بجلی کی وزارت
توانائی کی وزارت کا سال 2025 کا اختتامی جائزہ
प्रविष्टि तिथि:
16 JAN 2026 11:41AM by PIB Delhi
سال 2025 توانائی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم میں تاریخی پیش رفت کے باعث ملک کے برقی شعبے کے لیے ایک نہایت اہم سال ثابت ہواہے۔ 242.49 گیگاواٹ کی بجلی کی مانگ کو پورا کرنے سے لے کر مالی سال 2026-2025 میں قومی سطح پر توانائی کی قلت کو محض 0.03 فیصد تک محدود کرنے تک، بجلی کے شعبے نے پائیدار ترقی کے لئے اپنی مضبوطی اور عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ توانائی کے تحفظ، صارفین کو بااختیار بنانے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں نمایاں پیش رفت حکومت کی اس کوشش کی عکاس ہے کہ سب کے لیے قابلِ اعتماد، کفایتی اور صاف توانائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہمہ گیر برق کاری، دیہی علاقوں میں بجلی کی دستیابی میں اضافہ اور جدید ترین ٹیکنالوجیزکے اختیار جیسی بے مثال پہل قدمیوں کے ساتھ، بھارت عالمی توانائی کے شعبے میں قائد بننے کی سمت مضبوطی سے گامزن ہے۔
بجلی کی فراہمی کی صورتحال میں بہتری:
1.ریکارڈ مانگ کی تکمیل:
بھارت نے مالی سال 2026-2025 کے دوران بجلی کی 242.49 گیگاواٹ کی ریکارڈ مانگ کو کامیابی کے ساتھ پورا کیا۔
2.بجلی کی قلت میں تیزی سے کمی:
توانائی کی پیداوار اور ترسیلی صلاحیتوں میں خاطر خواہ اضافے کے باعث، قومی سطح پر توانائی کی کمی مالی سال 2026-2025 میں کم ہو کر محض 0.03 فیصد رہ گئی ہے، جو مالی سال 2014-2013 میں 4.2 فیصد تھی۔ یہ ایک بڑی اور قابلِ ذکر بہتری ہے۔
3.فی کس بجلی کھپت میں اضافہ:
ملک میں فی کس بجلی کی کھپت 2025-2024 میں بڑھ کر 1460 کلوواٹ ہو گئی ہے، جو 2014-2013 کے 957 کلوواٹ گھنٹے کے مقابلے میں 52.6 فیصد (503 کلوواٹ گھنٹے) کے اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
4.بجلی کی دستیابی میں بہتری:
دیہی علاقوں میں بجلی کی اوسط دستیابی 2014 میں 12.5 گھنٹے سے بڑھ کر 22.6 گھنٹے ہو گئی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں اب 2014 کے 22.1 گھنٹے کے مقابلے میں 23.4 گھنٹے تک بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ بجلی کی خدمات کی قابلِ اعتماد اور رسائی میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
بجلی کی پیداوار:
5. نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ:
ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں 104.4 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 31 مارچ 2014 تک 249 گیگاواٹ سے بڑھ کر 30 نومبر 2025 تک 509.743 گیگاواٹ ہو گئی ہے۔ جنوری تا نومبر 2025 کے دوران بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں 55.57 گیگاواٹ کا اضافہ درج کیا گیا۔
6.قابلِ تجدید توانائی میں اہم توسیع:
اپریل 2014 سے اب تک، بڑے آبی بجلی منصوبوں سمیت 178 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی پیداواری صلاحیت شامل کی گئی ہے۔ اس میں 130 گیگاواٹ شمسی توانائی، 33 گیگاواٹ بادی توانائی، 3.4 گیگاواٹ بایوماس، 1.35 گیگاواٹ چھوٹے ہائیڈرو اور تقریباً 9.9 گیگاواٹ بڑی ہائیڈرو جنریشن کی صلاحیت شامل ہے، جو صاف توانائی کے تئیں ملک کی مضبوط وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔
7.تھرمل پروجیکٹوں کا ایوارڈ
ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کی متوقع بجلی کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے، مالی سال 2026-2025 میں (30 نومبر 2025 تک) 13.32 گیگاواٹ نئی کوئلہ پر مبنی حرارتی صلاحیت شروع کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مالی سال 2026-2025 میں (30 نومبر 2025 تک) مزید 7.21 گیگاواٹ صلاحیت بھی تجارتی طور پر شروع کی گئی ہے۔ کوئلہ اور لگنائٹ پر مبنی حرارتی بجلی گھروں کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت اب 226.23 گیگاواٹ ہو چکی ہے۔ مزید 40.35 گیگاواٹ صلاحیت زیرِ تعمیر ہے، جس میں سے 7.03 گیگاواٹ کے مالی سال 2026-2025 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ 24.02 گیگاواٹ صلاحیت، منصوبہ بندی، منظوری اور بولی کے مختلف مراحل میں ہے۔
8. کوئلے کے ذخیرے کی پوزیشن:
مارچ 2025 تک، گھریلو کوئلہ پر مبنی (ڈی سی بی) بجلی گھروں کے پاس 55.48 ملین ٹن کوئلے کا ذخیرہ موجود تھا۔ 21 دسمبر 2025 تک، ان بجلی گھروں کے پاس 51.7 ملین ٹن کوئلہ دستیاب تھا، جسے مارچ 2026 تک بڑھا کر 66 ملین ٹن کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مالی سال 2026 کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے دوران کوئلے کی مسلسل فراہمی نے جون 2025 میں 242.49 گیگاواٹ کی ریکارڈ مانگ کو پورا کرنا یقینی بنایا۔ گھریلو کوئلے کی دستیابی میں بہتری کے پیش نظر، وزارتِ بجلی نے 15 اکتوبر 2024 کے بعد درآمدی کوئلے کے امتزاج سے متعلق ایڈوائزری کو ختم کر دیا ہے۔
9. شکتی پالیسی پر نظر ثانی:
اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی نے مئی 2025 میں بجلی کے شعبے کو کوئلے کی شفاف الاٹمنٹ کے لیے ترمیم شدہ شکتی (بھارت میں کوئلے کی کانکنی اور الاٹمنٹ کی پالیسی) کو منظوری دی۔ اس ترمیم کے ذریعے بجلی کے شعبے کو کوئلہ فراہم کرنے کے نظام کو مزید منظم اور مؤثر بنایا گیا ہے۔ ترمیم شدہ شکتی پالیسی کے نفاذ کے ساتھ کاروبار میں آسانی، کوئلے کی دستیابی میں اضافہ، عملی لچک اور مسابقت کو فروغ دینے کے مقصد سے کوئلہ الاٹمنٹ سے متعلق موجودہ آٹھ دفعات کو صرف دو ونڈوز کے تحت مربوط کیا گیا ہے۔ اس سے حرارتی صلاحیت کا زیادہ سے زیادہ استعمال ممکن ہوتا ہے، سستی بجلی کو فروغ ملتا ہے، درآمدات پر انحصار کم ہوتا ہے اور بھارت کی توانائی سلامتی مزید مضبوط ہوتی ہے۔
10.ہائیڈرو پروجیکٹس.
مرکزی حکومت نے اگست 2025 میں اروناچل پردیش میں تاتو۔II آبی بجلی منصوبے (700 میگاواٹ) کو منظوری دی ہے۔ یہ منصوبہ 72 ماہ میں 8146.21 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، این ایچ پی سی نے 15 اپریل 2025 کو پاروَتی۔II آبی بجلی منصوبہ (800 میگاواٹ) کو مکمل طور پر تجارتی بنیادوں پر شروع کر دیا ہے۔
11. پمپ اسٹوریج منصوبے(پی ایس پی):
بھارت میں پمپ اسٹوریج منصوبوں کی ممکنہ صلاحیت تقریباً 258 گیگاواٹ ہے، جس میں سے اب تک تقریباً 7 گیگاواٹ (2.7 فیصد) صلاحیت تیار کی جا چکی ہے۔ حکومت نے 2031-32 تک 57 گیگاواٹ پی ایس پی صلاحیت شامل کرنے کا پرعزم ہدف مقرر کیا ہے، جس میں سے 12 گیگاواٹ زیرِ تعمیر ہے جبکہ باقی مختلف ترقی مراحل میں ہے۔
12. بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (بی ای ایس ایس)
بیٹری توانائی ذخیرہ نظام کی ترقی کے لیے ویایبلٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف) اسکیموں کے تحت 43,220 میگاواٹ صلاحیت شامل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ترسیل :
13. قومی بجلی منصوبہ:
حکومتِ ہند نے 2023 سے 2032 کے عرصے کے لیے مرکزی اور ریاستی ترسیلی نظام پر مشتمل قومی بجلی منصوبہ کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کا مقصد 2032 تک 458 گیگاواٹ کی ریکارڈ مانگ کو پورا کرنا ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 9.16 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ سابقہ منصوبہ (2022-2017) کے تحت ہر سال تقریباً 17,700 سرکٹ کلو میٹر (سی کے ایم) لائنیں اور 73 گیگا وولٹ ایمپیئر (جی وی اے سی)کی تبدیلی صلاحیت شامل کی گئی تھی۔نئے منصوبے کے تحت ملک کا ترسیلی نیٹ ورک نومبر 2025 میں 4.98 لاکھ سی کے ایم سے بڑھ کر 2032 تک 6.48 لاکھ سی کے ایم ہو جائے گا۔ اسی مدت کے دوران تبدیلی صلاحیت 1,398 جی وی اے سے بڑھ کر جی وی اے2,345 ہو جائے گی، جبکہ بین علاقائی منتقلی کی صلاحیت 120 گیگاواٹ سے بڑھ کر 168 گیگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔ اس منصوبے میں 220 کے وی اور اس سے اوپر کے نیٹ ورک شامل ہیں۔ یہ منصوبہ بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے، قابلِ تجدید توانائی کے انضمام کو آسان بنانے اور گرڈ میں سبز ہائیڈروجن کو شامل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
14.پچیس اعشاریہ ایک-چار گیگاواٹ آئی ایس ٹی ایس صلاحیت کی منظوری:
جنوری 2025 سے نومبر 2025 کے دوران، 38,849 کروڑ روپے کی لاگت سے 25.8 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی سے منسلک بین ریاستی ترسیلی منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ سال 2030 تک 280 گیگاواٹ متغیر قابلِ تجدید توانائی (وی آر ای) کو بین ریاستی ترسیلی نظام (آئی ایس ٹی ایس) سے جوڑنے کے لیے تقریباً 335 گیگاواٹ ترسیلی نیٹ ورک درکار ہوگا۔ اس میں سے 48 گیگاواٹ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے، 172 گیگاواٹ زیرِ تعمیر ہے اور 18.5 گیگاواٹ کے لیے ٹینڈر کا عمل جاری ہے۔ باقی 96.5 گیگاواٹ کو مناسب وقت پر منظوری دی جائے گی۔
15.ترسیلی نظام میں بہتری:
سال 2025 کے دوران 6,511 سی کے ایم ٹرانسمیشن لائنیں (220 کے وی اور اس سے اوپر)، 1,00,368 ایم وی اے ٹرانسفارمیشن صلاحیت (220 کے وی اور اس سے اوپر) اور 1,600 میگاواٹ بین علاقائی منتقلی صلاحیت شامل کی گئی ہے۔
16. رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو) معاوضہ سے متعلق رہنما خطوط:
سال 2030 تک 500 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کے انخلاءکے لیے بجلی کی ترسیلی بنیادی ڈھانچے کی بروقت ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے، وزارتِ بجلی نے جون 2024 میں رائٹ آف وے کے رہنما خطوط میں ترمیم کی، جس کے تحت معاوضے کو زمین کی مارکیٹ ویلیو سے جوڑ دیا گیا۔
ٹاور بیس ایریا کے لیے معاوضہ زمین کی قیمت کے 85 فیصد سے بڑھا کر 200 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ آر او ڈبلیو کوریڈور کے لیے معاوضہ زمین کی قیمت کے 15 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں، وزارتِ بجلی نے 21 مارچ 2025 کو آر او ڈبلیو سے متعلق معاوضے کی ادائیگی کے لیے ضمنی رہنما خطوط بھی جاری کیے۔ ان رہنما خطوط کے تحت آر او ڈبلیو معاوضے کی ادائیگی کے لیے زمین کی مارکیٹ قیمت کا تعین آزاد زمین قدر معلوم کرنے والے ماہرین کی جانب سے کیے گئے تخمینے کی بنیاد پر مارکیٹ ریٹ کمیٹی (ایم آر سی) کے ذریعے کیا جائے گا۔بین ریاستی ترسیلی نظام (آئی ایس ٹی سی) لائنوں کے لیے آر او ڈبلیو کوریڈور کے معاوضے کی رقم میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے مطابق:دیہی علاقوں میں زمین کی قیمت کا 30 فیصد،ریاستی حکومت کی جانب سے نوٹیفائیڈ میونسپل کارپوریشنز اور میٹروپولیٹن علاقوں میں زمین کی قیمت کا 60 فیصد،میونسپلٹیوں، نگر پنچایتوں اور ریاستی حکومت کی جانب سے نوٹیفائیڈ دیگر تمام شہری منصوبہ بندی والے علاقوں میں زمین کی قیمت کا 45 فیصد معاوضہ مقرر کیا گیا ہے۔
بجلی کی تقسیم:
17. ریویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم (آر ڈی ایس ایس):
آر ڈی ایس ایس کا مقصد تقسیم کار کمپنیوں کی آپریشنل کارکردگی اور مالی استحکام کو بہتر بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 19,79,30,131 پری پیڈ اسمارٹ میٹرز، 52,52,692 ڈی ٹی میٹرز اور 2,05,475 فیڈر میٹرز کو 1,30,671 کروڑ روپے کی لاگت سے منظوری دی گئی ہے۔ مزید برآں، 1,52,854 کروڑ روپے کے نقصان میں کمی کے کاموں کو منظوری دی گئی ہے اور آر ڈی ایس ایس کے تحت اب تک 38,187 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔31 دسمبر 2025 تک، آر ڈی ایس ایس کے تحت 3.76 کروڑ صارفین کے میٹر، 12.56 لاکھ ڈی ٹی میٹر اور 1.58 لاکھ فیڈر میٹر نصب کیے جا چکے ہیں۔اس اسکیم کے تحت کیے گئے اصلاحی اقدامات کے نتیجے میں، سال 2025 میں اے ٹی اینڈ سی نقصانات کم ہو کر 16.16 فیصد (عارضی) رہ گئے ہیں، جبکہ اے سی ایس – اے آر آر فرق گھٹ کر 0.11 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ (عارضی) ہو گیا ہے، جو مالی سال 2021 میں بالترتیب 21.91 فیصد اور 0.69 روپے فی کلوواٹ گھنٹہ تھا۔
18.قبائلی اور کمزور طبقات تک بجلی کی رسائی:
پردھان منتری جنمن (پردھان منتری جن جاتیہ آدیواسی نیائے مہا ابھیان) کے تحت خاص طور پر کمزور قبائلی گروپس کے تمام شناخت شدہ کنبوں، ڈی اے–جے جی یو اے (دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اتکرش ابھیان) کے تحت قبائلی کنبوں اور پردھان منتری جاتیہ ابھیودیئے یوجنا (پی ایم-اے جےاے وائی) کے تحت شناخت شدہ خاندانوں کو آر ڈی ایس ایس کے تحت گرڈ سے بجلی کے کنکشن فراہم کیے جا رہے ہیں۔
اب تک، آر ڈی ایس ایس کے تحت 13,65,139 خاندانوں کی بجلی کاری کے لیے مجموعی طور پر 6,522 کروڑ روپے منظور کیے جا چکے ہیں، جن میں پردھان منتری جنمن اور ڈی اے–جے جی یو اے اقدامات کے تحت شناخت شدہ عوامی مقامات بھی شامل ہیں۔
توانائی کا تحفظ اور کارکردگی:
19.بھارتی کاربن مارکیٹ:
وزارتِ بجلی نے کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم (سی سی ٹی ایس) کو نوٹیفائی کیا ہے، جس کے تحت صنعتوں کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے اور کاربن کریڈٹس حاصل کرنے کا اختیار ملتا ہے۔ یہ اقدام یکسرتبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کو فروغ دیتا ہے اور بھارت کو عالمی سبز مالیات میں ایک قائدانہ حیثیت دینے میں معاون ہے۔ سی سی ٹی ایس کا جامع فریم ورک دو طریقۂ کار پر مشتمل ہے: الف تعمیل اور (ب) آفسیٹ۔
* الف۔ تعمیل کے طریقۂ کار کے تحت:
اس کے تحت، مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ گرین ہاؤس گیس اخراج کی شدت کے اہداف کی پابندی کرنا لازم ہوگا۔ جو تعمیلی ادارے اپنی اخراجی شدت کو مقررہ معیار سے کم کر لیتے ہیں، انہیں کاربن کریڈٹ سرٹیفکیٹسجاری کیے جائیں گے۔ جبکہ جو ادارے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، وہ بھارتی کاربن مارکیٹ سے سی سی سی خرید کر اپنی کمی پوری کر سکیں گے۔
مرکزی حکومت نے اکتوبر 2025 میں ایلومینیم، سیمنٹ، کلور۔الکلی اور پلپ اینڈ پیپر—ان چار شعبوں کے لیے گرین ہاؤس گیس اخراج کی شدت کے اہداف نوٹیفائی کیے تھے، جن میں 282 تعمیلی ادارے شامل ہیں۔
* ب۔ آفسیٹ طریقۂ کار :
آفسیٹ طریقۂ کار ایک رضاکارانہ، منصوبہ جاتی بنیاد پر قائم کریڈٹ نظام ہے۔ اس کے تحت غیر تعمیلی ادارے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، اخراج کے خاتمے یا بچاؤ سے متعلق اپنی منصوبہ جات کو رجسٹر کروا کر کاربن کریڈٹ سرٹیفکیٹس حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ طریقۂ کار اُن شعبوں سے بھی اخراج میں کمی حاصل کرنے میں مدد دے گا جو تعمیلی نظام کے دائرے میں نہیں آتے، اور ایسے شعبوں میں اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے گا۔آفسیٹ میکانزم کے تحت 9 طریقہ کار اور تفصیلی طریقہ کار شائع کیے گئے ہیں ۔
20.معیارات اور لیبلنگ پروگرام:
گھریلو آلات کے شعبے میں، بیورو آف انرجی ایفیشینسی کا معیارات و لیبلنگ پروگرام توانائی استعمال کرنے والے آلات اور مشینوں کے بارے میں صارفین کو باخبر انتخاب فراہم کرنے میں نہایت کامیاب رہا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں ای وی چارجرز اور ایواپوریٹو ایئر کولرز کے لیے رضاکارانہ اسٹار لیبلنگ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ان اضافی آلات کے ساتھ، اس پروگرام کے تحت اب مجموعی طور پر 41 آلات شامل ہو چکے ہیں، جن میں سے 18 آلات لازمی مرحلے میں ہیں جبکہ بقیہ 23 آلات رضاکارانہ مرحلے میں ہیں۔
21. چھوٹے اور اوسط درجے کے کاروباری اداروں میں توانائی کی کارکردگی کو مضبوط بنانے کے لیے،اے ڈی ای ای ٹی آئی ای(صنعتوں اور اداروں میں توانائی کی مؤثر ٹیکنالوجیز کی تعیناتی میں مدد) پروجیکٹ جولائی 2025 میں 1,000 کروڑ روپےکی لاگت سے شروع کیا گیا تھا۔ یہ پروجیکٹ قابل سرمایہ کاری آڈٹ سپورٹ، رہنمائی اور سود پر سبسڈی فراہم کرتا ہے (مائیکرو/چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے 5 فیصد؛ درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے 3 فیصد)۔ یہ توانائی کی کارکردگی اور مسابقت کو فروغ دیتے ہوئے 14 شعبوں میں 60 کلسٹرز کا احاطہ کرتا ہے۔
اصلاحات اور اقدامات
22. تاخیر سے ادائیگی پر اضافی چارج کے قواعد، 2022:
بجلی کی پیداواری کمپنیوں اور دیگر اداروں کے بڑھتے ہوئے بقایاجات کے باعث بجلی کے شعبے کی ویلیو چین میں ادائیگی کے نظم و ضبط کو فروغ دینا طویل عرصے سے تشویش کا باعث رہا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے مرکزی حکومت نے 3 جون 2022 کو بجلی (تاخیر سے ادائیگی پر اضافی چارج اور متعلقہ امور) قواعد، 2022 نوٹیفائی کیے۔ ان قواعد کے نفاذ کے بعد نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
3 جون 2022 تک 1,39,947 کروڑ روپے کے پرانے بقایاجات کے مقابلے میں، 13 ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے 39 ای ایم آئیز، پیشگی ادائیگی اور ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے 1,31,942 کروڑ روپے کی ادائیگی کی ہے۔ اس کے نتیجے میں بقایاجات کم ہو کر صرف 8,005 کروڑ روپے رہ گئے ہیں، اور اب بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اپنے موجودہ واجبات بروقت ادا کر رہی ہیں، جو شعبے میں مالی نظم و ضبط میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید برآں، توانائی کی وزارت نے 2 مئی 2025 کو بجلی (تاخیر سے ادائیگی پر اضافی چارج اور متعلقہ امور) قواعد میں ترمیم نوٹیفائی کی، جس کے تحت بین ریاستی ترسیلی لائسنس ہولڈرز کو بھی قواعد میں متعین ادائیگی کے تحفظ کے نظام کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس ترمیم سے بین الریاستی ترسیلی لائسنس ہولڈرز کے لیے بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے اور ادائیگی کے تحفظ کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی، جس کے نتیجے میں بین الریاستی ترسیلی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے اہم سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے گا۔ یہ اقدام منصوبہ بند قابلِ تجدید توانائی پیداوار کی صلاحیت میں توسیع سے حاصل ہونے والی بجلی کی مؤثر نکاسی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
23. بجلی (ترمیم) ضابطہ، 2025:
صارفین کی ملکیت میں توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی اجازت دینے کے لیے بجلی کے قواعد، 2005 میں ترمیم کی گئی ہے۔ یہ ترامیم بھارت کے بجلی نظام میں توانائی ذخیرہ کے مؤثر انضمام کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بناتی ہیں، جس سے نظام کی قابلِ اعتمادیت، لچک اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔
24. پن بجلی منصوبوں سے متعلق سرمایہ جاتی اخراجات میں ترمیم:
حکومتِ ہند نے یکم اگست 2025 کی نوٹیفکیشن کے ذریعے پن بجلی پیدا کرنے والے مراکز کے قیام سے متعلق منصوبوں کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات کی حد میں ترمیم کرتے ہوئے اسے 3,000 کروڑ روپے کر دیا ہے، جس کے لیے مرکزی بجلی اتھارٹی (سی ای اے) کی منظوری درکار ہوگی۔
اس کے علاوہ، حکومت نے آف-اسٹریم کلوزڈ-لوپ پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کو، سرمایہ جاتی اخراجات کی مقدار سے قطع نظر، سی ای اے کی منظوری کی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
25.توانائی کی منتقلی اور این ڈی سی کی تکمیل:
بھارت نے مقررہ مدت سے تقریباً پانچ سال پہلے ہی 50 فیصد مجموعی غیر فوسل ایندھن پر مبنی بجلی صلاحیت کے قومی سطح پر طے شدہ شراکت (این ڈی سی)کے ہدف کو حاصل کر لیا ہے۔ غیر فوسل بجلی صلاحیت کا حصہ 2014 میں 32 فیصد سے بڑھ کر اکتوبر 2025 تک 51 فیصد ہو گیا ہے، جو صاف توانائی کی جانب بھارت کی تیز رفتار پیش رفت اور عالمی موسمیاتی اہداف کے تئیں اس کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
***
ش ح۔ ک ا۔ خ م
U.NO.817
(रिलीज़ आईडी: 2216463)
आगंतुक पटल : 11