دیہی ترقیات کی وزارت
مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع کے لونی بدروک میں گرام سبھا میں دیہی عوام، مزدوروں اور کارکنوں سے ملاقات کی
‘ وکست بھارت: جی رام جی ایکٹ، 2025 ’ کے تحت ‘‘ اب کسی بھی گاؤں میں مخصوص کام کو انجام دیا جا سکتا ہے لیکن حتمی فیصلہ گرام سبھا کرے گی ’’ : جناب شیو راج سنگھ چوہان
‘‘ اجرت کی ادائیگیاں اب لازمی طور پر ایک ہفتے کے اندر کی جائیں گی ’’ : مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان
‘‘ اگر اجرت کی ادائیگی میں 15 دن سے زیادہ تاخیر ہو تو مزدوروں کو ان کی اجرت کا 0.05 فی صد بطور سود اضافی رقم ملے گی ’’ : جناب شیو راج سنگھ چوہان
‘‘ اس اسکیم کے تحت کام کا ایک تہائی حصہ یعنی 33 فی صد خواتین کو دیا جائے گا ’’ : جناب شیو راج سنگھ چوہان
‘‘ ریاستی حکومتوں کو بااختیار بنایا گیا ہے کہ وہ نوٹفیکیشن جاری کریں تاکہ مزدوروں کو فصل بونے اور کٹائی کے دوران زیادہ سے زیادہ 60 دن کے لیے زرعی کام میں تعینات کیا جا سکے ’’ : جناب شیو راج سنگھ چوہان
‘‘ انتظامی اخراجات کو چھ فی صد سے بڑھا کر نو فی صد کیا گیا ہے تاکہ اجرت کی ادائیگی میں تاخیر اور ملازمت اسسٹنٹس کے لیے رکاوٹیں دور کی جا سکیں ’’ : جناب شیو راج سنگھ چوہان
प्रविष्टि तिथि:
01 JAN 2026 8:56PM by PIB Delhi
دیہی ترقی ، زراعت اور کسان کی فلاح و بہبود کے مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے آج مہاراشٹر کے ضلع احمد نگر کے گاؤں لونی بدروک میں منعقدہ خصوصی گرام سبھا میں شرکت کی ۔ مرکزی وزیر نے سرپنچوں اور گرام پنچایت کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے ، اس نئے قانون کی اہم شقوں اور بنیادی نکات کے بارے میں بتایا ۔

پورا پروگرام قومی سطح پر آن لائن سٹریم کیا گیا۔ ملک بھر کے 100000 سے زائد مقامات سے 6 ملین سے زیادہ افراد، جن میں عام شہری، سیلف ہیلپ گروپ کے اراکین، کسان اور دیگر شامل ہیں، نے اس تقریب کو دیکھا۔
اپنے خطاب میں، مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے بتایا کہ اس نئے فریم ورک کے تحت مزدوروں کے روزگار کے حقوق کو مضبوط بنایا گیا ہے اور انہیں 125 دنوں کے کام کی قانونی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے اسکیم کے اضافی فوائد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون ایم جی نریگا کے انتظامات کو مزید مضبوط، مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے اقدامات کرتا ہے اور ساتھ ہی بہتر نگرانی اور جوابدہی کے میکانزم متعارف کرواتا ہے۔

جناب شیو راج سنگھ چوہان نے مزید اجاگر کیا کہ ‘وکست بھارت - جی رام جی ایکٹ، 2025’ کے تحت روزگار کی قانونی ضمانت 100 دنوں کے بجائے 125 دنوں کے لیے کر دی گئی ہے اور اگر کام فراہم نہ کیا گیا تو بے روزگاری الاؤنس کے لیے بہتر شقیں شامل کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت اجرت اب ایک ہفتے کے اندر ادا کرنا لازمی ہے۔ مزید برآں، اگر ادائیگی 15 دنوں کے اندر نہ کی گئی تو مزدوروں کو واجبات پر 0.05 فی صد اضافی سود ملے گا۔ جناب چوہان نے نشاندہی کی کہ پہلے تاخیر پر کوئی سزا نہیں ہوتی تھی لیکن اب ذمہ داروں کو اپنی غفلت کا بھگتان ادا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ‘وکست بھارت: جی رام جی ایکٹ، 2025’ کے تحت کسی بھی گاؤں سے متعلقہ کام کا فیصلہ اب مکمل طور پر گرام سبھا کے اختیار میں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ کام گاؤں کی حقیقی ضروریات کے مطابق کیے جائیں گے،یہی اسکیم کا حقیقی مقصد ہے۔ اس قانون کے نفاذ سے گاؤں پانی کے تحفظ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، روزگار پیدا کرنے والی سرگرمیوں، اور قدرتی آفات کے اثرات کم کرنے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔

اپنے خطاب میں، مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ ملک کی ترقی صرف اس وقت ممکن ہے ، جب اس کے گاؤں ترقی کریں کیونکہ بھارت اب بھی اپنے دیہی علاقوں میں بستا ہے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کے الفاظ یاد کیے: “گاؤں ، بھارت کی روح ہے اور ملک کی خوشحالی کا راستہ ہمارے کھیتوں سے گزرتا ہے۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کام کا 33 فی صد حصہ خواتین کے لیے مخصوص کرنا ان کے حقوق اور مفادات کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے، جس سے خواتین نہ صرف اجرتی کام میں بلکہ مختلف دیگر سرگرمیوں میں بھی بھرپور مواقع حاصل کریں گی۔
زرعی موسم کی اہم وقت ( بوائی اور کٹائی ) کو مدنظر رکھتے ہوئے، مرکزی وزیر نے کہا کہ ریاستی حکومتوں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ بیج بونے اور فصل کی کٹائی کے دوران مزدوروں کو زیادہ سے زیادہ 60 دن کے لیے زرعی کام میں تعینات کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کریں تاکہ کسانوں کو محنت کشوں کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
جناب شیو راج سنگھ چوہان نے مزید کہا کہ انتطامی اخراجات کو 6 فی صد سے بڑھا کر 9 فی صد کیا گیا ہے تاکہ ملازمت اسسٹنٹس کو ادائیگی میں کوئی تاخیر یا رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اس کے لیے ضروری ہدایات ریاستوں کے ساتھ ہم آہنگی میں جاری کی جائیں گی۔
*********
(ش ح۔ ش ت ۔ ع ا)
U.No. 61
(रिलीज़ आईडी: 2210797)
आगंतुक पटल : 5