کامرس اور صنعت کی وزارتہ
ہندوستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان بھارت–جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 FEB 2026 7:11PM by PIB Delhi
بھارت۔جی سی سی آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) سے متعلق مشترکہ اعلامیہ پر 24 فروری 2026 کو نئی دہلی میں باضابطہ طور پر دستخط کیے گئے۔ اس پر دستخط جناب پیوش گوئل، مرکزی وزیر تجارت و صنعت اور عزت مآب جاسم محمد البدیوی، سیکریٹری جنرل، خلیج تعاون کونسل نے کیے۔ اس اقدام کے ساتھ ایک جامع اور باہمی طور پر مفید معاہدے کے لیے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ دستخط کی تقریب فریقین کے معزز وفود اور نمائندگان کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔
دستخط کے موقع پر جناب پیوش گوئل نے اس امر پر زور دیا کہ مشترکہ اعلامیہ اور ایف ٹی اے کے لیے طے شدہ شرائطِ حوالہ (ٹی او آر)، جن پر 5 فروری 2026 کو دستخط کیے گئے تھے، بھارت اور جی سی سی ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ تاریخ اور ثقافتی روابط پر مبنی یہ تعلقات ایک وسیع البنیاد اور باہمی مفاد پر مبنی آزاد تجارتی معاہدے سے مزید تقویت حاصل کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ایک مضبوط تجارتی نظم کے لیے مذاکرات کا آغاز نہایت بروقت ہے، جو باہمی ہم آہنگی اور تکمیلی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرے گا۔
عزت مآب جاسم محمد البدیوی نے اس بات پر زور دیا کہ آزاد تجارتی معاہدہ بھارت اور جی سی سی ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا، کیونکہ اس سے کاروباری برادری کو پیش بینی اور یقین دہانی حاصل ہوگی۔
یہ آزاد تجارتی معاہدہ ایک اہم خطے کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے اور اس کے امکانات کو وسعت دینے کی نمایاں صلاحیت رکھتا ہے، جس کے ساتھ بھارت کے تجارتی و معاشی تعلقات طویل عرصے سے قائم ہیں۔ جی سی سی بھارت کا سب سے بڑا تجارتی بلاک شراکت دار ہے، جہاں مالی سال 2024-25 میں دوطرفہ تجارت 178.56 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی (برآمدات: 56.87 ارب امریکی ڈالر، درآمدات: 121.68 ارب امریکی ڈالر)، جو بھارت کی عالمی تجارت کا 15.42 فیصد بنتی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بھارت اور جی سی سی کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کی اوسط سالانہ شرح نمو 15.3 فیصد رہی۔
بھارت سے جی سی سی کو ہونے والی اہم برآمدات میں انجینئرنگ مصنوعات، چاول، ٹیکسٹائل، مشینری، جواہرات اور زیورات شامل ہیں۔ جبکہ جی سی سی سے درآمدات کے نمایاں شعبوں میں خام تیل، سیال قدرتی گیس (ایل این جی)، پیٹرو کیمیکلز اور قیمتی دھاتیں جیسے سونا شامل ہیں۔ مجموعی طور پر جی سی سی ممالک 2024 کے مطابق 6 کروڑ 15 لاکھ افراد کی منڈی اور موجودہ قیمتوں پر 2.3 کھرب امریکی ڈالر کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی نمائندگی کرتے ہیں، جو عالمی درجہ بندی میں نویں نمبر پر ہے۔ جی سی سی خطہ بھارت کے لیے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے، جہاں ستمبر 2025 تک مجموعی سرمایہ کاری 31.14 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
جی سی سی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی نژاد افراد مقیم ہیں، جو دونوں خطوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ عوامی سطح پر مضبوط اور پائیدار روابط بھارت اور جی سی سی ممالک کے تعلقات کی بنیاد ہیں، جنہیں خطے میں بھارتی کمپنیوں کی نمایاں موجودگی مزید مستحکم کرتی ہے۔
بھارت–جی سی سی آزاد تجارتی معاہدہ دستخط کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تجارت کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے میں معاون ثابت ہوگا اور عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات کے فروغ اور تنوع، نیز باہمی اقتصادی انضمام کو مزید تقویت دے گا۔
******
ش ح۔ م م۔ ول
Uno-2997
(ریلیز آئی ڈی: 2232371)
وزیٹر کاؤنٹر : 9