زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے باغبانی فصلوں کے رقبہ اور پیداوار سے متعلق سال 2024-25 کے حتمی تخمینے اور 2025-26 کے پہلے پیشگی تخمینے جاری کئے
شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ باغبانی کا شعبہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں ایک اہم محرک کے طور پر ابھرا ہے، جہاں رقبہ اور پیداوار دونوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے
انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کے دور میں تقریباً تمام فصلوں،پھلوں اور سبزیوں سے لے کر مصالحہ جات، پھولوں اور ادویاتی پودوں تک.کے رقبہ اور پیداوار میں اضافہ ہوا ہے
ان کے مطابق، سال 2024-25 میں باغبانی فصلوں کا کل رقبہ 301.36 لاکھ ہیکٹر تک پہنچ گیا جبکہ پیداوار 3707.38 لاکھ ٹن رہی۔ سال 2025-26 میں پیداوار کا تخمینہ 3708.46 لاکھ ٹن لگایا گیا ہے
ایک سال کے دوران رقبہ میں 10.50 لاکھ ہیکٹر اور پیداوار میں 159.94 لاکھ ٹن کا اضافہ ہوا، جس سے پھلوں اور سبزیوں کے ذریعے کسانوں کو اضافی سہارا ملا ہے
انہوں نے بتایا کہ پیاز، آلو، ٹماٹر کے ساتھ ساتھ مصالحہ جات، پھولوں اور ادویاتی پودوں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے
مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ شجرکاری (پلانٹیشن) فصلوں میں بھی بہتری آئی ہے، جس میں حکومت کی ٹیکنالوجی اور ویلیو چینز پر توجہ اہم کردار ادا کر رہی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAR 2026 6:22PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور باغبانی کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ مرکزی وزیر زراعت و کسانوں کی بہبود بہبود اور دیہی ترقی جناب شیو راج سنگھ چوہان کی منظوری کے بعد محکمۂ زراعت و کسان بہبود نے سال 2024-25 کے حتمی تخمینے اور 2025-26 کے پہلے پیشگی تخمینے جاری کیے ہیں، جن سے ملک بھر میں پھلوں، سبزیوں، مصالحہ جات، پھولوں اور ادویاتی پودوں کے رقبہ اور پیداوار میں نمایاں اضافے کا اشارہ ملتا ہے۔
باغبانی فصلوں کا ریکارڈ رقبہ اور پیداوار
مرکزی وزیر زراعت کی منظوری کے بعد جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2023-24 میں باغبانی فصلوں کا کل رقبہ 290.86 لاکھ ہیکٹر تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 301.36 لاکھ ہیکٹر ہو گیا—یعنی 10.50 لاکھ ہیکٹر (3.61 فیصد) کا نمایاں اضافہ۔ اسی طرح پیداوار 3547.44 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 3707.38 لاکھ ٹن ہو گئی، جو 159.94 لاکھ ٹن (4.51 فیصد) کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
سال 2025-26 کے پہلے پیشگی تخمینوں کے مطابق، رقبہ 301.31 لاکھ ہیکٹر اور پیداوار 3708.46 لاکھ ٹن رہنے کا اندازہ ہے، جو 2024-25 کے مقابلے میں 1.09 لاکھ ٹن زیادہ ہے اور اس شعبے میں مسلسل ترقی کی نشاندہی کرتا ہے۔
پھل اور سبزیاں: کاشتکاری اور غذائیت میں بہتری
پھلوں اور سبزیوں کی بڑھتی ہوئی پیداوار نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ ملک میں غذائیت کے معیار کو بھی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
مرکزی وزیر زراعت جناب شیو راج سنگھ چوہان کے مطابق، سال 2024-25 میں پھلوں کی پیداوار میں 4.13 فیصد (46.71 لاکھ ٹن) اضافہ ہوا اور یہ 2023-24 کے 1129.78 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 1176.49 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔ اس اضافے میں کیلا، آم، مالٹا (مینڈرین)، پپیتا، امرود، تربوز اور کٹھل کی پیداوار میں بہتری کا اہم کردار رہا۔
اسی طرح سبزیوں کی پیداوار میں بھی 5.11 فیصد (105.89 لاکھ ٹن) اضافہ ہوا، جو 2072.08 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2177.97 لاکھ ٹن ہو گئی۔ اس میں پیاز، آلو، ہری مرچ، پھول گوبھی، بند گوبھی، بینگن، بھنڈی، مٹر، کدو، لوکی، کریلا، کھیرے، ٹیپیوکا (ساگو)، شکر قندی، مولی اور شملہ مرچ کی پیداوار میں اضافہ شامل ہے۔
سال 2025-26 کے لیے اندازہ ہے کہ پھلوں کی پیداوار 1186.80 لاکھ ٹن (0.88 فیصد یا 10.31 لاکھ ٹن اضافہ) تک پہنچے گی، جبکہ سبزیوں کی پیداوار 2161.60 لاکھ ٹن رہنے کی توقع ہے۔ ٹماٹر، مٹر، ٹیپیوکا، ہری مرچ اور کدو میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
روزمرہ استعمال کی سبزیاں: پیاز، آلو اور ٹماٹر میں اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق، پیاز کا رقبہ 2023-24 کے 15.41 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 2024-25 میں 19.68 لاکھ ہیکٹر ہو گیا، یعنی 4.27 لاکھ ہیکٹر (27.74 فیصد) کا اضافہ۔ اس کی پیداوار 242.67 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 307.67 لاکھ ٹن ہو گئی، جو 65 لاکھ ٹن (26.79 فیصد) زیادہ ہے۔
آلو کی پیداوار 2024-25 میں 585.71 لاکھ ٹن تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جو 570.53 لاکھ ٹن کے مقابلے میں 15.18 لاکھ ٹن (2.66 فیصد) زیادہ ہے، جبکہ 2025-26 میں یہ تقریباً 584.47 لاکھ ٹن رہنے کی توقع ہے۔
ٹماٹر کی پیداوار 2024-25 میں 205.99 لاکھ ٹن رہی (جبکہ 2023-24 میں 213.23 لاکھ ٹن تھی)، تاہم 2025-26 میں اس کے بڑھ کر 227.02 لاکھ ٹن تک پہنچنے کا امکان ہے، جس سے کسانوں کی آمدنی اور صارفین کو دستیابی دونوں میں بہتری آئے گی۔
زیادہ قدر والی فصلوں میں اضافہ: مصالحہ جات، پھول اور ادویاتی پودے
زیادہ قدر والی فصلوں جیسے مصالحہ جات، پھولوں اور خوشبودار و ادویاتی پودوں کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو کسانوں کے لیے بہتر منافع اور زرعی معیشت کی مضبوطی کا باعث بن رہا ہے۔
خوشبودار اور ادویاتی پودوں کے رقبے میں 2024-25 کے دوران 6.13 فیصد (0.57 لاکھ ہیکٹر) اضافہ ہوا اور یہ 9.26 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 9.83 لاکھ ہیکٹر ہو گیا، جبکہ پیداوار 7.26 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 9.01 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔ 2025-26 میں اس کی پیداوار 9.03 لاکھ ٹن رہنے کی توقع ہے۔
پھولوں کی کاشت کے رقبے میں نمایاں 25.24 فیصد (0.80 لاکھ ہیکٹر) اضافہ ہوا اور یہ 3.17 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 3.97 لاکھ ہیکٹر ہو گیا، جبکہ پیداوار 35.35 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 42.65 لاکھ ٹن (20.65 فیصد اضافہ) تک پہنچ گئی۔ 2025-26 میں اس کی پیداوار 41.65 لاکھ ٹن رہنے کا اندازہ ہے۔
مصالحہ جات کے رقبے میں 1.38 فیصد (0.69 لاکھ ہیکٹر) اضافہ ہو کر 50.93 لاکھ ہیکٹر تک پہنچ گیا، جبکہ پیداوار 124.84 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 129.93 لاکھ ٹن (4.08 فیصد اضافہ) ہو گئی۔ 2025-26 میں اس کی پیداوار 128.18 لاکھ ٹن رہنے کی توقع ہے۔ زیرہ، ادرک، لہسن اور ہلدی کی پیداوار اور رقبے میں خاص اضافہ دیکھا گیا، جبکہ 2025-26 میں لہسن، ہلدی اور الائچی کی پیداوار میں مزید اضافے کی امید ہے۔
پلانٹیشن فصلیں اور آئندہ کی سمت: ٹیکنالوجی، آبپاشی اور ویلیو چینز پر زور
مرکزی وزیر زراعت جناب شیو راج سنگھ چوہان نے بتایا کہ 2024-25 میں پلانٹیشن فصلوں کی پیداوار 176.66 لاکھ ٹن سے کم ہو کر 169.81 لاکھ ٹن رہی۔ تاہم 2025-26 کے لیے رقبے اور پیداوار میں بالترتیب 1.61 فیصد اور 5.82 فیصد اضافے کا اندازہ ہے، جس کے مطابق رقبہ 46.59 لاکھ ہیکٹر اور پیداوار 179.68 لاکھ ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔
مجموعی طور پر 2025-26 میں باغبانی کی کل پیداوار 3708.46 لاکھ ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے، جو وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ٹیکنالوجی، آبپاشی، ویلیو چینز، پروسیسنگ، ذخیرہ کاری، کولڈ چین اور مارکیٹ کے شعبوں میں کی گئی حکومتی سرمایہ کاری کے مثبت نتائج کو ظاہر کرتی ہے۔ اس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور منافع بخش و پائیدار زراعت کو فروغ مل رہا ہے۔
مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ باغبانی اب کسانوں کی آمدنی بڑھانے، غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور زرعی برآمدات کو فروغ دینے کی مضبوط بنیاد بن چکی ہے، اور ہدف یہ ہے کہ کسانوں کو پھلوں، سبزیوں، مصالحہ جات، پھولوں اور ادویاتی فصلوں کے ذریعے پائیدار اور بہتر آمدنی حاصل ہو سکے۔
****
ش ح۔ ش ت۔ ج
uno-4291
(ریلیز آئی ڈی: 2241470)
وزیٹر کاؤنٹر : 9