زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
وکست بھارت-جی رام جی ایکٹ نے خودکفیل گاؤوں کی بنیاد رکھی:
وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان ایروڈ میں کسانوں اور مزدوروں کے ساتھ بات چیت کے دوران
مزدوروں اور ورکرس کے لیے جو رقم مختص ہے اس میں خردبرد کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی: مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان
آئی سی اے آر نے ایروڈ میں ہلدی کی جانچ کے لیے ایک لیباریٹری قائم کرنے کی ہدایت دی
प्रविष्टि तिथि:
05 JAN 2026 7:04PM by PIB Delhi
زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے پیر کے روز تمل ناڈو کے ایروڈ میں کہا کہ ’وکست بھارت-جی رام جی‘ قانون خود کفیل (آتم نربھر) گاؤوں کی تعمیر کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ ایروڈ میں کارکنوں اور مزدوروں سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے اس کثیر مقصدی پہل کی مختلف دفعات کی وضاحت کی اور کہا کہ یہ قانون روزگار پیدا کرنے ، بنیادی سہولیات کو بڑھانے اور گاؤوں میں خود کفالت کو فروغ دینے کی ایک ٹھوس کوشش ہے۔ جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ترقی یافتہ اور خوشحال گاؤوں کا ہدف صرف عوامی شرکت کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔
مرکزی وزیر جناب چوہان نے کہا کہ پہلے کے نظام کے تحت منریگا نے 100 دن کے روزگار کی ضمانت فراہم کی تھی، لیکن بہت سی جگہوں پر نہ تو وقت پر کام دستیاب تھا اور نہ ہی اجرتوں کی فوری ادائیگی کی گئی ۔ اسے ایک سنگین تشویش قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کی خامیوں کو دور کرنے اور بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے حکومت نے ’وکست بھارت-جی رام جی‘ قانون کے ذریعے اصلاحات متعارف کروائیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے تحت روزگار کی گارنٹی کو 100 دن سے بڑھا کر 125 دن کردیا گیا ہے۔ اگر مقررہ مدت کے اندر کام فراہم نہیں کیا جاتا ہے تو کارکن بے روزگاری الاؤنس کے حقدار ہوں گے ۔ اسی طرح اگر اجرت کی ادائیگی میں 15 دن سے زیادہ کی تاخیر ہوتی ہے تو سود بھی ادا کیا جائے گا۔ جناب چوہان نے کہا کہ فیلڈ سطح کے عملے کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے اور نظام کو مزید موثر بنانے کے لیے انتظامی اخراجات کو 6 فیصد سے بڑھا کر 9 فیصد کر دیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ نئے قانون کے تحت گرام سبھاؤں کو بااختیار بنایا گیا ہے ، اور گاؤں کی اسمبلیاں اب خود فیصلہ کریں گی کہ ان کے گاؤں میں کون سے ترقیاتی کام شروع کیے جائیں۔ جناب چوہان نے واضح کیا کہ ترقی سے متعلق فیصلے اب چنئی یا دہلی میں نہیں بلکہ گاؤں کی سطح پر ہی لیے جائیں گے۔
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر اس اسکیم کے بارے میں غلط معلومات پھیلا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس اسکیم میں تبدیلیاں لائی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مزدوروں اور ورکروں کے لیے رقم براہ راست ان کے بینک کھاتوں تک پہنچ جائے ، جس سے بدعنوانی کی کوئی گنجائش نہ رہے۔
ایروڈ میں ہلدی شہر کے لیے ٹیسٹنگ لیباریٹری کا اعلان
زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ایروڈ کی مشہور ہلدی منڈی کا دورہ کیا اور ہلدی پیدا کرنے والے کسانوں اور تاجروں کے ساتھ بات چیت کی ۔ دورے کے دوران ، انہوں نے ایروڈ میں ’ہلدی سٹی‘ میں ایک ٹیسٹنگ لیباریٹری کے قیام کا اعلان کیا ، اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولت معیار کی جانچ ، تصدیق اور ہلدی کی بہتر مارکیٹنگ کے ذریعے کسانوں کی مدد کرے گی۔
مرکزی وزیر نے ایروڈ میں ہلدی بورڈ کا ایک علاقائی دفتر قائم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ موضوع وزارت تجارت کے تحت آتا ہے، وزیر زراعت کی حیثیت سے وہ ذاتی طور پر اس سلسلے میں پہل کریں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ہلدی کے کاشتکاروں کو پالیسی تعاون ، بازار تک بہتر رسائی اور برآمدات کے نئے مواقع فراہم ہوں گے۔
جناب چوہان نے کہا کہ ایروڈ خطے میں کولڈ اسٹوریج کی سہولیات کی ضرورت انتہائی اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کولڈ اسٹوریج مرکزی حکومت کی مختلف اسکیموں کے تحت قائم کیے جا سکتے ہیں اور تمل ناڈو حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ وہ اس مقصد کے لیے آر کے وی وائی (راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا) کے فنڈز استعمال کرے ۔ انہوں نے اسمگلنگ کے ذریعے لائی گئی ہلدی کو روکنے کے لیے کارروائی کا یقین دلایا اور کہا کہ ان تمام مسائل کا ٹھوس حل تلاش کرنے کے لیے دہلی میں ایک میٹنگ کی جائے گی ۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اچھے معیار کا بیج زراعت کی بنیاد ہے ، انہوں نے آئی سی اے آر کے ذریعے بیج کی ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
خواتین کاشتکاروں کے ساتھ بات چیت
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے بھی زراعت کے شعبے میں ہونے والی اختراعات کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے زرعی مصنوعات کی نمائش کرنے والے 100 سے زیادہ اسٹالوں کا معائنہ کیا اور کسانوں اور کاروباریوں کے ساتھ ان کی مصنوعات ، معیار اور مستقبل کی صلاحیت کے بارے میں بات چیت کی ۔ جناب چوہان نے ایک ہزار سے زیادہ خواتین کسانوں کے ساتھ بات چیت کی اور مختلف کسان تنظیموں اور ترقی پسند کسانوں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس موقع پر منعقدہ ثقافتی پروگراموں میں بھی شرکت کی۔
******
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 171
(रिलीज़ आईडी: 2211628)
आगंतुक पटल : 10