خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
خواتین و اطفال بہبود کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے نیویارک میں اقوام متحدہ کےہیڈ کوارٹر میں سی ایس ڈبلیو-70 کے 70 ویں سیشن میں عمومی مباحثے کے دوران بھارت کا قومی بیان پیش کیا
وزیر مملکت نے خواتین کی قیادت میں ترقی کی جانب بھارت کی پیش رفت کو اجاگر کیا اور صنفی مساوات کو آگے بڑھانے اور انصاف تک رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے ملک کے عزم کا اعادہ کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 MAR 2026 1:59PM by PIB Delhi
خواتین و اطفال بہبود کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے 10 مارچ 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں خواتین کی حیثیت سے متعلق کمیشن کے 70 ویں سیشن (سی ایس ڈبلیو-70) میں عمومی مباحثے کے دوران بھارت کا قومی بیان پیش کیا۔
اپنے خطاب میں، وزیر موصوفہ نے خواتین کی قیادت میں ترقی کی جانب بھارت کی پیش رفت کو اجاگر کیا اور بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن کے مطابق صنفی مساوات کو آگے بڑھانے اور انصاف تک رسائی کو مضبوط بنانے کے لیے ملک کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘کے بھارت کے ترقیاتی فلسفے نے جامع ترقی کے اس کے وژن کی رہنمائی کی ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ تقریباً 9 ملین سیلف ہیلپ گروپس (خود امدادی گروہوں) میں منظم 100 ملین سے زائد خواتین نے نچلی سطح پر قیادت اور انٹرپرینیورشپ (کاروباری مہارت) کو فروغ دے کر دیہی معاشی منظر نامے کو بدل دیا ہے۔
انہوں نے مزید اجاگر کیا کہ اٹل انکیوبیشن سینٹرز کے تحت تعاون یافتہ 1,000 سے زائد اسٹارٹ اپس کی قیادت خواتین کر رہی ہیں، جبکہ 8 لاکھ سے زائد خواتین ڈائریکٹرز فعال بھارتی کمپنیوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ 'پردھان منتری گرامین ڈیجیٹل ساکشرتا ابھیان' (پی ایم-دیشا) کے تحت 25 ملین سے زائد دیہی خواتین کو ڈیجیٹل خدمات میں بھی تربیت دی گئی ہے، جو صنفی ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔
وزیر موصوفہ نے نوٹ کیا کہ بیجنگ پلیٹ فارم فار ایکشن کے تحت تشویش کے حامل اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے والے مسلسل پالیسی اقدامات نے بھارت میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح (ایف ایل ایف پی آر) کو بڑھا کر 41.7 فیصد کرنے میں مدد دی ہے۔
عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستوں کے تحفظ (ریزرویشن) کا التزام کرتا ہے، جبکہ 1.4 ملین سے زائد خواتین، جو تمام منتخب نمائندوں کا 46 فیصد ہیں، پنچایتی راج اداروں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ’پالنا اسکیم‘ کے تحت تقریباً 39,000 بچے معیاری کریچ کی سہولتوں سے مستفید ہو رہے ہیں، تعلیم کے تمام مرحلوں پر لڑکیوں کا داخلہ تقریباً لڑکوں کے برابر ہے اور حکومت کی سستی ہاؤسنگ اسکیم کے تحت تعمیر کیے گئے 29 ملین دیہی مکانات میں سے 72 فیصد سے زیادہ مکمل طور پر یا مشترکہ طور پر خواتین کی ملکیت ہیں۔
صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے نوٹ کیا کہ ’آیوشمان بھارت‘ کے تحت، 141 مخصوص ہیلتھ کیئر پیکجز 208 ملین سے زائد خواتین کارڈ ہولڈرز کا احاطہ کرتے ہیں۔
ترجیحی موضوع پر، وزیر موصوفہ نے انصاف کے تسلسل میں بھارت کے جامع نقطہ نظر کو اجاگر کیا ، جس میں قانونی آگاہی، مفت قانونی امداد، ’ناری عدالتوں’ اور 334 ‘گرام نیایالیوں‘ کے ذریعے نچلی سطح پر تنازعات کا حل اور ساتھ ہی ’ٹیلی لاء‘پروگرام شامل ہے، جس نے ملک بھر میں تقریباً 4 ملین خواتین کو قانونی چارہ جوئی سے قبل مشورے فراہم کیے ہیں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ’وکست بھارت@2047‘کے بھارت کے وژن میں خواتین کی قیادت میں ترقی مرکزی حیثیت رکھتی ہے، جس میں انصاف تک رسائی دیگر تمام حقوق کے حصول کی بنیاد ہے، اور انہوں نے ایسے جامع نظاموں کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا جو کسی کو پیچھے نہ چھوڑیں۔

سی ایس ڈبلیو-70 کے جنرل ڈسکشن (عمومی مباحثے) میں تقریباً 75 ممالک کے وفود کے سربراہان نے شرکت کی۔ یہ جنرل بیانات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں دیے گئے، جو صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے عمل کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ عالمی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
********
ش ح۔م م۔ص ج
U. No. 3749
(ریلیز آئی ڈی: 2238169)
وزیٹر کاؤنٹر : 8