بجلی کی وزارت
اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ عوامی مشاورت کے لیے بجلی سے متعلق قومی پالیسی (این ای پی) 2026 کا مسودہ جاری
प्रविष्टि तिथि:
21 JAN 2026 9:32AM by PIB Delhi
وزارتِ توانائی نے نئی“بجلی سے متعلق قومی پالیسی (این ای پی) 2026” کے مسودے کے اجرا کا اعلان کیا ہے۔ مسودہ این ای پی 2026 کا مقصدوکست بھارت @2047 کے وژن کو پورا کرنے کے لیے بجلی کے شعبے میں ہمہ گیر تبدیلی لانا ہے۔ یہ پالیسی حتمی شکل اختیار کرنے کے بعد 2005 میں نافذ کی گئی موجودہ قومی بجلی پالیسی کی جگہ لے گی۔
فروری 2005 میں نوٹیفائی کی گئی پہلی قومی بجلی پالیسی نے بجلی کے شعبے کو طلب و رسد میں کمی، بجلی تک محدود رسائی اور ناکافی بنیادی ڈھانچہ درپیش جیسےبنیادی چیلنجز کو حل کرنے پر توجہ دی۔ اس کے بعد سے بھارت کے بجلی کے شعبے میں نمایاں اور انقلابی پیش رفت ہوئی ہے۔ نصب شدہ پیداواری صلاحیت میں چار گنا اضافہ ہوا، جس میں نجی شعبے کی نمایاں شراکت شامل ہے، مارچ 2021 تک ملک بھر میں بجلی کی ہمہ گیر فراہمی حاصل کی گئی،دسمبر 2013 میں متحدہ قومی گرڈ فعال ہوا اور 2024–25 میں فی کس بجلی کھپت 1,460 کلو واٹ فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔ پاور مارکیٹس اور ایکسچینجز نے ملک بھر میں بجلی کی خریداری میں لچک اور موثریت کو بہتر بنایا ہے۔
ان کامیابیوں کے باوجود، خاص طور پر ترسیل و تقسیم کے شعبے میں کچھ مستقل مسائل برقرار ہیں، جن میں جمع شدہ زیادہ نقصانات اور بقایا قرض شامل ہیں۔ متعدد شعبوں میں ٹیرف لاگت کے مطابق نہیں ہیں، جبکہ زیادہ کراس سبسڈی کے باعث صنعتی ٹیرف بہت زیادہ ہیں، جس سے بھارتی صنعت کی عالمی مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔
اسی پس منظر میں مسودہ این ای پی 2026 جرأت مندانہ مگر ناگزیر اہداف مقرر کرتا ہے۔ پالیسی کے تحت فی کس بجلی کھپت کو 2030 تک 2,000 کلو واٹ فی گھنٹہ اور 2047 تک 4,000 کلو واٹ فی گھنٹہ سے زائد تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ یہ پالیسی بھارت کے ماحولیاتی وعدوں سے بھی ہم آہنگ ہے، جن میں 2030 تک 2005 کی سطح کے مقابلے اخراج میں 45 فیصد کمی اور 2070 تک خالص صفراخراج کے حصول کا عزم شامل ہے، جس کے لیے کم کاربن توانائی کے طریقوں کی جانب فیصلہ کن منتقلی ضروری ہے۔
مسودہ این ای پی 2026 میں درج ذیل اہم اقدامات شامل ہیں:
- وسائل کی کفایت(آر اے)
- ضروری پیداواری صلاحیت میں توسیع کو یقینی بنانے کے لیے غیر مرتکز اور پیشگی منصوبہ بندی کے تحت ڈسکامز اور ایس ایل ڈی سی ریاستی کمیشنز کے ضوابط کے مطابق یوٹیلیٹی اور ریاستی سطح پر آراے منصوبے تیار کریں گے۔سی ای اے قومی سطح پر کفایت کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ قومی منصوبہ تیار کرے گی۔
- مالی پائیداری اور معاشی مسابقت:
- ٹیرف کو ایک موزوں اشاریے (انڈیکس) سے منسلک کیا جائے تاکہ اگر ریاستی کمیشن کی جانب سے کوئی ٹیرف آرڈر جاری نہ ہو تو سالانہ از خود نظرِ ثانی ممکن ہو سکے۔
- ٹیرف میں بتدریج مقررہ لاگت کی وصولی ڈیمانڈ چارجز کے ذریعے کی جائے تاکہ ٹیرف کے اجزا کے درمیان اور صارفین کے مختلف زمروں کے مابین کراس سبسڈی سے بچا جا سکے۔
- بھارتی مصنوعات کی معاشی مسابقت بڑھانے اور لاجسٹکس لاگت کم کرنے کے لیے مینوفیکچرنگ صنعت، ریلوے اور میٹرو ریلوے پر عائد کراس سبسڈیز اور سرچارجز سے استثنا دیا جائے۔
- ریگولیٹری کمیشنز، متعلقہ حکومتوں سے مشاورت کے بعد، 1 میگاواٹ یا اس سے زائد کنٹریکٹڈ لوڈ رکھنے والے صارفین کے سلسلے میں ڈسٹری بیوشن لائسنس یافتگان کو یونیورسل سروس آبلیگیشن سے مستثنیٰ قرار دے سکتے ہیں۔
- تنازعات کے حل کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ ریگولیٹری کمیشنز پر بوجھ کم ہو، تنازعات کا تیز تر حل ممکن ہو اور صارفین پر مالی بوجھ میں کمی آئے۔
- قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار اور ذخیرہ کاری
- مارکیٹ پر مبنی طریقۂ کار اور کیپٹو پاور پلانٹس کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی (آر ای) کی صلاحیت میں اضافہ۔
- چھوٹے صارفین کے لیےمعیشت کے پیمانوں سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے ڈسٹری بیوشن لائسنس یافتہ اداروں کے ذریعے اسٹوریج کی تنصیب اور بڑے صارفین کی جانب سے خود ذخیرہ کی تنصیب تاکہ تقسیم شدہ قابلِ تجدید توانائی (ڈی آر ای) کے ذرائع کو اپنانے میں سہولت ہو۔
- صارفین کی جانب سے خود (پی2پی) یا ایگریگیٹرز کے ذریعے ڈی آر ای سے حاصل ہونے والی اضافی توانائی اور ذخیرہ شدہ توانائی کی تجارت۔
- 2030 تک شیڈولنگ اور ڈیوی ایشن کے معاملات میں قابلِ تجدید توانائی اور روایتی ذرائع کے درمیان برابری۔
- ذخیرہ کاری کی مارکیٹ پر مبنی تعیناتی، ابھرتی ہوئی بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس) ٹیکنالوجیز کا استعمال، بی ای ایس ایس کے سیلز اور دیگر اجزا کی گھریلو تیاری اور بی ای ایس ایس و پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کے لیے طلب کی جانب مراعات جیسے وی جی ایف (وی جی ایف)۔
- حرارتی پیداوار
- ذخیرہ کاری کے انضمام اور پرانے یونٹس کی گرڈ سپورٹ کے لیے ازسرِنو استعمال، تاکہ قابلِ تجدید توانائی کے زیادہ استعمال کو ممکن بنایا جا سکے۔
- حرارتی پلانٹس سے پیدا ہونے والی بھاپ کے براہِ راست استعمال کے امکانات کابغورجائزہ مثلاً ڈسٹرکٹ کولنگ یا صنعتی عمل تاکہ وسائل کا بہترین استعمال ہو۔
- نیوکلیائی پیداوار
- شانتی ایکٹ، 2025 کی دفعات کے مطابق جدید نیوکلیائی ٹیکنالوجیز کااستعمال، ماڈیولر ری ایکٹرز کی تیاری، چھوٹے ری ایکٹرز کا قیام اور تجارتی و صنعتی صارفین کے ذریعے نیوکلیائی توانائی کا استعمال، تاکہ 2047 تک 100 گیگاواٹ کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
- آبی پیداوار
- سیلاب کے بندوبست، آبپاشی اور پانی نیز توانائی کی یقینی فراہمی کےلئے ذخیرہ کاری پر مبنی آبی بجلی منصوبوں کی تیز رفتار ترقی۔
- پاور مارکیٹس
- مارکیٹ مانیٹرنگ اور نگرانی کے لیے مضبوط ریگولیٹری فریم ورک، تاکہ ملی بھگت، گیمِنگ یا مارکیٹ میں غلبے کو روکا جا سکے۔
- ترسیل
- رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو) مسائل کے حل کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال اور زمین کے استعمال کے بدلے موزوں معاوضہ۔
- 2030 تک تمام اقسام کی نئی قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت کے لیے ترسیلی ٹیرف کو روایتی بجلی کے مساوی بنانا۔
- ترسیلی کنیکٹیویٹی کی تقسیم کے لیے استعمال پر مبنی فریم ورک اور مناسب ریگولیٹری طریقۂ کار تاکہ بہترین استعمال یقینی ہو اور قیاسی طور پر کنیکٹیویٹی رکھنے کی حوصلہ شکنی ہو۔
- تقسیم
- اے ٹی اینڈ سی نقصانات کو واحد ہندسے تک لانے کے اقدامات۔
- مشترکہ تقسیم نیٹ ورکس کے ذریعے مسابقت اور کارکردگی میں اضافہ اور نیٹ ورک کےڈپلیکیشن کی ضرورت کا خاتمہ۔
- ڈسٹری بیوشن سسٹم آپریٹر (ڈی ایس او) کا قیام، تاکہ نیٹ ورک شیئرنگ، تقسیم شدہ قابلِ تجدید ذرائع، ذخیرہ کاری اور وہیکل ٹو گرڈ (وی2جی) نظاموں کا انضمام ممکن ہو۔
- 2032 تک 10 لاکھ سے زائد آبادی والے تمام شہروں میں ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر کی سطح پر این-1 ریڈنڈنسی؛ نیز گنجان علاقوں میں تقسیم نیٹ ورک کو زیرِ زمین کرنے پر غور۔
- گرڈ آپریشنز
- ترسیل کی ریاستی یوٹیلیٹیز(ایس ٹی یو) کے کاموں کی تقسیم اور ایس ایل ڈی سی (ایس ایل ڈی سی) آپریشنز و ترسیلی منصوبہ بندی کے لیے ریاستی سطح کے آزاد اداروں کا قیام۔
- ای آر سی (سی ای آر سی) کی جانب سے متعین بھارتی الیکٹرکٹی گرڈ کوڈ کےساتھ ریاستی گرڈ کوڈز کی ہم آہنگی۔
- سائبر سکیورٹی:
- مضبوط سائبر سکیورٹی فریم ورک کا قیام۔
- ڈیٹا خودمختاری اور نظام کی لچیلے پن کو یقینی بنانے کے لیے بجلی کے شعبے کے ڈیٹا کی بھارت میں لازمی طور پر ذخیرہ کاری۔
- ڈیٹا شیئرنگ
- مرکزی حکومت کے مقررہ فریم ورک کے تحت عملیاتی اور مارکیٹ ڈیٹا کی شیئرنگ۔
- ڈسکامز اور ایس ایل ڈی سیز کو تقسیم شدہ توانائی وسائل کی ریئل ٹائم ویزیبلٹی کی فراہمی۔
- ٹیکنالوجی اور مہارت کی ترقی:
- 2030 تک مقامی طور پر تیار کردہ ایس سی اے ڈی اے نظام کی جانب منتقلی۔
- بجلی کے نظام میں تمام اہم ایپلی کیشنز کے لیے گھریلو سافٹ ویئر حل کی تیاری۔
ان تمام نئے التزامات کے ساتھ، مسودہ این ای پی 2026 مستقبل کے لیے تیار، مالی طور پر پائیدار اور ماحولیاتی طور پر مستحکم بجلی کے شعبے کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے، تاکہ وکست بھارت @2047کے اہداف کے حصول کے لیے مناسب قیمت پر قابلِ اعتماد اور معیاری بجلی فراہم کی جا سکے۔
********
(ش ح ۔ک ح ۔ف ر)
U. No. 840
(रिलीज़ आईडी: 2216696)
आगंतुक पटल : 18