PIB Headquarters
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کے آبی مستقبل کے لیے زیرِ زمین پانی کےبندوبست کو مضبوط بنانا

प्रविष्टि तिथि: 22 JAN 2026 12:32PM by PIB Delhi

 

اہم باتیں

 

  • بھارت کے پاس زیرِ زمین پانی کی سطح کی نگرانی کے لیے 43,228 اسٹیشنز، 712 جل شکتی مراکز اور 53,264 اٹل جل واٹر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز کا ایک نیٹ ورک موجود ہے۔
  • جل شکتی ابھیان: کیچ دی رین (جے ایس اے: سی ٹی آر)، جل سنچے جن بھاگیداری (جے ایس جے بی)، اٹل بھوجل یوجنا (اٹل جل) اور مشن امرت سروور جیسے اقدامات زیرِ زمین پانی کے بندوبست میں نمایاں پیش رفت دکھا رہے ہیں۔
  • زیرِ زمین پانی کا مؤثر بندوبست پائیدار ترقی کے اہداف بالخصوص ایس ڈی جی 6، ایس ڈی جی 11اور ایس ڈی جی 12 کو آگے بڑھانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

 

تعارف

زیرِ زمین کل میٹھے پانی کا تقریباً 99 فیصد ہے اور یہ سماجی، اقتصادی اور ماحولیاتی فوائد کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت بھی فراہم کرتا ہے۔ بھارت میں زیرِ زمین پانی زرعی سرگرمیوں اور پینے کے پانی کی فراہمی کی ابتدائی بنیاد ہے، جو آبپاشی کی تقریباً62 فیصد ضروریات ، 85 فیصد دیہی استعمال اور 50 فیصد شہری طلب کوپورا کرتا ہے۔ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، زراعت میں وسعت، صنعتی پھیلاؤ اور شہرکاری نے مجموعی طور پر زیرِ زمین پانی کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس تناظر میں، سائنسی معلومات پر مبنی اور پائیدار انتظام کے طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ اگرچہ پانی کے نظم و نسق کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کے پاس ہے، تاہم مرکزی حکومت، خاص طور پر وزارتِ جل شکتی اور متعلقہ وزارتوں کے ذریعے، مختلف سکیموں اور پروگراموں کے تحت تکنیکی اور مالی مدد فراہم کر کے سہولت کار کا کردار ادا کرتی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ملک بھر میں پانی کے تحفظ، ضابطہ بندی اور زیرِ زمین پانی کے دیرپا انتظام کو مضبوط بنانا ہے۔

پائیداری اور طویل مدتی تحفظ کے لیے زیرِ زمین پانی کا بندوبست

 

 

 

زیرِ زمین پانی کی تفہیم

زیرِ زمین پانی وہ میٹھا پانی ہوتا ہے جو مٹی اور چٹانوں میں رستا ہے، جہاں یہ قدرتی طور پر  نمودار ہونے یا انسانی استعمال کے لیے نکالے جانے سے قبل زمین کے نیچے ذخیرہ رہتا ہے۔ یہ بہت سے دریاؤں اور ندیوں میں پانی کی سطح کو برقرار رکھتا ہے اور پودوں و جانوروں کے لیے دلدلی علاقوں کے قدرتی مسکن پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔زمین کے نیچے موجود وہ تہہ جو وافر مقدار میں پانی کو ذخیرہ کرنے اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسے آبی ذخیرہ کہا جاتا ہے۔ ان آبی ذخائر سے پانی قدرتی طور پر بہہ کر چشموں، ندیوں اور دریاؤں کا حصہ بن سکتا ہے، یا اسے کھدے ہوئے کنوؤں، ٹیوب ویل اور بور ویل کے ذریعے پمپ کر کے باہر نکالا جا سکتا ہے۔

زیرِ زمین پانی کا بندوبست - عناصر اور ترجیحات

زیرِ زمین پانی کا بندوبست، پانی کے وسائل کے مربوط بندوبست اور تحفظ کا ایک حصہ ہے۔ زیرِ زمین پانی کے بندوبست کی بنیادیں آبی ذخائر کے افعال اور ان کے استعمال، ان پر اثر انداز ہونے والے مسائل اور دباؤ یا خطرات اور زیرِ زمین پانی کے نظام کی پائیداری کی مجموعی کارکردگی پر انتظامی اقدامات کے اثرات پر استوار ہیں۔

اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) کے مطابق، زمینی پانی کے وسائل کے پائیدار اور متوازن استعمال کو یقینی بنانے کے لیے زمینی پانی کے مؤثر انتظام کو 4 کلیدی ترجیحات کی ضرورت ہے:

زیر زمین پانی کے بندوبست کی ضرورت

بھارت کے پاس زیرِ زمین پانی کے وسیع ذخائر موجود ہیں جن کی طبعی خصوصیات اور دستیابی مختلف خطوں میں نمایاں طور پر مختلف ہے، تاہم حالیہ دہائیوں میں ان وسائل کو ضرورت سے زیادہ اخراج، گرتی ہوئی کوالٹی اور محدود ریگولیشن کی وجہ سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، جس نے طویل مدتی پائیداری کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

  • زیرِ زمین پانی کے نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ: بڑے پیمانے پر اور غیر منظم پمپنگ کی وجہ سے ملک کے کئی حصوں میں واٹر ٹیبل (پانی کی سطح) میں تیزی سے اور وسیع گراوٹ آئی ہے، جو کہ زیرِ زمین ذرائع پر بڑھتے ہوئے انحصار کی علامت ہے۔
  • پانی کے معیار میں بگاڑ: کان کنی کی سرگرمیوں، صنعتی کچرے اور زرعی طریقوں سے پیدا ہونے والی آلودگی اور اس کے ساتھ ساتھ قدرتی طور پر پائے جانے والے اجزاء جیسے کہ آرسینک اور فلورائیڈ نے رفتہ رفتہ زیرِ زمین پانی کے معیار کو متاثر کیا ہے، جس سے طویل مدتی ماحولیاتی اور عوامی صحت کے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔
  • بلا رکاوٹ اخراج کے محرکات: زیرِ زمین پانی نکالنے میں تیزی سے اضافے کی وجہ سستی ڈرلنگ تکنیک اور پمپنگ ٹیکنالوجیز کی دستیابی ہے، جس نے چھوٹے کسانوں اور کم آمدنی والے کنبوں کو بھی نجی ٹیوب ویل لگانے اور چلانے کے قابل بنا دیا ہے۔

زیرِ زمین پانی کے بڑھتے ہوئے بحران نے مؤثر بندوبست کے لیے حکومت کے عزم کو مضبوط کیا ہے، جس کی توثیق بھارت کے سی او پی 21 کے موسمیاتی لچیلے پن اور طویل مدتی ترقی کے عہد سے ہوتی ہے۔ پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جی)، خاص طور پر ایس ڈی جی  6، ایس ڈی جی 11 اور ایس ڈی جی 12 کے حصول کے لیے زیرِ زمین پانی کا مؤثر بندوبست انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

زیرِ زمین پانی کے بندوبست کو مضبوط بنانے کے حکومتی اقدامات

زیرِ زمین پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور پائیدار آبی تحفظ کی ضرورت کے پیشِ نظر، حکومتِ ہند نے کئی پالیسیاں، پروگرام اور عوامی سطح پر چلائی جانے والی مہمات کا آغاز کیا ہے، جن کا مقصد پورے بھارت میں زیرِ زمین پانی کے بندوبست کو مضبوط بنانا، پانی کو زمین میں جذب کرنے (ری چارج) اور اس کے تحفظ کو بڑھانا، سائنسی تشخیص کو بہتر بنانا اور عوامی شرکت پر مبنی اور نتائج پر مرکوز بندوبست کو فروغ دینا ہے۔

ماڈل گراؤنڈ واٹر (ریگولیشن اینڈ کنٹرول آف ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ) بل

زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو بے دریغ نکالنے سے روکنے اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور مصنوعی ری چارج جیسے پائیدار طریقوں کو فروغ دینے کے لیے مؤثر ضابطہ بندی اور انتظام کی ضرورت ہے۔ ان امور کے پیشِ نظر، مرکزی حکومت نے ایک 'ماڈل گراؤنڈ واٹر بل' تیار کیا ہے تاکہ ریاستوں کی جانب سے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کے کنٹرول اور بندوبست کے لیے ایک ریگولیٹری فریم ورک  فراہم کیا جا سکے۔

  • ماڈل بل تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے اور اب تک بہار، پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش سمیت ان میں سے 21 ریاستوں نے اسے نافذ کیا ہے۔
  •  مرکز زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی دانشمندانہ ضابطہ بندی اور پائیدار بندوبست کو فروغ دینے کے لیے ریاستی حکومتوں کے ساتھ سرگرمی سے رابطے میں ہے۔
  • یہ رابطہ کاری مستقل خط و کتابت، سیمیناروں، ریاستوں کے پانی کے بندوبست سےمتعلق وزراء اور چیف سیکرٹریوں کی کانفرنسوں اور سیکرٹری، محکمہ آبی وسائل کی سربراہی میں 'نیشنل انٹر ڈیپارٹمنٹل اسٹیئرنگ کمیٹی' (این آئی ایس سی) برائے زیرِ زمین پانی کے تحت ہونے والی مشاورت کے ذریعے کی جاتی ہے۔

 

جل شکتی ابھیان: کیچ دی رین (جے ایس اے: سی ٹی آر)

جل شکتی ابھیان: 'کیچ دی رین' مہم کا آغاز 22 مارچ 2021 کو پانی کے عالمی دن کے موقع پر کیا گیا تھا۔ یہ مہم پانی کے تحفظ کے حوالے سے ملک گیر آگاہی پیدا کرنے اور اجتماعی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے کام کرتی ہے، جس کا مقصد اس پیغام کو مضبوط بنانا ہے کہ پانی کا ایک ایک قطرہ قیمتی ہے۔ یہ ملک بھر کے شہریوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ عملی اقدامات اور عوامی سطح پر شرکت کے ذریعے بھارت کے آبی مستقبل کو محفوظ بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔

  • 'کیچ دی رین' مہم کے پانچ مرکزی نکات میں شامل ہیں: (i) پانی کا تحفظ اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنا ؛ (ii) پانی کے تمام ذخائر کی نشاندہی، جیو ٹیگنگ اور ان کی فہرست سازی کے ساتھ ساتھ پانی کے تحفظ کے لیے سائنسی منصوبہ بندی؛ (iii) تمام اضلاع میں 'جل شکتی مراکز' کا قیام؛ (iv) بڑے پیمانے پر شجرکاری اور (v) عوامی شعور بیدار کرنا۔

جل سنچے جن بھاگیداری (جے ایس جے بی)

جل سنچے جن بھاگیداری (جے ایس جے بی) اقدام کا آغاز 6 ستمبر 2024 کو 'جل شکتی ابھیان: کیچ دی رین' مہم کے تحت کیا گیا تھا۔

  • یہ اقدام بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے ، ایکویفر ری چارج، بورویل ری چارج اور ری چارج شافٹ جیسے اقدامات کے ذریعے زیرِ زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
  •  اسے مقامی سطح پر زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح سے نمٹنے کے لیے ایک قابلِ توسیع اور پائیدار ماڈل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں زیرِ زمین پانی کے ری چارج میں مدد دینے، ذمہ دارانہ انتظام اور پانی کے پائیدار استعمال کو فروغ دینے کے لیے جدید مانیٹرنگ سسٹم بھی شامل کیے گئے ہیں۔
  •  22 جنوری 2026 تک، جے ایس جے بی 1.0 اور جے ایس جے بی 2.0 کے تحت مجموعی طور پر مکمل کیے گئے مصنوعی زیرِ زمین ری چارج اور اسٹوریج کے کاموں کی تعداد 39,60,333 ہو چکی ہے۔

نیشنل ایکویفر میپنگ اینڈ مینجمنٹ پروگرام (این اے کیو یو آئی ایم)

  • ملک میں زیرِ زمین پانی کے مؤثر بندوبست میں مدد فراہم کرنے کے لیے، این اے کیو یو آئی ایم (2012-2023) پروگرام درج ذیل مقاصد کے ساتھ شروع کیا گیا تھا:
  • ہائیڈرو جیولوجیکل خصوصیات کی بنیاد پر ایکویفرز کی درجہ بندی
  • زیرِ زمین پانی کی دستیابی اور معیار کا جائزہ
  • ایکویفرز کے تفصیلی نقشے تیار کرنا
  • زیرِ زمین پانی کے پائیدار بندوبست کے لیے حکمتِ عملی تیار کرنا
  • این اے کیو یو آئی ایم 2.0: این اے کیو یو آئی ایم کے تجربات کی بنیاد پر، سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی دبلیو بی) اب این اے کیو یو آئی ایم 2.0 (2023تا حال) پر عمل درآمد کر رہا ہے تاکہ درج ذیل طریقوں سے زیرِ زمین پانی کے بندوبست کو مضبوط بنایا جا سکے:
  • زیرِ زمین پانی کی سطح اور معیار کے بارے میں انتہائی باریک بینی پر مبنی ڈیٹا فراہم کرنا۔
  • پنچایت کی سطح تک مسائل پر مبنی سائنسی معلومات فراہم کرنا۔
  • یہ پروگرام پانی کی قلت والے علاقوں، ساحلی، شہری، چشموں والے علاقوں، صنعتی اور کان کنی کے علاقوں، کمانڈ ایریاز، گہرے ایکویفرز، آٹو فلو (خود بخود نکلنے والا پانی) اور خراب معیار کے زیرِ زمین پانی والے علاقوں کو ہدف بناتا ہے، جس کے نتائج علاقائی ضروریات اور صارفین کی ترجیحات کے مطابق ہوتے ہیں۔

این اے کیو یو آئی ایم پروگرام کے تحت ہونے والی پیش رفت:

ماسٹر پلان برائے مصنوعی ری چارج ٹو گراؤنڈ واٹر - 2020

  • زیرِ زمین پانی کی مصنوعی ری چارجنگ کا ماسٹر پلان 2020، پانی کی دستیابی اور ایکویفر میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش کی بنیاد پر علاقائی خصوصیات کے مطابق ری چارجنگ کی تکنیکوں کو فروغ دیتا ہے۔
  • یہ منصوبہ علاقائی سطح پر زیرِ زمین پانی کے چیلنجوں بشمول پانی کا بے دریغ نکالنا، بنجر علاقوں میں قلت، پہاڑی علاقوں میں پانی کا کم ٹھہراؤ اور شہری علاقوں میں ری چارجنگ کی رکاوٹوں کو دور کرتا ہے۔
  • دیہی علاقوں میں، مان سون کے اضافی بہاؤ کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے سطحِ زمین پر پانی پھیلانے اور سطحِ زمین کے نیچے ری چارج کرنے کے طریقوں پر زور دیا گیا ہے۔ شہری، پہاڑی اور ساحلی علاقوں میں چھتوں پر بارش کا پانی جمع کرنے اور اس سے منسلک دیگر اقدامات کے ذریعے بارش کے پانی کے تحفظ کو ترجیح دی گئی ہے۔
  • یہ پلان ملک میں تقریباً 1.42 کروڑ بارش کا پانی جمع کرنے اور مصنوعی ری چارج کے ڈھانچے کی تعمیر کا ایک وسیع خاکہ بھی فراہم کرتا ہے تاکہ 185 بی سی ایم (بلین کیوبک میٹر) زیرِ زمین پانی کو ری چارج کیا جا سکے۔

​​​​​​​

اٹل بھوجل یوجنا (اٹل جل)

اٹل بھوجل یوجنا (اٹل جل) کا محور 7 ریاستوں یعنی گجرات، ہریانہ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان اور اتر پردیش کے پانی کی قلت والے علاقوں میں عوامی قیادت میں زیرِ زمین پانی کے پائیدار انتظام کو فروغ دینا ہے۔ 25 دسمبر 2019 کو شروع کی گئی یہ اسکیم 'جل جیون مشن' کے لیے پانی کے ذرائع کے استحکام میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کے حکومتی ہدف میں بھی معاونت کرتی ہے اور کمیونٹیز کے اندر پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ مزید برآں، یہ عوامی شعور بیدار کرنے، مقامی صلاحیتوں کو بڑھانے، دیگر سرکاری اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے اور بہتر زرعی طریقوں کو فروغ دینے میں سہولت فراہم کرتی ہے۔

اس اسکیم کے تحت، ریاستی حکومتوں کو مناسب سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط ڈیٹا بیس، سائنسی منصوبہ بندی اور عوامی شمولیت کی بنیاد پر مراعات دی جاتی ہیں۔ پانچ سالہ 'پروجیکٹ عمل درآمدپلان' کے تحت، 6,000 کروڑ روپے کے کل مالیاتی اخراجات کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: جزو 'اے'( 1,400 کروڑ روپے) اداروں کی مضبوطی کے لیے اور جزو 'بی' (4,600 کروڑ روپے) مراعات پر مبنی نتائج کے لیے مختص ہیں، جو کہ اس کے مضبوط نتائج پر مبنی ڈیزائن کی عکاسی کرتے ہیں۔

مؤرخہ20 جنوری 2026 تک اٹل بھوجل یوجنا کے تحت ہونے والی پیش رفت:

 

ریاست

زمینی پانی کی کمی کی شرح میں بہتری

(ایم/سال)

پانی کے موثر استعمال کے تحت علاقہ (ہیکٹئیر)

تنصیب شدہ ڈیجیٹل واٹر لیول ریکارڈر (ڈی ڈبلیو ایل آر)

 

نصب شدہ ڈیجیٹل / اینالاگ واٹر لیول انڈیکیٹرز

گجرات

20

58,470.19

828

2001

ہریانہ

18

1,77,454.25

1,165

1669

کرناٹک

23

1,86,595.22

970

410

مدھیہ پردیش

5

13,493.24

669

670

مہاراشٹر

16

1,31,372.06

1,129

1133

راجستھان

20

74,352.07

960

1144

اتر پردیش

6

26,945.97

550

392

کل

108

6,68,683.00

6271

7419

 

ماخذ: وزارتِ جل شکتی

مشن امرت سروور

مؤرخہ24 اپریل 2022 کو شروع کیا گیا 'مشن امرت سروور' ملک کے تمام اضلاع میں امرت سروور (تالابوں) کی تعمیر میں معاونت کرتا ہے۔ ہر تالاب کے لیے کم از کم ایک ایکڑ (0.4 ہیکٹر) رقبہ اور تقریباً 10,000 کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کا منصوبہ ہے۔

  • اس مشن کا مقصد پانی کے تحفظ کو بڑھانا، زیرِ کاشت رقبے میں اضافہ کرنا اور زیرِ زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانا ہے، جس میں امرت سرووروں کی بحالی اور تعمیر قدرتی طور پر زیرِ زمین پانی کی ری چارجنگ میں مدد فراہم کرتی ہے۔
  • 22 جنوری 2026 تک مشن امرت سروور کے تحت ہونے والی پیش رفت:

 

بھارت میں زیرِ زمین پانی کی نگرانی، بحالی اور علمی معاونت کا بنیادی ڈھانچہ

 

بھارت میں زیرِ زمین پانی کی سطح کی نگرانی کے لیے 43,228 اسٹیشنوں کا ایک نیٹ ورک موجود ہے، جس میں سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی دبلیو بی) کے زیرِ انتظام اسٹیشنز شامل ہیں۔ سی جی ڈبلیو بی اپنے مشاہداتی کنوؤں کے علاقائی نیٹ ورک کے ذریعے ملک بھر میں زیرِ زمین پانی کی سطح کی باقاعدگی سے نگرانی کرتا ہے۔


اٹل بھوجل یوجنا (اٹل جل) کے تحت، زیرِ زمین پانی کے پائیدار بندوبست کی معاونت کے لیے نگرانی، ری چارج اور ڈیٹا کا ایک وسیع بنیادی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے (30 دسمبر 2025 تک کی صورتحال کے مطابق):

 

انفراسٹرکچر

دستیابی کی حیثیت

پانی کے معیار کی نگرانی کرنے والے اسٹیشن

53,264

مصنوعی ریچارج اور پانی کے تحفظ کے ڈھانچے

97,742

پیزو میٹر (اٹل جل)

6,519

رین گیج اسٹیشنز

8,201

پانی کے بہاؤ کے میٹر

32,286

اچھی طرح سے رجسٹرڈ

15,03,711

پانی کے معیار کی نگرانی (فیلڈ ٹیسٹنگ کٹ کے ذریعے)

1,15,358

جل شکتی کی وزارت

  • جل شکتی کیندر (جے ایس کے) ضلع سطح کے تکنیکی رہنمائی کے مرکز کے طور پر کام کرتا ہے، جو اسٹیک ہولڈرز کو بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے بارے میں مشورے دیتا ہے اور معلومات کی ترسیل اور پانی کے تحفظ کے طریقوں پر تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے ایک علمی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔ 30 دسمبر 2025 تک، پورے بھارت میں کل 712 جل شکتی مراکز فعال ہیں۔

 

نتیجہ

زیرِ زمین پانی بھارت کے آبی تحفظ کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جو زراعت، پینے کے پانی کی فراہمی، ماحولیاتی نظام اور زرعی سرگرمیوں کو سہارا دیتا ہے؛ تاہم پانی کے بے دریغ اخراج، معیار میں گراوٹ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے زیرِ زمین پانی کے پائیدار بندوبست کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ اس سلسلے میں، بھارت نے وزارتِ جل شکتی کی قیادت میں ایک جامع اور کثیر جہتی نقطہ نظر اپنایا ہے جس میں پالیسی اصلاحات، سائنسی تشخیص، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور عوامی شمولیت کو یکجا کیا گیا ہے۔

اہم اقدامات جیسے کہ زیرِ زمین پانی پر 'ماڈل بل'، 'جل شکتی ابھیان: کیچ دی رین'، 'جل سنچے جن بھاگیداری'، 'اے اے کیو یو آئی ایم 2.0'، 'ماسٹر پلان برائے مصنوعی ری چارج 2020'، 'اٹل بھوجل یوجنا' اور 'مشن امرت سروور' مل کر ری چارج، نگرانی، ضابطہ بندی اور طلب کے انتظام کو تقویت دیتے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کی نگرانی کے اسٹیشنوں کے وسیع نیٹ ورک، جدید ڈیٹا سسٹمز اور مقامی علمی مراکز کے تعاون سے یہ کوششیں سائنسی بنیادوں پر مبنی، عوامی شرکت اور نتائج پر مرکوز 'گراؤنڈ واٹر گورننس' کی طرف منتقلی کی علامت ہیں، جو طویل مدتی استحکام، موسمیاتی لچیلے پن اور قومی ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے ایک پائیدار فریم ورک قائم کرتی ہیں۔

حوالے

پارلیمنٹ آف انڈیا

کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا

ایکانومک ایڈوائزری کونسل ٹو دی پرائم منسٹر(ای اے سی- پی ایم)، حکومتِ ہند

جل شکتی کی وزارت

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت

 سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلیو بی)، وزارت جل شکتی

 

 

مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی)، وزارت جل شکتی

پریس انفارمیشن بیورو

اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی تعلیمی سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو)

اقوام متحدہ کی اقتصادی تنظیم برائے یوروپ (یو این ای سی ای)

عالمی بینک

ریاستہائے متحدہ کا محکمہ داخلہ، یو ایس جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس)

یو ایس انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (یو ایس ای پی اے)

کیلیفورنیا محکمہ آبی وسائل

پی ڈی ایف کے لیے یہاں کلک کریں۔

****

ش ح۔ک ح۔ع ر

U. No. 919


(रिलीज़ आईडी: 2217456) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil