صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
آئی سی ایم آر نے موبائل اسٹروک یونٹ (ایم ایس یو )، حکومتِ آسام کے حوالے کر دی، جس سے دیہی، دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں زندگی بچانے والی اسٹروک کیئر گھر کے قریب پہنچ گئی
ہندوستان دنیا کا دوسرا ملک ہے جس نے دیہی ایسکمک اسٹروک کے مریضوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی میڈیکل سروسز کے ساتھ ایم ایس یو کے کامیاب انضمام کی رپورٹ دی ہے: محکمہ صحت کی تحقیق کےسکریٹری
موبائل اسٹروک یونٹس نے شمال مشرقی ہندوستان میں اسٹروک کی دیکھ بھال میں انقلاب برپا کر دیا ہے، علاج کا وقت 24 گھنٹے سے 2 گھنٹے تک کم ہونے کے ساتھ اموات میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی اور معذوری آٹھ گنا کم ہوئی
प्रविष्टि तिथि:
22 JAN 2026 10:49AM by PIB Delhi
ہندوستان میں فالج، اموات اور طویل مدتی معذوری کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ فالج کی صورت میں ہر لمحہ قیمتی ہے۔اگر علاج میں تاخیر ہو جائے تو تقریباً 1.9 ارب دماغی خلیات ہر منٹ میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ ابتدائی قیمتی گھنٹے کے اندر بروقت دیکھ بھال سے اموات اور زندگی بھر کی معذوری کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، فالج کے علاج میں سب سے بڑا چیلنج مریضوں کے اسٹروک کے لیے تیار اسپتال تک پہنچنے میں لگنے والا وقت ہے۔
اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے، بھارتی کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے حکومتِ آسام کے حوالے دو موبائل اسٹروک یونٹس (ایم ایس یو ) کر دیے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب مریض دور دراز علاقوں سے اسپتال پہنچنے کی کوشش کرنے کے بجائے اسپتال مریض تک پہنچے گا۔ یہ اقدام معزز وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور صحت کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا کی رہنمائی میں تیار کیا گیا جو حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ جدید طبی سہولیات خواتین، مشکل ترین علاقوں سمیت سب سے غریب، پسماندہ اور کمزور طبقات تک بھی پہنچیں۔
موبائل اسٹروک یونٹ (ایم ایس یو ) حکومتِ آسام کے حوالے کرتے ہوئےمحکمہ صحت کی تحقیق کے سکریٹری اورآ ئی سی ایم آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر راجیو بہل نے کہا کہ ‘‘وبائل اسٹروک یونٹس سب سے پہلے جرمنی میں تیار کیے گئے اور بعد میں بڑے عالمی شہروں میں ان کا جائزہ لیا گیا۔ بھارت نے ان یونٹس کا شمال مشرقی بھارت کے دیہی، دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں جائزہ لیا ہے۔ ہم دنیا کا دوسرا ملک ہیں جس نے دیہی ایسکمک اسٹروک کے مریضوں کے علاج کے لیے ایم ایس یو کو ایمرجنسی میڈیکل سروسز کے ساتھ کامیابی سے مربوط کرنے کی رپورٹ دی ہے۔’’
ریاست کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے، حکومت آسام کے تحت صحت اور خاندانی بہبود کے سکریٹری اور کمشنر جناب پی اشوک بابونے کہا کہ اس یونٹ کو حوالے کرنے سے آسام کے ہنگامی ردعمل کے نظام کو تقویت ملی ہے اور اس زندگی بچانے والی خدمت کی ریاستی ملکیت کے تحت تسلسل یقینی بنتا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ آئی سی ایم آر کے ساتھ تعاون نے فالج کے مریضوں کے لیے تیز علاج، بہتر ہم آہنگی اور بہتر نتائج ممکن بنائے ہیں اور یہ توسیع کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
موبائل اسٹروک یونٹ (ایم ایس یو ) ایک شاندارموبائل اسپتال ہے جس میں ہرطرح کی ادویات و سہولیات گاڑیوں میں موجود ہوتی ہیں اور اس میں سی ٹی اسکینر، ماہرین کے ساتھ ٹیلی کنسلٹیشن، پوائنٹ آف کیئر لیبارٹری، اور خون کے جمنے کو تحلیل کرنے والی ادویات موجود ہیں، جو مریض کے گھر یا اس کے آس پاس فالج کی ابتدائی تشخیص اور علاج ممکن بناتی ہیں۔ یہ جدید ترین سہولیات خاص طور پر دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں اسپتال تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ ماہرین سے ٹیلی کنسلٹیشن کے ذریعے، ایم ایس یو فالج کی قسم کی جلد شناخت اور علاج کی فوری شروعات ممکن بناتا ہے،جس سے جانیں بچتی ہیں اور معذوری سے بچاؤ ہوتا ہے۔
شمال مشرقی بھارت میں فالج کے معاملات غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔ دشوار گزار علاقے، طویل فاصلے اورخصوصی دیکھ بھال تک محدود رسائی نے تاریخی طور پر بروقت فالج کے علاج کو مشکل بنایا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے، آئی سی ایم آر نے آسام میڈیکل کالج اوراسپتال، ڈبروگڑھ میں نیورولوجسٹ کی قیادت میں اسٹروک یونٹ قائم کیا، اور تیج پور میڈیکل کالج اسپتال اور بیپٹسٹ کرسچین اسپتال، تیج پور میں فزیشن کی قیادت میں اسٹروک یونٹس قائم کیے۔ موبائل اسٹروک یونٹس کو اس پری-اسپتال اسٹروک کیئر کےطور پر شامل کیا گیا ہے۔
نتائج انتہائی شاندار رہے ہیں۔ اس ماڈل نے علاج کے وقت کو تقریباً 24 گھنٹے سے کم کر کے تقریباً 2 گھنٹے تک کردیاہے ، اموات کو ایک تہائی تک کم کیا اور معذوری کو آٹھ گنا گھٹا دیا ہے۔ 2021 سے اگست 2024 کے درمیان، ایم ایس یو کو 2,300 سے زائد ایمرجنسی کالز موصول ہوئیں۔ تربیت یافتہ نرسوں نے 294 مشتبہ فالج کے معاملات کی جانچ کی، جن میں سے 90فیصد مریضوں کا علاج براہِ راست ان کے گھروں پر کیا گیا۔ ایم ایس یو کا 108 ایمرجنسی ایمبولینس سروس کے ساتھ انضمام اس کی رسائی کو 100 کلومیٹر کے دائرے تک بڑھا گیا۔
مرکزی اور ریاستی اعلیٰ حکام کے ساتھ آئی سی ایم آر کی قیادت کے ارکان بھی اس موقع پر موجود تھے، جن میں تلنگانہ حکومت میں صحت کے سکریٹری ڈاکٹر کرسٹینا زیڈ چونگتھو، ؛ آئی سی ایم آر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سنگھامترا پتی، آئی سی ایم آر کی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر الکا شرما، سینئر ڈی ڈی جی (انتظامیہ)محترمہ منیشا سکسینااور این سی ڈی کے صدر ڈاکٹر آر ایس دھالیوال بھی شامل ہیں۔
ش ح۔ ع ح۔ ج ا
U.No. 913
(रिलीज़ आईडी: 2217205)
आगंतुक पटल : 30