امور داخلہ کی وزارت
مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون جناب امت شاہ کا آج گجرات کے ضلع آنند میں ‘چروستہ’ کے 15ویں کنووکیشن سے خطاب
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ 11 برسوں میں پائیدار ترقی کی روایت قائم ہوئی ہے
سردار پٹیل نے کہا تھ‘‘ کردار سازی کے بغیر تعلیم بیکار ہے’’ ،یہ اقتباس ہر ایک کی زندگی کا نصب العین ہونا چاہیے
نوجوانوں کو ‘‘میں کیا بنوں گا’’ پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ ‘‘میں معاشرے اور ملک کو کیا دوں گا’’ پر بھی غور کرنا چاہئے
گزشتہ دہائی میں، اعلیٰ تعلیم میں نشستوں کی تعداد، کورس کے ڈیزائن اور تعلیم کے بعد دستیاب مواقع کی توسیع میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں
ہندوستان کو 2047 تک ہر میدان میں عالمی لیڈر بنانے کے لیے جو کوششیں، محنت اور منصوبہ بندی کی جارہی ہے، وہ نوجوان نسل اور ہندوستان کے مستقبل کے لیے ہے
زندگی میں ہمیشہ بڑے خواب دیکھیں، معاشرے اور ملک کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور کریں اور 2047 میں ملک کو عظیم بنانے کے ویژن کے ساتھ کام کریں
وزیر داخلہ نے کنووکیشن میں ڈگریاں حاصل کرنے والے 2,129 طلباء کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا
प्रविष्टि तिथि:
13 JAN 2026 9:45PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون جناب امت شاہ نے آج گجرات کے ضلع آنند میں چروتر یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (چروستہ) کے 15ویں کنووکیشن سے خطاب کیا۔ اس موقع پر کئی معززین موجود تھے۔
وزیر داخلہ اور تعاون جناب امت شاہ نے کہا کہ آج کے کنووکیشن کے بعد فارغ التحصیل طلبہ یونیورسٹی چھوڑ کر ملک، سماج، خاندان اور خود کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کے دوران طلباء کو جدت، تحقیق اور تعلیم کے ساتھ ساتھ اقدار پر مبنی تعلیم اور حب الوطنی بھی سکھائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سردار پٹیل کا یہ قول کہ‘‘تعلیم کردار سازی کے بغیر بے کار ہے’’ ہماری زندگیوں کا بنیادی اصول ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ صرف تعلیم سے انسانیت، سماج یا ملک کی فلاح نہیں ہو سکتی۔ جب علم اور کردار کو یکجا کیا جائے تو ہی انسان انسانیت اور معاشرے دونوں کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے کہا تھا کہ تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے یا ہنر بڑھانے تک محدود نہیں ہے۔ تعلیم نوجوانوں اور طلباء میں نظم و ضبط پیدا کرنے ان کے کردار کی تعمیر اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داری کو تسلیم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ جناب شاہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ چروتر یونیورسٹی نے اس کام کو بخوبی انجام دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج یہاں سے 2,129 طلباء ڈگریوں کے ساتھ فارغ التحصیل ہوں گے۔ ان میں سے 45 نے گولڈ میڈل اور 38 نے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انہوں نے ان طلباء کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون نے کہا کہ علم قابلیت لاتا ہے اور بے مقصد زندگی کبھی اپنے مقصد تک نہیں پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ صرف وہی لوگ زندگی میں کچھ حاصل کرتے ہیں جنہوں نے ایک مقصد طے کیا اور اپنی پوری زندگی اس کے حصول کے لیے وقف کردی۔ جناب شاہ نے کہا کہ روشن کریئر کے عزم کے ساتھ ساتھ آج فارغ التحصیل طلباء کو سماج اور ہندوستان کے لئے کام کرنے کا عہد کرنا چاہئے۔ تب ہی ان کی زندگی کا مقصد متعین ہو گا، اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے محنت کو تحریک ملے گی۔ یہ سوچنا ضروری ہے کہ میں کیا بنوں گا، لیکن یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ میں معاشرے اور ملک کو کیا واپس دوں گا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ آج ڈگریاں حاصل کرنے والے نوجوان ایسے وقت میں فارغ التحصیل ہوئے ہیں جب ہندوستان اپنے امرت کال کا تجربہ کر رہا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے 75 سے لے کر 100 سال تک کے پچیس سال کے اس عرصے کو ہندوستان کا امرت کال (امرت دور) کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری آزادی کے 75 برسوں میں ہم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے اور کئی شعبوں میں ترقی کی ہے۔ تاہم، آزادی کے 75 سے 100 سال تک کا یہ عرصہ ایک امرت کال (امرت کا دور) اور ہندوستان کے لیے قرارداد کا دور ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ہم نے ملک کے لیے بہت سے مقاصد حاصل کیے ہیں۔ گیارہ سال قبل 2014 میں ملکی معیشت گیارہویں مقام پر تھی۔ آج ہمارے ملک کی معیشت دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 31 دسمبر 2027 کو ہم دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہوں گے۔ 11ویں سے چوتھے نمبر پر جانے کا مطلب ملک کے نوجوانوں کے لیے بے پناہ امکانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا گیا ہے جہاں ہندوستان کے بیٹے اور بیٹیاں دنیا بھر کے نوجوانوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں کئی طرح کی ترقی شروع کی گئی ہے اور گزشتہ 11 برسوں میں پائیدار ترقی کی روایت قائم ہوئی ہے۔ اس سے دنیا بھر میں ملک کی عزت میں اضافہ ہوا ہے اور نوجوانوں کے لیے بے پناہ مواقع کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان عالمی مینوفیکچرنگ کا مرکز بن گیا ہے۔ مودی کی قیادت میں دس برسوں میں، ہم نے ہندوستان کو ایک ایسے شعبے میں ایک بانی رکن کے طور پر قائم کیا ہے جو آئندہ 25 برسوں تک عالمی معیشت کی سمت کو تشکیل دے گا۔ آج پوری دنیا گرین انرجی میں ہندوستان کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ دنیا خلا میں ہندوستان کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ ہم نے سبز ہائیڈروجن میں ایک مضبوط آغاز کیا ہے۔ ہم نے دفاعی پیداوار میں تیزی سے ترقی کی ہے۔ جہاں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ تھوڑی دیر سے شروع ہوئی، آج پوری دنیا سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے میدان میں ہندوستان کی ترقی سے حیران ہے۔یہ ہندوستان ہی جودنیا کی ساٹھ فیصد دوا تیار کرتا ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ آزادی کا امرت مہوتسو کے دوران وزیر اعظم مودی نے قوم سے وعدہ کیا کہ جب 15 اگست 2047 کو ہندوستان کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے تو ہندوستان ہر میدان میں دنیا کا نمبر ایک ملک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوشش، محنت اور منصوبہ بندی نوجوان نسل کے مستقبل اور ہندوستان کے مستقبل کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عہد اب مودی کا عہد نہیں ہے بلکہ ملک کے 1.4 ارب عوام کا عہد بن گیا ہے کہ پندرہ اگست 2047 کو ہمارا مادر وطن ہندوستان دنیا میں سب سے اونچے مقام پر ہوگا۔
امور داخلہ اور تعاون کے مرکزی وزیر نے کہا کہ چروستہ سے گریجویٹ، ڈاکٹریٹ یا ڈبل گریجویٹ ڈگری کے ساتھ فارغ التحصیل ہونے والے ہر طالب علم کو 2047 میں ایک عظیم ہندوستان کی تعمیر کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نوجوانوں کو کچھ چیزیں سکھانا چاہتے ہیں: پہلے ہمیشہ بڑے خواب دیکھیں، ناکامی کے خوف پر قابو پالیں اور ہمت سے کام لیں۔ آپ کے خواب ضرور پورے ہوں گے۔ دوسرا، فنی تعلیم کے حامل نوجوانوں کو مسلسل اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی کو معاشرے اور ملک کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تیسرا، سیکھتے رہیں اور اپنے اندر کے طالب علم کو کبھی مرنے نہ دیں۔ چوتھا، سیکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ پانچویں، تکنیکی علم کے حصول میں کبھی بھی شارٹ کٹ نہ لینے کا عزم کریں۔ اور چھٹا، ملک سے اوپر کوئی چیز نہیں۔ 2047 میں ملک کو عظیم بنانے کے ویژن کے ساتھ اپنا کام کریں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اسٹارٹ اپ کلچر ہندوستان کے نوجوانوں میں موروثی ہے۔ آج، ہم اسٹارٹ اپس اور یونیکارن اسٹارٹ اپس کی تعداد میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ اسٹارٹ اپ کلچر ہمارے نوجوانوں میں موروثی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں میں ملک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں- جس سے نشستوں کی تعداد، کورس ڈیزائن اور تعلیم کے بعد دستیاب مواقع کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی سے لے کر 2014 تک اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعداد 51,000 (اکیاون ہزار)تھی، آج صرف 10 برسوںں میں یہ 51,000 (اکیاون ہزار)سے بڑھ کر 71,000 (اکھہترہزار) ہو گئی ہے۔ یونیورسٹیوں کی تعداد 760 سے بڑھ کر 1,391 (ایک ہزار تین سو ساٹھ ) ہوگئی ہے۔ کالجز آج 38,498 (اڑتیس ہزار چارسو اٹھانوے )سے بڑھ کر 53,000 (ترپن ہزار)ہو گئے ہیں۔ میڈیکل کالجز کی تعداد 387 (تین سو ستاسی)سے بڑھ کر 818 (آٹھ سو اٹھارہ) ہوگئی۔ایم بی بی ایس کی نشستوں کی تعداد 51000 (اکیاون ہزار )سے بڑھ کر 129000 (ایک لاکھ انتیس ہزار)ہوگئی۔ پی جی کی نشستوں کی تعداد 31,000 (اکتیس ہزار )سے بڑھ کر 82,000(بیاسی ہزار) ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویژنری منصوبہ بندی کے ساتھ گزشتہ گیارہ برسوں میں ملک کی اعلیٰ تعلیم کی بنیاد کو وسیع کرنے کا کام کیا گیا ہے۔ اس سے ان نوجوانوں کے لیے بھی بے پناہ مواقع پیدا ہوئے ہیں جو اس اعلیٰ تعلیم سے فارغ التحصیل ہوں گے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ چروتر کی سرزمین نے ہندوستان کو بہت کچھ دیا ہے۔ اس سرزمین پر پیدا ہو نے والے سردار ولبھ بھائی پٹیل، وٹھل بھائی پٹیل، اور ایچ ایم پٹیل جیسے نورتنوں نے ہندوستان کو ہر شعبہ میں کچھ نہ کچھ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضلع آنند میں حال ہی میں تری بھون کوآپریٹیو یونیورسٹی قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تری بھون داس پٹیل نے اس ملک میں تعاون(کوآپریٹیو) کا تصور قائم کیا اور اسے کامیاب بنایا، جس کی آج بھی ضرورت ہے۔ امول کی بنیاد بھی تری بھون داس نے رکھی تھی۔ جناب شاہ نے کہا کہ آج امول کوآپریٹیو سیکٹر میں دنیا کی نمبر ایک کوآپریٹیو تنظیم ہے۔ گجرات کی بیس لاکھ سے زیادہ بہنیں اس سے وابستہ ہیں اور آج امول کا کاروبار ایک لاکھ کروڑ روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امول کی کامیابی سے پوری دنیا حیران ہے۔ انہوں نے کہا کہ امول کا اصل آئیڈیا اسی چروتر کی سرزمین نے دیا تھا اور کامیابی بھی اسی مقدس سرزمین پر ملی تھی۔
*****
ش ح – ظ ا- ن س
UR No. 556
(रिलीज़ आईडी: 2214385)
आगंतुक पटल : 9