وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے پریکشا پہ چرچا  2026 کے دوران طلباء  سے  بات چیت کی


ہر ایک کے مشورے کو سنیے مگر اپنی روش صرف تب بدلیے  ، جب آپ خود چاہیں: وزیرِ اعظم

وزیرِ اعظم نے اساتذہ کو مشورہ دیا کہ طلباء  کو پیشگی معلومات دیں تاکہ تجسس پیدا ہو اور  سمجھ میں اضافہ ہو

اہداف قابلِ حصول ہونے چاہئیں مگر آسان نہ ہوں — مقصد  طے کریں  اور عمل کریں: وزیرِ اعظم

سب سے پہلے ذہن کو تیار کریں، پھر ذہن کو  مربوط کریں اور اس کے بعد مضامین کو ذہن میں بٹھائیں، یہی کامیابی کا راستہ ہے: وزیرِ اعظم

تعلیم،  ہنرمندی ، آرام اور مشاغل کے درمیان توازن ترقی کی کنجی ہے: وزیرِ اعظم

کتابیں علم  فراہم کرتی ہیں مگر پیشہ ورانہ مہارت صرف عملی مشق سے آتی ہے: وزیرِ اعظم

ماضی میں الجھ کر وقت ضائع نہ کریں، آئندہ  زندگی کے بارے میں سوچیں: وزیرِ اعظم

تعلیم صرف امتحانات کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے لیے ہے، امتحانات خود کو پرکھنے کا ذریعہ ہیں: وزیرِ اعظم

بننے کی نہیں، کچھ کر دکھانے کی خواہش رکھیں: وزیرِ اعظم

حال  ،  بھگوان کا سب سے بڑا تحفہ ہے  ،   اسی لمحے میں جئیں: وزیرِ اعظم

جس لمحے میں آپ جتنا زیادہ شامل ہوں گے، اسے اتنا ہی زیادہ یاد رکھیں گے: وزیرِ اعظم

سیکھنے کا اجتماعی عمل سب کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے: وزیرِ اعظم

دہرائیں اور دانا بنیں: وزیرِ اعظم

اسکول میں اپنی بنیاد مضبوط کریں، وقت کے ساتھ مسابقتی امتحانات بھی آئیں گے: وزیرِ اعظم

وزیرِ اعظم نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں کو ان کی صلاحیت، لیاقت  اور دلچسپی کے مطابق آگے بڑھنے دیں

اپنے مشاغل کو عملی مصنوعات میں بدلیں اور انہیں مفت میں شیئر کریں،  ردعمل نئے خیالات اور کامیابی کو جنم دیتا ہے: وزیرِ اعظم

اپنی ذات کو دریافت کریں، زندگی کے تمام تجربات حاصل کریں: وزیرِ اعظم

امتحانات تہواروں کی طرح ہوتے ہیں، ان کا جشن  منائیں: وزیرِ اعظم

حقیقی اعتماد اندرونی سچائی سے آتا ہے، جو ہیں وہی رہیں: وزیرِ اعظم

آرام طلبی سے زندگی نہیں سنورتی بلکہ آپ کا طرزِ  عمل زندگی سنوارتا ہے: وزیرِ اعظم

خواب نہ دیکھنا ایک جرم ہے — ہمیشہ خواب دیکھیں: وزیرِ اعظم

خود اپنا سہارا بنیں، اپنی خوبیوں کا جشن منائیں: وزیرِ اعظم

بڑے خواب دیکھیں، خوف کم کریں — سوانحِ حیات پڑھیں: وزیرِ اعظم

صفائی ستھرائی برقرار رکھنا اولین ترجیح اور ہماری ذمہ داری ہے: وزیرِ اعظم

ٹیکنالوجی ایک عظیم استاد ہے، اسے اپنائیں، مصنوعی ذہانت ہماری صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے: وزیرِ اعظم

مصنوعی ذہانت کو دانشمندی سے استعمال کریں، اپنی عقل و فہم میں اضافہ کریں: وزیرِ اعظم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 06 FEB 2026 1:35PM by PIB Delhi

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے آج پریکشا پہ چرچا  ( پی پی سی )  کے نویں پروگرام کے دوران طلباء سے گفتگو کی۔ وزیرِ اعظم نے دلّی میں اپنی رہائش گاہ پر ایگزام واریئرز کے ساتھ غیر رسمی ملاقات کی۔

آپ کا انداز، آپ کی رفتار

گجرات سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے سوال کیا کہ اگرچہ والدین ان کی فکر کرتے ہیں اور اساتذہ ان کی مدد کرتے ہیں لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے  ، جب اساتذہ مطالعے کا ایک طریقہ تجویز کرتے ہیں، والدین کسی اور طریقے پر زور دیتے ہیں اور طلباء کسی مختلف رجحان کی پیروی کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اس الجھن میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ درست طریقہ کون سا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ صورتِ حال پوری زندگی جاری رہتی ہے اور یہاں تک کہ وزیرِ اعظم کی حیثیت سے بھی لوگ انہیں مختلف مشورے دیتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جس طرح گھر میں بہن بھائیوں کے کھانے کے انداز مختلف ہوتے ہیں ، کوئی سبزی سے آغاز کرتا ہے، کوئی دال سے اور کوئی سب کچھ ملا کر کھاتا ہے ، اسی طرح ہر شخص کا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اصل خوشی اپنے ہی انداز پر عمل کرنے میں ہے۔ جناب مودی نے وضاحت کی کہ کچھ لوگ رات کے وقت پڑھنا پسند کرتے ہیں، جب کہ کچھ صبح سویرے اور ہر ایک کی اپنی رفتار اور  طریقہ ہوتا ہے۔ انہوں نے وعدہ خلافی سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بعض طلباء اپنی ماؤں سے کہتے ہیں کہ وہ صبح پڑھیں گے لیکن پھر اس سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلباء کو اپنے  مطالعے کے طریقے  پر اعتماد رکھنا چاہیے، مشوروں کو غور سے سننا چاہیے اور صرف ذاتی تجربے کی بنیاد پر  ہی بہتری کے لیے طریقۂ کار کو  بدلنا چاہیے، نہ کہ محض اس لیے کہ کسی نے ایسا کہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے پریکشا پہ چرچا کا آغاز کیا تو اس کا ایک ہی انداز تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ  ، انہوں نے اس میں بہتری کی، مختلف ریاستوں میں نشستیں منعقد کیں، فارمیٹ میں تبدیلی کی مگر بنیادی مقصد کو برقرار رکھا۔ طلباء نے محسوس کیا کہ وزیرِ اعظم کا  رویہ نہایت دوستانہ تھا اور وہ آسانی سے ان کے ساتھ گھل مل گئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہر ایک کو مختلف طریقوں کو سننا چاہیے، ہر ایک سے اچھی باتیں اخذ کرنی چاہئیں، اپنے طریقے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے اور اسے بتدریج مضبوط بنانا چاہیے۔

وزیرِ اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے  ، ایک اور طالب علم نے سوال کیا کہ اکثر طلباء اسکول یا اساتذہ کی رفتار سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے اور جو کچھ رہ جاتا ہے  ، اسے پورا کرنے کی کوشش میں وہ آئندہ ابواب سے بھی ربط کھو دیتے ہیں اور پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس پر جناب مودی نے نشاندہی کی کہ اساتذہ کو اپنی رفتار طلباء سے صرف ایک قدم آگے رکھنی چاہیے، بہت زیادہ نہیں اور ہدف ایسا ہونا چاہیے  ، جو قریب ہو مگر آسانی سے حاصل نہ ہو۔ جب طالب علم نے ایگزام واریئر کے منتر نمبر 26 کو یاد دلایا  ، ’’ ہدف قابلِ حصول ہونا چاہیے مگر آسان نہیں  ‘‘  تو وزیرِ اعظم نے اس کی یادداشت کی تعریف کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر اساتذہ پچاس قدم آگے نکل جائیں گے تو طلباء ہمت ہار جائیں گے لیکن جس طرح ایک کسان کھیت  میں ہل چلاتا ہے، اسی طرح اساتذہ کو طلباء کے ذہنوں کو تیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اساتذہ کو ہر ہفتے پڑھائے جانے والے ابواب کی پیشگی اطلاع دینی چاہیے تاکہ طلباء سبق سے پہلے ہی پڑھنا شروع کر سکیں، سوالات کر سکیں یا آن لائن تلاش کر سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جب اصل تدریس ہوتی ہے تو تجسس پیدا ہوتا ہے، سمجھ میں گہرائی آتی ہے اور توجہ بہتر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی باب بہت دلچسپ ہو تو طلباء مزید پڑھنا چاہیں گے، جس سے ریویژن مزید  بہتر ہو جاتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ ایک سادہ طریقہ ہے اور سوال کیا کہ کیا اس کے بعد بھی اساتذہ کی رفتار کا مسئلہ باقی رہے گا؟ جب طالب علم نے جواب دیا کہ ہاں  ، تو جناب مودی نے اصلاح کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اس صورت میں طلباء خود استاد سے ایک قدم آگے ہوں گے اور پیچھے رہ جانے کا احساس نہیں رہے گا۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ ’’  سب سے پہلے ذہن کو تیار کریں، پھر ذہن کو جوڑیں اور اس کے بعد مطالعے کے مضامین کو ذہن میں بٹھائیں۔ آپ ہمیشہ طلباء کو کامیاب پائیں گے ‘‘ ۔    طلباء نے کہا کہ ہر کسی کو  ، وزیرِ اعظم کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھ کر سوال کرنے اور گفتگو کرنے کا موقع نہیں ملتا اور انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ وزیرِ اعظم نے انہیں اساتذہ سے دو قدم پیچھے رہنے کے بجائے دو قدم آگے رہنے کا مشورہ دیا تاکہ وہ کبھی پیچھے نہ رہیں۔

موسیقی کا ایک لمحہ

سکّم سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے بتایا کہ انہوں نے تین زبانوں ہندی، نیپالی اور بنگالی میں ایک گیت تخلیق کیا ہے  ، جس کا عنوان ’ہمارا بھارت بھومی‘ ہے، جو ایک حب الوطنی پر مبنی نغمہ ہے۔ وزیرِ اعظم نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے  ، ان سے پوچھا کہ کیا انہیں شاعری لکھنے کا شوق ہے اور جب انہوں نے اس کی تصدیق کی تو انہیں گیت سنانے کی ترغیب دی۔ وزیرِ اعظم نے ان کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے  ملک کے اتحاد ’ ایک بھارت، شریشٹھ بھارت ‘  کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ اس کے بعد جناب مودی نے ایک اور طالبہ مانسی سے گیت سنانے کے لیے کہا۔ مانسی نے اپنی والدہ کا لکھا ہوا ایک گیت پیش کیا  ، جو طلباء کے نام وقف تھا۔ وزیرِ اعظم نے ان کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اپنی والدہ کو ان کی مبارکباد پہنچائیں۔  طالبہ نے بتایا کہ وہ یوٹیوب چینل، فیس بک پیج اور انسٹاگرام اکاؤنٹ چلاتی ہیں اور فیس بک پر  ، ان کے ڈیڑھ لاکھ فالوورز ہیں۔ وزیرِ اعظم نے حیرت اور مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اتنے باصلاحیت نوجوانوں سے ملنا فخر کی بات ہے۔

اس کے بعد جناب مودی نے تمام طلباء کا خیر مقدم کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے انہیں آسام کے گاموسا سے نوازا ہے، جسے انہوں نے اپنی سب سے قیمتی یادگار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گاموسا آسام اور شمال مشرقی بھارت میں خواتین کو بااختیار بنانے کی علامت ہے، جو گھروں میں خواتین کے ہاتھوں تیار کیا جاتا ہے اور ان کی طاقت اور کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو عزت و احترام کے طور پر گاموسا تحفے میں دینا  ، ان کی دلی خواہش تھی۔

مقصد کے ساتھ تیاری

اس کے بعد طالب علم سباوت وینکٹیش نے  ، وزیرِ اعظم سے سوال کیا کہ مہارت زیادہ اہم ہے یا نمبر اور کہا کہ اس حوالے سے طلباء میں الجھن اور خوف پایا جاتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ زندگی میں توازن بے حد ضروری ہے، چاہے وہ کھانے اور سونے کے درمیان ہو، پڑھائی اور کھیل کے درمیان، یا مہارت اور نمبروں کے درمیان۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک طرف حد سے زیادہ جھکاؤ عدم توازن پیدا کرتا ہے، جب کہ درست توازن زندگی میں استحکام لاتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ مہارت دو قسم کی ہوتی ہے ، زندگی کی مہارتیں اور پیشہ ورانہ مہارتیں اور دونوں یکساں طور پر اہم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی مہارت  علم، مشاہدے اور مطالعے کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی اور مہارت کی شروعات علم سے ہی ہوتی ہے۔

جناب مودی نے مثالوں کے ذریعے سمجھایا کہ زندگی کی مہارتوں کے بغیر انسان روزمرہ کے کاموں، جیسے کھانا پکانا یا ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ خریدنا بھی مشکل محسوس کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کی مہارتیں مکمل طور پر حاصل ہونی چاہئیں، جن میں نظم و ضبط، اعتماد اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت شامل ہے۔  پیشہ ورانہ مہارتوں کے بارے میں  ، انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو اپنی مہارتوں میں  مسلسل بہتری کرنی  ہوتی ہیں کیونکہ صرف کتابیں کسی کو دل کا ماہر نہیں بنا سکتیں  ، اصل مہارت مریضوں کے ساتھ کام کرنے سے آتی ہے۔ اسی طرح وکلاء کو سینئر وکلاء  کے ساتھ عملی تربیت حاصل کرنا ہوتی ہے تاکہ وہ عدالت میں مؤثر مہارت کا مظاہرہ کر سکیں ،  محض آئینی دفعات جاننا کافی نہیں ہوتا۔ انہوں نے زور دیا کہ پیشہ ورانہ مہارت کے لیے مسلسل سیکھنا اور نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ضروری ہے، یہاں تک کہ 40 برس کی عمر میں بھی کیونکہ طب اور دیگر شعبوں میں ہونے والی ترقی مسلسل اپڈیٹ کا تقاضا کرتی ہے۔  انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم اور مہارت جڑواں بہن بھائیوں کی مانند ہیں، ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے اور زندگی میں مہارت ناگزیر ہے۔

نمبروں سے آگے، تعلیم بطور وسیلہ

مزید برآں،  منی پور میں امپھال کے سینک اسکول سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے  ، وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی  کے لیے اپنی بے پناہ پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی سالگرہ وزیرِ اعظم کی سالگرہ کے دن ہی آتی ہے۔ اس پر جواب دیتے ہوئے  ، جناب مودی نے کہا کہ وہ گزرے ہوئے برسوں کو نہیں گنتے بلکہ آنے والے برسوں پر توجہ دیتے ہیں اور طلباء کو نصیحت کی کہ ماضی میں الجھ کر وقت ضائع نہ کریں بلکہ اس زندگی کے بارے میں سوچیں جو آگے آنے والی ہے۔

گزشتہ برسوں کے سوالات کی بنیاد پر امتحان کی تیاری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں  ، وزیرِ اعظم نے کہا کہ طلباء کو اکثر اس وقت مشکل پیش آتی ہے  ، جب پرچہ سخت محسوس ہوتا ہے حالانکہ وہ نصاب سے باہر نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے کہ توجہ صرف بار بار دہرائے جانے والے پیٹرنز تک محدود رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ان کے اپنے طالب علمی کے زمانے میں بھی موجود تھا اور بعض اوقات اساتذہ بھی صرف نمبروں کے حصول پر توجہ دے کر اسے بڑھا دیتے ہیں۔ جناب مودی نے زور دیا کہ اچھے اساتذہ مکمل نصاب پڑھا کر اور اس کی زندگی سے وابستگی واضح کر کے ہمہ جہت نشوونما کو یقینی بناتے ہیں۔  انہوں نے کرکٹ کے ایک  گیند باز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف کندھوں کے پٹھوں کو مضبوط کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ ورزش، یوگا، پورے جسم اور ذہن کی مضبوطی، متوازن غذا اور مناسب نیند بھی ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح تعلیم بھی صرف امتحانات کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے لیے ہوتی ہے اور امتحانات کا مقصد خود کو پرکھنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمبر حتمی مقصد نہیں ہیں بلکہ زندگی کی مکمل نشوونما اصل ہدف ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صرف دس سوالات یا مخصوص پیٹرنز پر توجہ محدود سوچ ہے؛ اگرچہ ان کی مشق کی جا سکتی ہے مگر انہیں تیاری کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہونا چاہیے ، جب کہ زیادہ تر محنت مجموعی سیکھنے پر مرکوز ہونی چاہیے۔

پری بورڈز کے دوران پڑھائی کے دباؤ میں توازن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں  ، وزیرِ اعظم نے کہا کہ یہ ایک عام تشویش ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم کو مجبوری یا بوجھ نہ سمجھا جائے بلکہ اس کے لیے مکمل وابستگی ضروری ہے۔ مکمل شمولیت کے بغیر ادھوری تعلیم کامیابی نہیں لا سکتی۔ انہوں نے نمبروں کے جنون سے خبردار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا کسی کو پچھلے سال بورڈ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے طالب علم کا نام یاد ہے؟ جب طالب علم نے جواب دیا کہ نہیں، تو جناب مودی نے کہا کہ ایسی کامیابیوں کی وقتی تعریف تو ہوتی ہے مگر وہ جلد ہی فراموش ہو جاتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نمبروں کی اہمیت کتنی محدود ہے۔ انہوں نے طلباء کو نصیحت کی کہ اپنے ذہن کو نمبروں سے نہ باندھیں بلکہ اس بات پر توجہ دیں کہ ان کی زندگی کس سمت جا رہی ہے اور خود کو صرف کلاس روم یا امتحان ہال میں ہی نہیں بلکہ زندگی میں بھی مسلسل پرکھتے رہیں۔

کم دباؤ، زیادہ سیکھنا

گفتگو کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ایک طالب علم نے  ، وزیرِ اعظم مودی سے سوال کیا کہ پڑھائی کے دوران پُرسکون اور یکسو کیسے رہا جائے کیونکہ ذہن میں بہت سے خیالات آتے رہتے ہیں اور سبق جلدی بھول جاتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’  جس طرح آپ آج یہاں آئے ہیں، اگر 25 برس بعد بھی کوئی آپ سے  ، اس پروگرام کے بارے میں پوچھے تو کیا آپ اسے بھول جائیں گے یا یاد رکھیں گے؟ ‘‘   طالب علم نے جواب دیا کہ یہ ایک خاص لمحہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رہے گا۔ جناب مودی نے وضاحت کی کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ طالب علم اس لمحے میں پوری طرح شامل ہے اور حال پر توجہ مرکوز کیے ہوئے  ہیں ، جس سے یادداشت دیرپا ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یادیں اسی وقت قائم رہتی ہیں  ، جب انسان مکمل طور پر شامل ہو اور جب تجربات دوستوں کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔ انہوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ کم اعتماد رکھنے والے طلباء سے دوستی کریں اور انہیں پڑھائیں اور ساتھ ہی زیادہ ذہین ساتھیوں سے چند منٹ رہنمائی لے کر اپنی سمجھ کو پرکھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس دوہرے  فائدے سے نئے خیالات جنم لیتے ہیں، ذہن کھلتا ہے اور یکسوئی  بہتر ہوتی ہے۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالب علم نے  ، وزیرِ اعظم سے بات چیت کرتے ہوئے  ، ان کا خیر مقدم کیا اور بارہویں جماعت کے طلباء کو درپیش اس چیلنج کے بارے میں سوال کیا  ، جو بیک وقت بورڈ امتحانات اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں کیونکہ دونوں کے انداز مختلف ہوتے ہیں اور اوقات بھی آپس میں ٹکرا جاتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے  ، اس تشویش کو تسلیم کرتے ہوئے  ، اس کا موازنہ ایک ساتھ کرکٹ اور فٹ بال کھیلنے سے کیا اور زور دیا کہ بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طلباء اپنا نصاب پوری طرح جذب کر لیں تو مسابقتی امتحانات خود بخود ضمنی نتیجہ بن جائیں گے اور الگ سے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں رہے گی۔ انہوں نے والدین کو بھی مشورہ دیا کہ بچوں کو ان کی صلاحیت، قابلیت اور دلچسپی کے مطابق آگے بڑھنے دیں۔

نمبروں ، کھیلوں  اور  ہنسی خوشی   میں توازن

ایک طالب علم نے اس بارے میں سوال کیا کہ سماجی دباؤ کے باوجود گیمنگ کے شعبے میں مستقبل کیسے بنایا جا سکتا ہے، جہاں عموماً صرف پڑھائی پر توجہ دینے کے لیے کہا جاتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ والدین ابتداء  میں اکثر حوصلہ شکنی کرتے ہیں لیکن جب کامیابی ملتی ہے تو وہی والدین فخر محسوس کرتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں۔ انہوں نے طالب علم کو ترغیب دی کہ گیمنگ میں اپنی دلچسپی کو مثبت سمت دیں اور بھارت کی شاندار کہانیوں جیسے پنچ تنتر یا اساطیری واقعات پر مبنی کھیل تیار کریں اور انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کریں تاکہ پہچان حاصل ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ گیمنگ ایک مہارت ہے  ، جس میں تیزی اور چوکسی درکار ہوتی ہے، جو خود اعتمادی اور شخصیت کی نشوونما میں مدد دیتی ہے اور مشورہ دیا کہ اعلیٰ معیار کے کھیل بنانے میں مہارت پیدا کرنے پر توجہ   مرکوز کریں۔ انہوں نے گیمنگ میں  جوئے سے خبردار کیا اور کہا کہ اس طرح کے رجحانات کو روکنے کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ گیمنگ کو تعمیری مہارت کے طور پر اپنایا جانا چاہیے۔ 

طلباء نے  ، وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے دورے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیرِ اعظم کا دوستانہ انداز، ان کے سوالات میں حقیقی دلچسپی اور ان کے دلائل پر مبنی و سوچے سمجھے جوابات  نے اس ملاقات کو یادگار بنا  دیا  ہے ۔

خوف کو طاقت میں بدلنا – تناؤ، وقت اور اعتماد کا بندوبست

طلباء نے بتایا کہ  ایگزام واریئر  پڑھنے کے بعد  ، ان کے امتحانات سے متعلق رویے میں بڑی تبدیلی آئی۔ ایک طالب علم نے کہا کہ پہلے امتحانات سے دباؤ اور خوف محسوس ہوتا تھا لیکن کتاب پڑھنے کے بعد امتحانات دوست بن گئے۔ ایک  دیگر نے کہا کہ پہلے وہ دوسروں سے اپنا موازنہ کر کے پریشان ہو جاتے تھے لیکن اب وہ سمجھ گئے کہ ان کی اپنی تکنیک منفرد اور مؤثر ہے۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ وقت کا  بندوبست  ہمیشہ مشکل رہا لیکن ایگزام واریئر  سے سیکھنے کے بعد  ، انہوں نے فیصلہ کیا کہ صبح جلدی اٹھیں اور کام بہتر طریقے سے منظم کریں۔

وزیرِ اعظم مودی نے وقت کے  بندوبست کے لیے ایک سادہ طریقہ بتایا: سونے سے پہلے اپنے کام ڈائری میں لکھیں، اگلے دن انہیں چیک کریں اور یہ تجزیہ کریں کہ کچھ کام ادھورے کیوں رہ گئے۔ انہوں نے زور دیا کہ وقت کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا دباؤ اور تھکن کم کرتا ہے اور بتایا کہ اپنی ذاتی عادت کے مطابق وقت کو استعمال کرنے کی وجہ سے وہ بے حد ذمہ داریاں ہونے کے باوجود پرسکون رہتے ہیں۔

طلباء نے بتایا کہ پہلے ریاضی جیسے مضامین سے خوف محسوس ہوتا تھا لیکن اب دلچسپی پیدا ہو گئی ہے ۔  ایک طالب علم نے کہا کہ ریاضی کبھی بھوت لگتی تھی لیکن اب یہ شوق بن گئی ہے۔ وزیرِ اعظم نے ویدک میتھ میٹکس کو سیکھنے کی ترغیب دی، اسے دلچسپ اور جادوئی قرار دیا اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرنے کا مشورہ دیا تاکہ دلچسپی بڑھے۔

ایک طالب علم نے بتایا کہ پہلے امتحان کی تاریخیں خوف پیدا کرتی تھیں لیکن کتاب کے منتر کے مطابق امتحانات کو جشن کی طرح دیکھنے سے حوصلہ ملا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ  پریکشا پہ چرچا   کے اسباق  کنبے کے ساتھ بھی شیئر کیے جائیں کیونکہ وہ بھی اتنا ہی فائدہ  حاصل کر سکتے ہیں۔

طلباء نے بتایا کہ انہوں نے کم نمبروں کے خوف پر قابو پایا، یہ سمجھتے ہوئے کہ نمبر سب کچھ نہیں ہیں اور ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام کی مثال دی، جنہوں نے ناکامی کے باوجود ثابت قدمی دکھائی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ دباؤ کم ہونے سے ذہن نئے ہنر سیکھنے کے لیے کھلتا ہے، جیسے گانا، پینٹنگ یا شاعری لکھنا اور ان طلباء کی تعریف کی  ، جنہوں نے  تخلیقی سرگرمیوں  کو بطور مشغلہ اختیار کیا ۔

کتاب سے حاصل شدہ اعتماد نے   ، طلباء کو پرزنٹیشن کے خوف پر قابو پانے میں بھی مدد دی۔ وزیرِ اعظم نے وضاحت کی کہ اعتماد سچائی اور تجربے سے آتا ہے، جیسے عام لوگ گواہی دیتے وقت صاف اور مؤثر بول سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کا اعتماد  ، ان کی اپنی کوششوں اور کامیابیوں کی سچائی سے جنم لیتا ہے۔

ایک طالب علم نے بتایا کہ ادب کے طویل پرچے کبھی گھبراہٹ پیدا کرتے تھے لیکن اب وہ تیز لکھنے اور ہینڈ رائٹنگ بہتر بنانے کی مشق کرتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے مشورہ دیا کہ امتحان شروع کرنے سے پہلے 30 سیکنڈ رکیں، گہری سانس لیں اور ذہن کو ری سیٹ کریں کیونکہ غلطیاں علم کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ جلد بازی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ مناسب تکنیک اور اعتماد کے ساتھ طلباء امتحان کے خوف پر قابو پا سکتے ہیں اور کامیاب ہو سکتے ہیں۔

شور کے درمیان  مضبوطی سے قائم رہنا

ایک طالب علم نے پوچھا کہ گھر کے شور اور والدین کی  مدد کے بغیر کیسے پڑھا جائے۔ وزیرِ اعظم نے ایک ویڈیو یاد کیا  ، جس میں ایک بچہ  بیل  گاڑی پر سوار ہو کر پڑھ رہا تھا اور کہا کہ آرام و سکون کامیابی کے لیے ضروری نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ امتحانات میں اعلیٰ نمبروں والے کئی طلباء چھوٹے گاؤں سے آتے ہیں، جہاں کوئی آسائش نہیں ہوتی اور انہوں نے ان نابینا لڑکیوں کی کہانی بھی سنائی  ، جو مشکلات کے باوجود کرکٹ میں کامیاب ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کی نشو و نما  آرام دہ ماحول  میں نہیں بلکہ آپ کے طریقۂ زندگی سے ہوتی ہے۔

تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے ایک اور طالب علم نے بتایا کہ مہمان اکثر امتحان کی تیاری میں خلل  پیدا کرتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے مشورہ دیا کہ اس صورتحال کو مثبت انداز میں بدلا جائے، مثلاً مہمانوں سے ان کے بچپن کے تجربات پوچھیں، جس سے توجہ منتقل ہوگی اور دباؤ کم ہوگا۔

بڑے خواب، بڑے اقدامات

لداخ کے ایک طالب علم نے پوچھا کہ کیا بچوں کو بڑے خواب دیکھنے چاہئیں اور انہیں پورا کرنے کے لیے کیسے آغاز کرنا چاہیے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ خواب نہ دیکھنا جرم ہے لیکن خواب کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جیسے خلاء باز بننے کے لیے مطالعہ، سوانح عمریاں اور مرکوز دلچسپی ضروری ہے اور یہ بھی کہا کہ خواب کو عوامی طور پر ظاہر نہ کریں تاکہ  مزاق بننے  سے بچا جا سکے۔ انہوں نے طلباء کو ترغیب دی کہ اپنے خواب لکھیں اور انہیں نجی طور پر پروان چڑھائیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں، وزیرِ اعظم نے کہا کہ بڑے خواب حاصل کرنے کے لیے روزانہ کی عادات میں عظیم شخصیات کی سوانح عمریاں پڑھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی جدوجہد اور ابتدائی مراحل کو سمجھنا طلباء  میں اعتماد  پیدا کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ قدم بہ قدم کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

ایک طالب علم نے  ، وزیرِ اعظم کے لیے ایک دل چھو لینے والی نظم پیش کی، جس میں انہیں بھارت کا فخر، انسانیت کا خادم اور  ملک کے خوابوں کو آگے لے جانے والا رہنما قرار دیا۔ وزیرِ اعظم نے نظم کی پرخلوص تعریف کی اور طالب علم کی ستائش کی۔

جب وزیرِ اعظم استاد بنے

وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ وہ  2047  ء تک ایک وکست بھارت کا تصور رکھتے ہیں، جو آزادی کے سو سالہ جشن کے موقع سے  ہم آہنگ ہے اور نوجوان اس وقت 35 سے 45 سال کی عمر میں ہوں گے، جو ان کی زندگی کا سب سے اہم مرحلہ ہوگا تاکہ وہ اس ویژن کے فوائد حاصل کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ مہاتما گاندھی 1915 ء میں افریقہ سے واپس آئے اور 1947 ء تک آزادی کی جدوجہد کی قیادت کی اور بھگت سنگھ جیسے رہنماؤں کی قربانیوں نے نسلوں کو آزادی کی جنگ لڑنے کی ترغیب دی ۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ایسی عظیم آزادی حاصل کی جا سکتی ہے تو اجتماعی کوشش سے  وکست بھارت بھی یقینی طور پر بنایا جا سکتا ہے۔

وزیرِ اعظم نے طلباء سے کہا کہ وہ اپنے  وکست بھارت کے لیے ذاتی  عزائم لکھیں اور پانچ ایسے اقدامات کی نشاندہی کریں  ، جو وہ خود کر سکتے ہیں۔ انہوں نے طلباء کے جوابات کو  ہنر مندی کے فروغ ، خوداعتمادی اور ملک میں ہی تیار  مصنوعات کے استعمال کے حوالے سے سراہا۔ وزیرِ اعظم نے بتایا کہ سودیشی اپنانا ذہن کی تیاری اور نوآبادیاتی سوچ سے نجات حاصل کرنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ بھی بتایا کہ حتیٰ کہ اسکولوں میں بھی غیر ملکی مصنوعات کے لیے دلکشی موجود ہے۔  انہوں نے طلباء کو ہدایت دی کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والی تمام اشیاء کی فہرست بنائیں، غیر ملکی مصنوعات کی نشاندہی کریں اور انہیں آہستہ آہستہ بھارتی متبادلات سے بدلیں تاکہ ایک سال کے اندر ان کے گھروں میں صرف بھارتی مصنوعات ہوں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ اگر ہم خود اپنی مصنوعات پر فخر نہیں کریں گے تو دنیا بھی نہیں کرے گی۔ انہوں نے  ’’  انڈین ٹائم ‘‘  کو تاخیر کی وجہ بنانے کی عادت کی تنقید کی اور  کہا کہ ایسے رویے  ملک کی شبیہہ خراب کرتے ہیں اور صفائی  ستھرائی سے شروع ہونے والے فرض کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔  وزیرِ اعظم نے کہا کہ  ترقی یافتہ ممالک صفائی ستھرائی کرنے والوں کی وجہ سے صاف ستھرے نظر  نہیں آتے   بلکہ اس لیے کہ شہری کوڑا کرکٹ نہیں پھینکتے اور  بھارتیوں کو کبھی صفائی  ستھرائی پر سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم کرنا چاہیے، حتیٰ کہ کوڑا خود اٹھانا چاہیے تاکہ جو لوگ کوڑا پھینکیں  ، انہیں شرم  محسوس ہو ۔ انہوں نے صحت کو بھی فرض قرار دیا اور کہا کہ اگر شہری ایسی ذمہ داریاں نبھائیں تو کوئی طاقت بھارت کو  ترقی یافتہ ہونے سے نہیں روک سکتی اور نوجوان اپنی پختگی کے وقت سب سے زیادہ فوائد حاصل کریں گے۔ انہوں نے طلباء سے پوچھا کہ کیا وہ ایسا کام کریں گے  ، جس کا پھل انہیں ملے اور طلباء نے ہاں کہا۔ پھر وزیرِ اعظم نے ، خاص طور پر ٹیکنالوجی میں موجودہ نسل کے لیے وسیع مواقع  اجاگر کیے اور کہا کہ ان کے زمانے میں یہ مواقع  نہیں تھے لیکن آج کے نوجوان مصنوعی ذہانت  ( اے آئی )  کا دانشمندانہ استعمال کریں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صرف سوانح عمری کا خلاصہ بنانے کے لیے  اے آئی  کا استعمال زیادہ فائدہ نہیں دیتا لیکن  اے آئی   سے عمر اور دلچسپی کے مطابق سوانح کا انتخاب کر کے  ، ان کتابوں کا مطالعہ کرنا حقیقی ترقی کا سبب بنتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ  اے آئی   کو محض تفریح کے لیے نہیں بلکہ طاقت اور حکمت بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ طلباء نے  اے آئی  کے صحیح استعمال کے بارے میں رہنمائی کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ان کی ٹیکنالوجی کی دلچسپیوں کے لیے بہت موزوں ہے۔

وزیرِ اعظم نے ایک طالب علم کی  بانسری پرفارمنس سن کر تعریف کی  ۔  انہوں نے  ایک ہاتھ سے بنائے  گئے  گلدستے کو  بھی سراہا ،  جس کی بسنت پنچمی کے موقع پر اتراکھنڈ  میں روایتی اہمیت  ہے۔ انہوں نے تری پورہ   کی روایات کے ذکر کو تسلیم کیا اور طلباء کی جانب سے دی گئی نامیاتی چائے اور آسام کی گاموشا کو سراہا اور کہا کہ وہ شاعری لکھتے رہیں۔ وزیرِ اعظم نے تمام طلباء کا شکریہ ادا کیا اور نیک خواہشات پیش کیں۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ بہت سے طلباء نے تجویز دی کہ  ’’ پریکشا پہ چرچا ‘‘  ملک کے مختلف حصوں میں منعقد کی جائے اور یہ خاص ایپی سوڈ اسی تجویز کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  کنبے میں ہر شخص کو اپنے بہن بھائیوں کی اچھی خصوصیات سے سیکھنا چاہیے اور بڑے خواب دیکھنا غلط نہیں لیکن ان کا  موازنہ دوسروں سے نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ذاتی اور سماجی زندگی دونوں میں اہم ہے اور کھیل بھی زندگی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔  وزیرِ اعظم نے طلباء کو دعوت دی کہ وہ اپنے خیالات اور تجربات کھل کر شیئر کریں۔

اگلا ایپی سوڈ 9  فروری  ، 2026 ء کو صبح 10 بجے نشر ہوگا۔

...............

) ش ح –   م ع   -  ع ا )

U.No. 1796


(ریلیز آئی ڈی: 2224607) وزیٹر کاؤنٹر : 13