صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے طبی تعلیم میں مصنوعی ذہانت پر این بی ای ایم ایس آن لائن تربیتی پروگرام کا آغاز کیا
این بی ای ایم ایس اے آئی پروگرام کے لیے 42,000 سے زائدڈاکٹروں کا اندراج
صحت کی دیکھ بھال میں مصنوعی ذہانت اب اختیاری نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے:وزیر مملکت صحت
مصنوعی ذہانت طبی ماہرین کی معاونت کے لیے ہے، انہیں تبدیل کرنے کے لیے نہیں: انوپریہ پٹیل
प्रविष्टि तिथि:
21 JAN 2026 4:23PM by PIB Delhi
صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے آج حکومت ہند کی وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے تحت ایک خود مختار ادارہ نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشن ان میڈیکل سائنسز (این بی ای ایم ایس) کے ذریعہ تیار کردہ طبی تعلیم (میڈیکل ایجوکیشن )میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر ایک آن لائن تربیتی پروگرام کا آغاز کیا ۔

اس پروگرام کو تقریباً 50,000 ڈاکٹروں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بنیادی سمجھ اور اس کے کلینیکل پریکٹس، تشخیص، طبی فیصلہ سازی، تحقیق اور طبی تعلیم میں عملی استعمال کے بارے میں تربیت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس پہل کا مقصد طبی پیشہ ور افراد کی ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینا اور انہیں اے آئی پر مبنی آلات کو صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی اور تعلیمی عمل میں مؤثر طریقے سے شامل کرنے کے قابل بنانا ہے۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے اس پہل کے پرجوش ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ 42,000 سے زائد ڈاکٹر پہلے ہی اس پروگرام کے لیے اندراج کر چکے ہیں ۔ انہوں نے اس پہل کو بروقت اور مستقبل پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جو غیر متعدی بیماریوں کے نمایاں بوجھ اور تپ دق کے مسلسل چیلنج سے دوچار ہے .اس طرح کے پروگرام صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی میں ردعملی حکمت عملی سے زیادہ فعال اور روک تھام پر مبنی حکمت عملی کی طرف منتقلی میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
وزیرِ مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کی دیکھ بھال میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال اب اختیاری نہیں بلکہ ایک ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کا مقصد ڈاکٹروں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کو بڑھانا، طبی عملے کی کمی سے پیدا ہونے والے خلاؤں کو پر کرنا، اور مریضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو سنبھالنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کو اپنانے میں احتساب، قابل رسائی ہونا اور اخلاقی استعمال کے اصولوں کی رہنمائی ضروری ہے، تاکہ تکنیکی ترقی صحت کی دیکھ بھال کو مضبوط بنائے اور مریضوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے پروگرام کے تصور اور نفاذ میں قابل ستائش کوششوں کے لیے این بی ای ایم ایس کو بھی مبارکبادپیش کی اور ملک میں طبی تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کو مستحکم کرنے کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے فائدہ اٹھانے میں فعال کردار ادا کرنے پر ادارے کی تعریف کی ۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سکریٹری صحت محترمہ پنیا سلیلا سریواستو نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال میں مصنوعی ذہانت پر آن لائن تربیتی پہل کا آغاز ملک بھر میں طبی تعلیم کو مضبوط بنانے اور ڈاکٹروں کی صلاحیت سازی کی طرف ایک اہم قدم ہے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کو ذمہ دارانہ طور پر اپنانے ، صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کو بہتر بنانے اور ہندوستان کے ڈیجیٹل صحت کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے اہم ہیں ۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشن ان میڈیکل سائنسز (این بی ای ایم ایس) کے صدر ڈاکٹر ابھیجیت شیٹھ نے کہا کہ یہ پروگرام طبی تعلیم کو جدید بنانے اور ڈاکٹروں کے درمیان صلاحیت سازی کو مضبوط بنانے کے لیے این بی ای ایم ایس کے عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔ انہوں نے وزارت کی مسلسل حوصلہ افزائی اور تعاون کے لیے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ پروگرام ملک بھر کے ڈاکٹروں کو بااختیار بنائے گا اور صحت کی دیکھ بھال کے بہتر نتائج میں معاون ثابت ہوگا ۔
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے سینئر اہلکار، این بی ای ایم ایس کے معزز افسران، اور طبی تعلیم، میڈیکل ٹیکنالوجی اور صحت کی دیکھ بھال کے شعبوں کے قومی و بین الاقوامی ممتاز ماہرین بھی تقریب میں ورچوئل طور پر موجود تھے۔
*****
UR-882
(ش ح۔ ش آ۔ش ہ ب)
(रिलीज़ आईडी: 2217006)
आगंतुक पटल : 8