وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

بجٹ کے بعد کے ویبینار کے دوران ‘‘زراعت اور دیہی تبدیلی’’ کے موضوع پر وزیر اعظم کے خطاب کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 MAR 2026 1:14PM by PIB Delhi

نمسکار!

میں آپ سب کو بجٹ ویبینار سیریز کے تیسرے ویبینار میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ اس سے پہلے، دو ویبینار ٹیکنالوجی، اصلاحات اور اقتصادی ترقی جیسے اہم موضوعات پر منعقد کئےگئےہیں۔ آج دیہی معیشت اور زراعت جیسے اہم شعبوں پر بات چیت ہو رہی ہے۔ آپ سب نے اپنی قیمتی تجاویز کے ساتھ بجٹ کی تشکیل میں بے پناہ تعاون کیا اور اور آپ نے دیکھا ہوگا کہ آپ سب کی تجاویز بجٹ میں جھلکتی ہیں ، جو بہت مفید رہی ہیں، لیکن اب بجٹ آ گیا ہے ، بجٹ کے بعد ملک کو اپنی پوری صلاحیت کا فائدہ ملنا چاہیے ، اس سمت میں بھی آپ کا تجربہ ، آپ کے مشورے اور سادہ انداز میں بجٹ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچنا چاہیے ۔ اس مقصد کو کیسے پورا کیا جائے، جس کے لیے بجٹ کی رقم دی گئی ہے ؟ اسے جلدی کیسے کیا جائے ؟ اس ویبینار کے لیے آپ کی تجاویز بہت اہم ہیں ۔

ساتھیو،

آپ سب جانتے ہیں کہ زراعت، کاشتکاری، وشوکرما، ہماری معیشت کی بنیادی اساس ہیں۔ زراعت ہندوستان کے طویل مدتی ترقی کے سفر کا ایک اسٹریٹجک ستون بھی ہے اور اس وژن کے ساتھ ہماری حکومت نے زرعی شعبے کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ تقریباً 10 کروڑ کسانوں کو 4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم پی ایم کسان سمان ندھی حاصل کی ہے۔ ایم ایس پی میں اصلاحات کے نتیجے میں اب کسانوں کو ڈیڑھ گنا زیادہ منافع مل رہا ہے۔ ادارہ جاتی قرض کی کوریج 75 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ پی ایم فصل بیمہ یوجنا کے تحت تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کے دعؤوں کا تصفیہ کیا گیا ہے۔ ایسی بہت سی کوششوں نے کسانوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کیا ہے اور انہیں بنیادی معاشی تحفظ فراہم کیا ہے۔ اس سے زرعی شعبے کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ آج ملک اناج، دالوں اور تلہن کی ریکارڈ پیداوار حاصل کر رہا ہے، لیکن اب، جیسے ہی 21ویں صدی کی دوسری سہ ماہی شروع ہو رہی ہے، 25 سال گزر چکے ہیں، زرعی شعبے کو نئی توانائی سے بھرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس سال کے بجٹ میں اس سمت میں نئی ​​کوششیں کی گئی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس ویبینار میں آپ سب کے درمیان ہونے والی بات چیت اور اس سے جو تجاویز سامنے  آئی ہیں،  اس سے بجٹ کے التزامات کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے میں مدد ملے گی ۔

ساتھیو،

آج، عالمی منڈیاں کھل رہی ہیں اور عالمی مانگ بدل رہی ہے۔ اس ویبینار میں، ہماری زراعت کو برآمد پر مبنی بنانے کے بارے میں مزید بات چیت کرنا بہت ضروری ہے۔ ہمارے یہاں الگ الگ طرح کے موسم ہیں اور ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہم زرعی آب و ہوا کے معاملےمیں بہت خوش نصیب ہیں۔ اس سال کا بجٹ ان سب کے لیے بے شمار نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور برآمدی طاقت کو فروغ دینے کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ بجٹ میں ہم نے اعلیٰ قدر والی زراعت پر توجہ مرکوز کی۔ ہم نے ناریل، کاجو، کوکو اور صندل کی لکڑی جیسی مصنوعات کے بارے میں بات کی۔ آپ جانتے ہیں کہ ہماری جنوبی ریاستیں خاص طور پر کیرالہ اور تمل ناڈو بہت زیادہ ناریل پیدا کرتی ہیں، لیکن اب وہ فصل ، وہ سارے درخت اتنے پرانے ہو گئے ہیں کہ ان میں وہ صلاحیت نہیں ہے ۔ کیرالہ کے کسانوں کو اضافی فائدہ ملنا چاہیے ، تمل ناڈو کے کسانوں کو اضافی فائدہ ملنا چاہیے ۔ اس لیے اس بار ناریل پر خاص زور دیا گیا ہے ، جس سے آنے والے دنوں میں ہمارے کسانوں کو فائدہ ہوگا ۔

ساتھیو،

شمال مشرق کی طرف دیکھیں، اگرووڈ کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں، جو یہ اگربتی  لفظ   ہے نا، وہ  اگرووڈ سے آیا ہے۔ اب، ہمالیائی ریاستوں میں ٹیمپریٹ نٹ  کی فصلوں کو فروغ دینے کے لیے بجٹ میں ایک تجویز پیش کی گئی ہے۔ جب برآمدی پیداوار میں اضافہ ہوگا تو پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے دیہی علاقوں میں روزگار پیدا ہوگا ۔  تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر سوچنا چاہیے کہ اس سمت میں مربوط کارروائی کیسے کی جائے۔ اگر ہم مشترکہ طور پر اعلیٰ قدر والی زراعت کو فروغ دیں،  تو یہ زراعت کو عالمی سطح پر مسابقتی شعبے میں تبدیل کر سکتا ہے۔ زرعی ماہرین، صنعت اور کسان کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں، کسانوں کو عالمی منڈی، معیار، برانڈنگ اور معیارات سے جوڑنے کے لیے اہداف کیسے طے کیے جائیں، ہر پہلواور ان سب کو کیسے فروغ دیا جائے، اس ویبینار کی اہمیت کو بڑھا دے گا۔ میں آپ کے ساتھ ایک اور بات شیئر کرنا چاہوں گا، آج دنیا صحت کے حوالے سے زیادہ محتاط ہے۔ مجموعی صحت کی دیکھ بھال اور اس نامیاتی غذا ، نامیاتی خوراک میں بہت دلچسپی ہے ۔ ہندوستان میں ہمیں کیمیکل سے پاک زراعت اور قدرتی کھیتی پر زور دینا چاہیے۔ قدرتی کاشتکاری، کیمیکل سے پاک مصنوعات کے ساتھ، ہمارے لیے عالمی منڈی تک پہنچنے کا راستہ بناتی ہے۔ حکومت اس مقصد کے لیے سرٹیفیکیشن اور لیبارٹریز پر غور کر رہی ہے،لیکن آپ لوگ اس میں بھی ضرور اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

ساتھیو،

برآمدات میں اضافے کا ایک بڑا عنصر ماہی گیری کے شعبے کی صلاحیت بھی ہے۔ ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مچھلی پیدا کرنے والا ملک ہے۔ آج ہمارے مختلف قسم کے ذخائر ، تالاب ، یہ سب مل کر تقریبا 4 لاکھ ٹن مچھلیاں پیدا کرتے ہیں ،جبکہ اس میں 20 لاکھ ٹن اضافی پیداوار کے امکانات موجود ہیں ۔ اب تصور کریں ، اگر ہم 4 لاکھ ٹن میں مزید 20 لاکھ ٹن کا اضافہ کر دیں تو ہمارے غریب ماہی گیر بھائیوں اور بہنوں کی زندگیاں کیسے بدل جائیں گی ۔  ہمارے پاس دیہی آمدنی میں تنوع لانے کا موقع ہے۔ ماہی گیری برآمدی ترقی کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم بن سکتی ہے۔ اس کی عالمی مانگ ہے۔ اگر اس ویبینار سے بہت عملی تجاویز سامنے آئیں تو پھر ذخائر کا درست نقشہ کیسے بنایا جائے ، اس کی صلاحیت ، کلسٹر پلاننگ کیسے کی جائے ، محکمہ ماہی گیری اور مقامی برادری کے درمیان مضبوط تال میل کیسے بنایا جائے ، تو بہت اچھا ہوگا ۔ اس کے لیے درکار ہیچری ، فیڈ ، پروسیسنگ ، برانڈنگ ، ایکسپورٹ ، لاجسٹکس کی ہر سطح پر ہمیں نئے کاروباری ماڈل تیار کرنے ہوں گے ۔ یہ ہمارے لیے دیہی خوشحالی کو ایک اعلیٰ قدر، اعلیٰ اثر والے شعبے میں تبدیل کرنے کا موقع ہے اور ہم سب کو اس سمت میں مل کر کام کرنا ہے اور آج آپ جو ذہن سازی کریں گے وہ اس کام کی راہ ہموار کرے گا۔

ساتھیو،

مویشی پروری کا شعبہ دیہی معیشت کا اعلی ترقی کا ستون ہے ۔  ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا اور انڈے پیدا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے ۔  اسے مزید آگے لے جانے کے لیے ہمیں افزائش نسل کے معیار ، بیماریوں کی روک تھام اور سائنسی انتظام پر توجہ دینی ہوگی ۔  ایک اور اہم پہلو جانوروں کی صحت ہے ۔  جب میں ون ارتھ ون ہیلتھ کے بارے میں بات کرتا ہوں ، تو اس میں ہر ایک کی صحت شامل ہوتی ہے ، چاہے وہ پودے ہوں یا جانور، سبھی کی بات ہوتی ہے ۔  بھارت اب ویکسین کی تیاری میں خود کفیل ہے ۔  جانوروں کو پاؤں اور منہ کی بیماری سے بچانے کے لیے ، جانوروں کو 125 کروڑ سے زیادہ خوراکیں دی گئی ہیں ۔  راشٹریہ گوکل مشن کے تحت ٹیکنالوجی کو وسعت دی جا رہی ہے ۔  ہماری حکومت میں اب مویشی پروری کے شعبے کے کسانوں کو بھی کسان کریڈٹ کارڈ کا فائدہ مل رہا ہے ۔  نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مویشی پروری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ بھی شروع کیا گیا ہے  اور آپ جانتے ہیں کہ ہم نے گوبردھن اسکیم کو نافذ کیا ہے ۔  گاؤں کے جانوروں سے نکلنے والا فضلہ ، گاؤں کا فضلہ کچرا ہے ۔  ہم گوبردھن اسکیم میں اس کا استعمال کرکے بھی گاؤں کو صاف رکھ سکتے ہیں ۔   اگر دودھ سے آمدنی ہوتی ہے تو گائے کے گوبر سے بھی آمدنی ہو سکتی ہے اور توانائی کی حفاظت کی سمت میں یہ گائے کا گوبر بھی گیس کی فراہمی میں کافی معاون ہوسکتا ہے ۔  یہ ایک کثیر مقصدی فائدہ مند کام ہے ، اور گاؤں کے لیے بہت مفید ہے ۔  میں چاہوں گا کہ تمام ریاستی حکومتیں اسے ترجیح دیں اور اسے آگے لے جائیں ۔

ساتھیو،

ہم نے ماضی کے تجربات سے سیکھا ہے کہ صرف ایک فصل پر توجہ مرکوز کرنا کسانوں کے لیے خطرناک ہے۔ یہ آمدنی کے اختیارات کو بھی محدود کرتا ہے۔ اس لیے ہم فصلوں کے تنوع پر توجہ دے رہے ہیں۔ مزید برآں، خوردنی تیل اور دالوں کا قومی مشن اور قدرتی کاشتکاری کا قومی مشن، سبھی زراعت کے شعبے کو مضبوط کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ زراعت ریاست کے دائرہ کار میں ہے۔ ریاستوں کا زرعی بجٹ بھی بڑا ہے۔ ہمیں ریاستوں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے، ان کی مدد کرنے اور اپنی تجاویز کو ان کے لیے مفید بنانے کے لیے مسلسل تحریک دینا چاہیے۔ دیہی علاقوں اور کسانوں کے لیے ریاست کی طرف سے مختص کی گئی ہر ایک پائی کا استعمال سمجھداری سے کیا جانا چاہیے۔ ہمیں بجٹ کے انتظامات کو ضلعی سطح تک مضبوط کرنا چاہیے۔ تب ہی نئی پالیسیوں سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

ساتھیو،

یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اور حکومت زراعت میں ٹیکنالوجی کا کلچر لانے پر بھی زور دے رہی ہے۔ آج مارکیٹ تک رسائی کو ای-نیم کے ذریعے جمہوری بنایا گیا ہے۔ حکومت ایگری اسٹیک کے ذریعے زراعت کے لیے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر تیار کر رہی ہے۔ اس کے تحت ڈیجیٹل شناخت یعنی کسان آئی ڈی بنائی جا رہی ہے۔ آج تک، کسان آئی ڈی تقریباً 90 ملین کسانوں کے لیے بنائے گئے ہیں، اور تقریباً 300 ملین زمینوں کے ڈیجیٹل سروے کیے گئے ہیں۔ اے آئی پر مبنی پلیٹ فارم جیسے بھارت وِستارتحقیقی اداروں اور کسانوں کے درمیان خلیج کو ختم کر رہے ہیں۔

لیکن ساتھیو،

ٹیکنالوجی صرف اس وقت نتائج دیتی ہے جب نظام اسے اپناتے ہیں، ادارے اسے مربوط کرتے ہیں اور کاروباری افراد اس پر اختراع کرتے ہیں۔ اس ویبینار میں، آپ کو اس سے متعلق اپنی تجاویز کو بھرپور طریقے سے پیش کرنا چاہیے۔ اس ویبینار سے ابھرنے والی تجاویز اس بات میں اہم کردار ادا کریں گی کہ ہم کس طرح ٹیکنالوجی کو صحیح طریقے سے مربوط کرتے ہیں۔

ساتھیو،

ہماری حکومت دیہی خوشحالی کی تعمیر کے لیے پرعزم ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا، سوامیتو یوجنا، پی ایم گرامین سڑک یوجنا اور سیلف ہیلپ گروپوں کو مالی امداد نے دیہی معیشت کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ ہمیں لکھپتی دیدی مہم کی کامیابی کو بھی نئی بلندیوں تک لے جانا چاہیے۔ اب تک ہم 30 ملین دیہی خواتین کو لکھ پتی دیدی بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اب، 2029 تک، ہمیں اس 30 ملین میں مزید 30 ملین کا اضافہ کرنا ہے اور مزید 30 ملین لکھپتی دیدیاں بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آپ کی تجاویز بھی اہم ہوں گی کہ اس مقصد کو مزید تیزی سے کیسے حاصل کیا جائے۔

ساتھیو،

ملک میں ذخیرہ کرنے کی بہت بڑی  مہم جاری ہے۔ لاکھوں گودام بنائے جا رہے ہیں۔ اسٹوریج کے علاوہ زرعی صنعت کاروں، پروسیسنگ، سپلائی چینز، ایگری ٹیک، ایگری فن ٹیک اور برآمدات میں جدت اور سرمایہ کاری کو بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج آپ جو ذہن سازی کریں گے، اس سے نکلنے والے امرت سے دیہی معیشت کونئی ​​توانائی ملے گی۔آپ سب کواس ویبینار کےلئے میں نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ زمینی خیالات ،جڑوں سے وابستہ افکار،  اس بجٹ کو کامیاب بنانے کیلئے ہر گاؤں تک پہنچانےکیلئے  اہم ثابت ہوں گے۔ آپ سبھی کو میری نیک خواہشات۔

آپ کا بہت بہت شکریہ۔ نمسکار۔

***

ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن

U.NO.3446


(ریلیز آئی ڈی: 2235947) وزیٹر کاؤنٹر : 19