جل شکتی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈی ڈی ڈبلیو ایس نے آٹھ ریاستوں کے آٹھ گرام پنچایت ہیڈکوارٹرز دیہات کے ساتھ مقامی زبانوں میں کثیر لسانی ‘سجل گرام سمواد’ کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد کیا


دیہی برادریوں کے ساتھ مقامی زبان میں بات چیت’جن بھاگیداری’ اور برادری کی قیادت میں پانی کے نظم و نسق کو مستحکم بناتی ہے

’سجل گرام سمواد‘ دیہی باشندوں کوبہترین عملی مثالیں مقامی زبانوں میں شیئر کرنے کےلیے پلیٹ فارم  فراہم کرتا ہےاور دیگر دیہی برادری کے ارکان کے درمیان سیکھنے کے باہمی عمل کو ممکن بناتا ہے

प्रविष्टि तिथि: 21 JAN 2026 6:06PM by PIB Delhi

جل شکتی کی وزارت کے محکمہ برائے پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی نے آج سجل گرام سمواد کے تیسرے ایڈیشن کا کامیاب انعقاد کیا، جس کے ذریعے جل جیون مشن (جے جے ایم) کے تحت باہمی آبی حکمرانی اور برادری کی قیادت میں عمل درآمد کے لیے حکومت ہند کے عزم کو مزید مضبوط کیا گیا۔

اس ورچوئل بات چیت میں گرام پنچایت کے نمائندوں، دیہات کے پانی و صفائی کمیٹی کے اراکین، برادری کے شرکاء، خواتین کی اپنی مدد آپ گروپس (ایس ایچ جی)، طلبہ اور فرنٹ لائن کارکنان کے ساتھ ساتھ جل جیون مشن کے ریاستی مشن ڈائریکٹرز، ضلعی کلیکٹرز/ضلعی مجسٹریٹس/ڈپٹی کمشنرز، ڈی ڈبلیو ایس ایم کے افسران اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

سجل گرام سمواد کے تیسرے ایڈیشن میں آٹھ گرام پنچایت ہیڈکوارٹرز گاؤوںمیں دیہی سطح پر بات چیت منعقد کی گئی۔ اس اقدام میں 3,000 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا، جو برادریوں اور حکام دونوں کی جانب سے بھرپور شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، گرام پنچایت سطح پر دیہاتیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں خواتین، بچے، نوجوان اور بزرگ اراکین شامل تھے، جس کے نتیجے میں اجتماعی شرکت رجسٹرڈ تعداد سے کہیں زیادہ رہی۔

ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے اپنے پیغام میں دیہی سطح پر پینے کے پانی کی حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے تین اہم نکات کو اجاگر کیا۔

آئینی  میں 73ویں ترمیم کے تحت پینے کے پانی کی فراہمی کی ذمہ داری گرام پنچایتوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گرام پنچایتیں مسلسل برادری کی شمولیت اور شراکتی منصوبہ بندی کے ذریعے اس ذمہ داری کو پوری طرح سنبھالیں، تاکہ تمام گھروں کو باقاعدہ اور صاف و شفاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

جل ارپن اور لوک جل اتسو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جل ارپن کے تحت پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی باضابطہ جانچ، کمشنگ اور گرام پنچایتوں کے حوالے کیا جانا شامل ہے، ساتھ ہی ضروری تکنیکی رہنمائی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے گرام پنچایتوں پر زور دیا کہ وہ لوک جل اتسو کا انعقاد کریں، تاکہ منصوبوں کا جامع جائزہ لیا جا سکے اور بروقت آپریشن اور دیکھ بھال کو یقینی بنایا جا سکے۔

جل سیوا آنکلن کو ایک انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس کے تحت دیہاتی، گرام پنچایتوں کے ساتھ مل کر گرام سبھاؤں کے ذریعے پانی کی مقدار، معیار اور خدمات کی سطح کا جائزہ لیتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان نتائج کو گرام سبھا کے سامنے رکھا جائے اور پورٹل پر اپ لوڈ کیا جائے، تاکہ شفافیت، جوابدہی اور خدمات کی فراہمی میں مسلسل بہتری کو فروغ دیا جا سکے۔

اپنے افتتاحی خطاب میں اے ایس اینڈ ایم ڈی، نیشنل جل جیون مشن (این جے جے ایم) جناب کمل کشور سوان نے کہا کہ سجل گرام سمواد کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے، جس کے ذریعے دیہاتیوں کی بات براہِ راست ان کی اپنی زبانوں میں سنی جا سکے اور یہ سمجھا جا سکے کہ برادریاں پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے آپریشن اور دیکھ بھال کو کس طرح سنبھال رہی ہیں۔ انہوں نے گرام پنچایتوں، دیہات کی پانی و صفائی کمیٹیوں، ضلعی کلیکٹرز اور مشن ڈائریکٹرز کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کئی گرام پنچایتوں نے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم موجودہ چیلنجز کو گاؤں، ضلع، ریاست اور مرکزی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں کے ذریعے حل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یاد ہانی کرائی کہ پنچایت نمائندوں اور وزارت کی قیادت کے درمیان براہ راست بات چیت نے زمینی سطح کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے مشن کو مزید مضبوط کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرے والی گرام پنچایتوں کو یوم جمہوریہ اور یوم آزادی جیسے قومی مواقع پر مدعو کیا جاتا ہے تاکہ دیگر کو ترغیب ملے اور اچھی عملی مثالوں کے وسیع تر فروغ کے لیے ان کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔ انہوں نے پینے کے پانی کی فراہمی کو 30 سالہ مدت میں برقرار رکھنا ضرورت پر زوردیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ماخذ کی پائیداری، نظام کی دیکھ بھال اور خدمات کی قابلِ اعتماد فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے برادری کی شمولیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے اختتام پر اس بات کو اجاگر کیا کہ جل جیون مشن محض ایک اسکیم نہیں بلکہ عوامی تحریک ہے اور سجل گرام سمواد پائیدار اور پینے کے پانی کی  جامع خدمات کی فراہمی کو آگے بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

زمینی سطح کی آوازیں

1.سپھی گھاٹ، جنوبی انڈمان، انڈمان و نکوبار جزائر

اکنامک مشیرجناب سمیر کمار نے سپھی گھاٹ، ضلع جنوبی انڈمان، انڈمان و نکوبار جزائر میں برادری سے ہندی زبان میں گفتگو کرکے دیہی سطح کےکی بات چیت کا آغاز کیا۔

دیہی باشندوں نے بتایا کہ صاف اور پینے کے محفوظ پانی کی دستیابی سے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں طبی اخراجات میں بچت ہوئی ہے اور خواتین و لڑکیوں کے لیے زندگی آسان ہو گئی ہے۔ 7ویں جماعت کی ایک طالبہ نے کہا کہ گھر اور اسکول دونوں جگہ نل کے پانی کی دستیابی سے صحت میں بہتری آئی ہے، بیماریوں کے واقعات میں کمی آئی ہے اور اسکولوں میں روزانہ بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی ہوئی ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے علیحدہ بیت الخلاء موجود ہیں اور ہاتھ دھونے کی سہولیات بھی فعال ہیں، جس سے صفائی ستھرائی  میں بہتر آئی ہے اور اسکول کا ماحول صحت مند بنا ہے۔

2.سلیہ بھاٹ، رائے پور، چھتیس گڑھ

سلیہ بھاٹ کی برادری نے چھتیس گڑھی زبان میں محکمہ برائے آبی وسائل کے افسر سے بتایا کہ پہلے پینے کا پانی دریاؤں اور نالوں سے اکٹھا کیا جاتا تھا، لیکن اب جل جیون مشن کے تحت صاف اور محفوظ پانی گھروں میں نل کے ذریعے دستیاب ہے، جس کی گاؤں کے پانی ٹینک سے باقاعدہ اور وقت پر فراہمی ہوتی ہے۔

دیہی باشندوں نے پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں بتایا اور کہا کہ آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے فی گھرانہ 50 روپے ماہانہ فیس رضاکارانہ طور پر ادا کی جاتی ہے۔ تربیت یافتہ خواتین فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس کے ذریعے پانی کے معیار کی جانچ کرتی ہیں اور نتائج گرام سبھا کی میٹنگوں میں شیئر کیے جاتے ہیں۔ لیکیج، سپلائی کی کمی اور وقت بندی جیسے مسائل پر بات کرنے کے لیے ماہانہ جل سمیتی کی میٹنگیں منعقد کی جاتی ہیں۔

مورخہ23 جنوری کو گرام سبھا کے دوران جل سیوا آنکلن منعقد کیا جائے گا۔ برادری نے پانی کے ذرائع کی پائیداری کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا، جن میں ریچارج اسٹرکچرز، ریچارج پٹس، روایتی آبی ذخائر (کنڈوں) کا تحفظ اور زیر زمین پانی کے ریچارج کے لیے سوکھے گڈھوں (Soak Pits) کا فروغ شامل ہیں۔ گاؤں نے روزانہ کے کاموں میں جل باہنی اور سہولت کاروں کے اہم کردار پر زور دیا اور ساتھ ہی کہا کہ دیہی سطح کے اداروں کے مضبوط باہمی انضمام سے نظام کی پائیداری یقینی بنی ہے۔

 

3.دوچانا، مہندر گڑھ، ہریانہ

ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے افسران سے ہریانوی بولی میں گفتگو کرتے ہوئے دیہی باشندوں نے بتایا کہ چونکہ زیرِ زمین پانی پینے کے لیے لائق نہیں ہے ، اس لیے نہر کے پانی کو صاف کیا جاتا ہے، اس کی جانچ کی جاتی ہے اور پھر گھروں تک فراہم کیا جاتا ہے۔ بیداری پیدا کرنے اور شکایات کے ازالے کے لیے دیہی باشندے پانی و صفائی کمیٹی (وی ڈبلیو ایس سی) کی میٹنگیں باقاعدگی سے منعقد ہوتی ہیں، جبکہ تربیت یافتہ خواتین فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس (ایف ٹی کے) کے ذریعے پانی کے معیار کی جانچ کرتی ہیں۔ پہلے ہر وارڈ میں صرف ایک نل کنکشن کے ذریعے محدود پانی فراہم کیا جاتا تھا؛ تاہم اب گاؤں میں مناسب اور بلا تعطل پانی کی دستیابی کی اطلاع دی گئی ہے۔

گرام پنچایت نے بتایا کہ فی گھرانہ 100 روپے ماہانہ صارف فیس رسید کے ساتھ وصول کی جاتی ہے اور یہ رقم صرف پانی کی فراہمی کے نظام کی دیکھ بھال پر خرچ کی جاتی ہے۔ بی پی ایل گھرانوں اور وہ خاندان جو ادائیگی سے قاصر ہیں، اس فیس سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ہریانہ میں اپنی مدد آپ گروپ کی خواتین(ایس ایچ جی) صارف فیس کی وصولی میں پنچایتوں کی معاونت کرتے ہیں۔ گرام سبھا کے ذریعے 27 جنوری کو جل سیوا آنکلن منعقد کیا جانا طے ہے، جو خدمات کی فراہمی میں شفافیت اور برادری کی شمولیت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

4.ہارویلام، شمالی گوا، گوا

ہارویلام گاؤں میں مراٹھی زبان میں بات چیت کی گئی، جس میں سرپنچ، دیہی باشندے پانی و صفائی کمیٹی (وی ڈبلیو ایس سی) کے اراکین، اسکولی بچے اور برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے نشاندہی کی کہ گھریلو نل کنکشن کے ذریعے 24 گھنٹے پینے کے پانی کی فراہمی دستیاب ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ گوا میں پانی کے صارف چارجز کی سو فیصد میٹرنگ حاصل کر لی گئی ہے، جس سے شفافیت اور خدمات کی مؤثر فراہمی یقینی بنی ہے۔

گاؤں نے مزید آگاہ کیا کہ تمام باشندوں کے لیے محفوظ اور پینے کے لائق صاف پانی کو یقینی بنانے کے لیے پانی کے معیار کی جانچ باقاعدگی سے کی جاتی ہے، جس میں مانسون سے پہلے اور بعد دونوں ادوار شامل ہیں۔

5.ٹسیتھرونگسے، چوموکیدیما، ناگالینڈ

ٹسیتھرونگسے—ایشیا کے صاف ترین گاؤں—کی برادری کے اراکین نے ناگامیز زبان میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جل جیون مشن (جے جے ایم) سے قبل گھروں کو پینے کا پانی گاؤں سے 1 تا 1.5 کلومیٹر دور واقع ذرائع سے لانا پڑتا تھا۔ گھریلو نل کنکشنز کی فراہمی کے بعد اب پانی براہِ راست گھروں تک پہنچتا ہے، جس سے روزمرہ کی مشکلات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ گاؤں تمام مستفیدین سے 100 روپے صارف فیس وصول کرتا ہے اور پانی کی فراہمی کے اثاثوں کے آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے دو افراد کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

برادری نے مزید بتایا کہ اضافی فنڈز کو پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کے لیے استعمال کیا گیا ہے، جن میں اضافی آبی ذخیرہ ٹینکوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔ پانی دن میں دو مرتبہ، صبح اور شام فراہم کیا جاتا ہے۔ پانی کے معیار کی جانچ ایف ٹی کے سے تربیت یافتہ خواتین کے ذریعے کی جاتی ہے، جو نتائج دیہی باشندوں کے ساتھ شیئر کرتی ہیں اور یہ جانچ ضرورت کے مطابق کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) محکمہ سال میں دو مرتبہ—مانسون سے پہلے اور بعد—پانی کے معیار کی جانچ کرتا ہے اور معیار برقرار رکھنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔ واٹسن کمیٹی کی سالانہ میٹنگ پورے گاؤں کی شرکت کے ساتھ منعقد ہوتی ہے، جس میں شکایات پر غور کر کے ان کا ازالہ کیا جاتا ہے، جبکہ گاؤں کی سطح سے باہر کے مسائل کو ضروری کارروائی کے لیے پی ایچ ای محکمہ کو بھیج دیا جاتا ہے۔

6.رام پور، اونا، ہماچل پردیش

ضلع اونا کے رام پورہ گاؤں میں پردھان ہرویندر کور اور برادری کے اراکین نے پنجابی زبان میں بات چیت کی اور بتایا کہ گاؤں میں سو فیصد گھریلو نل کنکشن حاصل کر لیے گئے ہیں۔ پہلے صرف 7 فیصد گھروں میں نل کنکشن تھے اور خواتین کو کنوؤں سے پانی لانا پڑتا تھا۔ اب ہر گھر میں گھریلو نل کنکشن کی دستیابی سے خواتین کا قیمتی وقت بچ رہا ہے، جسے وہ  اپنی مدد آپ  گروپوں کی سرگرمیوں، مویشی پروری اور دیگر آمدنی پیدا کرنے کے اقدامات میں مؤثر طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

گاؤں نے پانی کے معیار کی نگرانی میں مضبوط برادری کی شمولیت کو اجاگر کیا، جہاں فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس کے ذریعے مفت جانچ کی جاتی ہے۔ ماہانہ میٹنگوں کے دوران ایک یا دو مرتبہ آٹھ اہم معیارات پر اجتماعی طور پر پانی کے نمونوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ دیہی باشندے پانی و صفائی کمیٹی (وی ڈبلیو ایس سی) 11 اراکین پر مشتمل ہے، جن میں 9 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں، جو دیہی سطح پر پانی کی حکمرانی میں خواتین کی نمایاں قیادت کی عکاسی کرتا ہے۔

7.سمروانی، دادرا و نگر حویلی، دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو

اپنی مقامی زبان گجراتی میں گفتگو کرتے ہوئے برادری کے اراکین نے بتایا کہ ضلع میں 8 واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس (ڈبلیو ٹی پیز) موجود ہیں اور گزشتہ چھ برسوں سے گھریلو نل کنکشنز کے ذریعے گھروں کو محفوظ اور معیاری پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اسکاڈا (ایس سی اے ڈی) پر مبنی مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بروقت اور پینے کے لائق پانی کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ برادری نے زور دیا کہ اجتماعی بیداری اور ذمہ دارانہ پانی کے استعمال نے مقامی آبی تحفظ کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ دیہاتیوں نے روزانہ پانی کے استعمال کی پیمائش، پانی کے ضیاع کی روک تھام، اور پائپ لائن لیکیجز کی بروقت نشاندہی و فوری مرمت کی اہمیت پر گفتگو کی، جو برادری کی رپورٹنگ اور تیز رفتار کارروائی کے ذریعے ممکن بنائی جاتی ہے۔ باقاعدہ نگرانی سے گھریلو غسل خانوں اور بیت الخلاء سے پانی کے ضیاع میں کمی آئی ہے، جس سے بلا تعطل فراہمی یقینی ہوئی ہے۔

گرام سبھا کی میٹنگوں میں پانی سے متعلق شکایات پر باقاعدگی سے غور کیا جاتا ہے، جہاں معمولی مسائل ایک دن کے اندر حل کر لیے جاتے ہیں، جبکہ بڑے مسائل کو ضلع سطح پر بھیج کر بروقت حل کیا جاتا ہے۔ برادری نے پائیداری کو فروغ دینے کے لیے بارش کے پانی کے ذخیرے (رین واٹر ہارویسٹنگ) اور کچن گارڈنز اور دیگر غیر پینے کے مقاصد کے لیے گندے پانی کے دوبارہ استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

8.کلپینی جزیرہ، چندرپور، لکشدیپ

کلپینی کے ایگزیکٹو آفیسر نے ڈی ڈی ڈبلیو ایس کے افسران سے ملیالم زبان میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب پنچایت میں ہفتہ کے ساتوں دن اور چوبیسوں گھنٹے(24×7)پینے کے پانی کی فراہمی دستیاب ہے۔ اس سے قبل دیہی باشندوں کو پینے کے پانی کے لیے دور دراز علاقوں میں واقع کنوؤں پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جبکہ اب انہیں معیاری نل کا پانی براہِ راست گھروں میں مل رہا ہے، جو کھانا پکانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ کلپینی گرام پنچایت میں ہونے والی اس بات چیت کے دوران چوبیس گھنٹے پانی کی فراہمی پر خصوصی توجہ رہی، جو اب ضلع کے اندر ایک معیار (بینچ مارک) کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔

اس  بات چیت  میں شریک طلبہ نے یہ بھی بتایا کہ اسکولوں میں صاف پینے کے پانی تک رسائی اور بہتر صفائی ستھرائی کی سہولیات نے ان کی روزمرہ زندگی کو آسان اور زیادہ آرام دہ بنا دیا ہے۔

جے جے ایم کے ڈائریکٹر جناب وائی کے سنگھ نے تمام شرکاء کا استقبال کرتےہوئے پروگرام کا آغاز کیا اور سجل گرام سمواد کے تیسرے ایڈیشن کے مقصد کی مختصر وضاحت کی۔ بعد میں انہوں نے اظہار تشکر پیش کیا ، جس کے ساتھ پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

آگے کا راستہ

سجل گرام سمواد کا پلیٹ فارم جل جیون مشن کے اہداف کو آگے بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ پالیسی سازوں اور دیہی پانی کی فراہمی کی آخری حد تک خدمات کی ذمہ دار زمینی اداروں کے درمیان براہِ راست، دو طرفہ بات چیت کو ممکن بناتا ہے۔

سجل گرام سمواد کے تیسرے ایڈیشن نے مرکز اور زمینی اداروں کے درمیان فیڈبیک سسٹم کو مزید مضبوط کیا، جس سے دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کو پائیدار، عوامی مرکزیت والا اور مستقبل کے لیے تیار بنانے کے حکومت کے عزم کی تصدیق ہوئی۔

تیسرے ایڈیشن کی مکمل کارروائی یہاں دیکھی جا سکتی ہے:

وزارتِ جل شکتی | نیشنل انفارمیٹکس سینٹر، حکومت ہند کے ویب کاسٹ سروسز

 

*********************

UR-0911

(ش ح۔  م ع ن-ع ن)


(रिलीज़ आईडी: 2217202) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , हिन्दी , Punjabi , Malayalam