صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدرِ جمہوریہ ہند نے #اسکل دا نیشن اے آئی چیلنج کا آغاز کیا اور اڈیشہ کے رائےرنگ پورمیں اِگنو کے علاقائی مرکز اور اسکل سینٹر کا ورچوئل طریقے سے افتتاح کیا


بھارت  جیسے ملک میں ایک نوجوان لیے مصنوعی ذہانت محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ مثبت تبدیلی کے لیے ایک زبردست موقع ہے: صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو

प्रविष्टि तिथि: 01 JAN 2026 2:28PM by PIB Delhi

صدرِ جمہوریہ ہند، محترمہ دروپدی مرمو نے آج (یکم جنوری 2026) راشٹرپتی بھون کے کلچرل سینٹر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران # اسکل دا نیشن چیلنج کا آغاز کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اڈیشہ کے رائے رنگ پور میں واقع اندرا گاندھی نشنل  اوپن یونوورسٹی ( اِگنو)  کے علاقائی مرکز اور اسکل سینٹر کا ورچوئل افتتاح بھی کیا۔

1.jpg

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں معیشتوں اور معاشروں کی تشکیلِ نو کر رہی ہے۔ یہ اس بات کو بدل رہی ہے کہ ہم کس طرح سیکھتے ہیں، کس طرح کام کرتے ہیں، جدید خدمات تک کس طرح رسائی حاصل کرتے ہیں اور انسانیت کو درپیش بڑے چیلنجز سے کس طرح نمٹتے ہیں۔ بھارت جیسے ملک میں نوجوانوں کے لیے مصنوعی ذہانت محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ مثبت تبدیلی کے لیے ایک زبردست موقع ہے۔

2.jpg

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ بھارت کا نقطۂ نظر ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ٹیکنالوجی عوام کو بااختیار بنائے، شمولیت کو فروغ دے اور سب کے لیے مواقع میں اضافہ کرے۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال کا مقصد سماجی، معاشی اور تکنیکی خلیج کو کم کرنا ہونا چاہیے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ اس کے فوائد ہر طبقے اور ہر عمر کے افراد تک پہنچیں، بالخصوص پسماندہ اور محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں تک۔

3.jpg

صدرِ جمہوریہ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ طلبہ امکانات اور مواقع سے بھرپور مستقبل کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ ٹیکنالوجی، ان کے علم اور ان کی مہارتوں، معاشرے کی خدمت، مسائل کے حل اور دوسروں کو بااختیار بنانے کے لیے استعمال ہونی چاہئیں۔ انہوں نے اُن اراکینِ پارلیمان کی بھی ستائش کی جنہوں نے مصنوعی ذہانت کے تعلیمی ماڈیولز مکمل کیے ہیں۔ صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بارے میں خود سیکھ کر انہوں نے سیکھنے کے ذریعے قیادت کی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔

4.jpg

صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت بھارتی معیشت کے لیے ایک اہم محرک کے طور پر ابھر رہی ہے۔ آئندہ دہائی میں اے آئی ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی)، روزگار اور مجموعی پیداواری صلاحیت میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔ ڈیٹا سائنس، اے آئی انجینئرنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسی مہارتیں ملک کے اے آئی سے متعلق ہنرمند افرادکی بڑی تعداد تیار کرنے میں کلیدی حیثیت رکھیں گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف اداروں، صنعتی شراکت داروں اور تعلیمی حلقوں کے تعاون سے اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ بھارت نہ صرف ٹیکنالوجی کو اپنائے بلکہ اس کے ذریعے ایک ذمہ دار مستقبل کی تشکیل بھی کرے۔ صدرِ جمہوریہ نے سب پر زور دیا کہ عزم و وابستگی کے ساتھ مل کر ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق بھارت کو علم کی سپر پاور بنانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی، جامع اور خوشحال بھارت کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا یہ پروگرام، اے آئی پرمبنی مستقبل کے لیے بھارت کی افرادی قوت کو تیار کرنے کے سلسلے میں حکومت کے مسلسل عزم کا حصہ ہے۔

********

 (ش ح ۔ع ح۔اک م)

U. No. 21


(रिलीज़ आईडी: 2210458) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Bengali , English , हिन्दी , Gujarati , Odia , Tamil , Malayalam