سی سی ایف) جیسی ایجنسیوں کے ذریعے بھی کی جائے گی، تاکہ کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت سے کم پر اپنی پیداوار فروخت کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے اور انہیں مناسب معاوضہ مل سکے۔
دالوں میں خود کفالت کے مشن کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے پیداوار بڑھانے، زیرِ کاشت رقبہ میں اضافہ کرنے اور اہم دالوں جیسے تور، اُڑد اور مسور کے لیے ایم ایس پی پر مبنی خریداری کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مشن کا مقصد ملک کو دالوں کی پیداوار میں خود کفیل بنانا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے لیے زمینی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مقدار کے ساتھ معیار پر بھی توجہ، اعلیٰ قیمت کے لیے مہم
مرکزی وزیرِ زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے واضح کیا کہ زرعی پالیسی اب صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ معیار کو بہتر بنانے پر بھی برابر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کی "شربتی" گندم کی مثال دی، جو اپنی اعلیٰ کوالٹی کی وجہ سے بازار میں 400 روپے سے زائد اضافی قیمت حاصل کرتی ہے۔
انہوں نے بہتر اقسام کی فصلوں، غذائیت سے بھرپور (بایو فورٹیفائیڈ) اجناس اور اعلیٰ معیار کے اناج کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ کسان کم از کم امدادی قیمت سے بھی زیادہ قیمت حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پیداوار میں اضافہ ضرور کیا جائے گا، لیکن اس کے ساتھ معیار کو بہتر بنانے کے لیے بھی مہم چلائی جائے گی، کیونکہ بہتر اقسام اور اعلیٰ معیار کسانوں کو زیادہ منافع دلا سکتے ہیں۔
وکست کرشی سنکلپ ابھیان، علاقائی کانفرنس اور فصل کے لحاظ سے منصوبہ بندی
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آئندہ وکست کرشی سنکلپ ابھیان کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا، جسے قومی سطح پر نافذ کیا جائے گا تاکہ کسانوں کو سائنسی مشورے، جدید ٹیکنالوجی اور علاقہ کے مطابق زراعتی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ مہم محض رسمی نہ ہو بلکہ عملی سطح پر مفید نتائج فراہم کرے، تاکہ کسان بوائی سے پہلے درست فصل، مناسب قسم اور بہتر زرعی طریقہ اختیار کر سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے خریف فصلوں کی تیاری پر نئی دہلی میں ایک ہی اجلاس میں غور کیا جاتا تھا، لیکن اب اس طریقہ کار کو تبدیل کر کے ملک کو پانچ خطوں — شمال، جنوب، مغرب، مشرق اور پہاڑی ریاستوں (بشمول شمال مشرق) — میں تقسیم کر کے علاقائی کانفرنسیں منعقد کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تین علاقائی کانفرنسیں 7 اپریل کو جے پور، 17 اپریل کو لکھنؤ اور 24 اپریل کو اوڈیشہ میں ہوں گی، جبکہ باقی دو کانفرنسوں کی تاریخیں جلد طے کی جائیں گی۔
ان کانفرنسوں میں سرکاری افسران کے علاوہ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے سائنسدان، زراعتی ماہرین، کامیاب کسان، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن اور نجی شعبے کے نمائندے بھی شریک ہوں گے، جنہوں نے تحقیق، ویلیو ایڈیشن، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ حکومت بیج سے لے کر بازار تک پوری زرعی ویلیو چین کے لیے حکمتِ عملی تیار کر رہی ہے تاکہ ہر مرحلے پر کسانوں کو مکمل مدد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر بڑی فصل کے لیے "فصل پر مبنی روڈ میپ" اور ہر ریاست کے لیے "ریاستی زرعی روڈ میپ" تیار کیا جائے گا۔ سویا بین، مکئی اور ناریل جیسی فصلوں پر پیداوار بڑھانے، معیار بہتر بنانے، بیماریوں پر قابو پانے اور صاف ستھرے پودا جاتی مواد کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی غور و فکر جاری ہے۔
اپنی عہد بندی کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقصد زراعتی پیداوار میں اضافہ کرنا اور کسانوں کی محنت کے ذریعے ملک کی خوشحالی کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔
******
(ش ح۔ م ش ع۔ م ا)
Urdu No-4574
(ریلیز آئی ڈی: 2243206)
وزیٹر کاؤنٹر : 7