بھاری صنعتوں کی وزارت
سال کے اختتام کا جائزہ- 2025: بھاری صنعتوں کی وزارت
’’2025: بھاری صنعتوں کی وزارت نے پی ایل آئی کی ریکارڈ سرمایہ کاری اور پی ایم ای-ڈرائیو کی کامیابی کے ساتھ ہندوستان میں الیکٹرک گاڑیوں میں بے مثال ترقی کو تیز کیا’’
‘‘الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر جدید بیٹریوں تک: بھاری صنعتوں کی وزارت نے 2025 میں مستحکم مینوفیکچرنگ ترقی کو آگے بڑھاتے ہوئے ‘میک ان انڈیا’ کو بااختیار بنایا’’
پی ایل آئی، پی ایم ای- ڈرائیو، اور ای- بس سیوا: 2025 ہندوستان کی صاف نقل و حرکت کی تبدیلی کے لیے ایک تاریخی سال کے طور پر ابھرا ہے
प्रविष्टि तिथि:
13 JAN 2026 11:04AM by PIB Delhi
سال- 2025 کے دوران بھاری صنعتوں کی وزارت (ایم ایچ آئی) کے اہم اقدامات/کامیابیاں/پروگرام درج ذیل ہیں:
پچیس ہزار نو سو ارتیس(25,938 )کروڑ کے بجٹ کے ساتھ آٹوموبائل اور آٹو پارٹس کی صنعت کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) اسکیم کا مقصد ایڈوانسڈ آٹوموٹیو ٹیکنالوجی (اے اے ٹی) سے متعلقہ مصنوعات کے لیے ہندوستان کی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو بڑھانا، لاگت کی رکاوٹوں کو دور کرنا اور ایک مضبوط سپلائی چین بنانا ہے۔ 15.09.2021 کو منظور شدہ، یہ اسکیم مالی سال 2023-24 سے 2027-28 تک چلے گی، جس میں مالی سال 2024-25 سے 2028-29 تک مراعات تقسیم کی جائیں گی۔ یہ اسکیم الیکٹرک گاڑیوں اور ہائیڈروجن فیول سیل کے اجزاء کے لیے 13فیصد-18 فیصد اور دیگر اے اے ٹی اجزاء کے لیے 8فیصد-13 فیصد کی مراعات فراہم کرتی ہے۔ 82 منظور شدہ درخواست دہندگان ہیں جن کی تخمینہ سرمایہ کاری 42,500 کروڑ روپے سلسلہ وار طریقے سے2,31,500 کروڑ روپے کی بڑھتی ہوئی فروخت اور پانچ برسوں میں 1.48 لاکھ ملازمتیں پیدا کی گئی ہیں۔
پی ایل آئی- آٹو اسکیم کے تحت 30.09.2025 تک 35,657 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری اور32,879 کروڑ روپے کی متوقع فروخت حاصل کی گئی ہے۔ مزید برآں، 48,974 لوگوں کے لیے روزگار پیدا ہوا ہے۔
پی ایل آئی-آٹو اسکیم کے تحت مالی سال 2023-24 کاپہلا کارکردگی کا سال تھا۔ مالی سال 2024-25 میں 322 کروڑ روپے مالیت کے دعوے ادا کیے گئے، اور 2024-25 کے لیے 1,999.94 کروڑ روپےکے دعوے تقسیم کیے گئے ہیں۔
اسکیم کے تحت کل 13,61,488 یونٹس (یعنی 10,42,172 الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں(ای –ڈبلیو2) ، 2,38,385 الیکٹرک تھری وہیلر(ای-ڈبلیو3) ، 79,540 الیکٹرک فور وہیلر (ای- ایس ای ایس ایا139) الیکٹرک بسوں کے لیے مراعات فراہم کی گئی ہیں۔ 31.12.2025 میں پی ایل آئی آٹو اسکیم صرف ان مصنوعات کو مراعات فراہم کرتی ہے جو 50 فیصد کی کم از کم ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن (ڈی وی اے) حاصل کرتی ہیں۔ 31.12.2025 تک، چمپئن او ای ایم زمرے میں آٹھ (8) درخواست دہندگان نے 94 گاڑیوں کی اقسام کے لیے ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن (ڈی وی اے) سرٹیفیکیشن حاصل کیا ہے، جب کہ کمپو ننٹ چمپئن کے زمرے میں دس (10) درخواست دہندگان نے 37 گاڑیوں کی اقسام کے لیے ڈی وی اے سرٹیفیکیشن حاصل کیا ہے۔
پی ایم ای ڈرائیو اسکیم: پی ایم ای ڈرائیو اسکیم 29 ستمبر 2024 کو شروع کی گئی تھی، جس کی لاگت 10,900 کروڑ روپے تھی۔ای ایم پی ایس-2024 کو پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ پی ایم ای- ڈرائیو اسکیم کے تحت عمل درآمد کی مدت ابتدائی طور پر دو سال تھی، یکم اپریل 2024 سے 31 مارچ 2026 تک۔ بھاری صنعتوں کی وزارت ( ایم ایچ آئی) نے بعد ازاں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کی مدت میں 31 مارچ 2028 تک توسیع کی گئی۔ تاہم، ای-2ڈبلیواور ای -26گاڑیوں کی آخری تاریخ مارچ 2026 تک باقی ہے۔
پی ایم ای ڈرائیو اسکیم کا مقصد ملک میں الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کو اپنانے میں تیزی لانا، چارجنگ انفراسٹرکچر قائم کرنا اور ای وی مینوفیکچرنگ کے لیے سازگار ایکو سسٹم تیار کرنا ہے۔
اس الاٹمنٹ میں 2.8 ملین سے زیادہ الیکٹرک گاڑیوں ( ای وی ایس) کی تیاری کی حوصلہ افزائی کے لیے 3,679 کروڑ روپے کی سبسڈی شامل ہے۔ ان گاڑیوں میں 24.79 لاکھ ای -2ڈبلیو ایس ، 3.28 لاکھ ای –ڈبلیو ایس 2.89 لاکھ ای-3ڈبلیو ایل5 اور 39,034 ای رکشے اور ای کارٹس، ای ایمبولینس اور 5,643 ای ٹرک شامل ہیں۔ اس میں پبلک ٹرانسپورٹ ایجنسیوں کے ذریعہ 14,028 ای بسوں کی تعیناتی کے لئے 4,391 کروڑ روپے، مناسب پبلک ای وی چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کے لئے 2,000 کروڑ روپے ، جانچ ایجنسیوں کو اپ گریڈ کرنے کے لئے 780 کروڑروپے، اور انتظامی اخراجات کے لئے 50 کروڑ روپے شامل ہیں۔
پی ایم ای - ڈرائیو اسکیم کے تحت درج ذیل کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں:
- بتاریخ 31.12.2025 تک1,703.32 کروڑ روپے کے دعوے ادا کیے گئے ہیں اور اسکیم کے تحت کل 21,36,305 الیکٹرک گاڑیاں فروخت کی گئی ہیں۔
- دو کروڑ اٹھاسی لاکھ آٹھ سو نو(2,88,809) ای-3ڈبلیو(یونٹس) کا ہدف دسمبر 2025 میں حاصل کیا گیا تھا۔ اسکیم کی آخری تاریخ سے بہت پہلے۔
- III. سی ای ایس ایل نے پہلے مرحلے میں 10,900 ای-بسوں کے لیے ٹینڈر کا عمل مکمل کیا، جو اب تک کے سب سے بڑے ٹینڈرز میں سے ایک ہے، جس میں پانچ میٹروپولیٹن شہروں (دہلی، احمد آباد، سورت، حیدرآباد اور بنگلور) کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ نرخ کنٹریکٹ لیٹر کے اجراء اور رعایتی معاہدوں پر دستخط کے لیے متعلقہ شہروں کو بھیجے گئے ہیں۔
- ای ٹرکوں، ای وی پی سی ایس اور جانچ ایجنسیوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں۔
الیکٹرک مسافر کاروں کی تیاری کے فروغ کی اسکیم (ایس ایم ای سی) کو بھاری صنعتوں کی وزارت (ایم ایچ آئی) نے 15 مارچ 2024 کو مطلع کیا تھا۔ اس کا مقصد عالمی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، ہندوستان کو الیکٹرک گاڑیوں (ای-4ڈبلیو) کے مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر فروغ دینا اور گھریلو قیمت میں اضافہ (ڈی وی اے) کو بڑھانا ہے۔ منظور شدہ درخواست دہندگان کو تین سال کے اندر کم از کم4,150 کروڑ(500ملین امریکی ڈالر ) کی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہوگی، اس مدت کے دوران 25 فیصد ڈی وی اے اور پانچ برسوں کے اندر 50 فیصد ڈی وی اےحاصل کرنا شامل ہے۔ یہ اسکیم ہر سال 8,000 گاڑیوں تک محدودای-4ڈبلیو کی درآمد کی اجازت دیتی ہے، جس میں فی درخواست دہندہ 6,484 کروڑ روپے یا کمٹیڈ سرمایہ کاری تک محدود ڈیوٹی چھوٹ کے ساتھ۔ یہ پہل مقامی مینوفیکچرنگ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے ‘میک ان انڈیا’ کے مطابق ہے اور پی ایل آئی-آٹو اسکیم کے ساتھ بھی منسلک ہے۔
***
ٹی پی جے
پردھان منتری ای-بس سیوا - ادائیگی سیکورٹی میکانزم (پی ایس ایم) اسکیم:
بھاری صنعتوں کی وزارت (ایم ایچ آئی) نے 28 اکتوبر 2024 کو اس اسکیم کو نوٹیفائیڈ کیا، جس کی کل مالیاتی لاگت 3,435.33 کروڑ روپےہے۔ اس کا مقصد مجموعی لاگت کے معاہدے (جی سی سی) یا اس جیسے ماڈل کے تحت ای بسوں کی خریداری اور آپریشن میں پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹیز (پی ٹی اے ایس) سے بقایا واجبات کی صورت میں او ای ایم ایس /آپریٹرز کے لیے ادائیگی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ یہ اسکیم 12 برسوں میں 38,000 یا اس سے زیادہ ای بسوں کی خریداری کا احاطہ کرتی ہے، اس میں ایک ایسکرو اکاؤنٹ اور آر بی آئی کے ساتھ ڈائریکٹ کلیئرنس آرڈر (ڈی ڈی ایم) جیسے میکانزم شامل ہیں تاکہ عدم ادائیگی کی صورت میں فنڈز کی وصولی کی جاسکے۔ پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کو دئیے گئے فنڈز کو 90 دنوں کے اندر واپس کرنا ضروری ہے۔ایم ایچ آئی نے کنورجینس انرجی سروسز لمٹیڈ(سی ای ایس ایل) کو اپنی عمل آوری ایجنسی کے طور پر نامزد کیا ہے اور نگرانی کے لیے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ اسکیم نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور ای-بس اختیار کرنے میں خطرے کا انتظام کرکے پائیدار شہری نقل و حرکت کی حمایت کرتی ہے۔ تفصیلی معیاری آپریٹنگ طریق کار ( ایس او پی ایس )جاری کر دیا گیا ہے۔
پندرہ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں (گجرات، کرناٹک، راجستھان، پنجاب، تلنگانہ، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، میگھالیہ، مہاراشٹر، اتراکھنڈ، اڈیشہ، جموں و کشمیر، پڈوچیری، آسام، اور منی پور) نے ایم ایچ آئی کی پی ایم ای ڈرائیو اسکیم میں حصہ لینے والے ڈی ڈی ایم ایس 22 دسمبر 2025 تک ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو اسکیم کے تحت ایک لازمی ضرورت کے طور پر شامل ہیں۔
اعلی درجے کی کیمسٹری سیل (اے سی سی) بیٹری اسٹوریج کے لیے پیداوار پر مبنی ترغیب (پی ایل آئی) اسکیم: بھاری صنعتوں کی وزارت پیداوار پر مبنی ترغیب (پی ایل آئی) اسکیم کو نافذ کر رہی ہے جسے ‘اعلی درجے کی کیمسٹری سیل (اے سی سی) بیٹری اسٹوریج پر قومی پروگرام’ کہا جاتا ہے، جو کہ دو مئی میں گھریلو پیداواری صلاحیت کے لیے 2 سال کی منظوری دی گئی تھی۔ 18,100 کروڑ روپے کے کل اخراجات کے ساتھ جی ڈبلیو 50 ہے۔ اس اسکیم کی کل مدت 7 سال ہے، جس میں ابتدائی مرحلے کے لیے پہلے 2 سال اور نفاذ کے مرحلے کے لیے اگلے 5 سال ہیں۔
کل ہدف کردہ(اے سی سی)50 جی ڈبلیو صلاحیت میں سے 30 جی ڈبلیو صلاحیت بولی کے پہلے دور میں 3 فائدہ اٹھانے والی فرموں کو مختص کی گئی ہے:میسرز اے سی سی انرجی اسٹوریج پرائیویٹ لمٹیڈ(5جی ڈبلیو)، میسرز اولا سیل ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمٹیڈ (20جی ڈبلیو) اورریلیاج انرجی لمیٹیڈ(ایس5جی ڈبلیو)۔ دریں اثنا، بولی کے دوسرے دور میں 10 گیگا واٹ صلاحیت ایک فائدہ اٹھانے والی فرم، میسرز ریلائنس نیو انرجی بیٹری لمیٹڈ کو مختص کی گئی۔ بقیہ 10 گیگاواٹ صلاحیت گرڈ پیمانے پر اسٹیشنری اسٹوریج ایپلی کیشنز کے لیے مختص کی گئی ہے۔
اولا سیل ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمٹیڈ نے جی ڈبلیو 1 کی نصب صلاحیت کے ساتھ ایک گیگا اسکیل اے سی سی مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کیا ہے۔ کمپنی نے مارچ 2024 سے پائلٹ پروڈکشن شروع کر دی ہے اور فی الحال مکمل کمرشل پروڈکشن کے لیے آپریشنز کو ہموار کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
اس اسکیم کے تحت، 2,878 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور 30 اکتوبر 2025 تک 1,118 لوگوں کو ملازمت دی گئی ہے۔
ہندوستانی کیپٹل گڈز سیکٹر میں مسابقت بڑھانے کی اسکیم - فیز II
مورخہ 25 جنوری2022 کو بھاری صنعتوں کی وزارت (ایم ایچ آئی) نے ہندوستانی کیپٹل گڈز سیکٹر میں مسابقت بڑھانے کی اسکیم کے دوسرے مرحلے کو نوٹیفائیڈ کیا، جس کا مقصد عام ٹیکنالوجی کی ترقی اور خدمات کے بنیادی ڈھانچے کے لیے تعاون فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے لیے مالیاتی تخمینہ کی رقم ایک ہزار دو سو سات(1,207) کروڑ روپے ہے، جس میں 975 کروڑ روپے کی بجٹ امداد اور 232 کروڑ روپے کی صنعت کا تعاون شامل ہے۔ ہندوستانی کیپٹل گڈز سیکٹر میں مسابقت بڑھانے کی اسکیم کے دوسرے مرحلے میں چھ اجزاء ہیں، جو کہ درج ذیل ہیں:
- ٹیکنالوجی کی اختراعی پورٹلز کے ذریعے ٹیکنالوجیز کی شناخت؛
- چار نئے ایڈوانسڈ سینٹرز آف ایکسی لینس کا قیام اور موجودہ سینٹرز آف ایکسیلنس کی توسیع؛
- کیپٹل گڈز کے شعبے میں مہارت کی ترقی کو فروغ دینا - مہارت کی سطح 6 اور اس سے اوپر کے لیے قابلیت کے پیکج تیار کرنا؛
- چار مشترکہ انجینئرنگ سہولت مراکز (سی ای ایف سی ایس) کا قیام اور موجودہ سی ای ایف سی ایس کی توسیع؛
- موجودہ ٹسٹنگ اور سرٹیفیکیشن مراکز کی توسیع؛
- ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے دس انڈسٹری ایکسلریشن سینٹرز کا قیام
اسکیم کے دوسرے مرحلے کے تحت اب تک کل 29 پروجیکٹوں کی منظوری دی گئی ہے، جن کی پروجیکٹ لاگت 891.37 کروڑ روپے (تقریباً 714.64 کروڑ) ہے اور حکومت کی شراکت714.64 کروڑ ہے۔ ان 29 پروجیکٹس میں 7 سینٹرز آف ایکسیلنس (سی او ای ایس) ، 4 کامن انجینئرنگ فیسیلٹی سینٹرز(سی ای ایف سی ایس ) ، 6 ٹسٹنگ اور سرٹیفیکیشن سینٹرز، 9 انڈسٹری ایکسلریٹر برائے ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ اور 6 اور اس سے اوپر کے سکل لیول کے لیے قابلیت کے پیکج تیار کرنے کے 3 پروجیکٹ شامل ہیں۔
کیپٹل گڈز اسکیم کی کامیابیاں:
- پونے میں مقیم سی4i4 نے ایک انڈسٹری 4.0 میچورٹی ماڈل (I4ایم ایم ) تیار کیا ہے جو خاص طور پر ہندوستانی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس اقدام کے تحت 50 سے زیادہ انڈسٹری 4.0 کے استعمال کے کیسز مرتب کیے ہیں۔ 100 سے زیادہ ڈجیٹل میچورٹی اسیسمنٹس کیے گئے ہیں، بنیادی طور پر آٹوموٹیو سیکٹر میں جس میں 500 سے زیادہ بہتری کے اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے، 500 سے زیادہ ڈجیٹل چمپئنز کو تربیت دی گئی ہے، اور مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (ایم ایس ایم ای ایس) کو صنعت کو اپنانے میں تیزی لانے میں مدد کے لیے ایک مفت آن لائن خود تشخیصی ٹول شروع کیا گیا ہے۔
- ویلڈنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں ایک کامن انجینئرنگ فیسیلٹی سنٹر (سی ای ایف سی) قائم کیا گیا، جس میں 9,000 سے زیادہ اہلکاروں کو تربیت دی گئی۔ مزید برآں، مختلف شعبوں میں مہارت کی کمی کو دور کرنے کے لیے اعلیٰ درجے کی ٹیکنالوجیز کے لیے 58 کوالیفیکیشن پیک (کیوپی ایس) منظور کیے گئے، جن میں سے 48 مکمل ہو چکے ہیں۔ مزید برآں، 92,000 (بانوے ہزار)سے زائد طلباء، ماہرین تعلیم اور صنعت کے پیشہ ور افراد ٹیکنالوجی انوویشن پلیٹ فارمز (ٹی آئی پی ایس) کے ذریعے مشغول تھے۔
- اسکیم کے تحت تیار کی گئی ٹیکنالوجیز فرانس، بیلجیم، قطر اور دیگر ممالک سمیت متعدد برآمداتی منڈیوں میں داخل ہو چکی ہیں۔آئی آئی ایس سی بنگلور میں آرٹ پارک نے ایک آن لائن ای -کامرس پلیٹ فارم کے ذریعے تین ٹیکنالوجیز کو تیار اور تجارتی بنایا ہے۔ سی جی اسکیم کے پہلے اور دوسرے مراحل نے کل 309.17 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی ہے۔ اس اسکیم نے املاک دانش کے شعبے میں بھی مضبوط نتائج برآمد کیے ہیں، اب تک 80 پیٹنٹ دائر کیے گئے ہیں، جن میں بین الاقوامی پیٹنٹ بھی شامل ہیں، اور 18 آئی پی آر (انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس) دئیے گئے ہیں۔
- سی ایم ٹی آئی نے ڈجیٹل جڑواں، آٹومیشن، ایل او ٹی اور انڈسٹری 4.0 کے شعبوں میں مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے تیار 15 ٹیکنالوجیز تیار کیں۔ دریں اثنا، آئی آئی ٹی دہلی نے آٹومیشن، آئی آئی او ٹی ، اسمارٹ سینسنگ، او پی سی یو اے نفاذ، مشین ٹو مشین کمیونیکیشن، اگمینٹڈ ریئلٹی، پارٹ ٹریکنگ اور بارکوڈ اسکیننگ کا احاطہ کرنے والے 10 ٹیکنالوجی حل تیار کیے ہیں۔
- اس اسکیم کے تحت تیار کی گئی پانچ مصنوعات کو آئی ایم ٹی ای ایکس-امٹیکس- 2025 میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا اور اس اسکیم کے تحت تیار کردہ چار پروڈکٹس کو دہلی مشین ٹولز ایکسپو- 2025 میں لانچ کیا گیا تھا۔
دیگر اقدامات
- بھاری صنعتوں کی وزارت نے 25.11.2025 کو وگیان بھون، نئی دہلی میں‘ملٹی سیکٹر کی طویل مدتی بیٹری ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کی طلب کو مربوط کرنے اور اسے پورا کرنے کے لیے ایک طویل مدتی ایکشن پلان کی تیاری’ پر ایک گول میز کا اہتمام کیا۔
- بھاری صنعتوں کی وزارت نے نئی دہلی کے وگیان بھون میں‘ای موٹرز میں متبادل اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز’ پر ایک چنتن شیور کا اہتمام کیا۔ اس تقریب نے صنعت کے رہنماؤں، ماہرین اور اسٹیک ہولڈرز کو ای-موٹرز کے لیے سبز ٹیکنالوجیز کو فروغ دینے اور ہندوستان کے صاف نقل و حمل کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال اور غور و خوض کرنے کے لیے اکٹھا کیا۔
- بھاری صنعتوں اور اسٹیل کے مرکزی وزیر جناب ایچ ڈی کمارسوامی نے پردھان منتری ای ڈرائیو کے تحت ای-ٹرکس پروموشن اسکیم کا آغاز کیا۔ صاف اور پائیدار مال کی نقل و حمل میں ملک کی منتقلی میں مدد کے لیے برقی ٹرکوں کی مدد کے لیے حکومت ہند کی طرف سے یہ پہلا اقدام ہے۔
- وفد کی قیادت سعودی عرب کے نائب وزیر صنعت و معدنی وسائل انجینئر عالی جانب خلیل بن ابراہیم بن سلامہ نے وزارت ہیوی انڈسٹری کے سکریٹری اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔
- بتاریخ 13.10.2025 کو یہ میٹنگ آٹوموبائل اور کیپٹل گڈز کے شعبوں میں ہندوستان-سعودی تعاون کو بڑھانے کے طریقوں کو تلاش کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی، جس میں سرمایہ کاری کے مواقع مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر خصوصی توجہ دی گئی تھی۔
- بھاری صنعتوں کی وزارت نے 2 اکتوبر سے 31 اکتوبر 2025 تک خصوصی مہم 5.0 کا آغاز کیا، جس میں صفائی اور مقدمات کے التواء کو کم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزارت نے اس مہم میں اہم کامیابی حاصل کی ہے: 1,373 سائٹس کو صاف کیا گیا، 44.40 لاکھ مربع فٹ جگہ کو صاف کیا گیا، اسکریپ مواد کو ٹھکانے لگانے سے 9.87 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی، 41,539 فزیکل فائلوں کا جائزہ لیا گیا (جن میں سے 34,426 کو حذف کیا گیا) اور 10.61 لاکھ فائلوں کا جائزہ لیا گیا (جن میں سے 10.61 لاکھ کا جائزہ لیا گیا)۔
- عزت مآب وزیر مملکت جناب بھوپتی راجو سری نواس ورما نے بھاری صنعتوں کی وزارت کے ہندی میگزین ‘ ادیوگ بھارتی’ کا دوسرا ایڈیشن جاری کیا۔
*****
ش ح – ظ ا- ن ع
UR No. 510
(रिलीज़ आईडी: 2214196)
आगंतुक पटल : 7