بھاری صنعتوں کی وزارت
ایچ ڈی کماراسوامی نے سی ای فنانس کانکلیو میں مضبوط مالیاتی نظام کو اجاگر کیا
وزیر اعظم مودی کے وژن کے تحت بھارت نے تعمیراتی ساز و سامان کے مالیاتی ڈھانچے کو مضبوطی فراہم کی ہے
بھارت کی کیپیٹل ایکسپنڈچر کی تحریک تعمیراتی ساز و سامان کے شعبے کو عالمی قیادت کی طرف لے جائے گی: ایچ ڈی کماراسوامی
سی ای فنانس کانکلیو میں عالمی رسائی کے لیے ملکی صلاحیت کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی
حکومت نے تعمیراتی ساز و سامان کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے اہمیت کے حامل اقدامات کا اعلان کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
25 FEB 2026 12:27PM by PIB Delhi
بھاری صنعتوں اور اسٹیل کے مرکزی وزیر جناب ایچ ڈی کماراسوامی نے بدھ کے روز قومی دارالحکومت میں چھٹے سالانہ کنسٹرکشن ایکوئپمنٹ فنانس کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے بنیادی ڈھانچے اور مینوفیکچرنگ کے اہداف کو تیز کرنے میں مضبوط مالیاتی ڈھانچے کے اہم کردار پر زور دیا۔

صنعتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے زور دیا کہ کانکلیو کا موضوع، "مضبوط بنیادی ڈھانچے اور تعمیراتی ساز و سامان کے مالیاتی نظام کی تعمیر: عالمی رسائی کے لیے ملکی صلاحیت کو فروغ دینا"، بروقت اور بھارت کی ترقیاتی سمت کے ساتھ اسٹریٹجک طور پر ہم آہنگ ہے۔
‘‘آج بھارت کی حیثیت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کے طور پر ہے، اور ہم آنے والے برسوں میں تیسری بڑی معیشت بننے کی راہ پرگامزن ہیں۔ جناب کماراسوامی نے کہا کہ ایسا بنیادی ڈھانچے کی توسیع کی ترقی، مینوفیکچرنگ کی گہرائی اور مسلسل سرمایہ کاری سے ممکن ہورہا ہے،’’
وزیر موصوف نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کی بنیادی ڈھانچے کی ترجیح کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت طویل مدتی صنعتی صلاحیت کے ساتھ ساتھ جسمانی اثاثے بھی تعمیر کر رہی ہے۔
جناب کمارا سوامی نے کہا کہ‘‘ہمارے عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں ہم صرف سڑکیں اور پل نہیں بنا رہے، بلکہ وِکست بھارت 2047 کی بنیاد تعمیر کر رہے ہیں،’’
جناب کمارسوامی نے تعمیراتی ساز و سامان کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھاری صنعت کی وزارت کے فعال کردار پر زور دیا، جو ہدف شدہ پالیسی اقدامات اور ترغیبی فریم ورک کے ذریعے ممکن ہو رہا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ مرکزی بجٹ 27-2026نے حکومت کے عزم کو دوبارہ واضح کیا ہے، جس میں 12.2 لاکھ کروڑ روپے کی تاریخی عوامی سرمایہ کاری مختص کی گئی ہے، اور اسے ڈھانچہ جاتی، کثیر سالہ اقدام قرار دیا، جوشاہراہوں، ریلوے، لاجسٹکس کوریڈورز، بندرگاہیں، قابل تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور شہری توسیع کا احاطہ کرتا ہے۔

وزیرموصوف نے تعمیراتی و بنیادی ڈھانچے کے ساز و سامان (سی آئی ای) کے فروغ کے لیے مجوزہ اسکیم کی جانب بھی توجہ دلائی، جس کی قیادت بھاری صنعتوں کی وزارت کر رہی ہے اور جس کا مقصد اعلیٰ قیمت اور تکنیکی اعتبار سے جدید ساز و سامان کی ملکی پیداوار کو مضبوط بنانا ہے۔
جناب کمارا سوامی نے کہا کہ ‘‘یہ اقدام ملک کے اندر اسٹریٹجک صلاحیت قائم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور ہمارے صنعت کاروں کو اعتماد کے ساتھ ترقی کرنے، محفوظ طریقے سے جدت تراجی کرنے اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنائے گا۔’’
صنعت کے اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئےجناب کماراسوامی نے کہا کہ بھارتی تعمیراتی ساز و سامان کی مارکیٹ فی الحال تقریباً 9.5 ارب ڈالر کی ہے اور 2030 تک یہ دوگنی سے زیادہ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس شعبے میں مالی سال 2025میں 1,40,000 سے زائد یونٹس کی فروخت ریکارڈ کی گئی اور دہائی کے آخر تک اسے 25 ارب ڈالر کی مارکیٹ میں بدلنے کا بلند ہدف طے کیا گیا ہے۔
جناب کماراسوامی نے شعبے کے تعلق سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تبدیلی آمیز اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ وزیر موصوف نے کہا، ‘‘آٹومیشن، اے آئی سے لیس فلیٹ مینجمنٹ، پیش گوئی پر مبنی مین ٹیننس، اور الیکٹرک اور ہائی برڈ تعمیراتی ساز و سامان عملی کارکردگی کی نئی تعریف رقم کر رہے ہیں۔’’ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ پی ایم ای-ڈرائیو جیسے سرکاری اقدامات صاف اور پائیدار صنعتی ترقی کی جانب منتقلی کو تیز کر رہے ہیں۔
جناب سوامی نے اس بات پرزور دیا کہ مضبوط مالیاتی نظام کا اثر معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی بڑھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘مضبوط تعمیراتی ساز و سامان کے مالیاتی نظام سے نہ صرف صنعت کار مضبوط ہوں گے بلکہ ٹھیکیدار، چھوٹے و درمیانے درجے کے ادارے، لاجسٹکس آپریٹرز اور بنیادی ڈھانچے کے ڈویلپرز کو بھی فائدہ پہنچے گا۔’’
اپنے خطاب کے اختتام پر جناب کماراسوامی نے بھارت کو تعمیراتی ساز و سامان کی تیاری اور مالیات کے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنے کے لیے اجتماعی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ‘‘تعمیراتی ساز و سامان کا شعبہ صرف بھارت کی ترقی کی داستان میں حصہ نہیں لے رہا – بلکہ یہ اسے خود تعمیر کر رہا ہے،’’ اور متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ مل کر ایک عالمی سطح پر مقابلہ کرنے والا، تکنیکی طور پر جدید اور مالی طور پر مضبوط ماحولیاتی نظام قائم کریں جو قومی ترقیاتی وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
***
ش ح۔ش م۔م ق ا
U- 3027
(ریلیز آئی ڈی: 2232629)
وزیٹر کاؤنٹر : 20