بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
مرکزی وزیر جناب سربانند سونوال نے بھارتی پرچم بردار ایل پی جی بردار جہازوں شیوالک اور نندا دیوی کے بہادر عملے سے ملاقات کی
انہوں نے کہا کہ عملے نے ایک خطرناک سمندری علاقے میں تقریباً دو ہفتے انتظار کے باوجود غیر معمولی جرات اور حوصلے کا مظاہرہ کیا
مرکزی وزیر نے عملے سے گفتگو کرتے ہوئے سمندری کارکنوں کو ’’عالمی تجارت کے گمنام ہیرو‘‘ قرار دیا
بھارتی پرچم بردار ایل پی جی جہاز مندرا اور کنڈلا بندرگاہوں پر پہنچ گئے، جس سے توانائی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی گئی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAR 2026 6:37PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی راستے جناب سربانند سونوال نے وزارت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھارتی پرچم بردار ایل پی جی بردار جہازوں شیوالک اور نندا دیوی کے بہادر عملے سے بات چیت کی اور اہم ایل پی جی کارگو کی محفوظ ترسیل یقینی بنانے پر ان کی جرات اور فرض شناسی پر قوم کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔
یہ گفتگو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوئی، جس میں وزارتِ بندرگاہیں، جہاز رانی و آبی راستے کے سکریٹری وجے کمار، ڈائریکٹر جنرل آف شپنگ شیام جگن ناتھن، شپنگ کارپوریشن آف انڈیا کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر کیپٹن بی کے تیاگی، جہاز شیوالک کے کیپٹن سکھمیت سنگھ اور ان کا عملہ، جبکہ نندا دیوی کے کیپٹن دھیرج کمار اگروال اور ان کا عملہ شریک تھا۔
سمندری عملے سے خطاب کرتے ہوئے سونوال نے کہا کہ یہ ملاقات دراصل قوم کی جانب سے ان کے لیے ’’دلی تشکر کا اظہار‘‘ ہے، جنہوں نے ایک خطرناک سمندری ماحول میں کام کرتے ہوئے نہایت اہم ایل پی جی سپلائی کو بحفاظت منزل تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا، ’’شیوالک اور نندا دیوی کے عملے کی جرات، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہنا ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ آپ کی کوششوں نے نہ صرف اہم ایل پی جی کارگو کی محفوظ ترسیل ممکن بنائی بلکہ بھارت کی توانائی سلامتی کو بھی مضبوط کیا۔‘‘
مرکزی وزیر سربانند سونوال نے بتایا کہ دونوں جہاز سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تقریباً دو ہفتے تک ایک خطرناک سمندری علاقے میں رکے رہے، جس کے بعد انہوں نے بھارت کی جانب اپنا سفر جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ عملے نے مشکل حالات میں غیر معمولی صبر، چوکسی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔
اس سے قبل یہ دونوں بھارتی پرچم بردار ایل پی جی جہاز بحفاظت آبنائے ہومز عبور کرتے ہوئے 16 اور 17 مارچ کو بھارت پہنچے۔ مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت خلیج فارس کے علاقے میں سمندری سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایم ٹی شیوالک اور ایم ٹی نندا دیوی تقریباً 92,712 میٹرک ٹن ایل پی جی لے کر 13 مارچ 2026 (جمعہ) کو آبنائے ہرمز عبور کر چکے تھے۔
سونوال نے کہا، ’’سمندری کارکن عالمی تجارت کے گمنام ہیرو ہیں۔ آپ اپنے گھروں اور خاندانوں سے دور رہ کر یہ یقینی بناتے ہیں کہ ضروری سامان محفوظ طریقے سے اپنی منزل تک پہنچے۔‘‘ انہوں نے عالمی سپلائی چین کو برقرار رکھنے میں سمندری عملے کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مکمل طور پر بھارتی عملے پر مشتمل ان جہازوں کا کامیاب سفر بھارت کی بحری افرادی قوت کی مضبوطی اور استقامت کا عکاس ہے۔
وزیرِ اعظم جناب نریندرمودی کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت بحری شعبے کو مضبوط بنانے اور سمندری کارکنوں کی سلامتی، وقار اور عالمی سطح پر شناخت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
سونوال نے سمندری کارکنوں کے اہلِ خانہ کے تعاون کو بھی سراہا اور انہیں ان کی خدمات کے پیچھے ایک مضبوط ستون قرار دیا۔ دونوں جہازوں کے کپتانوں، افسران اور عملے کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی کامیابی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کی ایک بہترین مثال ہے، اور ان کے آئندہ سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ (ڈی جی شپنگ) صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور جہاز مالکان، ریکروٹمنٹ اینڈ پلیسمنٹ سروس لائسنس ایجنسیوں اور خطے میں بھارتی سفارتی مشنز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ مرکزی وزیرجناب سربانند سونوال خود بھی اس صورتحال کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔
سمندری سرگرمیوں کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے حکومت بندرگاہوں، شپنگ کمپنیوں اور لاجسٹکس سے وابستہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ بحری تجارت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو کم سے کم کیا جا سکے۔ بندرگاہوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ضرورت کے مطابق ریلیف اقدامات فراہم کریں، جن میں لنگر اندازی، برتھ چارجز اور اسٹوریج فیس میں رعایت شامل ہے۔
اہم بندرگاہوں پر ایل پی جی جہازوں کو ترجیحی بنیاد پر برتھ فراہم کی جا رہی ہے تاکہ کارگو کی بروقت اُترائی اور توانائی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔ گزشتہ چند دنوں میں چھ ایل پی جی جہاز بڑے بھارتی بندرگاہوں پر پہنچ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بندرگاہیں اُن جہازوں کے لیے محفوظ لنگر انداز ہونے کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہیں جو خلیجی ممالک کے لیے روانہ ہونے والے کارگو کے ساتھ موجودہ حالات کے باعث سفر جاری نہیں رکھ پا رہے۔
وزارت نے کہا کہ وہ وزارتِ خارجہ، بیرونِ ملک بھارتی مشنز، شپنگ کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے سمندری صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے، جس کا مقصد بھارتی سمندری کارکنوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا اور ملک کے بحری لاجسٹکس نظام کو مضبوط اور مستحکم رکھنا ہے۔



ش ح، ش ت ۔ج
uno-4287
(ریلیز آئی ڈی: 2241487)
وزیٹر کاؤنٹر : 13