ریلوے کی وزارت
محفوظ ٹرین آپریشن کے لیے ہندوستانی ریلوے نے 2014 سے 2026 کے دوران 54,600 کلومیٹر پٹریوں کی تجدید کی
اب ریلوے نیٹ ورک کے 80 فیصد سے زیادہ حصے پر 110 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ سیکشنل رفتار ممکن ہے، جو 2014 میں 40 فیصد تھی؛ جبکہ 130 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار والی پٹریوں کا حصہ اسی مدت میں 6.3 فیصد سے بڑھ کر 22.4 فیصد ہو گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAR 2026 5:38PM by PIB Delhi
محفوظ ٹرین آپریشن کے لیے ہندوستانی ریلوے نے 2014 سے 2026 کے دوران 54,600 کلومیٹر پٹریوں کی تجدید کی
ریلوے نیٹ ورک کے 80 فیصد سے زیادہ حصے پر اب 110 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ سیکشنل رفتار ممکن؛ 2014 میں یہ تناسب 40 فیصد تھا، جبکہ 130 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار والی پٹریوں کا حصہ 6.3 فیصد سے بڑھ کر 22.4 فیصد ہو گیاj
|
ٹریک کی تجدید کی گئی۔
|
~ 54600 Km
|
ہندوستانی ریلوے میں ٹرینوں کے محفوظ آپریشن کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ ریلوے پٹریوں کے معائنہ اور دیکھ بھال کے لیے انڈین ریلوے پرمننٹ وے مینول کے مطابق ایک منظم نظام موجود ہے۔
ہندوستانی ریلوے کی پٹریوں کا مقررہ شیڈول کے مطابق متعلقہ افسران باقاعدگی سے معائنہ کرتے ہیں۔ اس میں روزانہ گشت، پیدل معائنہ، ٹرالی کے ذریعے معائنہ اور افسران کی جانب سے لوکو کے فٹ پلیٹ یا پچھلی کھڑکی سے معائنہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ پٹریوں کی ساختی حالت کا معروضی جائزہ لینے کے لیے ٹریک ریکارڈنگ کار اور آسیلیشن مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے بھی مقررہ وقفوں سے جانچ کی جاتی ہے۔ ہندوستانی ریلوے کا پورا نیٹ ورک ان نظاموں کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔ مختلف معائنوں کی بنیاد پر مقررہ وقت کے اندر ضروری اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ پٹریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ہندوستانی ریلوے میں پٹریوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، اپ گریڈ کرنے، جدید بنانے اور بہتر بنانے کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:
- جدید پٹری ڈھانچہ استعمال کیا جا رہا ہے جس میں 60 کلوگرام ریل، 90 الٹی میٹ ٹینسائل اسٹرینتھ ریل، چوڑے اور بھاری پری اسٹریسڈ کنکریٹ سلیپرز، لچکدار فاسٹننگ، پنکھے نما ترتیب والے ٹرن آؤٹ اور گرڈر پلوں پر ایچ بیم سلیپرز شامل ہیں۔
- ٹرن آؤٹ کی تجدید میں تھِک ویب سوئچز اور ویلڈیبل سی ایم ایس کراسنگ استعمال کیے جا رہے ہیں۔
- جوڑوں کی ویلڈنگ سے بچنے کے لیے 260 میٹر لمبے ریل پینل کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے حفاظت اور سفر کے معیار میں بہتری آئی ہے۔
- پہلے استعمال ہونے والے روایتی جوائنٹ کی جگہ تھِک ویب سوئچ ایکسپینشن جوائنٹس استعمال کیے جا رہے ہیں۔
- ریلوں کی ویلڈنگ کے لیے بہتر ٹیکنالوجی یعنی فلیش بٹ ویلڈنگ اختیار کی گئی ہے۔
- پٹریوں کی دیکھ بھال کے لیے مشینی نظام اپنایا گیا ہے جس میں ہائی آؤٹ پٹ پلین ٹیمپرز اور پوائنٹس اینڈ کراسنگ ٹیمپرز استعمال کیے جا رہے ہیں۔
- اثاثوں کی بھروسا مندی بڑھانے کے لیے جدید مشینیں، جن میں ریل گرائنڈنگ مشینیں بھی شامل ہیں، استعمال کی جا رہی ہیں۔
- پٹری بچھانے کے کاموں کو پی کیو آر ایس، ٹی آر ٹی، ٹی-28 جیسی ٹریک مشینوں کے ذریعے مشینی بنایا گیا ہے۔
- لیول کراسنگ گیٹس کی حفاظت بڑھانے کے لیے انہیں انٹرلاکنگ نظام سے جوڑا جا رہا ہے۔
- ریلوں اور ویلڈنگ کی جانچ کے لیے جدید فیزڈ ارے ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے۔
- پٹریوں کی جامع صحت جانچ کے لیے انٹیگریٹڈ ٹریک مانیٹرنگ سسٹم اور آسیلیشن مانیٹرنگ سسٹم کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
- یارڈز میں پٹریوں کے مختلف پیمانوں کی مسلسل ریکارڈنگ کے لیے پورٹیبل ٹریک میژرنگ ٹرالی استعمال کی جا رہی ہے۔
- مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والے معائنہ ریکارڈ کو یکجا کرنے اور درست دیکھ بھال کے لیے ویب پر مبنی ٹریک مینجمنٹ سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں ریلوے پٹریوں کی رفتار کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2014 کے مقابلے میں 2026 تک پٹریوں کی رفتار کی صلاحیت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
Sectional Speed
(kmph)
|
2014
|
2026 (up to Feb’26)
|
|
Track Km
|
%
|
Track Km
|
%
|
|
130 & above
|
5,036
|
6.3
|
23,713
|
22.4
|
|
110 - 130
|
26,409
|
33.3
|
62,036
|
58.7
|
|
< 110
|
47,897
|
60.4
|
19,923
|
18.9
|
|
Total
|
79,342
|
100
|
1,05,672
|
100
|
یہ معلومات ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آج لوک سبھا میں سوالوں کے جواب میں فراہم کیں۔
************
ش ح ۔ ام ۔ م ص
(U :3720 )
(ریلیز آئی ڈی: 2238550)
وزیٹر کاؤنٹر : 3