الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026: تاریخی عالمی اعلامیہ اور مصنوعی ذہانت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے وعدے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 MAR 2026 10:09AM by PIB Delhi

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026، جو 16 سے 21 فروری 2026 تک منعقد ہوئی، عالمی مصنوعی ذہانت کے منظرنامے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اس سمٹ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی، جہاں تقریباً 6 لاکھ افراد نے ذاتی طورپر شرکت کی جبکہ لائیو ورچوئل اسٹریمنگ کے ذریعے مجموعی طور پر 9 لاکھ سے زائد ویوز حاصل ہوئے۔ 100 سے زیادہ ممالک اور 20 بین الاقوامی تنظیموں کے وفود نے اس عمل میں حصہ لیا۔

سمٹ کے دوران بھارت نے 24 گھنٹوں میں ‘‘مصنوعی ذہانت کی ذمہ دارانہ مہم کے لیے سب سے زیادہ عہد حاصل کرنے’’کا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا، جس میں 2.5 لاکھ سے زائد تصدیق شدہ عہد شامل تھے، جو ذمہ دارانہ اے آئی اپنانے کے لیے عوامی عزم کی توثیق کرتے ہیں۔

سمٹ میں ایک اہم اعلان بھارت کی خودمختار کمپیوٹنگ صلاحیت میں توسیع سے متعلق تھا۔ انڈیا اے آئی مشن کے تحت پہلے سے فراہم کردہ 38,000 سے زائد جی پی یوز کے علاوہ آئندہ ہفتوں میں مزید 20,000 جی پی یوز شامل کیے جائیں گے، جس سے قومی اے آئی انفراسٹرکچر مزید مضبوط ہوگا۔

عالمی اعلانات اور اسٹریٹجک اے آئی شراکت داریاں

سمٹ میں عالمی سطح پر ذمہ دارانہ، مضبوط اور جامع اے آئی اپنانے کے لیے فریم ورک کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

  • انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ اعلامیہ کی توثیق 92 ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے کی۔ اس اعلامیے میں سمٹ کے دوران سات موضوعاتی ورکنگ گروپس کے کام کو تسلیم کیا گیا۔

  • نئی دہلی فرنٹیئر اے آئی امپیکٹ کمٹمنٹس کا اعلان 13 عالمی اور بھارتی نمایاں ماڈل ڈویلپرز نے کیا، جس کا مقصد قابلِ اعتماد اور جامع اے آئی کے نفاذ کو فروغ دینا ہے۔

  • گلوبل اے آئی امپیکٹ کامنز ([http://aiimpactcommons.global](http://aiimpactcommons.global)) کا آغاز، جو ایک رضاکارانہ اقدام ہے اور اس میں 30 سے زائد ممالک کی 80 سے زیادہ اثر انگیز کہانیاں شامل ہیں، تاکہ ممالک کامیاب اے آئی استعمال کے نمونوں کو شیئر، نقل اور وسعت دے سکیں۔

  • انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اشتراک سے ‘‘ایکویٹیبل اے آئی ٹرانزیشن پلے بک’’ جاری کیا گیا، جس کا مقصد کارکنوں کو اے آئی سے پیدا ہونے والے نئے مواقع کے لیے تیار کرنا ہے۔

  • مضبوط، اختراعی اور مؤثر اے آئی کے لیے رضاکارانہ رہنما اصولوں پر دستخط، جن کی توثیق 20 سے زائد ممالک نے کی۔

  • اے آئی کے دور میں ہنرمندی کی تجدید کے لیے رضاکارانہ رہنما اصولوں پر دستخط، جنہیں 23 ممالک نے منظور کیا۔

  • اے آئی کے جمہوری فروغ کے چارٹر کو اپنایا گیا، جسے 22 ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی حمایت حاصل ہے۔

  • یونیسکو اور فرانس کے اشتراک سے ‘‘ریزیلینٹ اے آئی چیلنج’’ کا آغاز کیا گیا۔

  • مضبوط اے آئی انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کے لیے پلے بک جاری کیا گیا۔

  • قابل اعتماد اے آئی کامنز کے قیام کا اعلان، جس میں باضابطہ آغاز سے قبل 22 شراکت دار ممالک شامل ہوئے۔

  • اے آئی گورننس سے متعلق رہنما نوٹس جاری کیے گئے، جن کی توثیق 22 ممالک نے کی۔

  • اے آئی کے ذریعے شمولیت کو فروغ دینے کے اتحاد کا اعلان، جسے 20 ممالک اور یونیسیف کی حمایت حاصل ہے۔

  • نیٹ ورک آف اے آئی فار سائنس انسٹی ٹیوشنز کا آغاز، جس میں ابتدا ہی سے 19 شراکت دار ممالک شامل ہوئے۔

 

اے آئی امپیکٹ ایکسپو، علمی نتائج اور نچلی سطح پر اپنانا

اے آئی امپیکٹ ایکسپو دنیا کی سب سے بڑی اے آئی نمائشوں میں سے ایک کے طور پر ابھرکر سامنے آئی ہے، جس میں 10 موضوعاتی پویلینز کے تحت 850 سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی۔

نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ایک اوپن سورس ہینڈ ہیلڈ معاون ڈیوائس کا براہِ راست مظاہرہ کیا گیا، جو آواز کے ذریعے سوالات لے کر اشیاء اور ماحول کو بصری طور پر پہچاننے اور متعدد زبانوں میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ پروٹوٹائپ بھاشِنی اور کرنٹ اے آئی نے تیار کیا، اور اسے مزید تکنیکی بہتری اور مختلف استعمالی صورتوں کی تیاری کے لیے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کے لیے کھول دیا گیا۔

اعلیٰ اثرات والی اے آئی تنصیبات پر مبنی چھ عالمی کیس بکس جاری کئے گئے، جن میں شامل ہیں:

  • صحت میں اے آئی (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ)

  • توانائی میں اے آئی (انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے ساتھ)

  • خواتین کو بااختیار بنانے میں اے آئی (یو این ویمن کے ساتھ)

  • زراعت میں اے آئی (حکومتِ مہاراشٹر کے ساتھ، عالمی بینک کی معاونت سے)

  • تعلیم میں اے آئی (سی ایس ایف اور ایک اسٹیپ فاؤنڈیشن کے ساتھ)

  • رسائی  میں اے آئی (اے ایل آئی ایم سی او،آئی آئی آئی ٹی-بنگلور اور چینج اِنک فاؤنڈیشن کے ساتھ)

الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کی جانب سے ‘‘اے آئی امپیکٹ اسٹارٹ اپ بک’’ بھی جاری کیا گیا، جس میں بھارت کے اے آئی اور ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم سے متعلق معلومات پیش کی گئیں۔

زمینی سطح پر ڈیجیٹل اپنانے کی مہم کا مظاہرہ کرتے ہوئے، سمٹ کے دوران تقریباً 80 فیصد فوڈ کورٹ لین دین یو پی آئی کے ذریعے انجام پائے۔

اہم سرمایہ کاری کے اعلانات

سمٹ نے اے آئی ویلیو چین میں نمایاں سرمایہ کاری کے عزائم کو تقویت دی۔

  • انفراسٹرکچر، فاؤنڈیشن ماڈلز، ہارڈویئر اور ایپلی کیشنز میں 200 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

  • ریلائنس انڈسٹریز نے سات برسوں میں اے آئی پر مبنی انفراسٹرکچر کے لیے 110 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔

  • ٹاٹا گروپ نے اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا تاکہ اے آئی کے لیے تیار ڈیٹا سینٹرز کو وسعت دی جا سکے۔

  • اڈانی انٹرپرائزز نے 2035 تک 100 ارب امریکی ڈالر سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا۔

  • جنرل کیٹالسٹ نے پانچ برسوں میں 5 ارب امریکی ڈالر جبکہ لائٹسپیڈ وینچر پارٹنرز نے 10 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔

  • گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے بھارت-امریکہ کے درمیان نئے سب میرین کیبل روٹس اور وشاکھاپٹنم میں 15 ارب امریکی ڈالر کے اے آئی ہب سمیت سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ گوگل 2 کروڑ سرکاری ملازمین کو تربیت دے گا، 1.1 کروڑ طلبہ کی معاونت کرے گا اور اے آئی تحقیقاتی شراکت داریوں کو وسعت دے گا۔

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 اختتام پذیر ہوئی تو اس کے ساتھ مستقبل پرمبنی عزائم اور اسٹریٹجک شراکت داریوں کو اپنایا گیا، جو ذمہ دارانہ، جامع اور ترقی پر مبنی مصنوعی ذہانت کے لیے مشترکہ عالمی وژن کو آگے بڑھاتے ہیں۔ سمٹ کے نتائج اس وسیع عالمی اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتے ہیں کہ اے آئی کو معاشی ترقی، سماجی بااختیاری اور پائیدار ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے، جبکہ لچک، مساوات اور نئی ٹیکنالوجیز تک جمہوری رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

***

ش ح ۔ع ح ۔ن م

U. No.3246       


(ریلیز آئی ڈی: 2234388) وزیٹر کاؤنٹر : 18