وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

سمندری غذا کی برآمدات کے فروغ کے لیے سفیروں اور ہائی کمشنرز کے ساتھ ماہی پروری گول میز کانفرنس 21 جنوری 2026 کو منعقد ہوگی


اس کانفرنس کا مقصد دو طرفہ تجارت کو مضبوط بنانا اور بین الاقوامی بازاروں کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے

प्रविष्टि तिथि: 20 JAN 2026 11:16AM by PIB Delhi

ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کا محکمۂ ماہی پروری، 21 جنوری 2026 کو نئی دہلی میں سمندری غذا کی برآمدات کے فروغ کے لیے سفیروں اور ہائی کمشنرز کے ساتھ ایک گول میز کانفرنس منعقد کررہا ہے ، جس کا مقصد دو طرفہ تجارت کو مضبوط بنانا اور بین الاقوامی منڈیوں کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کی صدارت ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت اور وزارتِ پنچایتی راج (ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی)کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ کریں گے۔ اس موقع پر جناب جارج کوریان، وزیر مملکت، ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی اور وزارتِ اقلیتی امور، نیز پروفیسر ایس پی سنگھ باگھیل، وزیر مملکت،ایم او ایف اے ایچ اینڈ ڈی اور وزارتِ پنچایتی راج کی معززنمائندوں کی  موجودگی رہے گی۔

بھارت دنیا میں آبی زراعت کا دوسرا سب سے بڑا پیداواری ملک ہے اور مچھلی و آبی غذاؤں کے عالمی سطح پر نمایاں پیدا کرنے والوں میں شامل ہے۔ گزشتہ برسوں میں یہ شعبہ محض گزر بسر کی سرگرمی سے نکل کر ایک مضبوط، تجارتی اور برآمدات پر مبنی نظام میں تبدیل ہو چکا ہے، جس میں فارمنگ، فیڈ، پروسیسنگ، کولڈ چین، لاجسٹکس اور ویلیو ایڈیشن شامل ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں چھوٹے، حاشیہ پر زندگی گزار رہے  اور روایتی ماہی گیروں اور کسانوں کی روزی روٹی کو بھی سہارا مل رہا ہے۔ نشان زداسکیموں اور مؤثر پالیسیوں کی بدولت بھارت آج مچھلی اور ماہی پروری مصنوعات برآمد کرنے والا دنیا کا چھٹا بڑا ملک بن چکا ہے۔ مالی سال25-2024 میں سی فوڈ کی برآمدات 16.98 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے، جن کی مالیت 62,408 کروڑ روپے (7.45 ارب امریکی ڈالر) رہی، جو بھارت کی مجموعی زرعی برآمدات میں تقریباً 18 فیصد کا حصہ ہے۔

حکومتِ ہند اس گول میز کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہے، جس میں ایشیا، افریقہ، یوروپ، شمالی امریکہ، اوشیانیا اور لاطینی امریکہ اورکیریبین کے 83 شراکت دار ممالک کے سفیروں اور ہائی کمشنرز کی شرکت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ اس کانفرنس میں وزارتِ خارجہ، محکمۂ ماہی پروری، میرین پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم پی ای ڈی اے) ، ایکسپورٹ انسپیکشن کونسل (ای آئی سی) ، محکمۂ تجارت، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) ، وزارتِ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز (ایم او ایف پی آئی ڈی) کے سینئر حکام اور بین الاقوامی اداروں جیسے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے کیو) ، ایجنسی فرانسز ڈی ڈیولپمنٹ (اے ایف ڈی)، ڈوئچے گیزیلشافٹ فر انٹرنیشنل زوسامن آربائٹ (جی آئی زیڈ) ، بے آف بنگال پروگرام (بی او بی پی) ، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (آئی ایف اے ڈی) کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ یہ کانفرنس سی فوڈ تجارت، مارکیٹ تک رسائی، ضابطہ جاتی تعاون اور دو طرفہ و کثیر جہتی تعاون  کو مزید گہرا کرنے کے نئے مواقع پر منظم مکالمے کے لیے ایک اہم سفارتی اور تکنیکی پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔

کانفرنس میں ہونے والی گفتگو کا مرکز پائیدار، شناخت کے قابل  اور ویلیو ایڈڈ سی فوڈ تجارت کے فروغ پر ہوگا، ساتھ ہی سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صلاحیت سازی کے امکانات کی نشاندہی کی جائے گی۔ مباحثہ میں سی فوڈ ویلیو چین کو موسمیاتی اور مارکیٹ سے جڑے خطرات کے مقابل زیادہ مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اہم موضوعاتی شعبوں میں عالمی سی فوڈ تجارت کے رجحانات اور منڈیوں میں تنوع کے مواقع؛ معیارات، سرٹیفکیشن اور ضابطہ جاتی تعاون؛ ٹریسی ایبلیٹی، ڈیجیٹل رپورٹنگ اور تعمیلی نظام؛ پائیداری اور ذمہ دارانہ سورسنگ؛ ویلیو ایڈیشن، پروسیسنگ اور مصنوعات میں جدت؛ کولڈ چین انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور بندرگاہی رابطہ کاری؛ بلیو ویلیو چین میں مالی معاونت، شراکت داریاں اور نجی شعبے کی شمولیت؛ اور ماہی پروری اور آبی زراعت میں ڈیجیٹل اور تکنیکی تبدیلی شامل ہیں۔

مباحثے میں عالمی منڈیوں کی ابھرتی ہوئی سرگرمیوں کو بھی اجاگر کیا جائے گا، جن میں اعلیٰ معیار، سرٹیفائیڈ اور پائیدار ذرائع سے حاصل شدہ سی فوڈ کی بڑھتی ہوئی مانگ ، شمالی امریکہ، یوروپ اور مشرقی ایشیا میں آبی زراعت پر مبنی پروٹین کے استعمال میں اضافہ، اور پریمیئم مصنوعات کے شعبوں کی توسیع شامل ہے، جیسے ریڈی ٹو کُک، ریڈی ٹو ایٹ اور نیوٹراسیوٹیکل معیار کی سمندری مصنوعات۔ یہ رجحانات بھارت کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی معیارات پر بہتر عمل درآمد، ویلیو ایڈڈ پروسیسنگ پر زیادہ توجہ، انواع واقسام میں تنوع اور آبی زراعت، پروسیسنگ صلاحیت اور مضبوط برآمداتی بنیاد میں اپنی مسابقتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی منڈیوں میں اپنی رسائی کو بڑھا سکے۔

گول میز کانفرنس کے نتائج سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، ماہی پروری کی ویلیو چینز میں روزگار اور ذریعۂ معاش کو بہتر بنانے، اور پائیداری، مضبوطی اور جامع ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

 

************

 

 

ش ح۔م م ع ۔ ج ا

 (U: 808)


(रिलीज़ आईडी: 2216376) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu