PIB Headquarters
پریکشا پہ چرچا: طلبہ کو امتحانی چیلنجز سے گزارنے کیلئے ایک دل سے دل کی بات چیت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 FEB 2026 3:47PM by PIB Delhi
کلیدی نکات
2018 میں شروع ہونے والا پریکشا پہ چرچا (پی پی سی) ایک سالانہ، ملک گیر اور باہمی مکالمے پر مبنی اقدام ہے، جس میں وزیرِ اعظم امتحانات، زندگی کی مہارتوں اور فلاح و بہبود پر طلبہ، اساتذہ اور والدین سے گفتگو کرتے ہیں۔
پی پی سی دباؤ سے پاک امتحانات، جذباتی مضبوطی اور ہمہ جہت نشوونما کو فروغ دیتا ہے، اور قومی تعلیمی پالیسی- 2020 کے تجرباتی اور تصوری تعلیمی فریم ورک سے ہم آہنگ ہے۔
پی پی سی طلبہ کو امتحانات کو مثبت انداز میں دیکھنے کی ترغیب دیتا ہے اور ‘فکر مند نہیں، بلکہ ایک سپاہی بنیں’ کے نظریے کے تحت اعتماد، منظم تیاری اور حوصلہ افزائی کو فروغ دیتا ہے۔
2025 کا سنگ میل پی پی سی: 2025 میں 5 کروڑ سے زائد شرکاء نے حصہ لیا، جبکہ 3.53 کروڑ رجسٹریشنز کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا گیا۔
ملک گیر توسیع پی پی سی: 2026 میں پانچ خطّوں کے مختلف شہروں میں نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں دیو موگرا، کوئمبٹور، رائے پور، گوہاٹی اور 7 لوک کلیان مارگ، دہلی شامل ہیں، جس سے شمولیت اور علاقائی نمائندگی کو فروغ ملا۔
تعارف: ‘‘امتحانی سپاہی’’ کا آغاز
|
|
پریکشا پہ چرچا: طلبہ کو امتحانی چیلنجز سے گزارنے کیلئے ایک دل سے دل کی بات چیت
پریکشا پہ چرچا (پی پی سی)، جس کا آغاز 2018 میں وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کیا، ایک ملک گیر اقدام ہے جس کا مقصد امتحانی دباؤ کو کم کرنا اور طلبہ میں ہمہ جہت تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ یہ پروگرام محکمۂ اسکولی تعلیم و خواندگی، وزارتِ تعلیم کے زیرِ اہتمام منعقد کیا جاتا ہے۔
پی پی سی ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وزیراعظم براہِ راست طلبہ، اساتذہ اور والدین سے گفتگو کرتے ہیں اور امتحانات کے بارے میں پُراعتماد اور مثبت طرزِ فکر اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ پروگرام وقت کے ساتھ ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کی 2025 کی کڑی میں 5 کروڑ سے زائد طلبہ، اساتذہ اور والدین نے شرکت کی، جو اس کی وسیع قومی رسائی کی عکاسی کرتی ہے۔
پی پی سی وقت کے بہتر انتظام، جذباتی بہبود، متوازن طرزِ زندگی اور تصوری تعلیم کو فروغ دیتا ہے، اور قومی تعلیمی پالیسی کے تحت حکومت کے طلبہ مرکز تعلیمی ویژن سے ہم آہنگ ہے۔

پریکشا پہ چرچا(پی پی سی - (20262026 کا 9واں ایڈیشن شمولیت کے دائرے کو مزید وسعت دیتے ہوئے ملک بھر کے طلبہ، والدین اور اساتذہ سے 4.5 کروڑ سے زائد رجسٹریشنز کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل عبور کر چکا ہے۔ یہ امر امتحانات سے متعلق دباؤ کے ازالے اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے فروغ میں اس پروگرام کی مسلسل اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
پی پی سی 2026 کے انعقاد سے قبل12 جنوری 2026 (قومی یومِ نوجوانان) 23 جنوری 2026 (پراکرم دیوس)تک ملک گیر سطح پر طلبہ کی شمولیت پر مبنی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ ان سرگرمیوں کا آغاز سوَدیشی سنکلپ دوڑ سے ہوا، جس کا مقصد طلبہ میں خود انحصاری کے جذبے کو فروغ دینا تھا، جبکہ اختتام منتخب کیندریہ ودیالیوں میں منعقدہ کوئز اور تحریری مقابلوں پر ہوا، جس سے طلبہ کی شرکت اور شعور میں مزید اضافہ ہوا۔
پریکشا پہ چرچا 2026 کی دلچسپ جھلکیاں
7 لوک کلیان مارگ (LKM) میں خصوصی نشستیں
پریکشا پہ چرچا 2026 کے دوران 7 لوک کلیان مارگ، نئی دہلی سے ہونے والی نشستوں میں کئی یادگار اور دل چسپ لمحات دیکھنے کو ملے۔ 2026 کے ایڈیشن میں 4.5 کروڑ سے زائد رجسٹریشنز ریکارڈ ہوئیں، جبکہ 2.26 کروڑ افراد نے متعلقہ سرگرمیوں میں حصہ لیا، یوں مجموعی شرکت 6.76 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔
وزیرِ اعظم نے ناشتے کے دوران طلبہ کو حیران کیا، جس سے ان کے جوش و خروش اور توانائی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے بھارت کے ثقافتی تنوع کی علامت کے طور پر طلبہ کو آسامی گاموسے بھی پیش کیے۔ طلبہ نے امتحانات سے متعلق اپنے خدشات کھل کر بیان کیے اور ان پر قابو پانے کی حکمتِ عملیوں پر گفتگو کی۔ کئی شرکاء نے ایگزام واریئرز کتاب سے حاصل کردہ نکات بھی شیئر کیے، جن سے انہیں دباؤ کم کرنے اور توجہ بہتر بنانے میں مدد ملی۔
طلبہ نے وزیرِ اعظم کو نہایت بامعنی تحائف پیش کیے، جن میں ہاتھ سے تیار کردہ گلدستے، ری سائیکل شدہ مواد سے بنی وینا، آسامی گاموسے، سکّم کی نامیاتی چائے کی پتی اور روایتی مٹھائیاں شامل تھیں، جو تخلیقی صلاحیت اور ثقافتی رنگا رنگی کی عکاس ہیں۔
PPC کی ملک گیر توسیع
سن 2026 کا ایڈیشن پی پی سی کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ پہلی بار حقیقی معنوں میں ایک ملک گیر پروگرام کے طور پر سامنے آیا۔ اس بار ملک کے مختلف خطّوں میں متعدد مقامات پر نشستیں منعقد کی گئیں، جن میں کوئمبٹور (تمل ناڈو)، رائے پور (چھتیس گڑھ)، دیو موگرا (گجرات)، گوہاٹی (آسام) اور نئی دہلی شامل ہیں۔

سب سے منفرد اور یادگار نشستوں میں سے ایک آسام میں منعقد ہوئی، جہاں یہ سیشن دریائے برہم پتر پر ایک کروز کے دوران منعقد کیا گیا۔ یہ اقدام علاقائی نمائندگی اور اختراعی رسائی کی ایک علامت کے طور پر سامنے آیا۔
|
|
یہ اقدام قومی تعلیمی پالیسی (NEP) 2020 کے بنیادی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے، جو رٹّا سسٹم کے بجائے دباؤ سے پاک، تجرباتی اور تصوری تعلیم کو فروغ دیتی ہے۔ باہمی گفتگو کے ذریعے وزیرِ اعظم مؤثر وقت کے انتظام، ڈیجیٹل خلفشار پر قابو پانے، ذہنی یکسوئی برقرار رکھنے اور جذباتی مضبوطی پیدا کرنے جیسے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں، اور طلبہ، والدین اور اساتذہ کو عملی اور قابلِ فہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
وسعت اور شرکت: ایک اقدام سے عوامی تحریک تک
|
|
پریکشا پہ چرچا(پی پی سی) کا آغاز 2018 میں تالکٹورا اسٹیڈیم، نئی دہلی میں ایک ٹاؤن ہال طرز کے ایونٹ کے طور پر ہوا، جہاں 2,500 سے زائد طلبہ نے براہِ راست شرکت کی، جبکہ اندازاً 8.5 کروڑ ناظرین نے اسے دوردرشن، ٹی وی اور ریڈیو کے ذریعے دیکھا/سنا۔ اس ابتدائی ایڈیشن کا زور ہمہ جہتی نشوونما اور جذباتی مضبوطی پر تھا، جس نے اس سالانہ روایت کی بنیاد رکھی۔
سن 2019 تک پروگرام میں توسیع ہوئی، یہ تقریب 90 منٹ سے زائد جاری رہی اور شرکاء کی دلچسپی بڑھانے کے لیے مزاح بھی شامل کیا گیا۔ 2020 میں پہلی بار آن لائن مقابلہ متعارف کروایا گیا، جس میں ہندوستان اور دنیا کے 25 ممالک سے 2.63 لاکھ اندراجات ہوئے، اور چیلنجز کو ترقی کے مواقع کے طور پر اجاگر کیا گیا۔
کووڈ- 19 وبا کے دوران پروگرام نے زبردست موافقت دکھائی۔ 2021 میں یہ مکمل طور پر آن لائن منتقل ہو گیا، جس نے غیر یقینی حالات میں لچک اور استقامت کو اجاگر کیا۔ 2022 میں دوبارہ براہِ راست تقریب کے طور پر تالکٹورا اسٹیڈیم میں منعقد ہوا، جسے تقریباً 9.69 لاکھ طلبہ، 47,200 ملازمین اور 1.86 لاکھ والدین نے ٹی وی اور یوٹیوب پر دیکھا۔
سن 2023 کے ایڈیشن میں جو 27 جنوری کو ہوا، تقریباً 7.18 لاکھ طلبہ، 42,337 ملازمین اور 88,544 والدین نے براہِ راست شرکت کی، جس سے اس پروگرام کے دباؤ سے نمٹنے میں اہم کردار کو مزید تقویت ملی۔

سن 2024 تک پی پی سی نے ٹاؤن ہال طرز میں بھارت منڈپم میں منتقلی کی، جہاں تقریباً 3,000 شرکاء شامل تھے، جن میں پہلی بار ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولز(ای ایم آر ایس) کے 100 طلبہ بھی شامل تھے۔ اس کے ساتھ‘ مائے گورنمنٹ’ پورٹل پر 2.26 کروڑ رجسٹریشنز بھی ریکارڈ ہوئیں۔
سن2025 کے ایڈیشن نے ایک نیا سنگِ میل قائم کیا، جس میں 5 کروڑ سے زائد شرکاء شامل ہوئے اور 3.53 کروڑ رجسٹریشنز کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈ حاصل کیا گیا۔ اس ایڈیشن میں سات قسطیں پیش کی گئیں، جن میں مشہور شخصیات اور تمام ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 36 طلبہ نے شرکت کی۔
اب اپنے 9ویں ایڈیشن(2026میں) پی پی سینے 4.5 کروڑ سے زائد رجسٹریشنز عبور کر لی ہیں، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق 6.76 کروڑ سے زائد افراد نے اس میں حصہ لیا۔
فارمیٹ: دلچسپ اور شامل کی جانے والی نشستیں

اہم پروگرام عموماً ٹاؤن ہال طرز میں منعقد ہوتا ہے، لیکن اختراعی اقدامات نے اس میں مزید گہرائی پیدا کی ہے۔ 2025 میں یہ پروگرام سندر نرسری، دہلی میں ہوا، جو ایک کھلے ماحول والا مقام تھا، جس نے فطرت سے تعلق کو اجاگر کیا اور سردیوں میں طلبہ کو گرم رکھنے کے لیے تل-گڑ کی مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔
یہ اقدام امتحانی دباؤ کو اعتماد میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس میں تخلیقی صلاحیت، خود اعتمادی اور مثبت سیکھنے کا رویہ فروغ دیا جاتا ہے۔ شرکاء کو خیالات شیئر کرنے اور تخلیقی اظہار کی ترغیب دی جاتی ہے، جس سے یہ ایک ملک گیر تحریک بن جاتی ہے جو تعلیم کو زیادہ دلچسپ اور بااختیار بناتی ہے۔
سن 2026 کے لیے پیشگی سرگرمیوں میں 12 جنوری سے 23 جنوری تک، طلبہ کی قیادت میں کئی پروگرام منعقد ہوئے، جیسے سوَدیشی سنکلپ دوڑ (خود انحصاری کو فروغ دینے والی دوڑ) جو سوامی وویکانندجینتی پر ہوئی، اور کوئز مقابلے جونیتاجی سبھاش چندر بوس جینتی ی پر منعقد ہوئے۔ یہ سرگرمیاں قومی موضوعات سے جڑی ہوئی ہیں، جس سے پی پی سی محض ایک ایونٹ نہیں بلکہ ایک ثقافتی جشن بھی بن جاتا ہے۔
سن 2026 میں ایک نیا زاویہ ملٹی لوکیشن فارمیٹ ہے، جس میں دیوموگرا، کوئمبٹور، رائے پور، گوہاٹی اور نئی دہلی کے 7 لوک کلیان مارگ جیسے شہروں میں خصوصی نشستیں شامل ہیں۔ یہ غیر مرکزی انداز مکالمے کو علاقائی طلبہ کے قریب لاتا ہے، متنوع تجربات کو اجاگر کرتا ہے اور شمولیت کو فروغ دیتا ہے۔
|
|
یہ زبردست ترقی، ہزاروں سے کروڑوں تک، پی پی سی کے‘جن آندولن’ یعنی عوامی تحریک میں تبدیل ہونے کو ظاہر کرتی ہے، جو وزیرِ اعظم مودی کے وژن کے تحت معاشرے کو متحد کر کے نوجوان صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
نئے جہتوں کی کھوج: پریکشا پہ چرچا کے ذریعے تعلیم کے دائرے کو وسعت دینا
|
|
پریکشا پہ چرچا (پی پی سی) نے مستقل طور پر اپنی شروعات امتحانات پر مکالمے سے آگے بڑھاتے ہوئے ایک ایسا پلیٹ فارم بن گیا ہے جو تعلیم کو زندگی کی مہارتوں، سماجی شعور اور شخصیت کی نشوونما سے جوڑتا ہے۔ اس کے بڑھتے ہوئے موضوعات طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کی عکاسی کرتے ہیں اور نوجوان سیکھنے والوں کو ذمہ دار، متوازن اور مستقبل کے لیے تیار نقطہ پیش کرتے ہیں۔
ماحولیاتی شعور کا فروغ پی پی سی نے ماحولیاتی ذمہ داری کو بڑھاوا دینا شروع کیا ہے اور طلبہ کو سیکھنے کو پائیداری اور طرزِ زندگی کے انتخاب سے جوڑنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر،‘‘ایک پیڑ ماں کے نام’’ مہم، جسے نشستوں کے دوران اجاگر کیا گیا، طلبہ کو اپنی ماؤں کے اعزاز میں درخت لگانے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جس سے فطرت کے ساتھ جذباتی تعلق پیدا ہوتا اور تحفظ کے جذبے کو فروغ ملتا ہے۔ یہ اقدام حکومت کے مشن لائف(لائف اسٹائل فار انوائرمنٹ) کے ویژن کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو طلبہ میں پائیدار عادات اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیتا ہے۔
ہمہ جہت فلاح و بہبود کو فروغ دینا، پی پی سی مسلسل جسمانی اور ذہنی فلاح و بہبود کی اہمیت پر زور دیتا ہے، جسے تعلیمی تیاری کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ طلبہ کو صحت مند غذائی عادات، متوازن طرزِ زندگی اور ذہنی یکسوئی اپنانے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ وہ دباؤ کو مؤثر انداز میں سنبھال سکیں۔ سانس کی مشقیں، ذہنی توجہ کے طریقے اور ‘ مائنڈ فل ایٹنگ’ جیسی تکنیکیں طلبہ کی توجہ، اضطراب میں کمی اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کرتی ہیں اور اس طرح تعلیمی کامیابی، جسمانی فٹنس اور جذباتی استحکام کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کی ترغیب، پی پی سی ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے اثرات کو پہچانتا ہے اور زیادہ اسکرین ٹائم اور ڈجیٹل خلفشار کے چیلنجز سے نمٹنے کی رہنمائی کرتا ہے۔ طلبہ کو ڈجیٹل ڈیٹاکس یا ڈجیٹل فاسٹنگ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ توجہ میں اضافہ، بین الفردی رابطے کی مضبوطی اور خاندانی تعلقات بہتر ہوں۔ یہ اقدام ٹیکنالوجی کو ایک تعلیمی اور تعمیری وسیلہ کے طور پر استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی- 2020 کے ساتھ ہم آہنگی,این ای پی2020 پی پی سی کے ویژن کی مضبوط تکمیل کرتا ہے، جو خوشگوار، شمولیت پر مبنی اور تجرباتی تعلیم کو فروغ دیتا ہے۔ پروگرام سمگر شِکشا اور پی ایم –ایس ایچ آر آئی-شری اسکولز جیسے قومی تعلیمی اقدامات کی حمایت کرتا ہے، جو ملک بھر میں تعلیم کے معیار اور رسائی کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پی پی سی تصوری فہم، تخلیقی صلاحیت اور مساوی مواقع کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور اس طرح این ای پی کے طلبہ مرکز اور مساوی تعلیم کے اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
شمولیت اور علاقائی نمائندگی کو فروغ دینا،پی پی سی طلبہ کو مختلف سماجی و اقتصادی پس منظر، خطے اور اسکول سسٹمز سے شامل کر کے تعلیم کی تنوع کو اجاگر کرتا ہے۔ 2026 کے ایڈیشن میں پین-انڈیا فارمیٹ اپنایا گیا، جس میں دیوموگرا، کوئمبٹور، رائے پور، گوہاٹی اور دہلی کے 7 لوک کلیان مارگ میں نشستیں منعقد ہوئیں، جس سے طلبہ اپنے علاقائی تعلیمی چیلنجز شیئر کر سکے۔ اس ایڈیشن میں 4.5 کروڑ سے زائد رجسٹریشنز ریکارڈ ہوئیں، جبکہ کل شرکت 6.76 کروڑ سے تجاوز کر گئی، جس سے پی پی سی کی ملک گیر اعتماد اور اہمیت کی عکاسی ہوتی ہے۔
حقیقی زندگی کے مثالوں کے ذریعے تعلیم کو قابل ہم بنانا،پی پی سی کھیل، روزمرہ زندگی اور متاثر کن کہانیوں سے قابلِ فہم مثالیں استعمال کرتا ہے تاکہ پیچیدہ تصورات کو آسان بنایا جا سکے۔ جیسے کرکٹر کی طرح توجہ برقرار رکھنا یا دیویانگ طلبہ میں تعاون کی کہانیاں صبر، ٹیم ورک اور صحت مند مقابلے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ مثالیں طلبہ کو چیلنجز کو رکاوٹ نہیں بلکہ ترقی کے مواقع کے طور پر دیکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
قیادت اور ذاتی ترقی کی پرورش و پرداخت،تعلیمی رہنمائی کے علاوہ، پی پی سی قیادت اور کردار سازی پر زور دیتا ہے۔ یہ اقدام طلبہ میں خود نظم، اعتماد قائم کرنا اور قدرتی صلاحیت کی نشوونما کو فروغ دیتا ہے۔ طلبہ کو مثال قائم کرنے اور ساتھیوں کی مدد کرنے کی ترغیب دیکر پی پی سی ذمہ دار اور پر اعتماد افراد کی پرورش کرتا ہے جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
ان وسیع جہتوں کے ذریعے، پریکشا پہ چرچا ایک ایسا حرکی پلیٹ فارم بن چکا ہے جو نہ صرف امتحانی تیاری بلکہ زندگی کی مہارت، سماجی ذمہ داری اور ذاتی نشوونما کے پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتا ہے، اور اس طرح متوازن اور مستقبل کے لیے تیار طلبہ کی پرورش کرتا ہے۔
نفسیاتی و سماجی بھلائی پی پی سی :نے طلبہ کی ذہنی بھلائی کو مضبوط کیا ہے اور حکومت کی مانو درپن پہل کے ساتھ تعاون کیا ہے، جو وزارت تعلیم کے تحت ایک قومی نفسیاتی مدد اور ذہنی صحت ہیلپ لائن ہے۔ امتحانی اضطراب اور تعلیمی دباؤ پر کھلے مکالمے کی حوصلہ افزائی کر کے، پی پی سی نے مدد طلب کرنے کے گرد کے داغ کو کم کیا اور طلبہ کو توقعات سے متعلق دباؤ پر آزادانہ گفتگو کرنے کا اختیار دیا۔
وقت کا انتظام اور چھوٹے منصوبےپی پی سی: کے تعاملات نے عملی وقت کے انتظام کی تکنیکوں کو فروغ دیا۔ وزیر اعظم کی جانب سے “ماؤں کو وقت کے انتظام کے رول ماڈل کے طور پر” پیش کرنے کا حوالہ طلبہ کو منظم مطالعے کی منصوبہ بندی اختیار کرنے، مشکل مضامین کو ترجیح دینے اور آخری لمحے کے امتحانی دباؤ کو کم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
نتیجہ: بھارت کے نوجوانوں کے لیے ایک پائیدار ورثہ
|
|
‘ایگزام واریئر’ فلسفہ: کتاب Exam Warriors سے متاثر ہو کر، پی پی سی ایک مثبت سیکھنے کے ذہنی رویے کو فروغ دیتا ہے جو اعتماد، نظم و ضبط اور لچک پر مبنی ہے۔ “Be a Warrior, Not a Worrier” جیسے مہماتی موضوعات نے امتحانات کو خوش دلی اور خود اعتمادی کے ساتھ دیکھنے کا پیغام مضبوط کیا اور حکومت کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر وسیع شمولیت حاصل کی۔
پریکشا پہ چرچا اب صرف امتحان سے پہلے کی روایت نہیں رہا؛ یہ ایک تحریک ہے جو ہر بچے کی منفرد شخصیت کا جشن مناتی ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر اور کلاس روم کے درمیان پل بنا کر، اس نے نوجوانوں میں وابستگی اور اعتماد کا احساس پیدا کیا ہے۔ جیسے جیسے بھارت ترقی یافتہ بھارت 2047 کی طرف بڑھ رہا ہے، پی پی سی یہ یقینی بناتا ہے کہ ملک کا مستقبل، یعنی طلبہ، مضبوط، بغیر دباؤ کے اور دنیا کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
حوالہ جات
پریس انفارمیشن بیورو
ڈی ڈی نیوز
پی ایم انڈیا(آفیشیل پی ایم او ویب سائٹ)
انڈیا مشنز
وزارت تعلیم
Click here to see pdf
************
ش ح- ظ الف-ش ب ن
Ur. No. 1927
(ریلیز آئی ڈی: 2225325)
وزیٹر کاؤنٹر : 8