امور داخلہ کی وزارت
امورداخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے چھتیس گڑھ کے رائے پور میں‘چھتیس گڑھ @25:شفٹنگ دی لینس’ کتاب پر قومی کنکلیو سے خطاب کیا
آرگنائزر نے نڈر اور واضح انداز میں انگریزی صحافت کے میدان میں بھارت کے بنیادی نظریے کو پیش کرنے کا ناقابل فراموش کام کیا ہے
اب پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ مودی جی کی قیادت میں بھارت کی کامیابی عالمی استحکام اور خوشحالی کا باعث بنے گی
ہم یقینی طور پر چھتیس گڑھ سے ‘سرخ دہشت گردی’ ختم کردیں گے اور جلد ہی چھتیس گڑھ کو ملک کی نمبر ایک ریاست بنائیں گے
جو لوگ نکسل ازم کے مسئلے کو ترقی میں غفلت کا نتیجہ سمجھتے ہیں وہ ملک کو گمراہ کر رہے ہیں
یہ نقطۂ نظر کہ مسائل کو بندوق کے ذریعے حل کیا جاتا ہے، ماؤ نواز نظریے کی پیداوار ہے، جبکہ ہمارے آئین کی روح بات چیت، بحث اور حل میں ہے
اگر بستر کو ماؤنوازوں کے تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑا ہوتا تو یہ ڈویژن، جو بے پناہ معدنی دولت سے مالا مال ہے، ملک کا سب سے خوشحال خطہ ہوتا
ہمارا مقصد کسی کو مارنا نہیں ہے، لیکن یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان نکسلیوں کو روکیں جو ہتھیار اٹھاتے ہیں اور معصوم لوگوں کو مارتے ہیں
چھتیس گڑھ کو گھپلوں، بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کی شناخت دینے والی اپوزیشن حکومت نے نکسلیوں کی سرپرستی کی
اپوزیشن نے چھوٹی ریاستوں کی تشکیل کے عمل کو پٹری سے اتار دیا، جبکہ اٹل جی نے جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور اتراکھنڈ بنا کر ایک غیر متنازعہ اور پرامن حل فراہم کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 FEB 2026 9:02PM by PIB Delhi
امورداخلہ اور امدادباہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج چھتیس گڑھ کے شہررائے پور میں ہفتہ وار میگزین آرگنائزر کے ‘بھارت پرکاشن’ کی طرف سے شائع ہونے والی کتاب ’چھتیس گڑھ @ 25: شفٹنگ دی لینس’ پر منعقدہ قومی کنکلیو سے خطاب کیا۔ اس موقع پر چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ وشنو دیو سائی، نائب وزیر اعلیٰ جناب وجے شرما اور کئی دیگر معززین موجود تھے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آرگنائزر نے ہمیشہ انگریزی صحافت میں بھارت کے اصل تصور کو برقرار رکھا ہے، اس پر ثابت قدم رہا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کو بھارتی عوام کے سامنے پیش کرنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی تسلسل میں آج ‘چھتیس گڑھ @25:شفٹنگ دی لینس’ کے تحت سلامتی، خوشحالی اور استحکام کے موضوع پر ایک کانکلیو کا انعقاد کیا گیا ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سلامتی، خوشحالی اور استحکام جیسے الفاظ کسی بھی ملک یا ریاست کے لیے بے حد اہم ہوتے ہیں اور یہ چھتیس گڑھ جیسی ریاست کے لیے اور بھی زیادہ اہم ہیں جو آزادی کے بعد وجود میں آئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ جب جناب اٹل بہاری واجپائی وزیرِ اعظم بنے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ چھوٹی ریاستوں کی تشکیل محض ایک تجربہ نہیں بلکہ وہاں کے عوام کی امنگوں کی تکمیل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واجپائی جی کے دورِ حکومت میں جھارکھنڈ، اتراکھنڈ اور چھتیس گڑھ کی تشکیل بیک وقت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ مودی جی کی قیادت میں بھارت کی کامیابی عالمی استحکام اور خوشحالی کا باعث بنے گی۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ اٹل جی کے دور میں قائم ہونے والی نئی ریاستوں کے درمیان کسی قسم کی تلخی پیدا نہیں ہوئی، لیکن مرکز میں سابقہ حکومت کے دوران جب نئی ریاست تلنگانہ تشکیل دی گئی تو آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے درمیان شدید تلخی پیدا ہو گئی، جو ایک دہائی سے زائد عرصے تک برقرار رہی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی دونوں ریاستوں کے درمیان کئی تنازعات حل طلب ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ ان کی پارٹی اور نظریے سے وابستہ افراد انتہائی مربوط انداز میں کام کرتے ہیں، لیکن جب معاملات کو صرف انتظامی طریقوں سے نمٹایا جاتا ہے تو اسی طرح کی تلخیاں جنم لیتی ہیں جیسی ان ریاستوں کے درمیان دیکھی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں نظریہ نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہی حکمرانی کو سمت دیتا ہے۔ جو سیاسی جماعت نظریے سے محروم ہو، وہ ریاست یا قوم کی حقیقی فلاح کے لیے کام نہیں کر سکتی۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ صحافت کے شعبے میں آرگنائزر نے ہمیشہ نظریے کی بنیاد پر قومی مسائل پر مناسب اور متوازن مداخلت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کا فرض خیالات کو بے خوف، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پیش کرنا ہے اور آرگنائزر نے اس بے خوفی کو کبھی نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے آرگنائزر کا مذاق اڑایا جاتا تھا، نظر انداز کیا جاتا تھا اور اس کی مخالفت کی جاتی تھی، لیکن ان تینوں مراحل کے دوران بھی آرگنائزر اپنے نظریاتی نقطۂ نظر کو مضبوطی سے برقرار رکھنے میں کبھی نہیں ہچکچاتا تھا۔ جناب شاہ نے کہا کہ آزادی سے پہلے اور بعد میں بھارت کے سفر میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے بہت اہم تعاون دیا ہے، جس سے کوئی مؤرخ انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور سماجی زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں آر ایس ایس کے رضاکاروں نے سب سے زیادہ مثبت تعاون نہ کیا ہو۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ چھتیس گڑھ نے 25 سال مکمل کر لیے ہیں اور گزشتہ 25 سال میں ریاست میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش کو بیمارو ریاستیں کہا جاتا تھا۔ آج مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ، اتر پردیش اور اتراکھنڈ اور راجستھان اور بہار بیمارو زمرے سے باہر نکل چکے ہیں اور ترقی یافتہ ریاستیں بننے کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی پارٹی نے ان ریاستوں میں طویل عرصے تک حکومتیں بنائیں، جس کے دوران ترقی کا ایک مرحلہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی کی حکومتوں نے اچھی حکمرانی اور انتظامیہ کے لیے کئی معیارات قائم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 25 سال پہلے چھتیس گڑھ کو بیمارو اور نکسل ازم سے متاثرہ ریاست سمجھا جاتا تھا، لیکن آج یہ بیمارو زمرے سے باہر نکل کر ایک ترقی یافتہ ریاست بننے کے لیے تیار ہے اور یہاں نکسل ازم مکمل طور پر ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ یہ معیاری تبدیلی ان کی پارٹی کی حکومتیں لائی ہیں، جو نظریے کی بنیاد پر کام کرتی ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ چھتیس گڑھ کے 25 سالہ سفر کے ابتدائی چند برسوں کے دوران ریاست پر اپوزیشن پارٹی کی حکومت رہی اور اس نے مظالم، فسادات اور متعدد تحریکوں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد ان کی پارٹی 15 سال تک اقتدار میں رہی اور ان 15 سالوں کے دوران چھتیس گڑھ کو ترقی کے ہر پہلو پر آگے بڑھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے نکسل ازم کے خلاف جنگ لڑی اور اس کے خلاف جدوجہد کی، لیکن اس عرصے کے بیشتر حصے میں اپوزیشن جماعت مرکز میں اقتدار میں رہی۔ جناب شاہ نے کہا کہ اس کے بعد اپوزیشن پارٹی نے پانچ سال کے لیے حکومت بنائی، جس کے دوران چھتیس گڑھ کے لوگوں کو گھپلوں، بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسے ہی وہ حکومت اقتدار میں آئی، ایک چھوٹی سی ریاست میں بدعنوانی کے مختلف مسائل سامنے آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھتیس گڑھ میں اس وقت کی اپوزیشن پارٹی کی حکومت نے نکسل تحریک کو پناہ فراہم کی تھی۔ جناب شاہ نے کہا کہ اس کے بعد ان کی پارٹی نے دوبارہ حکومت بنائی اور چھتیس گڑھ میں ترقی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ اگر چھتیس گڑھ کے 2000 اور 2025 کے بجٹ کا موازنہ کیا جائے تو 2025 میں ریاست کا بجٹ 30 گنا بڑھ گیا ہے۔ چھتیس گڑھ کی فی کس آمدنی میں 17 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کی جی ایس ڈی پی میں 25 گنا اضافہ ہوا ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ پچھلے 25 سالوں میں آبپاشی دوگنا ہو گئی ہے، خریف فصلوں کی پیداوار میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور ربیع کی فصلوں میں تقریبا چھ گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے صرف سات ضلع اسپتال تھے، جو اب بڑھ کر 30 ہو گئے ہیں، پہلے صرف ایک میڈیکل کالج تھا، جو اب بڑھ کر 16 ہو گیا ہے اور آنگن واڑی عمارتوں کی تعداد میں 18 گنا اضافہ ہوا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ پہلے تغذیےکی کمی سے متعلق اموات کی شرح 61 تھی، جو اب کم ہو کر 15 رہ گئی ہے، زچگی کی شرح اموات 365 فی لاکھ تھی، جو حکومت کی کوششوں کی وجہ سے کم ہو کر 146 رہ گئی ہے اور بچوں کی شرح اموات 79 تھی، جو اب کم ہو کر 37 رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن حکومتوں نے ناخواندہ افراد کی ایک نئی نسل پیدا کی، جبکہ اب شرح خواندگی 65 فیصد سے بڑھ کر 79 فیصد ہو گئی ہے۔ پہلے ایک رہائشی ایکلویہ اسکول نہیں تھا، جبکہ آج 75 ہیں اور ہاسٹل میں پڑھنے والے بچوں کی تعداد میں بھی تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ دیہی سڑکوں کی تعمیر میں 98 گنا اضافہ ہوا ہے اور سرمایہ کاری میں 247 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ چھتیس گڑھ آج تقریبا 7.5 فیصد کی شرح ترقی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ چھتیس گڑھ میں زراعت کے شعبے میں 17 فیصد، صنعتی شعبے میں 48 فیصد اور خدمات کے شعبے میں 35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی حکومتوں میں، اگر کسی ریاستی حکومت نے قبائلی فلاح و بہبود کے لیے بہترین کام کیا ہے، تو وہ گزشتہ 25 سالوں میں چھتیس گڑھ کی حکومت ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ بہت سے مفکروں نے یہ غلط فہمی پھیلائی ہے کہ نکسل ازم کا مسئلہ ترقی سے جڑا ہوا ہے اور یہ محض امن و قانون کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب نکسلیوں کا مسئلہ شروع ہوا تو ملک میں 100 سے زیادہ ایسے اضلاع تھے جو بستر سے زیادہ پسماندہ تھے-تو وہاں نکسل ازم نے جڑ کیوں نہیں پکڑی ؟ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ مسئلہ امن و قانون یا ترقی سے منسلک نہیں ہے بلکہ نظریہ سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بستر کو ماؤنوازوں کے تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑا ہوتا تو یہ ڈویژن، جو بے پناہ معدنی دولت سے مالا مال ہے، ملک کا سب سے خوشحال خطہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک کو ماؤ ازم کہا جاتا ہے کیونکہ اس نظریے میں خیال کیا جاتا ہے کہ مسائل کا حل صرف بندوق سے ہوسکتا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ماؤ نوازوں نے غریب، ناخواندہ قبائلی نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیاردے دیے اور تروپتی سے پشوپتی ناتھ تک ’’ریڈ کوریڈور‘‘ کا نعرہ بلند کیا، جس سے اس خطے کی ترقی ساڑھے چار دہائیوں تک رک گئی۔ انہوں نے کہا کہ ماؤنوازوں نے اس خطے کی ترقی کو پامال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دس سال بعد بستر ملک کا سب سے ترقی یافتہ قبائلی ضلع بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقین کہ مسائل کو بندوق کے ذریعے حل کیا جاتا ہے، ماؤ نواز نظریے کی پیداوار ہے، جبکہ ہمارے آئین کی روح بات چیت، بحث اور حل میں ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جن لوگوں نے ’’ریڈ ٹیرر‘‘ کی حمایت کی انہوں نے کئی دہائیوں تک اس خطے میں ترقی نہیں ہونے دی۔ انہوں نے کہا کہ آج یہاں اسکولوں اور اسپتالوں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے، سڑکیں تعمیر کی گئی ہیں، ریل کنیکٹیویٹی آ رہی ہے اور حکومت ہند بھی سات لاکھ ہیکٹیئر اراضی کی آبپاشی کی اسکیم کو منظوری دینے جا رہی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ہزاروں قبائلی بچے مارے گئے اور ان کی زندگیاں برباد ہو گئیں، پھر بھی کچھ لوگ یہ پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں کہ حکومت گولیاں چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند اور چھتیس گڑھ کی حکومت کسی پر گولی نہیں چلانا چاہتی، اگر تمام نکسلیوں نے ہتھیار ڈال دیے تو ان کا سرخ قالین کے ساتھ استقبال کیا جائے گا۔ مرکزی وزیر داخلہ نے ہاتھوں میں بندوقیں لے کر کھڑی نوجوان لڑکیوں سے اپیل کی کہ وہ ہتھیار ڈال دیں، کیونکہ آگے ایک بہت اچھی زندگی ان کا انتظار کر رہی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ 90 فیصد علاقہ نکسل ازم سے آزاد ہو چکا ہے اور 31 مارچ 2026 سے پہلے ملک سے ماؤنوازوں کا مسئلہ جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور اسے ختم کر دیا جائے گا۔
*****
(ش ح۔ک ح۔ف ر)
U. No. 1924
(ریلیز آئی ڈی: 2225315)
وزیٹر کاؤنٹر : 19