شہری ہوابازی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انڈیگو کی پروازوں میں رکاوٹیں- دسمبر 2025:


تحقیقات، تنفیذی اقدامات اور نظامی اصلاحات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 JAN 2026 8:46PM by PIB Delhi

ایم/ایس انڈیگو کی رپورٹ کے مطابق3 دسمبر تا 5 دسمبر 2025 کے دوران بڑے پیمانے پر  فلائٹس میں تاخیر اورپروازوں کی منسوخی کے بعد،  جن کے نتیجے میں 2,507 پروازیں منسوخ ہو ئی تھیں اور 1,852 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئی تھیں اور مختلف ہوائی اڈوں پر 3 لاکھ سے زائد مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاتھا، وزارت شہری ہوابازی (ایم او سی اے) کی ہدایات پر، ڈی جی سی اے نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جسے ایم/ایس انڈیگو کی آپریشنل رکاوٹوں کے اسباب کی جامع تحقیقات اور جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

کمیٹی نے تفصیلی تحقیقات کیں، متعلقہ  فریقوں کے بیانات قلمبند کیے اور انڈیگوکی نیٹ ورک پلاننگ، یومیہ روسٹراورانڈیگو کے ذریعہ استعمال شدہ سافٹ ویئر کا بغور مطالعہ کیا۔

انکوائری کمیٹی کے اہم نتائج یہ تھے:

کمیٹی نے بتایا کہ پروازوں میں خلل کی بنیادی وجوہات میں آپریشن کی حد سے زیادہ مثالی نوعیت، مناسب ضابطہ جاتی تیاری کا فقدان، زیر استعمال سسٹم سافٹ ویئر کی معاونت میں خامیاں، اور ایم/ایس انڈیگو کی مینجمنٹ ڈھانچے اور آپریشنل کنٹرول کی کمزوریاں شامل تھیں۔

کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ ایئر لائن کی انتظامیہ نے پلاننگ کی خامیوں کی مناسب شناخت نہیں کرسکی، آپریشنل بفر کو برقرار نہیں رکھا، اور فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن(ایف ڈی ٹی ایل) کی نظر ثانی شدہ دفعات کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کیا۔ ان کوتاہیوں کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر پروازوں کی تاخیر اور بڑے پیمانے پر فلائٹس منسوخ ہوئیں، جس سے مسافروں کو شدید تکلیف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انکوائری کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عملہ، طیاروں، اور نیٹ ورک وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر انتہائی زیادہ توجہ دی گئی، جس کی وجہ سے یومیہ روسٹر میں بفر کی حدود نمایاں طور پر کم ہو گئیں۔ عملہ کے روسٹر اس طرح ترتیب دیے گئے کہ ڈیوٹی کے اوقات زیادہ سے زیادہ ہوں، جس میں ڈیڈ ہیڈنگ، ٹیل سویپس، طویل ڈیوٹی پیٹرن  اور کم از کم ریکوری بفر پر زیادہ انحصار کیا گیا۔ اس طریقہ کار سے یومیہ روسٹر کی سالمیت متاثر ہوئی اور آپریشنل استحکام کوشدید نقصان پہنچا۔انکوائری کے دائرہ کار میں طویل مدتی اصلاحی اقدامات بھی شامل تھے جن سے انتظامی مسائل حل ہوں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات نہ پیش آئیں اور مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تحقیقاتی نتائج میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ متوازن آپریشنل منصوبہ بندی، مضبوط ضابطہ جاتی تیاری، اور مؤثر مینجمنٹ نگرانی ضروری ہے تاکہ پائیدار آپریشن اور مسافروں کی حفاظت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔

کمیٹی کے نتائج اور سفارشات ایم او سی اے کو بھیج دی گئی ہیں۔ مناسب غور و خوض کے بعد، ڈی جی سی اے نے درج ذیل تنقیدی اقدامات کیے ہیں:
انٹرگلوب ایوی ایشن کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی:

سی ای او کو انتباہی نوٹس دیا گیا کہ پروازوں کے آپریشن اور بحران کے نظم پر مجموعی نگرانی ناکافی تھی۔اکاؤنٹیبل منیجر(سی اواو)کو وارننگ دی گئی کہ وہ ونٹر شیڈول2025 اور نظر ثانی شدہ ایف ڈی ٹی ایل  سی اے آرکے اثرات کا مناسب اندازہ نہیں لگا سکے، جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔سینئر وائس پریزیڈینٹ (سی او او)کو وارننگ دی گئی اور انہیں موجودہ آپریشنل ذمہ داریوں سے برخاست کرنےکی ہدایت دی گئی اور یہ کہ انہیں کوئی اکاؤنٹیبل عہدہ نہ دیا جائے، کیونکہ وہ نظامی منصوبہ بندی اورایف ڈی ٹی ایل کی نظر ثانی شدہ دفعات کے بروقت نفاذ میں ناکام رہے۔

اس کے علاوہ، ڈپٹی ہیڈ  فلائٹ آپریشن،اے وی پی کریو ریسورس پلاننگ، اور ڈائریکٹرفلائٹ آپریشن کو بھی آپریشنل کام کاج، نگرانی، افرادی قوت کی منصوبہ بندی اور یومیہ روسٹر کے انتظام میں کوتاہیوں پر وارننگ جاری کی گئی ہے۔ مزید برآں، ایم/ایس انڈیگو کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی داخلی تحقیقات کے ذریعے شناخت ہونے والے کسی دیگر اہلکاروں کے خلاف مناسب کارروائی کرے اور ڈی جی سی اے کو تعمیل کی رپورٹ جمع کروائے۔

انفرادی تنفیذی اقدامات کے علاوہ، ایم/ایس انڈیگو ایئرلائن پر یکمشت مالی جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، جو کہ 1937 کے ایئر کرافٹ رول 133اے کے تحت جاری کردہ ہدایات کی تعمیل نہ کرنے پر لگایا گیاہے۔قابل اطلاق قانونی دفعات کی عدم تعمیل پر لگائے جانے والے جرمانے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

 

نمبر شمار

سی اے آر ریفرینس

عدم تعمیل کی نوعیت

تجویز کردہ جرمانہ

1

سی اے آر 7/J/III (ایف ڈی ٹی ایل سی اے آر)

فلائٹ ٹائم، فلائٹ ڈیوٹی پیریڈ، ڈیوٹی پیریڈ اور ریسٹ پیریڈ کے وقفوں کی تعمیل کے لیے اسکیم وضع کرنے اور مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکامی؛ روسٹر پلاننگ میں ناکافی بفر مارجن

30,00,000 روپے

2

سی اے آر  7/J/III

کاروباری ضروریات اور عملہ کے ارکان کی مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں ناکامی

30,00,000 روپے

3

سی اے آر 8/O/VII – حصہ اے (جنرل)

فلائٹ آپریشن کی انجام دہی سے متعلق آپریشنل اہلکاروں کی ذمہ داریوں کا خاکہ پیش کرنے والی ہدایات کی عدم تعمیل

30,00,000 روپے

4

سی اے آر 8/O/II – پیرا 3.1.4

منظور شدہ طریقوں کے برعکس آپریشنل کنٹرول کی ذمہ داریوں کی نامناسب تفویض اور عمل آوری

30,00,000 روپے

5

سی اے آر 3/C/II - ضمیمہ III، پیرا 1

ڈی جی سی اے کے معیارات کے مطابق مجموعی کام کاج، فنانسنگ اور آپریشن کی انجام دہی کو یقینی بنانے میں جوابدہ انتظام کی ناکامی

30,00,000 روپے

6

سی اے آر 3/C/II - ضمیمہ III، پیرا 2.4

عہدیدار افسران ایوی ایشن سیفٹی کے معیارات، سی اے آر اور آپریشنل مینوئل کی مناسب سمجھ کے ساتھ ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے

30,00,000 روپے

اس کے علاوہ، سی اے آر 7/J/III (نظرثانی شدہ) شق 3.11 اور شق 6.1.4) کی دفعات کی مسلسل عدم تعمیل کے لیے،68 دنوں کی مدت تک، یعنی 05 دسمبر 2025 سے 10 فروری 2026 تک (بشمول دونوں دن )۔

 

یومیہ جرمانہ:  30,00,000 روپے

عدم تعمیل کے ایام:      68 دن

مسلسل عدم تعمیل کے لئے کل جرمانہ:

68 ×  30,00,000 روپے = 20,40,00,000/- روپے

(20 کروڑ 40 لاکھ روپے)

 

جزو

رقم

یکمشت انتظامی جرمانہ

1.80 کروڑ روپے

مسلسل عدم تعمیل کا جرمانہ

20.40 کروڑ روپے

کل جرمانہ

22.20 کروڑ روپے

 (بائیس کروڑ بیس لاکھ روپے فقط)

مندرجہ بالا کے علاوہ، انڈیگو کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ڈی جی سی اے کے حق میں50 کروڑ روپے کی بینک گارنٹی پیش کرے، تاکہ ہدایات کی تعمیل اور طویل مدتی نظامی اصلاحات کو یقینی بنایا جا سکے۔

50 کروڑ روپے کی بینک گارنٹی سے منسلک اصلاحی فریم ورک کو انڈیگو سسٹمک ریفارم ایشورنس اسکیم (آئی ایس آر اے ایس) کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت بینک گارنٹی کی مرحلہ وار ریلیزڈی جی سی اے کی جانب سے درج ذیل چار عمود میں اصلاحات کے نفاذ کی تصدیق سے مشروط ہے: لیڈرشپ اور گورننس(10کروڑروپے3 ماہ کے اندر تصدیق ہونے پر)، افرادی قوت کی منصوبہ بندی، یومیہ روسٹر اور تھکن کے خطرے کا نظم(ابتدائی اور مسلسل تعمیل پر 6 ماہ کے دوران 15 کروڑروپے)، ڈیجیٹل سسٹم اور آپریشنل استحکام(9 ماہ کے اندر اپ گریڈاور حفاظتی اقدامات کی منظوری پر 15 کروڑروپے)، اوربورڈ سطح کی نگرانی اور مسلسل تعمیل(9–15 ماہ کے دوران مسلسل تعمیل کی صورت میں10 کروڑروپے)۔ بینک گارنٹی کی ریلیز ہر مرحلے پر ڈی جی سی اے کی آزادانہ تصدیق اور سرٹیفیکیشن سے مشروط ہوگی۔یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ نظامی اصلاحات کو ایم او سی اے اور ڈی جی سی اے کی نگرانی میں، انڈیگو کی سینئر مینجمنٹ کے تعاون سے، ہوا بازی کے نظام کی بہتری کے مفاد میں قریب سے مانیٹر کیا جائے۔

ڈی جی سی اے یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ ایم /ایس انڈیگو نے انتہائی تیزی سے صورتحال  کومعمول پر لانے کے لیے کام کیا ہے اور ایئر لائن نے بہت مختصر وقت میں اپنی پروازوں کے آپریشن  کومعمول کی سطح پر بحال کردیا ہے۔ڈی جی سی اے یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ متاثرہ مسافروں کو بروقت رقم کی واپسی اور سی اے آر کے تحت معاوضہ دینے کے علاوہ، ایم او سی اے کی ہدایات پر، انڈیگو نے مسافروں کو’گیسچر آف کیئر‘ (جی او سی) واؤچر بھی فراہم کیا، جس کی مالیت 10,000 روپےہے اور یہ واؤچر 12 ماہ کے لیے قابل استعمال ہے۔ یہ واؤچر ان پروازوں کے لیے جاری کیا گیا جو 3 دسمبر تا 5 دسمبر 2025 کے دوران 3 گھنٹے یا اس سے زیادہ تاخیر یا منسوخ ہوئی تھیں۔

مزید برآں، ایم او سی اے کی ہدایات پر، ڈی جی سی اے کے اندر انتظامی بہتریوں کی نشاندہی اور نفاذ کے لیے داخلی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ڈی جی سی اے پھر سے یہ واضح کرتی ہے کہ حفاظتی اور ضابطہ جاتی تعمیل سب سے اہم ہیں، اور تمام تنفیذی اقدامات کا مقصد نظامی لچک کو مضبوط کرنا اور شہری ہوا بازی کے شعبہ  میں مستقل آپریشنل حفاظت کو یقینی بنانا ہے، تاکہ پائلٹس، عملہ اور دیگر آپریشنل اہلکاروں کے جائز مفادات اور فلاح و بہبود کو مناسب طور پر ملحوظ خاطر رکھا جا سکے۔

****

 (ش ح –م ش ع۔اش ق)

U. No. 772


(ریلیز آئی ڈی: 2216151) وزیٹر کاؤنٹر : 52