محنت اور روزگار کی وزارت
وزیرِ مملکت شوبھا کرندلاجے نے آندھرا پردیش کے شہر وجے واڑہ میں ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے محنت و روزگار اور صنعت کے سیکریٹریوں کی دو روزہ علاقائی کانفرنس کا افتتاح کیا
प्रविष्टि तिथि:
27 JAN 2026 4:45PM by PIB Delhi
محنت و روزگار کی مرکزی وزیرِ مملکت، محترمہ شوبھا کرندلاجے نے آج آندھرا پردیش کے وجے واڑہ میں ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے محنت و روزگار اور صنعت کے سیکریٹریوں کی دو روزہ علاقائی سطح کی کانفرنس کا افتتاح کیا۔ اس کانفرنس میں وزارتِ محنت و روزگار کے سینئر افسران کے علاوہ آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرالہ، تمل ناڈو، تلنگانہ، مرکز کے زیرِ انتظام علاقے پڈوچیری اور قومی دارالحکومت دہلی کی ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر وزارت کے تحت کام کرنے والی تنظیموں کے سینئر افسران بھی موجود تھے، جن میں ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن(ای ایس آئی سی)، ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن(ای پی ایف او)، دتتوپنت ٹھینگڈی نیشنل بورڈ فار ورکرز ایجوکیشن اینڈ ڈیولپمنٹ(ڈی ٹی این بی ڈبلیو ای ڈی)، ڈائریکٹوریٹ جنرل فیکٹری ایڈوائس سروس اینڈ لیبر انسٹی ٹیوٹس(ڈی جی ایف اے ایس ایل آئی)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائنز سیفٹی(ڈی جی ایم ایس)اور وی وی گیری نیشنل لیبر انسٹی ٹیوٹ(وی وی جی این ایل آئی)شامل ہیں۔یہ کانفرنس وزارت کی جانب سے ملک کے مختلف مقامات پر منعقد کی جانے والی پانچ علاقائی کانفرنسوں کی سلسلے کی تیسری کانفرنس تھی، جس میں مختلف ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور اہم شراکت داروں کو شامل کیا گیا۔ ان کانفرنسوں کا مقصد چار لیبر کوڈز کے مؤثر اور ہموار نفاذ کو یقینی بنانا اورای ایس آئی سی، ای پی ایف اواور پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا(پی ایم وی بی آر وائی )سے متعلق امور پر غور و خوض کرنا ہے۔

اپنے خطاب میں محنت اور روزگار کے مرکزی وزیر مملکت نے چار لیبر کوڈز کے موثر اور بروقت نفاذ کو یقینی بنانے میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اہم کردار پر زور دیا ۔ انہوں نے 29 مرکزی لیبر قوانین کو چار ضابطوں میں یکجا کرنے کو ایک تاریخی اور تبدیلی لانے والی اصلاح قرار دیا ، جو اسٹیک ہولڈروں کی وسیع مشاورت کے بعد کی گئی ، جس میں ریاستوں ، آجروں اور کارکنوں کے نمائندوں کے ساتھ متعدد دور کی بات چیت شامل ہے ۔ لیبر ریگولیشن کو کام کی ابھرتی ہوئی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے ، وزیر موصوف نے کہا کہ کوڈز شفافیت کو فروغ دیتے ہیں ، تعمیل کو آسان بناتے ہیں اور متوازن اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے گورننس فریم ورک کے ذریعے کارکنوں کی فلاح و بہبود کو مضبوط کرتے ہیں ۔ انہوں نے کلیدی ترقی پسند دفعات جیسے یکساں تعریفیں ، ویب پر مبنی معائنے ، معمولی جرائم کو غیر مجرمانہ قرار دینے ، افرادی قوت میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت ، گھر سے کام کرنے کے قابل بنانے کی دفعات اور سماجی تحفظ کو گیگ ، پلیٹ فارم اور غیر منظم کارکنوں تک توسیع کی طرف توجہ مبذول کرائی ۔ تعاون پر مبنی وفاقیت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے مرکز اور ریاست کے درمیان مضبوط تال میل ، قواعد کو بروقت حتمی شکل دینے ، ریاستی آئی ٹی نظام کو مرکزی پورٹلوں کے ساتھ مربوط کرنے ، فیلڈ سطح کے عہدیداروں کی صلاحیت سازی اور مؤثر طریقے سے پھیلاؤ پر زور دیا ۔ انہوں نے وکست بھارت 2047 کے وژن کو آگے بڑھانے میں اہم معاون کے طور پر پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا سمیت ای ایس آئی سی کوریج اور روزگار پیدا کرنے کے اقدامات کی توسیع پر بھی روشنی ڈالی ۔

آندھرا پردیش حکومت کے وزیرِ محنت، جناب وسام سیٹی سبھاش نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیبر کوڈز ایک اہم اصلاح ہیں جو مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون پر مبنی وفاقیت کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے دوران ہونے والی غور و خوض اور اس سے قبل کی علاقائی مشاورتیں لیبر کوڈز کے مؤثر نفاذ کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔وزیر نے بتایا کہ ان کوڈز کا مقصد کارکنان کے لیے سماجی تحفظ کو مضبوط بنانا، تعمیلی طریقۂ کار کو آسان کرنا اور کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے آجروں اور مزدوروں کے درمیان مؤثر تال میل کی ضرورت پر زور دیا اور کارکنان کے حقوق اور ان کے استحقاقات سے متعلق نچلی سطح تک آگاہی (لاسٹ مائل اویئرنیس) کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ای ایس آئی سی کے کردار کو نمایاں کرتے ہوئے انہوں نے اس کے دائرۂ کار اور صحت کی سہولیات میں توسیع کی اپیل کی تاکہ سماجی تحفظ اور طبی فوائد تک زیادہ سے زیادہ افراد کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

کانفرنس کا سیاق و سباق طے کرتے ہوئے محنت اور روزگار کی وزارت کے سینئر لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ ایڈوائزر جناب آلوک چندرہ نے کہا کہ علاقائی لیبر کانفرنسوں کا انعقاد چاروں لیبر کوڈز کے ہموار اور مربوط نفاذ میں معاونت فراہم کرنے اور محنت و روزگار سے متعلق اہم امور پر غور و خوض کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان میں ای ایس آئی سی اورای پی ایف اوسے متعلق اصلاحات اور پردھان منتری وکست بھارت روزگار یوجنا(پی ایم وی بی آر وائی )جیسی پہلیں بھی شامل ہیں۔انہوں نے لیبر کوڈز کے مؤثر اور بغیر رکاوٹ نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے قواعد کی بروقت حتمی شکل، آئی ٹی نظام کی تیاری، دکانوں اور اداروں کے قوانین( شاپس اینڈ اسٹیبلشمنٹس ایکٹس) میں ہم آہنگی،صلاحیت سازی اور مرکز و ریاستوں کے درمیان قریبی تال میل کی اہمیت پر زور دیا۔

افتتاح کے بعد وزارت اور ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران نے نئے لیبر کوڈز کے تحت قواعد کی تیاری میں اب تک ہونے والی پیش رفت اور آئی ٹی نظاموں کی تیاری سے متعلق صورتحال پر مبنی پیشکشیں پیش کیں۔ اس دوران تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں قواعد کی حتمی شکل، کوڈز کی دفعات کے مطابق مرکز اور ریاستی سطح پر آئی ٹی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور جدید بنانے، اور ریاستی سطح کے نظاموں کو مرکزی آئی ٹی ڈھانچے کے ساتھ بغیر رکاوٹ مربوط کرنے کے امکانات جیسے اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی۔

وزارت اور ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے سینئر حکام کی شرکت سے منعقد ہونے والی اس کانفرنس نے قواعد و ضوابط پر تفصیلی غور و خوض، موجودہ خلا اور اختلافات کی نشاندہی، اور قانونی نوٹیفکیشن کے اجرا کو تیز کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس دوران لیبر کوڈز کے تحت مجوزہ بورڈوں، فنڈوں اور دیگر ادارہ جاتی انتظامات کے قیام پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔مزید برآں، اس فورم کے ذریعے چاروں لیبر کوڈز کے تحت مجوزہ اسکیموں پر مشاورت اور مؤثر نفاذ میں معاون ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی غور کیا گیا۔ فیلڈ سطح کے عملے کی صلاحیت سازی اور ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سمیت دیگر شراکت داروں میں لیبر کوڈز کے مقاصد اور عملی فریم ورک سے متعلق آگاہی بڑھانے پر خصوصی زور دیا گیا۔

*********
ش ح۔ش آ۔ت ا
U.NO :1142
(रिलीज़ आईडी: 2219282)
आगंतुक पटल : 6