PIB Headquarters
ایم ۔اے۔این ۔اے۔وی
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا انسانی مرکوز مصنوعی ذہانت کاسفر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 FEB 2026 5:21PM by PIB Delhi

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں، بھارت دنیا بھر کے ٹیکنالوجی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو یکجا کر رہا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر غور و خوض کیا جا سکے۔ بھارت منڈپم میں ہونے والی یہ گفت و شنید ایک مشترکہ امنگ کی عکاس ہے کہ مصنوعی ذہانت کو اس انداز میں تشکیل دیا جائے جس میں انسانیت کو مرکزیت حاصل ہو۔ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ نئی دہلی میں 16 تا 20 فروری 2026 تک منعقد کی جا رہی ہے۔
دنیا کی آبادی کے چھٹے حصے، عالمی سطح پر نوجوانوں کے سب سے بڑے مجموعے، اور ٹیکنالوجی کے نہایت متحرک ہنرمند افرادی وسائل میں سے ایک کا حامل ہونے کے باعث، ہندوستان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا نہ صرف خالق بلکہ تیزی سے انہیں اپنانے والا ملک بھی ہے۔ یہ منفرد حیثیت اسے محض وسعت ہی نہیں بلکہ عالمی مصنوعی ذہانت کے مکالمے کی تشکیل میں ایک اہم ذمہ داری بھی عطا کرتی ہے۔
19 فروری کو انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں اپنے افتتاحی خطاب کے دوران وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے مصنوعی ذہانت کے لیے ایک باریک بین اور متوازن نقطۂ نظر پیش کیا،ایسا نقطۂ نظر جس میں اے آئی کو محض ڈیٹا اور الگورتھمز سے چلنے والی ایک خودمختار قوت کے طور پر نہیں بلکہ انسانی امنگوں، اخلاقیات اور وقار کے تسلسل کے طور پر دیکھا گیا۔ انہوں نے اس انسان مرکز وژن کو ایم اے این اے وی کے مخفف میں سمویا اور ایک ایسا روڈ میپ پیش کیا جس میں تکنیکی ترقی سماجی اقدار کے ساتھ ہم آہنگی میں آگے بڑھتی ہے: اخلاقی و اقداری نظام، جوابدہ طرزِ حکمرانی، قومی خودمختاری، قابلِ رسائی اور جامع مصنوعی ذہانت، اور درست و جائز نظام۔
بھارت کا ایم اے این اے وی وژن محض وزیرِ اعظم کی جانب سے پیش کیا گیا ایک تصوراتی فریم ورک نہیں ہے، بلکہ یہ مربوط پروگراموں اور پالیسی اقدامات کے ذریعے ایک مضبوط بنیاد استوار کرنے کے لیے جاری قومی عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اقدامات رہنما اصولوں کو تعلیم، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، حکمرانی اور اختراعی ماحولیاتی نظام میں قابلِ عمل نتائج میں تبدیل کرتے ہیں۔ شمولیت، سلامتی اور عوامی فلاح سے جڑے ہوئے یہ اقدامات اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ ہندوستان کی مصنوعی ذہانت کی حکمتِ عملی نہ صرف آگے بڑھنے والی ہو بلکہ سماجی طور پر ذمہ دار بھی رہے۔ مجموعی طور پر یہ اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ اس وژن کو ٹھوس عملی اقدامات اور مستقل ادارہ جاتی عزم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
ایم۔اے۔این۔اے۔وی وژن کا پہلا ستون اس امر کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بنیاد اخلاقی اور اقداری نظاموں میں مضبوطی سے پیوست ہونی چاہیے۔ وزیرِ اعظم نے اے آئی کے ڈیزائن اور اس کے نفاذ میں انصاف، شفافیت اور انسانی نگرانی کو ناقابلِ گفت و شنید اصولوں کے طور پر اجاگر کیا۔ ہندوستان ان اقدار کو تیزی سے رائج کر رہا ہے—کلاس روم سے آغاز کرتے ہوئے اور انہیں وسیع تر معاشرے تک پھیلا رہا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 ڈیجیٹل اور اے آئی خواندگی کو ترجیح دیتی ہے، جس کے تحت مختلف تعلیمی سطحوں پر کمپیوٹیشنل سوچ اور مصنوعی ذہانت کے تصورات کو مربوط کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف جدت کے کلچر کو فروغ دیتا ہے بلکہ ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی اور اخلاقی اے آئی اصولوں سے بروقت آگاہی کو بھی یقینی بناتا ہے، تاکہ تیزی سے بدلتے ہوئے تکنیکی منظرنامے کے لیے مستقبل سے ہم آہنگ شہری تیار کیے جا سکیں۔
اخلاقیات کو سمٹ میں ایک طاقتور عوامی اظہار بھی ملا، جہاں ہندوستان نے اے آئی ذمہ داری مہم کے لیے محض 24 گھنٹوں کے اندر موصول ہونے والے سب سے زیادہ وعدوں پر گنیز ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز حاصل کر کے ذمہ دار مصنوعی ذہانت میں عالمی معیار قائم کیا۔ غیر معمولی طور پر 250,946 وعدوں نے اخلاقی اے آئی کو محض پالیسی کے اصول سے آگے بڑھا کر ایک اجتماعی قومی عزم میں تبدیل کر دیا۔
ایم۔اے۔این۔اے۔وی وژن کا دوسرا ستون—جوابدہ حکمرانی—شفاف قواعد اور مضبوط نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور اس امر کو تقویت دیتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر اعتماد کی بنیاد شفافیت، مؤثر نگرانی اور واضح ادارہ جاتی ذمہ داری ہونی چاہیے۔
اس وژن کے مرکز میں انڈیا اے آئی مشن ہے، جسے 10,300 کروڑ روپے سے زائد کے مالی اخراجات کے ساتھ منظوری دی گئی ہے۔ یہ مشن نہ صرف کمپیوٹ، ڈیٹا، مہارتوں اور اختراعی صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے بلکہ ابتدا ہی سے مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی نظام میں حکمرانی کے مؤثر میکانزم کو بھی شامل کرتا ہے۔ اے آئی نظاموں کی ذمہ دارانہ ترقی، تعیناتی اور نگرانی کے لیے معیارات کو ادارہ جاتی شکل دے کر، یہ مشن عوامی شعبے کی ایپلی کیشنز اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں منظم اور مؤثر نگرانی کو یقینی بناتا ہے۔
اس کی تکمیل ہندوستان کے مصنوعی ذہانت سے متعلق گورننس رہنما خطوط کرتے ہیں، جو اعتماد، مساوات، جواب دہی اور انصاف پسندی پر مبنی ایک عوام مرکز فریم ورک قائم کرتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات مل کر ایک شفاف ضابطہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں، جو اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ ہندوستان میں مصنوعی ذہانت کے نظام قابلِ وضاحت، جائز، اور جمہوری اقدار و آئینی اصولوں سے ہم آہنگ رہیں۔
قومی خودمختاری( ایم اے این اے وی وژن) کا تیسرا ستون ہے۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ دنیا میں خودمختاری اب محض جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ڈیٹا، الگورتھمز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تک وسعت اختیار کر چکی ہے۔
ہندوستان کے لیے اس کا مفہوم اہم ڈیٹا سیٹس کا تحفظ، گھریلو کمپیوٹنگ صلاحیت کو مستحکم کرنا، اور مقامی مصنوعی ذہانت ماڈلز کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن ، قابلِ اعتماد ڈیٹا گورننس فریم ورک، اور محفوظ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جیسے اقدامات ڈیجیٹل تنہائی(آئی سولیشن) کے بغیر تکنیکی خودانحصاری کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
چِپس، کلاؤڈ اور جدید ٹیکنالوجیز میں مضبوط اور پائیدار گھریلو صلاحیتیں قائم کر کے، ہندوستان اس امر کو یقینی بنا رہا ہے کہ اس کا مصنوعی ذہانت کا ماحولیاتی نظام عالمی سطح پر باہمی تعاون پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک طور پر خودمختار بھی رہے، اور ذہین نظاموں کے دور میں معاشی سلامتی اور جمہوری اداروں کا تحفظ کر سکے۔
ایم۔اے۔این۔اے۔وی وژن کا چوتھا ستون قابلِ رسائی اور جامع مصنوعی ذہانت ہے، جو اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ اے آئی کو معاشرے کے لیے ایک تقویتی قوت کے طور پر کام کرنا چاہیے، نہ کہ چند مراعات یافتہ افراد کی اجارہ داری کے طور پر۔
ہندوستان کا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، زراعت اور حکمرانی کے شعبوں میں تیز رفتار اور کم لاگت پیمانے پر مصنوعی ذہانت کے حل کو ممکن بنا رہا ہے۔ میگھ راج جی آئی کلاؤڈ اور انڈیا اے آئی کمپیوٹ پورٹل جیسے پلیٹ فارم گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یوز) اور ٹینسر پروسیسنگ یونٹس (ٹی پی یوز) سمیت مشترکہ کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی کو جمہوری بنا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اسٹارٹ اپس، محققین اور اداروں کے لیے داخلے کی رکاوٹیں نمایاں طور پر کم ہو رہی ہیں۔
انڈیا اے آئی کوش مختلف شعبوں میں ڈیٹا سیٹس اور اے آئی ماڈلز فراہم کرتا ہے، جبکہ اے آئی ڈیٹا لیبز نیٹ ورک اور نیشنل سپر کمپیوٹنگ مشن ملک بھر میں نچلی سطح کی مہارتوں اور اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ صلاحیت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ اقدامات اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ ہندوستان میں مصنوعی ذہانت کی اختراع وسیع البنیاد، کم لاگت اور جامع رہے۔
ایم۔اے۔این۔اے۔وی کا پانچواں ستون اعتماد، سلامتی اور قانونی حیثیت کو مصنوعی ذہانت کی تعیناتی کے مرکز میں رکھتا ہے۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی نظام قابلِ تصدیق، جائز اور شفاف ہونے چاہئیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب ڈیپ فیکس اور مصنوعی میڈیا جمہوری مکالمے اور سماجی اعتماد کے لیے سنجیدہ خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیٹری گائیڈ لائنز اور ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) ترمیمی قواعد، 2026 باضابطہ طور پر مصنوعی طور پر تیار کردہ مواد کی وضاحت اور اس کے نظم و ضبط کو یقینی بناتے ہیں، جس سے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں جواب دہی مزید مستحکم ہوتی ہے۔
عملی سطح پر، انڈیا اے آئی مشن کا محفوظ اور قابلِ اعتماد اے آئی ستون ایسے منصوبوں کی معاونت کرتا ہے جو تعصب میں کمی، رازداری کے تحفظ پر مبنی نظاموں کے ڈیزائن، الگورتھمک آڈیٹنگ ٹولز، اور رسک اسسمنٹ فریم ورکس پر مرکوز ہیں۔ یہ حفاظتی اقدامات اخلاقی نیت کو قابلِ نفاذ معیارات میں ڈھالتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی اختراع قابلِ اعتماد، ذمہ دار اور سماجی طور پر مفید رہے۔
ایم اے این اے وی کے ذریعے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے محض ایک وژن پیش نہیں کیا، بلکہ دنیا کے سامنے مصنوعی ذہانت پر ایک تہذیبی نقطۂ نظر رکھا ہے۔ اخلاقیات کے ساتھ اختراع، جواب دہی کے ساتھ حکمرانی، کشادگی کے ساتھ خودمختاری، وسعت کے ساتھ شمولیت، اور اعتماد کے ساتھ قانونی حیثیت،ان اصولوں کے ذریعے ہندوستان ایک ایسے اے آئی مستقبل کی تشکیل کر رہا ہے جو نہ صرف ٹیکنالوجی کو، بلکہ خود انسانیت کو بھی آگے بڑھاتا ہے۔
حوالہ جات:
وزیرِ اعظم کا دفتر:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2230090®=3&lang=1
وزارتِ الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی:
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2227612
پی آئی بی ہیڈ کوارٹر:
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2229397
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225781®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2229876
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=157247
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=157463&ModuleId=3®=3&lang=1
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
***
UR-2727
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2230381)
وزیٹر کاؤنٹر : 13