PIB Headquarters
سومناتھ سوابھیمان پرو
جڑوں سے وابستہ عقیدے اور تہذیبی فخر کے ہزار برس
प्रविष्टि तिथि:
10 JAN 2026 9:42AM by PIB Delhi
|
اہم نکات
- سومناتھ سوابھیمان پرو (8–11 جنوری، 2026) 1026 میں سومناتھ مندر پر محمود غزنی کے پہلے حملے کے 1,000 سال کی یاد میں منایا جا رہا ہے۔
- یہ پَرو ہندوستان کی تہذیب اور بھرپور ثقافتی اور روحانی ورثے کے پائیدار جذبے کا جشن مناتا ہے۔
- وزیر اعظم نریندر مودی اہم یادگاری تقریبات میں شرکت کے لیے 10-11 جنوری 2026 کو سومناتھ کا دورہ کریں گے۔
- سومناتھ مندر سالانہ 92-97 عقیدت مندوں کو راگب کرتا ہے۔
- سومناتھ میں خواتین مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ سومناتھ مندر ٹرسٹ میں 906 ملازمین میں سے 262 خواتین ہیں؛ مجموعی طور پر 363 خواتین اس مندر سے سالانہ تقریباً 9 کروڑ روپے کے بقدر کا روزگار حاصل کرتی ہیں۔
|
تعارف
सौराष्ट्रे सोमनाथं च श्रीशैले मल्लिकार्जुनम् ।
उज्जयिन्यां महाकालम्ॐकारममलेश्वरम्”
’دوادَش جیوترلنگا استوترم ‘کا یہ ابتدائی اشلوک گجرات میں سومناتھ کو بارہ مقدس جیوترلنگوں کے بالکل شروع میں رکھتی ہے، جس سے بھارت کے روحانی ورثے میں اس کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ یہ تہذیبی عقیدے کی عکاسی کرتا ہے کہ سومناتھ بھارت کے روحانی جغرافیہ کی بنیاد ہے۔ گجرات میں ویراول کے قریب پربھاس پٹن میں واقع سومناتھ محض عبادت گاہ نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے تہذیبی تسلسل کی زندہ علامت ہے۔
صدیوں سے سومناتھ نے لاکھوں لوگوں کی عقیدت اور دعاؤں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ اسے بار بار حملہ آوروں نے نشانہ بنایا جن کا مقصد عقیدت نہیں بلکہ تباہی تھی۔ پھر بھی، سومناتھ کی داستان کی تعریف کروڑوں سرشار عقیدت مندوں کی بے مثال ہمت، عقیدے اور عزم سے ہوتی ہے۔
سوابھیمان پرو: اجتماعی فخر کا قومی اظہار
سومناتھ سوابھیمان پرو کا اہتمام ، جنوری 1026 میں سومناتھ مندر پر پہلے ریکارڈ شدہ حملے کے ایک ہزار سال مکمل ہونے پر ، 8 جنوری سے 11 جنوری 2026 تک ایک قومی یادگاری کے طور پر کیا جا رہا ہے ۔
اس تقریب کو تباہی کی یاد کے طور پر نہیں بلکہ قوت مزاحمت، عقیدے اور تہذیبی عزت نفس کو خراج تحسین کے طور پرپیش کیا گیا ہے۔ صدیوں سے سومناتھ کو بار بار حملہ آوروں نے نشانہ بنایا جن کا مقصد عقیدت کی بجائے مسمار کرنا تھا۔ تاہم، ہر بار، مندر کو دیوی اہلیا بائی ہولکر جیسے عقیدت مندوں کے اجتماعی عزم کے ذریعے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ احیاء کے اس ناقابل شکست سلسلے نے سومناتھ کو ہندوستان کے تہذیبی تسلسل کی ایک طاقتور علامت بنا دیا ہے۔

سال 2026 میں ہی، 11 مئی 1951 میں آزادی کے بعد عقیدت مندوں کے لیے ازسر نو کھولے گئے حالیہ سومناتھ مندر کے 75 برس مکمل ہو رہے ہیں۔یہ دو سنگ ہائے میل مل کر سومناتھ سوابھیمان پرو کی بنیاد قائم کرتے ہیں۔
چار روزہ پرو کے دوران، سومناتھ کو روحانی سرگرمیوں، ثقافتی عکاسی اور قومی یاد کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس تقریب کی ایک مرکزی خصوصیت 72 گھنٹے اکھنڈ اومکار کا نعرہ، علامت، اتحاد اور اجتماعی عقیدہ ہے۔ اس کے علاوہ مندر کے شہر میں بھکتی سنگیت، روحانی گفتگو اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔
سومناتھ سوابھیمان پرو ہندوستان کے سناتن تہذیبی سفر میں فخر، یاد اور اعتماد کے اجتماعی اظہار کے طور پر کھڑا ہے۔
تاریخی پس منظر: قوت مزاحمت کے ہزار برس
سومناتھ کی تاریخی جڑیں قدیم ہندوستانی روایت میں گہرائی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ پربھاس تیرتھ، جہاں سومناتھ واقع ہے، بھگوان شیو اور چاند کے دیوتا چندر کی جانب سے کی جانے والی پوجا سے منسلک ہے۔ روایت کے مطابق، چندر نے یہاں بھگوان شیو کی پوجا کی اور شراپ (لعنت) سے چھٹکارا پایا، جس کی وجہ سے اس جگہ کو بہت زیادہ روحانی اہمیت حاصل ہوئی۔
صدیوں سے ، سومناتھ نے تعمیر کے متعدد مراحل دیکھے، جن میں سے ہر ایک اپنے وقت کی عقیدت، فن کاری اور وسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ قدیم داستانوں کے مطابق یہاں کئی مندروں کی تعمیر ہوئی، مختلف مواد کا استعمال کیا گیا، جو کہ تجدید اور تسلسل کی علامت ہے۔ سومناتھ کی تاریخ کا سب سے ہنگامہ خیز دور گیارہویں صدی میں شروع ہوا۔

جنوری 1026 میں، سومناتھ کو محمود غزنوی کے اولین ریکارڈ شدہ حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حملے کے ساتھ ہی اس طویل سلسلے کا آغاز ہوا جس کے دوران صدیوں تک مندر کو بار بار تباہ کیا گیا اور ازسر نو تعمیر کیا گیا۔ اس کے باوجود لوگوں کے اجتماعی شعور میں سومناتھ کا وجود کبھی ختم نہیں ہوا۔ مندر کی تباہی اور بازبحالی کا سلسلہ عالمی تاریخ میں بے مثال ہے۔ اس ظاہر ہوتا ہے کہ سومناتھ کبھی بھی محض پتھر کا ڈھانچہ نہیں تھا، بلکہ یہ عقیدے، شناخت اور تہذیبی فخر کا زندہ مجسمہ تھا۔
یکم کارتک سد، یعنی دیوالی کے دن 12 نومبر 1947 کو، سردار ولبھ بھائی پٹیل نے سومناتھ کے کھنڈرات کا دورہ کیا اور مندر کو ازسر نو تعمیر کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ ان کے وژن کی جڑیں اس یقین پر قائم تھیں کہ سومناتھ کی بحالی ہندوستان کے ثقافتی اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔ تعمیر نو کا کام عوامی شرکت اور قومی عزم کے ساتھ کیا گیا۔ موجودہ مندر، جو کیلاش مہامرو پرساد فن تعمیر کے انداز میں بنایا گیا ہے، اس کی تقدیس 11 مئی 1951 کو اس وقت کے صدر راجندر پرساد کی موجودگی میں کی گئی تھی۔ اس تقریب میں نہ صرف ایک مندر کو ازسر نو کھولا گیا بلکہ ہندوستان کی تہذیبی عزت نفس کی تصدیق کی گئی۔
عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی نے 31 اکتوبر 2001 کو منعقدہ پروگرام میں شرکت کی، جو کہ ازسر نو تعمیر کیے گئے سومناتھ مندر کے1951 میں دوبارہ کھولے جانے کے 50 سال مکمل ہونے کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام نے مندر کی ازسر نو تعمیر میں سردار ولبھ بھائی پٹیل، کے ایم منشی اور دیگر قائدین کے ذریعہ ادا کیے گئے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔ حسن اتفاق سے وہ دن سردار ولبھ بھائی پٹیل کی پیدائش کی125ویں سالگرہ کا دن بھی تھا ، اور اس پروگرام میں اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی، اس وقت وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی اور دیگر معززین نے بھی شرکت کی تھی۔

2026 میں، 1951 کی اُس تاریخی تقریب کے 75 سال مکمل ہو رہے ہیں، جو نہ صرف سومناتھ مندر کے ازسر نو کھلنے کی علامت ہے بلکہ ہندوستان کی تہذیبی عزت نفس کی تصدیق بھی کرتی ہے۔ ساڑھے سات دہائیوں بعد، سومناتھ پھر سے آب و تاب کے ساتھ کھڑا ہے، جو ہمارے اجتماعی قومی عزم کی پائیدار طاقت کی عکاسی کرتا ہے۔
سومناتھ مندر: عظمت، عقیدہ اور ایک زندہ ورثہ
سومناتھ کو بھگوان شیو کے 12 آدی جیوترلنگوں میں اولین مانا جاتا ہے۔ موجودہ مندر کے احاطے میں گربھ گرہ(مقدس مقام)، سبھا منڈپ(اسمبلی ہال) اور نرتیہ منڈپ (رقص گاہ) شامل ہیں، جو بحیرہ عرب کے کنارے شان سے کھڑے ہیں۔ مندر کے اوپر 150 فٹ بلند شکھر ہے، جس پر 10 ٹن کا کلش ہے۔ 27 فٹ بلند ’دھوَج دنڈ‘ مندر کی غیر متزلزل شناخت ظاہر کرتا ہے۔ یہ احاطہ 1666 سونے کی پرت والے کلش اور 14200 جھنڈوں سے مزین ہے، جو پیڑھیوں کی بھکتی اور فنکاری کی علامت ہے۔

سومناتھ عبادت کے ایک اہم مرکز کے طور پر برقرار ہے۔ یہاں آنے والے عقیدت مندوں کی تعداد زیادہ ہی رہتی ہے، یعنی 92 سے لے کر 97 لاکھ عقیدت مندوں کے بقدر رہتی ہے (سال 2020میں تقریباً 98 لاکھ عقیدت مند یہاں آئے)۔ بلوا پوجا جیسی رسومات نے 13.77 لاکھ سے زائد عقیدت مندوں کو راغب کیا، جبکہ مہاشیوراتری 2025 میں 3.56 لاکھ عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ ثقافتی پہل قدمیوں نے عقیدت مندوں کو سومناتھ کی تاریخ سے مربوط ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2003 میں روشنی اور آواز کا پروگرام شروع کیا گیا اور 2017 میں بیانیے اور 3ڈی لیزر تکنالوجی سے اس پروگرام کو مزید بہتر بنایا گیا، جس نے گذشتہ تین برسوں میں 10 لاکھ سے زائد افراد کو راغب کیا۔ وندے سومناتھ کلا مہوتسو جیسے پروگراموں نے تقریباً 1500 سال قدیم رقص کی روایات کو بحال کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی، جو کہ شری سومناتھ ٹرسٹ کے چیئرپرسن بھی ہیں، کی قیادت میں سومناتھ مندر احیاء کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ حکمرانی سے متعلق اصلاحات، بنیادی ڈھانچے کو جدیدیت سے ہمکنار کرنے اور ورثے کے تحفظ کی کوششوں نے ایک روحانی اور ثقافتی مرکز کے طور پر مندر کے کردار کو مضبوطی فراہم کی ہے۔
روحانی سرگرمیاں اور پد یاترا
سومناتھ سوابھیمان پرو سے قبل، سومناتھ نے منفرد روحانی جوش و خروش کا ماحول دیکھا ہے۔ گرنار تیرتھ کشیتر اور دیگر مقدس مراکز کے سنتوں نے شنکھ چوک سے سومناتھ مندر تک پد یاترا کی۔
جلوس بھگوان شیو کے پیارے ڈمرو کی آواز، روایتی آلات اور بھکتی سنگیت سے گونج اٹھا۔ سدھی ونایک ڈھول گروپ کے تقریباً 75 نقارچیوں نے حصہ لیا، جنہوں نے تال کے ساتھ روحانیت سے مملو ماحول پیدا کیا۔ مندر کے احاطے میں "ہر ہر مہادیو" کے نعروں کی بازگشت سنائی دی۔
سنتوں اور معزز شرکاء نے انتہائی عقیدت کے ساتھ عبادت کی۔ پدایاترا کا استقبال پھولوں کی بارش سے کیا گیا، جس سے مندر کا احاطہ روحانی عظمت کے منظر میں تبدیل ہو گیا۔ وہاں موجود عقیدت مندوں نے روحانی تکمیل کے عمیق احساس کا تجربہ کیا۔
سومناتھ میں خواتین کی اختیاردہی اور پائیداری
سومناتھ مندر، جسے 2018 میں "سوچھ آئیکانک پلیس" کا درجہ دیا گیا، اس نے پائیداری کے اختراعی طریقے اپنائے ہیں۔ مندر کے پھولوں کو ورمی کمپوسٹ میں تبدیل کیا جاتا ہے جس سے 1700 بیل کے درختوں کی نشو و نما ہوتی ہے۔ پلاسٹک کے فضلے کو مشن لائف کے تحت پیور بلاکس میں تبدیل کیا جاتا ہے، جس سے ماہانہ 4,700 بلاکس تیار کیے جاتے ہیں۔ بارش کے پانی کو اکٹھا کرنے کا نظام ہر ماہ تقریباً 30 لاکھ لیٹر سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرتا ہے۔
7200 مربع فٹ رقبے پر محیط72000 درختوں پر مشتمل میاواکی جنگل سالانہ تقریباً 93000 کلو گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے۔ ابھیشیک کے صاف پانی کو سوم گنگاجل کے طور پر بوتل میں ڈالا جاتا ہے، جس سے دسمبر 2024 تک 1.13 لاکھ خاندانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔

سومناتھ خواتین کو بااختیار بنانے کے ایک مضبوط مرکز کے طور پر بھی ابھرا ہے۔ سومناتھ مندر ٹرسٹ کے 906 ملازمین میں سے 262 خواتین ہیں۔ بلوا وین کا انتظام مکمل طور پر خواتین کے ہاتھوں میں ہے۔ 65 خواتین پرساد تقسیم کرنے میں مصروف ہیں اور 30 خواتین مندر میں کھانے کے انتظامات میں مصروف ہیں۔ مجموعی طور پر، 363 خواتین کو روزگار ملتا ہے، جو تقریباً 9 کروڑ روپے سالانہ کماتی ہیں اور اس سے مندر کے احاطے سے پیدا ہونے والی معاشی خود انحصاری اور وقار کی عکاسی کرتی ہیں۔
وزیر اعظم کا دورہ اور اس سے وابستہ تقریبات
8 سے 11 جنوری 2026 کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ کے ساتھ سومناتھ سوابھیمان پرو قومی اہمیت حاصل کر رہا ہے۔
10 جنوری 2026 کو، وزیر اعظم سومناتھ مندر جائیں گے اور سوابھیمان پرو کے موقع پر اہم روحانی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ شام کو، وہ مندر کے احاطے میں اومکار منتر کے جاپ میں حصہ لیں گے، 72 گھنٹے جاری رہنے والے اکھنڈ اومکار جاپ میں شامل ہوں گے – جو عقیدے، اتحاد اور تہذیبی طاقت کے تسلسل کی علامت ہے۔ اسی شام، وزیر اعظم سوابھیمان پرو کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر ڈرون شو ملاحظہ کریں گے۔

11 جنوری 2026 کو، وزیر اعظم شوریہ یاترا کی قیادت کریں گے، جو سومناتھ سوابھیمان پرو کے حصے کے طور پر منعقدہ ایک علامتی جلوس ہے۔ شوریہ یاترا ہمت، قربانی اور ناقابل تسخیر جذبے کی نمائندگی کرتی ہے جس نے سومناتھ کو صدیوں کی مشکلات کے باوجود محفوظ رکھا۔ یاترا کے بعد وزیر اعظم سومناتھ مندر میں پوجا کریں گے۔
بعد ازاں ،وزیر اعظم سومناتھ میں مجمع سے خطاب کریں گے، جہاں وہ مندر کی تہذیبی اہمیت، سوابھیمان پرو کی اہمیت اور سومناتھ سے وابستہ عقیدے، قوت اور عزت نفس کے پائیدار پیغام پر بات کریں گے۔
ان تقریبات میں وزیر اعظم کی شرکت سومناتھ سوابھیمان پرو کی قومی اہمیت کو واضح کرتی ہے اور ہندوستان کے روحانی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور جشن منانے کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔ یہ دورہ ہندوستان کے تہذیبی تسلسل اور اجتماعی اعتماد کی زندہ اور پائیدار علامت کے طور پر سومناتھ کے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

ماحصل
سومناتھ سوابھیمان پرو ہندوستان کے تہذیبی اعتماد کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ تباہی پر قوت، خوف پر عقیدے کو ترجیح دیتا ہے۔ سوراشٹرا کے ساحلوں پر کھڑا، سومناتھ مندر پوری دنیا کے ہندوستانیوں کو ترغیب فراہم کر رہا ہے، اور ہر ایک کو یہ یاد دلاتا ہے کہ جہاں تباہی پھیلانے والی قوتیں تاریخ کے اوراق میں معدوم ہو جاتی ہیں، وہیں عقیدے کی جڑیں صداقت، اتحاد اور عزت نفس پر ہمیشہ قائم رہتی ہیں۔ مندرجہ ذیل سنسکرت کا اشلوک، جو وزیر اعظم نریندر مودی نے ساجھا کیا ہے، سومناتھ کے روحانی جوہر کو اجاگر کرتا ہے:
आदिनाथेन शर्वेण सर्वप्राणिहिताय वै।
आद्यतत्त्वान्यथानीयं क्षेत्रमेतन्महाप्रभम्।
प्रभासितं महादेवि यत्र सिद्ध्यन्ति मानवाः॥
معنی- بھگوان شیو نے آدی ناتھ کی شکل میں، تمام مخلوقات کی فلاح کے لیے، اپنے ابدی اصول سے پربھاس کھنڈ نامی اس مقدس اور ازحد طاقتور خطے کو ظاہر کیا۔ روحانی روشنی سے منور، یہ مقدس سرزمین وہ مقام ہے جہاں انسان روحانی تکمیل، نیکی اور نجات (موکش) حاصل کرتے ہیں۔
حوالہ جات:
https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=154536&ModuleId=3®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2122423®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2212756®=3&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2212686®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2212293®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2212686®=3&lang=2
https://www.newsonair.gov.in/hm-amit-shah-appeals-to-nation-to-join-somnath-swabhiman-parv/
https://somnath.org/
https://somnath.org/jay-somnath
https://somnath.org/somnath-darshan/
https://somnath.org/social-activities/
https://girsomnath.nic.in/about-district/history
ڈی آئی پی آر، گجرات
پی ڈی ایف ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:389
(रिलीज़ आईडी: 2213212)
आगंतुक पटल : 18