وزیراعظم کا دفتر
ای ٹی نَو گلوبل بزنس سمٹ میں وزیرِ اعظم کے خطاب کا اردو ترجمہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 FEB 2026 9:59PM by PIB Delhi
آپ سب کو اس گلوبل بزنس سمٹ میں خوش آمدید، میں آپ سب کو اپنی جانب سے سلام پیش کرتا ہوں۔ ہم یہاں موضوع ’’ایک دہائی کی ہلچل، ایک صدی کی تبدیلی‘‘ پر گفتگو کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ وِنیت جی کی تقریر سننے کے بعد مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا کام بہت آسان ہو گیا ہے۔ لیکن میں ایک چھوٹی سی درخواست کرنا چاہوں گا، چونکہ آپ اتنا کچھ جانتے ہیں، تو کبھی کبھار یہ بات ای ٹی میں بھی نظر آنی چاہیے۔
دوستو!
اکیسویں صدی کی گزشتہ دہائی بے مثال ہلچل کی دہائی رہی ہے۔ دنیا نے ایک عالمی وبا دیکھی، مختلف خطّوں میں کشیدگی اور جنگیں دیکھیں اور سپلائی چین کے ایسے تعطل دیکھے جنہوں نے عالمی توازن کو ہلا کر رکھ دیا اور یہ سب کچھ صرف ایک ہی دہائی میں ہوا۔ لیکن دوستو! کہا جاتا ہے کہ کسی قوم کی حقیقی طاقت بحران کے وقت سامنے آتی ہے اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ اتنی ساری ہلچل کے باوجود یہ دہائی بھارت کے لیے بے مثال ترقی کی دہائی ثابت ہوئی، جس میں غیر معمولی نتائج کی فراہمی (ڈیلیوری) اور جمہوریت کی مضبوطی نمایاں رہی۔ جب پچھلی دہائی شروع ہوئی تھی، بھارت دنیا کی گیارہویں بڑی معیشت تھا۔ اس قدر ہنگامہ خیزی کے درمیان یہ مضبوط خدشات تھے کہ بھارت مزید نیچے پھسل سکتا ہے۔ لیکن آج بھارت تیزی سے دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور جس “صدی کی تبدیلی” کی آپ بات کر رہے ہیں، میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس کی بنیاد بڑی حد تک بھارت پر قائم ہوگی۔
آج بھارت عالمی ترقی میں 16 فیصد سے زیادہ حصہ ڈال رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس صدی کے آنے والے ہر سال میں ہمارا یہ حصہ مسلسل بڑھتا رہے گا۔ میں یہاں کسی نجومی کی طرح پیش گوئیاں کرنے نہیں آیا ہوں۔ بھارت عالمی ترقی کو رفتار دے گا؛ اور یہ دنیا کی معیشت کا نیا انجن بن کر ابھرے گا۔
دوستو!
دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک نیا عالمی نظام تشکیل پایا تھا۔ لیکن سات دہائیوں کے بعد وہ نظام ٹوٹ رہا ہے۔ دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ پہلے نظام کی بنیاد ’’ایک ہی پیمانہ سب کے لیے‘‘ کے نظریے پر رکھی گئی تھی۔ یہ مانا جاتا تھا کہ عالمی معیشت کا مرکز ’’کور‘‘ میں ہوگا اور سپلائی چین مضبوط اور قابلِ اعتماد بنتی جائیں گی۔ اس ڈھانچے کے اندر قوموں کو محض تعاون کرنے والے عناصر کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ لیکن آج اس ماڈل کو چیلنج کیا جا رہا ہے اور یہ اپنی معنویت کھوتا جا رہا ہے۔ اب ہر ملک یہ سمجھ چکا ہے کہ اسے اپنی لچک خود بنانی ہوگی۔
دوستو!
جس پر دنیا آج بحث کر رہی ہے، بھارت نے اسے 2015 میں، یعنی دس سال پہلے ہی اپنی پالیسی کا حصہ بنا لیا تھا۔ جب نیتی آیوگ قائم کیا گیا، تو اس کے بانی دستاویز میں بھارت کا ویژن واضح طور پر درج تھا: بھارت کسی دوسرے ملک سے ایک بھی ترقیاتی ماڈل درآمد نہیں کرے گا۔ ہم بھارت کی ترقی کے لیے ایک بھارتی طریقۂ کار اپنائیں گے۔ اس پالیسی نے بھارت کو یہ اعتماد دیا کہ وہ اپنے تقاضوں اور اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرے۔ یہی ایک اہم وجہ ہے کہ ہلچل کی اس دہائی کے دوران بھی بھارت کی معیشت کمزور نہیں ہوئی بلکہ مزید مضبوط ہوتی چلی گئی۔
دوستو!
اکیسویں صدی کی اس دہائی میں بھارت ایک ’’ریفارم ایکسپریس‘‘ پر سوار ہے۔ اس اصلاحاتی ایکسپریس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ہم اسے مجبوری کے تحت نہیں بلکہ یقین کے ساتھ اور اصلاحات کے عزم کے ساتھ تیز کر رہے ہیں۔ یہاں اقتصادی دنیا کے کئی ممتاز ماہرین اور قد آور شخصیات موجود ہیں۔ آپ نے 2014 سے پہلے کا دور بھی دیکھا ہے۔ اُس وقت اصلاحات صرف اسی وقت کی جاتی تھیں جب حالات مجبور کر دیتے تھے، جب بحران آ جاتا تھا، جب کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہتا تھا۔
1991 کی اصلاحات اس وقت ہوئیں جب ملک دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار تھا اور اسے اپنا سونا گروی رکھنا پڑا۔ یہی پچھلی حکومتوں کا اندازِ فکر تھا، وہ اصلاحات صرف مجبوری میں کرتی تھیں۔ 26/11 کے دہشت گرد حملے کے بعد جب کانگریس حکومت کی کمزوریاں بے نقاب ہوئیں تو این آئی اے تشکیل دی گئی۔ جب بجلی کا شعبہ بیٹھ گیا اور گرڈ فیل ہونے لگے، تب جا کر ضرورت کے تحت پاور سیکٹر میں اصلاحات کی گئیں۔
دوستو!
ایسی مثالوں کی ایک طویل فہرست ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب اصلاحات مجبوری میں کی جاتی ہیں تو نہ درست نتائج حاصل ہوتے ہیں اور نہ ہی مطلوبہ قومی اہداف پورے ہوتے ہیں۔
دوستو!
مجھے فخر ہے کہ گزشتہ گیارہ برسوں میں ہم نے پورے یقین کے ساتھ اصلاحات کی ہیں—پالیسی میں اصلاحات، عمل میں اصلاحات، نتائج کی فراہمی میں اصلاحات اور حتیٰ کہ ذہنیت میں بھی اصلاحات۔ کیونکہ اگر پالیسی بدل جائے مگر عمل وہی رہے، اگر ذہنیت تبدیل نہ ہو اور اگر ڈیلیوری میں بہتری نہ آئے، تو اصلاحات محض کاغذ کے چند ٹکڑے بن کر رہ جاتی ہیں۔ اسی لیے ہم نے پورے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔
دوستو!
میں عمل کی بات کرتا ہوں۔ ایک سادہ مگر نہایت اہم عمل کابینہ نوٹس کا ہوتا ہے۔ یہاں بہت سے لوگ جانتے ہوں گے کہ پہلے ایک کابینہ نوٹ تیار کرنے میں مہینوں لگ جاتے تھے۔ بھلا کوئی قوم اس رفتار سے کیسے ترقی کر سکتی ہے؟ لہٰذا ہم نے یہ عمل بدل دیا۔ ہم نے فیصلہ سازی کو وقت کی پابندی والا اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنا دیا۔ ہم نے یہ یقینی بنایا کہ کوئی کابینہ نوٹ طے شدہ گھنٹوں سے زیادہ کسی افسر کی میز پر نہ پڑا رہے—یا تو اسے مسترد کر دیا جائے یا اس پر فیصلہ لے لیا جائے۔ آج قوم اس کے نتائج دیکھ رہی ہے۔
دوستو!
میں ریلوے اوور برج کی منظوری کی مثال بھی دیتا ہوں۔ پہلے ایک ہی ڈیزائن کی منظوری لینے میں کئی کئی سال لگ جاتے تھے۔ متعدد کلیئرنس درکار ہوتی تھیں اور مختلف سطحوں پر خطوط لکھنے پڑتے تھے—اور میں نجی شعبے کی نہیں بلکہ حکومت کی بات کر رہا ہوں۔ ہم نے اس کو بھی بدل دیا۔ آج دیکھئے، سڑک اور ریلوے کے انفراسٹرکچر کی تعمیر کس رفتار سے ہو رہی ہے۔ وِنیّت جی نے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
دوستو!
ایک اور دلچسپ مثال سرحدی انفراسٹرکچر کی ہے، جو براہِ راست قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب سرحدی علاقوں میں ایک سادہ سی سڑک بنانے کے لیے بھی دہلی سے اجازت درکار ہوتی تھی۔ ضلع کی سطح پر عملاً کسی کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھا؛ دیوار پر دیوار کھڑی تھیں اور کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں تھا۔ اسی وجہ سے دہائیوں بعد بھی سرحدی انفراسٹرکچر کی حالت کمزور رہی۔ 2014 کے بعد ہم نے اس عمل میں اصلاح کی، مقامی انتظامیہ کو بااختیار بنایا اور آج ہم سرحدی انفراسٹرکچر میں تیز رفتار ترقی دیکھ رہے ہیں۔
دوستو!
گزشتہ دہائی میں ایک ایسی اصلاح جس نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے، وہ ہے یو پی آئی—بھارت کا ڈیجیٹل ادائیگی نظام۔ یہ محض ایک ایپ نہیں ہے، بلکہ یہ پالیسی، عمل اور نتائج کی فراہمی کے غیر معمولی امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے۔ جن لوگوں نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ انہیں بینکنگ اور مالیاتی خدمات تک رسائی مل سکے گی، آج یو پی آئی کے ذریعے وہ بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ ڈیجیٹل انڈیا، ڈیجیٹل ادائیگی نظام، جن دھن-آدھار-موبائل کی تثلیث—یہ اصلاحات مجبوری سے نہیں بلکہ یقین سے پیدا ہوئیں۔ ہمارا یقین یہ تھا کہ ان شہریوں کو نظام میں شامل کیا جائے جن تک پچھلی حکومتیں کبھی نہیں پہنچیں۔ جن کی کبھی پروا نہیں کی گئی، مودی انہیں عزت دیتا ہے اور بااختیار بناتا ہے۔ اسی لیے یہ اصلاحات کی گئیں اور ہماری حکومت اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتی جا رہی ہے۔
دوستو!
بھارت کی یہ نئی ذہنیت ہمارے بجٹ میں بھی جھلکتی ہے۔ پہلے جب بجٹ پر بحث ہوتی تھی تو توجہ صرف ’’آؤٹ لے‘‘ پر ہوتی تھی—کتنی رقم مختص کی گئی، کیا چیز سستی ہوئی اور کیا مہنگی۔ ٹیلی ویژن پر بجٹ کی گفتگو تقریباً پوری کی پوری اسی بات کے گرد گھومتی تھی کہ انکم ٹیکس بڑھا یا گھٹا، گویا ملک میں اس کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔ نئی ٹرینوں کی تعداد سرخیوں پر چھا جاتی تھی اور بعد میں کوئی یہ پوچھنے والا نہیں ہوتا تھا کہ ان اعلانات کا کیا ہوا۔ اسی لیے ہم نے بجٹ کو محض آؤٹ لے پر مرکوز ہونے کے بجائے ’’آؤٹ کم‘‘ یعنی نتائج پر مرکوز بنا دیا۔
دوستو!
بجٹ کی گفتگو میں ایک اور اہم تبدیلی یہ آئی ہے: 2014 سے پہلے ’’آف بجٹ بوروئنگ‘‘ یعنی بجٹ سے باہر قرض لینے پر بہت بحث ہوتی تھی۔ اب ’’آف بجٹ ریفارمز‘‘ یعنی بجٹ کے دائرے سے باہر اصلاحات پر گفتگو ہوتی ہے۔ بجٹ کے فریم ورک سے ہٹ کر ہم نے نئی نسل کی جی ایس ٹی اصلاحات نافذ کیں، پلاننگ کمیشن کی جگہ نیتی آیوگ قائم کیا، دفعہ 370 ہٹایا، تین طلاق کے خلاف قانون بنایا اور ناری شکتی وندن ایکٹ منظور کیا۔
دوستو!
بجٹ کے اندر اعلان ہوں یا اس سے باہر، ریفارم ایکسپریس کی رفتار مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ صرف پچھلے ایک سال میں ہم نے بندرگاہوں اور بحری شعبے میں اصلاحات کیں، جہاز سازی کی صنعت کے لیے متعدد اقدامات کیے، جن وشواس ایکٹ کے تحت اصلاحات کو آگے بڑھایا، توانائی سلامتی کے لیے شانتی ایکٹ نافذ کیا، لیبر قوانین میں اصلاحات کیں، بھارتیہ نیائے سنہتا متعارف کرائی، وقف قانون میں اصلاحات کیں اور دیہی روزگار کو فروغ دینے کے لیے ایک نیا گرام جی ایکٹ متعارف کرایا۔ سال بھر میں اس نوعیت کی متعدد اصلاحات کی گئیں۔
دوستو!
اس سال کے بجٹ نے اصلاحاتی ایکسپریس کو مزید آگے دھکیل دیا ہے۔ بجٹ کے کئی پہلو ہیں، لیکن میں دو اہم عوامل پر بات کروں گا—کیپیکس اور ٹیکنالوجی۔ پچھلے برسوں کی طرح اس بجٹ میں بھی انفراسٹرکچر پر خرچ بڑھا کر تقریباً 17 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ آپ کیپیکس کے نمایاں ’’ملٹی پلائر ایفیکٹ‘‘ سے واقف ہیں؛ یہ ملک کی صلاحیت اور پیداواری قوت بڑھاتا ہے اور متعدد شعبوں میں بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرتا ہے۔ پانچ یونیورسٹی ٹاؤن شپ کی تعمیر، ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں میں سٹی اکنامک ریجنز کی تشکیل اور سات نئے ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور بجٹ کے یہ اعلانات حقیقی معنوں میں ہماری نوجوان نسل اور ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہیں۔
دوستو!
گزشتہ دہائی میں ہم نے ٹیکنالوجی اور اختراع کو ترقی کے بنیادی محرکات کے طور پر دیکھا ہے۔ اسی ویژن کے تحت ہم نے ملک بھر میں اسٹارٹ اپ کلچر اور ہیکاتھون کلچر کو فروغ دیا۔ آج بھارت میں دو لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اپس مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں۔ ہم نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی اور ایسا ماحول بنایا جو خطرہ مول لینے کی سوچ کو سراہتا ہے۔ اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اس سال کا بجٹ اس ترجیح کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ خاص طور پر بایوفارما، سیمی کنڈکٹرز اور اے آئی جیسے شعبوں کے لیے اہم اعلانات کیے گئے ہیں۔
دوستو!
جیسے جیسے ملک کی اقتصادی طاقت بڑھی ہے، ویسے ہی ہم نے ریاستوں کو بھی اسی تناسب سے بااختیار بنایا ہے۔ میں ایک اور اعداد و شمار آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ 2004 سے 2014 کے درمیان، دس برسوں میں ریاستوں کو ٹیکس کی تقسیم کے تحت تقریباً 18 لاکھ کروڑ روپے ملے۔ اس کے برعکس 2014 سے 2025 تک ریاستوں کو 84 لاکھ کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ اگر میں اس سال کے بجٹ میں تجویز کردہ تقریباً 14 لاکھ کروڑ روپے بھی شامل کر دوں تو ہماری حکومت کے دور میں ریاستوں کو ٹیکس کی تقسیم کے تحت دی جانے والی مجموعی رقم تقریباً 100 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔ یہ رقم مرکزی حکومت نے مختلف ریاستی حکومتوں کو ان کے اپنے علاقوں میں ترقیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے منتقل کی ہے۔
دوستو!
آج کل بھارت کے ایف ٹی اے یعنی آزاد تجارتی معاہدوں پر بہت بحث ہو رہی ہے۔ جب میں یہاں داخل ہوا تو گفتگو پہلے ہی شروع ہو چکی تھی اور پوری دنیا میں تجزیے ہو رہے ہیں۔ لیکن آج میں آپ کے سامنے ایک اور دلچسپ زاویہ رکھنا چاہتا ہوں—شاید وہ زاویہ نہیں جو میڈیا تلاش کرتا ہے، مگر وہ جو آپ کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ جو بات میں کہنے جا رہا ہوں، وہ شاید آپ کے ذہن میں بھی نہیں آئی ہوگی۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ 2014 سے پہلے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر آزاد تجارتی معاہدے کیوں نہیں ہو پائے؟ ملک تو وہی تھا، نوجوان توانائی بھی وہی تھی، حکومتی نظام بھی وہی تھا—تو پھر بدلا کیا؟ تبدیلی حکومت کے ویژن میں آئی، اس کی پالیسی اور نیت میں آئی اور بھارت کی صلاحیتوں میں آئی۔
دوستو!
ذرا سوچئے، جب بھارت کو ’’فریجائل فائیو‘‘ یعنی پانچ کمزور معیشتوں میں شمار کیا جاتا تھا تو کون ہم سے جڑنا چاہتا؟ کسی گاؤں میں کیا کوئی امیر گھرانہ اپنی بیٹی کی شادی کسی غریب گھر میں کرے گا؟ وہ تو اسے کمتر سمجھیں گے۔ دنیا میں ہماری حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ جب ملک پالیسی جمود کا شکار تھا، گھوٹالوں اور بدعنوانی سے گھرا ہوا تھا، تو کون بھارت پر بھروسا کرتا؟ 2014 سے پہلے بھارت کی مینوفیکچرنگ بنیاد انتہائی کمزور تھی۔ پچھلی حکومتیں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں؛ شاید ہی کوئی بھارت کے قریب آتا تھا اور اگر کوئی کوشش بھی کرتا تو انہیں یہ خوف رہتا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ معاہدے ہونے سے وہ ممالک ہماری منڈیوں میں سیلاب کی طرح داخل ہو جائیں گے اور انہیں قبضے میں لے لیں گے۔
مایوسی کے اسی ماحول میں 2014 سے پہلے یو پی اے حکومت صرف چار ممالک کے ساتھ جامع تجارتی معاہدے کر سکی۔ اس کے برعکس، گزشتہ دہائی میں بھارت کے جو تجارتی معاہدے طے پائے ہیں وہ دنیا کے مختلف خطّوں میں 38 ممالک پر محیط ہیں۔ آج ہم تجارتی معاہدے اس لیے کر رہے ہیں کہ بھارت پُراعتماد ہے۔ آج کا بھارت عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ گزشتہ گیارہ برسوں میں بھارت نے ایک مضبوط مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم تیار کیا ہے۔ اسی لیے آج بھارت قابل بھی ہے اور بااختیار بھی اور یہی وجہ ہے کہ دنیا ہم پر اعتماد کرتی ہے۔ یہی تبدیلی ہماری تجارتی پالیسی میں ’’پیراڈائم شفٹ‘‘ کی بنیاد ہے اور یہ پیراڈائم شفٹ ایک ترقی یافتہ بھارت کے سفر میں ایک اہم ستون بن چکی ہے۔
دوستو!
ہماری حکومت پوری حساسیت کے ساتھ یہ یقینی بنانے میں مصروف ہے کہ ترقی کے سفر میں ہر شہری شریک ہو۔ جو لوگ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں، انہیں ترجیح دی جا رہی ہے۔ پچھلی حکومتیں معذور افراد کے لیے صرف اعلانات کرتی تھیں؛ ہم بھی چاہیں تو اسی راستے پر چلتے رہتے۔ لیکن حساسیت ہی حکمرانی کی پہچان ہے۔
میں جو مثال دینے جا رہا ہوں وہ آپ میں سے بعض کو چھوٹی لگ سکتی ہے۔ جیسے ہمارے ملک میں زبانوں کا تنوع ہے، ویسے ہی اشاروں کی زبان بھی بکھری ہوئی تھی—تمل ناڈو میں ایک شکل، اتر پردیش میں دوسری، گجرات میں تیسری، آسام میں چوتھی۔ اگر کوئی معذور شخص ایک ریاست سے دوسری ریاست جاتا تو رابطہ مشکل ہو جاتا تھا۔ یہ کام شاید بہت بڑا نہ لگے، لیکن ایک حساس حکومت ایسی باتوں کو معمولی نہیں سمجھتی۔ پہلی بار بھارت نے انڈین سائن لینگویج کو ادارہ جاتی شکل دی اور اسے معیاری بنایا۔ اسی طرح خواجہ سرا برادری اپنے حقوق کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی تھی، ہم نے ایسا قانون بنایا جس نے انہیں وقار اور تحفظ دیا۔ گزشتہ دہائی میں لاکھوں خواتین کو تین طلاق جیسی رجعت پسند رسم سے نجات ملی اور لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ریزرویشن کو یقینی بنایا گیا۔
دوستو!
حکومتی مشینری کے اندر کی سوچ بھی بدل چکی ہے اور اب وہ زیادہ حساس ہو گئی ہے۔ یہ فرق غریبوں کو مفت راشن دینے جیسی اسکیموں میں بھی صاف نظر آتا ہے۔ اپوزیشن کے کچھ لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں؛ بعض اخبارات اس مذاق کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ جب 25 کروڑ لوگ مبینہ طور پر غربت سے باہر آ گئے ہیں تو پھر مفت راشن کیوں دیا جا رہا ہے؟ یہ ایک عجیب سوال ہے۔ جب کسی مریض کو اسپتال سے ڈسچارج کیا جاتا ہے تو کیا ڈاکٹر پھر بھی چند دنوں تک احتیاط کی ہدایت نہیں دیتا؟ ضرور دیتا ہے۔
ہاں، کوئی شخص غربت سے باہر آ گیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سہارا فوراً ختم کر دیا جائے۔ تنگ نظر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ کسی کو غربت سے نکال دینا کافی نہیں ہوتا؛ ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ جو لوگ نئی مڈل کلاس میں داخل ہوئے ہیں وہ دوبارہ غربت میں نہ پھسل جائیں۔ اسی لیے مفت اناج کی شکل میں مسلسل مدد ضروری ہے۔ گزشتہ برسوں میں مرکزی حکومت نے اس اسکیم پر لاکھوں کروڑ روپے خرچ کیے ہیں، جس سے غریبوں اور نئی مڈل کلاس کو بہت بڑا سہارا ملا ہے۔
دوستو!
ہم ایک اور سیاق میں بھی سوچ کے فرق کو دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ میں 2047 کی بات کیوں کرتا ہوں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی اُس وقت تک ایک ترقی یافتہ بھارت حقیقت بن پائے گا؟ اور کیا اس سے کوئی فرق پڑتا ہے اگر اُس وقت ہم خود موجود ہی نہ ہوں؟ یہ بھی ایک عام ذہنیت ہے۔
دوستو!
جن لوگوں نے بھارت کی آزادی کے لیے جدوجہد کی، انہوں نے لاٹھی چارج برداشت کیے، سیلولر جیل میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں اور حتیٰ کہ تختۂ دار پر بھی چڑھے۔ اگر وہ یہ سوچتے کہ شاید آزادی ان کی زندگی میں نہ ملے اور یہ سوال کرتے کہ پھر ہم کیوں تکلیف اٹھائیں، تو کیا بھارت کبھی آزاد ہو پاتا؟
جب قوم سب سے پہلے ہو، جب قومی مفاد سب سے بڑھ کر ہو، تو ہر فیصلہ اور ہر پالیسی ملک کے لیے بنائی جاتی ہے۔ ہمارا ویژن بالکل واضح ہے—ہمیں ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے مسلسل، بے تھکان محنت کرتے رہنا ہے۔ 2047 میں ہم ہوں یا نہ ہوں، ملک رہے گا، آنے والی نسلیں زندہ رہیں گی۔ اس لیے ہمیں اپنا آج اس طرح وقف کرنا ہے کہ ان کا کل محفوظ اور روشن ہو۔ میں آج بیج بوتا ہوں تاکہ آنے والی نسلیں کل اس کی فصل کاٹ سکیں۔
دوستو!
دنیا کو اب ہلچل اور عدم استحکام کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا۔ وقت کے ساتھ اس کی نوعیت بدل سکتی ہے، مگر نظاموں میں تیز رفتار تبدیلی ناگزیر ہے۔ آپ اے آئی کے ذریعے آنے والی ہلچل کو ابھی سے دیکھ رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں اے آئی مزید انقلابی تبدیلیاں لے کر آئے گا اور بھارت اس کے لیے تیار ہے۔
چند دنوں میں بھارت گلوبل اے آئی امپیکٹ سمٹ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ دنیا بھر سے ممالک اور ٹیکنالوجی کے قائدین یہاں جمع ہوں گے۔ ان سب کے ساتھ مل کر ہم ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہیں گے۔ اسی اعتماد کے ساتھ میں ایک بار پھر آپ سب کو اس سمٹ کے لیے نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔
بہت بہت شکریہ۔
وندے ماترم۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-2439
(ریلیز آئی ڈی: 2227972)
وزیٹر کاؤنٹر : 11