بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے کیپٹو پاور کے نظام کو مضبوط بنانے اور صنعتی مسابقت کو فروغ دینے کے لیے بجلی کے قواعد میں ترمیم کر دی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 MAR 2026 6:13PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند نے بجلی (ترمیمی) قواعد، 2026 کو نوٹیفائی کر دیا ہے، جن کے ذریعے بجلی کے قواعد، 2005 کے قاعدہ 3 میں ترمیم کی گئی ہے، جو کیپٹو جنریٹنگ پلانٹس (سی جی پیز) سے متعلق ہے۔ ان ترامیم کا مقصد تشریح سے متعلق ابہامات کو دور کرنا، صنعت کے لیے کاروبار میں آسانی کو بہتر بنانا اور کیپٹو بجلی پیداوار کے نظام کو بھارت کے توانائی کی منتقلی اور صنعتی ترقی کے اہداف کے مطابق بنانا ہے۔

بجلی ایکٹ، 2003 کے تحت کیپٹو بجلی پیداوار ایک اہم سہولت کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ قومی بجلی پالیسی، 2005 نے کیپٹو بجلی پیداوار کو صنعتوں کے لیے قابلِ اعتماد اور کم لاگت بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا تھا۔ کیپٹو بجلی نے صنعتوں کو بجلی کی فراہمی میں رکاوٹوں کو کم کرنے اور بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو سنبھالنے میں مدد دے کر صنعتی ترقی کو فروغ دیا ہے۔

بھارتی صنعتیں پائیداری کے عزم کو پورا کرنے اور لاگت میں کمی لانے کے لیے تیزی سے غیر فوسل ایندھن پر مبنی توانائی کو اختیار کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں کیپٹو بجلی پیداوار کے لیے ایک واضح، قابلِ پیش گوئی اور قابلِ عمل نظام کی فراہمی صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے اور بھارت کی طویل مدتی معاشی ترقی کی حمایت کے لیے نہایت اہم ہے۔

استعمال کے مقام کے قریب بجلی کی پیداوار کی حوصلہ افزائی سے ترسیلی نقصانات میں کمی، نظام کی کارکردگی میں بہتری اور گرڈ کی مضبوطی میں اضافہ ہوتا ہے۔ چنانچہ ان ترامیم کا مقصد کیپٹو بجلی پیداوار سے متعلق ضوابط کے نفاذ میں وضاحت فراہم کرنا ہے، جبکہ ملکیت اور استعمال سے متعلق قانونی تحفظات کو برقرار رکھا گیا ہے۔

بجلی (ترمیمی) قواعد، 2026 اس مقصد سے متعارف کرائے گئے ہیں کہ کیپٹو پاور پلانٹس کے ضابطہ جاتی نظام میں زیادہ وضاحت اور لچک پیدا کی جائے تاکہ صنعتیں اپنی ضروریات کے لیے بجلی کی پیداوار آسانی سے کر سکیں۔ ان ترامیم کا مقصد کیپٹو بجلی پیداوار کے نظام کو جدید کارپوریٹ ڈھانچوں اور صنعتوں کی بدلتی ہوئی توانائی کی ضروریات کے مطابق بنانا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کمپنیاں تیزی سے غیر فوسل ایندھن پر مبنی کیپٹو پاور منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

ملکیت سے متعلق ضوابط کو واضح کرنے، گروپ کیپٹو انتظامات کے قواعد کو آسان بنانے اور تصدیق کا واضح طریقۂ کار قائم کرنے کے ذریعے ان ترامیم کا مقصد ضابطہ جاتی ابہام اور تنازعات کو کم کرنا ہے۔ قواعد میں متعدد دفعات کو تعمیل میں آسانی کے لیے سادہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک نئی شق شامل کی گئی ہے تاکہ کیپٹو صارفین کی حیثیت کی تصدیق مکمل ہونے تک ڈسٹری بیوشن لائسنس یافتہ ادارے ان پر کسی قسم کے اضافی چارجز عائد نہ کر سکیں۔

مجموعی طور پر توقع ہے کہ یہ ترامیم کاروبار میں آسانی کو فروغ دیں گی، صنعتوں کو کیپٹو بجلی پیداوار کے ذریعے قابلِ اعتماد اور مسابقتی لاگت پر بجلی تک رسائی فراہم کریں گی، ضابطہ جاتی ابہامات اور تنازعات میں کمی لائیں گی اور کیپٹو اور غیر فوسل ایندھن پر مبنی توانائی منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں گی۔

یہ ترامیم وسیع پیمانے پر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہیں۔

ترامیم کی اہم خصوصیات

  1. ملکیت کی واضح شرائط

ملکیت کی تعریف کو واضح کرتے ہوئے اس میں ذیلی کمپنیوں، ہولڈنگ کمپنیوں اور اس ہولڈنگ کمپنی کی دیگر ذیلی کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کیپٹو جنریٹنگ پلانٹ قائم کرتی ہے۔ یہ وضاحت جدید کارپوریٹ ڈھانچوں کو تسلیم کرتی ہے، جہاں بجلی سے متعلق اثاثے اکثر گروپ کمپنیوں یا خصوصی مقصدی اداروں کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں۔ اس ترمیم سے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ کارپوریٹ گروپس کی جانب سے کی جانے والی جائز کیپٹو سرمایہ کاری کو صرف تنظیمی ڈھانچے کی بنا پر کیپٹو درجہ سے محروم نہ کیا جائے۔

  1. تصدیق کی یکساں مدت

کیپٹو حیثیت کی تصدیق پورے مالی سال کے لیے کی جائے گی، جس سے عمل درآمد میں وضاحت اور یکسانیت پیدا ہوگی۔ تاہم اگر کسی کیپٹو جنریٹنگ پلانٹ کی ملکیت کے پہلے یا آخری سال کا معاملہ ہو تو تصدیق مالی سال کے متعلقہ حصے کے لیے بھی کی جا سکتی ہے۔

3۔ ایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پی) کے ذریعے قائم کیپٹو پاور پلانٹس

ان ترامیم کے تحت ایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پی) کے ذریعے قائم کیے گئے گروپ کیپٹو منصوبوں کے آپریشن میں زیادہ لچک فراہم کی گئی ہے۔ کیپٹو صارفین اپنی عملی ضروریات کے مطابق بجلی حاصل کر سکیں گے، بشرطیکہ مجموعی طور پر ملکیت اور استعمال سے متعلق قانونی شرائط کی پابندی برقرار رکھی جائے۔

کسی انفرادی صارف کی جانب سے اس کے متناسب حق سے زیادہ بجلی استعمال کرنے کی صورت میں پلانٹ کی کیپٹو حیثیت ختم نہیں ہوگی۔ تاہم اس اضافی استعمال کو انفرادی کیپٹو استعمال تصور نہیں کیا جائے گا، البتہ یہ گروپ کے مجموعی کیپٹو استعمال کی لازمی شرط کو پورا کرنے میں شامل کیا جائے گا۔

اگر ایسوسی ایشن آف پرسنز کا کوئی رکن 26 فیصد یا اس سے زیادہ ملکیت رکھتا ہو تو اس ادارے پر متناسب استعمال کی شرط لاگو نہیں ہوگی اور اس کا پورا استعمال کیپٹو استعمال تصور کیا جائے گا۔

متناسب استعمال کے حساب کے مقصد کے لیے کسی کیپٹو صارف کو اس کی ذیلی کمپنیوں، ہولڈنگ کمپنی اور ہولڈنگ کمپنی کی دیگر ذیلی کمپنیوں کے ساتھ ملا کر ایک ہی فریق تصور کیا جائے گا۔

4۔ کیپٹو حیثیت کی تصدیق کے لیے نوڈل ادارے

یکم اپریل 2026 سے ریاستی یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کی حکومتیں اندرونِ ریاست کیپٹو استعمال کے معاملات میں کیپٹو حیثیت کی تصدیق کے لیے ایک نوڈل ادارہ نامزد کر سکیں گی۔

بین الریاستی کیپٹو استعمال کے معاملات میں تصدیق کا عمل نیشنل لوڈ ڈسپیچ سینٹر (این ایل ڈی سی) کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ مناسب حکومت کی جانب سے ایک شکایات ازالہ کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی، جو اس تصدیقی عمل سے پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے ذمہ دار ہوگی۔

5۔ کراس سبسڈی سرچارج اور اضافی سرچارج کا اطلاق

کیپٹو حیثیت کی تصدیق مکمل ہونے تک کراس سبسڈی سرچارج (سی ایس ایس) اور اضافی سرچارج (اے ایس) عائد نہیں کیے جائیں گے، بشرطیکہ کیپٹو صارفین مقررہ طریقۂ کار کے مطابق مطلوبہ اعلان جمع کرائیں۔ بین الریاستی معاملات میں یہ طریقۂ کار نیشنل لوڈ ڈسپیچ سینٹر (این ایل ڈی سی) کی جانب سے اور اندرونِ ریاست معاملات میں متعلقہ ریاستی نوڈل ادارے کی جانب سے جاری کیا جائے گا۔

اگر بعد میں تصدیق کے دوران کوئی بجلی پیدا کرنے والا پلانٹ کیپٹو جنریٹنگ پلانٹ کے طور پر اہل قرار نہ پائے تو قابلِ اطلاق سی ایس ایس  اور اے ایس ادا کرنا ہوں گے، اور اس کے ساتھ کیرینگ لاگت بھی واجب الادا ہوگی۔ یہ کیرینگ لاگت بجلی (لیٹ پیمنٹ سرچارج اور متعلقہ امور) قواعد، 2022 کے تحت لیٹ پیمنٹ سرچارج کی بنیادی شرح کے مطابق شمار کی جائے گی۔

6۔ ترامیم کا اطلاق

ان ترامیم کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پی) کے ڈھانچے میں متناسب استعمال، تصدیق کے نظام اور سی ایس ایس و اے ایس کے اطلاق سے متعلق بعض دفعات یکم اپریل 2026 سے نافذ ہوں گی۔ دیگر ترامیم فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔

صنعتی ترقی اور صاف توانائی کی منتقلی کے لیے اصلاحات

کیپٹو بجلی پیداوار کے ذریعے صنعتوں کو قابلِ اعتماد اور مسابقتی لاگت پر بجلی تک رسائی فراہم کر کے یہ اصلاحات صنعتی مسابقت کو مضبوط بنائیں گی اور بھارت کو پائیدار توانائی کے مستقبل کی جانب منتقلی میں مدد دیں گی۔ یہ اصلاحات حکومت کے توانائی میں خود کفالت کے وسیع تر ویژن کے مطابق ہیں اور وِکست بھارت 2047 کے قومی ہدف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-4079


(ریلیز آئی ڈی: 2240240) وزیٹر کاؤنٹر : 11