ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav AI Impact Summit 2026

ارضیاتی علوم کی وزارت کی جانب سے انڈیااے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں ’’مستقبل کے سمندروں کے لیے اے آئی: ڈیٹا، ماڈلز اور حکمرانی‘‘ کے موضوع پر مباحثوں کا اہتمام

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 FEB 2026 12:01PM by PIB Delhi

 

حکومتِ ہند کی ارضیاتی علوم کی وزارت (ایم او ای ایس) نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے تحت، جو 16 سے 20 فروری 2026 تک نئی دہلی میں منعقد ہو رہی ہے، ایک اعلیٰ سطحی پینل مباحثے کا انعقاد کیا جس کا عنوان تھا: “مستقبل کے سمندروں کے لیے اے آئی: ڈیٹا، ماڈلز اور حکمرانی” ۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) انڈیا میں سمندری حکمرانی کو مضبوط بنانے، آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے، سمندری معاش کے ذرائع کو سہارا دینے اور نیلگوں معیشت کی ترقی میں انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس اجلاس میں سینئر سرکاری عہدیداران، بین الاقوامی شخصیات، سائنس دانوں، صنعت کے رہنماؤں، اسٹارٹ اپس اور مالیاتی ماہرین نے شرکت کی اور سمندری سائنس اور پالیسی کے ساتھ اے آئی کے انضمام پر غور و خوض کیا۔

کلیدی خطاب دیتے ہوئے، بھارت کے محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم موہاپاترا نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سمندر موسمیاتی نظام کو متوازن رکھنے، آفات کے خطرات میں کمی، غذائی تحفظ اور معاش کے ذرائع کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے سمندری مشاہدات، طوفانوں کی پیش گوئی، بحری ڈیٹا نظام اور ابتدائی وارننگ خدمات کے شعبوں میں بھارت کی مضبوط قومی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ تکنیکی ترقی کی بدولت شدید موسمی حالات کے دوران جانی نقصان میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ڈیٹا پر مبنی اور اے آئی سے تقویت یافتہ ماڈلز روایتی طبعی ماڈلز کی تکمیل کے لیے، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی کے اثرات جیسے سمندروں کا درجۂ حرارت بڑھنا، تیزابیت میں اضافہ اور سمندر کی سطح میں بلند ی کے تناظر میں نہایت اہم ہیں۔ ڈیپ اوشن مشن کو ایک نمایاں قومی اقدام کے طور پر پیش کیا گیا، جو گہرے سمندر کی کھوج، سمندری توانائی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال پر مرکوز ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت میں ناروے کی سفیر، محترمہ مے ایلِن اسٹینر نے سمندروں اور نیلگوں معیشت کے شعبے میں بھارت اور ناروے کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت کو کھلے، باہمی طور پر ہم آہنگ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کیا جائے تو یہ ماہی گیری کے انتظام، بحری جہاز رانی کی کارکردگی، بندرگاہی آپریشنز اور ساحلی تحفظ کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔ محترمہ اسٹینر نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل عوامی ڈھانچے میں بھارت کی قیادت اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ کھلے ڈیٹا، مشترکہ معیارات اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل حکمرانی پر مبنی ایک عالمی ڈیجیٹل اوشن فریم ورک تیار کرے، جس سے نہ صرف بھارت بلکہ عالمی برادری بھی مستفید ہو سکتی ہے۔

اجلاس کے آخری حصے میں ایک پینل مباحثہ منعقد ہوا جس میں حکومت، جامعات، صنعت اور بین الاقوامی اداروں سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین نے شرکت کی۔ پینل نے اس بات پر غور کیا کہ بھارت گلوبل ساؤتھ کی قیادت کرنے کے لیے منفرد حیثیت رکھتا ہے، بشرطیکہ وہ ایسا ڈیجیٹل اوشن انفراسٹرکچر تیار کرے جو کھلے ڈیٹا، اے آئی سے تقویت یافتہ ذہانت اور مضبوط طرزِ حکمرانی کے فریم ورک کو یکجا کرے۔ مصنوعی ذہانت کو سمندری معاش کے مواقع کو وسعت دینے، آپریشنل اخراجات میں کمی لانے اورنیلگوں معیشت کے مختلف شعبوں میں بروقت اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی ممکن بنانے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔ اگرچہ دستیاب ڈیٹا میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم سمندر اب بھی ایک نہایت پیچیدہ اور ڈیٹا کی کمی والے شعبے ہیں، جس کے لیے فزکس پر مبنی اے آئی اور فزیکل انٹیلی جنس کی ترقی ضروری ہے۔ پیش رفت کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا، کھلے اور باہمی طور پر ہم آہنگ نظام قائم کرنا، اور ایسے مشترکہ ڈیجیٹل عوامی اثاثے تشکیل دینا لازمی ہوگا جو سمندروں کی سرحدوں سے ماورا فطرت کی عکاسی کریں۔ معاون پالیسیوں، ڈیٹا کی روانی، مخلوط مالیاتی ماڈلز اور خطرات کی شراکت کے مؤثر نظام کے ذریعے نیلگوں معیشت ایک پائیدار اور طویل مدتی ترقی کے انجن کے طور پر ابھر سکتی ہے، جو بھارت اور گلوبل ساؤتھ کے لیے بڑے پیمانے پر روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے گی۔

اجلاس کا اختتام ارضیاتی علوم کی وزارت کے سائنس دان جی اور مشیر ڈاکٹر (کمانڈر) پی کے سریواستو کے اختتامی کلمات پر ہوا، جنہوں نے سمندر سے متعلق پروگراموں میں مصنوعی ذہانت کے انضمام کے لیے ایک منظم لائحۂ عمل تیار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

تصاویر: انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں مقررین (بائیں) اور شرکاء (دائیں)؛ “مستقبل کے سمندروں کے لیے اے آئی: ڈیٹا، ماڈلز اور حکمرانی” کے موضوع پر 17 فروری 2026 کو نئی دہلی میں پینل سیشن۔

***************

) ش ح –ع و-  ش ہ ب )

U.No. 2705


(ریلیز آئی ڈی: 2230134) وزیٹر کاؤنٹر : 13