زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدہ: زراعت اور ڈیری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ، کسانوں کے مفادات  مکمل طور پر محفوظ: جناب شیوراج سنگھ چوہان


کسانوں کے مفادات اولین ترجیح ،بنیادی اناج، موٹے اناج، پھل یا ڈیری کو کوئی خطرہ نہیں: جناب چوہان

ٹیرف میں کمی سے چاول ، مصالحے اور ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اورکپاس کے کاشتکاروں کو فائدہ ہوگا: جناب شیوراج سنگھ چوہان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 FEB 2026 5:32PM by PIB Delhi

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے سے متعلق اپوزیشن کےاختلاف کے الزامات کے درمیان، وزیرِ مملکت برائے زراعت و کسان فلاح و بہبود اور دیہی ترقی،جناب  شیو راج سنگھ چوہان نے آج واضح طور پر کہا کہ یہ معاہدہ ہندوستان کے زرعی مفادات خصوصاً کسانوں اور ڈیری سیکٹر کے مفادات کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور رہنمائی میں یہ معاہدہ سفارتکاری، ترقی اور وقار کا نیا معیار پیش کرتا ہے، اور وزیرِ اعظم نے ابتدائی مرحلے سے ہی واضح کر دیا تھا کہ کسانوں کے مفادات پر کوئی سودہ بازی نہیں ہوگی۔دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے،جناب چوہان نے دوبارہ کہا کہ ہندوستان کے بنیادی اناج، پھل، اہم فصلیں، کٹائی کے اناج اور ڈیری مصنوعات مکمل طور پر محفوظ ہیں اور انہیں کسی بھی طرح کے خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے ۔۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چھوٹے اور بڑے دونوں کسانوں کے مفادات مکمل طور پر محفوظ ہیں اور یہ معاہدہ ہندوستانی زراعت کے لیے خطرات کے بجائے نئے مواقع پیدا کرے گا ۔

چھوٹے کسانوں اور امریکی زرعی مصنوعات کے حوالے سے خدشات پر وضاحت

چھوٹے کسانوں اور امریکی زرعی مصنوعات کے حوالے سے پیدا شدہ خدشات کے جواب میں، وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ ہندوستانی مارکیٹ میں غیر ملکی مصنوعات کا اچانک یا خلل ڈالنے والا داخلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مارکیٹ کا کوئی بھی حصہ اس انداز میں نہیں کھولا گیا ہے جس سے ہندوستانی کسانوں کو نقصان پہنچےاور تمام اہم فصلیں، اناج، پھل اور ڈیری مصنوعات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔حال ہی میں امریکی خزانہ کے سیکرٹری کے ٹویٹ سے پیدا ہونے والی الجھن کے بارے میں جناب چوہان نے کہا کہ وزیرِ تجارت جناب پیوش گوئل نے پہلے ہی پارلیمنٹ میں حقائق واضح کر دیے ہیں۔ انہوں نے دوبارہ کہا کہ ہندوستان نے اپنی مارکیٹیں کسی بھی ایسے طریقے سے نہیں کھولی ہیں جو ملکی کسانوں پر دباؤ پڑے، اور اہم زرعی اجناس کے تحفظات برقرار ہیں۔

چاول ، مصالحے اور ٹیکسٹائل کی برآمدات کو فروغ

معاہدے سے کھلے برآمداتی مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے، جناب چوہان نے کہا کہ ہندوستان پہلے ہی کئی ممالک بشمول امریکہ کو چاول برآمد کرتا ہے اور حال ہی میں تقریباً 63,000 کروڑ روپے کی برآمدات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم ٹیریف براہِ راست ہندوستان کی چاول، مصالحےاور ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے فائدہ مند ہوں گے، اور ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ لاکھوں کپاس کے کسانوں کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔ وزیر نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ معاہدہ بلا شبہ ہندوستانی کسانوں کے مفاد میں ہے اور نئے برآمداتی مواقع فراہم کرتا ہے، باوجود اس کے کہ حزبِ اختلاف کی طرف سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔

جب وزیر سے حزبِ اختلاف کے اس مطالبے کے بارے میں پوچھا گیا کہ حکومت پارلیمنٹ میں تجارتی معاہدے کی تفصیلات واضح کرے، تو انہوں نے دوبارہ کہا کہ معاہدے کی تمام تفصیلات بروقت شیئر کی جائیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ بنیادی اصول واضح اور غیر تبدیل شدہ ہے: ہندوستانی کسانوں کے مفادات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

کسان ان داتا ہیں: ان کی خدمت کرنا عبادت کے برابر ہے

جناب چوہان نے کہا کہ زرعی شعبے کے وسیع دائرہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے کسانوں کے درمیان الجھن یا خوف پیدا ہونے سے بچانے کے لیے واضح مواصلات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دوبارہ اس بات پر زور دیاکہ کسان ہمارے ان داتا ہیں، زندگی فراہم کرنے والے ہیں۔ ان کی فلاح و بہبود ملک کی فلاح و بہبود ہے، اور ان کے مفادات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ایک جذباتی بیان میں وزیر نے کہا کہ کسانوں کی خدمت عبادت کے مترادف ہے، اور مودی حکومت ہر مرحلے پر کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(ش ح۔ ش آ۔ن ع)

U. No.1737


(ریلیز آئی ڈی: 2223981) وزیٹر کاؤنٹر : 9