PIB Headquarters
azadi ka amrit mahotsav

ویر بال دیوس


پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار

ہمت کا احترام ، عمر سے قطع نظرامتیازی کارنامے کی حوصلہ افزائی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 DEC 2025 4:08PM by PIB Delhi

اہم نکات

  • ویر بال دیوس ہر سال 26 دسمبر کو گرو گووند سنگھ کے دو سب سے چھوٹے پسران صاحبزادہ زورآور سنگھ اور صاحبزادہ فتح سنگھ کی شہادت کے اعزاز میں منایا جاتا ہے ۔
  • یہ دن ہندوستان کے نوجوان ہیروز کی ہمت ، قربانی اور مثالی اقدار کی یادگار ہے ۔
  • صدر جمہوریہ ہند نے بہادری ، کھیلوں ، سماجی خدمات ، سائنس اور ٹیکنالوجی ، ماحولیات ، اور فن و ثقافت میں شاندار کامیابیوں کے لیے 5 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کو پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار سے نوازا ۔

مقدمہ

حکومت ہند ہر سال 26 دسمبر کو گرو گووند سنگھ کے دو سب سے چھوٹے پسران صاحبزادہ زورآور سنگھ اور صاحبزادہ فتح سنگھ کی شہادت کی یاد میں ویر بال دیوس مناتی ہے ۔  اس کا مقصد ملک کے دو نوجوان ہیروز کی بہادری کا احترام کرنا اور آج کے نوجوانوں میں مثالی ہمت اور قربانی کا جذبہ پیدا کرنے میں مدد کرنا ہے ۔

تاریخی پس منظر

سکھ مت کے دسویں گرو ، گرو گووند سنگھ کے دو سب سے چھوٹے پسران ، صاحبزادہ زورآور سنگھ اور صاحبزادہ فتح سنگھ کو جبر کے تحت اپنے عقیدے کو ترک کرنے سے انکار کرنے پر 26 دسمبر 1704 کو سرہند (موجودہ فتح گڑھ صاحب ، پنجاب) میں شہید کر دیا گیا تھا ۔

نوعمرصاحبزادوں کی یہ شہادت ملک کے لیے پختہ اعتقاد ، ہمت اور اخلاقی طاقت کی پائیدار علامت شمار ہوتی ہے۔  یہ سکھ گروؤں کی وراثت،  ان کی ہمت اور لگن کی قابل احترام اور پُرجوش علامت ہے ۔   اتنی کم عمر میں بھی نوجوان بہادروں نے بے مثال جرأت کے ساتھ خوف پر سچائی اور وقار کا انتخاب کیا ۔  ان کی قربانیوں سے نسلوں کو تحریک ملتی رہتی ہے اور انہیں ملک کی اجتماعی تاریخی سرگزشت میں مرکزی مقام حاصل ہے ۔  یہ تاریخی دن گرودواروں میں ان کی بہادری کے احترام اور یاد میں دعاؤں اور کیرتن کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔

مقاصد اور اہتمام

ویر بال دیوس کو آغاز سے ہی دو نوعمر شہیدوں کی بہادری کا احترام کرنے اور آج کے نوجوانوں کو ان کی قربانی سے واقف کرنے کے لیے پورے ملک میں منایا جاتا رہا ہے ۔ اس موقع پر، خاص طور پر ملک بھر کے اسکولوں میں متعدد پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں ۔  ان میں مضمون نگاری ، کوئز ، مباحثے ، قصہ گوئی کے سیشن ، آرٹ پروگرام ، یوتھ مارچ ، اور عوامی خراج عقیدت، ثقافتی پرفارمنس ، اور نوجوانوں پر مرکوز دیگر سرگرمیاں شامل ہیں، جن سے اس دن کی شراکت اور جامع نوعیت اجاگر ہوتی ہے ۔  تقریبات میں تاریخی قربانی کو عصری معاشرتی اقدار سےجوڑنے کے لئےخراج عقیدت اور تقاریر کی نشستیں بھی پیش کی جاتی ہیں۔  یہ تقریب ہندوستان کے نوجوانوں کی غیر معمولی خوبیوں ، تخلیقی صلاحیتوں اور کامیابیوں کو ظاہر کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم شمار ہوتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے روشن مستقبل کی بنیاد کی حیثیت رکھنے والے بچوں کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس موقع پر شرکت کرتے ہیں۔

پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار (پی ایم آر بی پی)

پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار (پی ایم آر بی پی) قومی سطح کا باوقار ایوارڈ ہے جو ہر سال عزت مآب صدر جمہوریہ ہند ک ہاتھوں مختلف شعبوں میں بچوں (18 سال سے کم عمر) کی غیر معمولی کامیابیوں کے اعتراف میں دیا جاتا ہے ۔

یہ ایوارڈ چھ زمروں میں نوجوان بہادروں کو دیا جاتا ہے: بہادری ، سماجی خدمت ، ماحولیات ، کھیل ، فن و ثقافت ، اور سائنس و ٹیکنالوجی۔  اس کا مقصد مختلف شعبوں میں قومی سطح پر بچوں کے شاندار کارناموں کا اعتراف کرکے ان کا جشن منانا ، ان کی حوصلہ افزائی اور ان کو تحریک دیناہے۔  اس کا مقصد حقیقی زندگی کے رول ماڈل پیش کرکے ملک بھر میں بچوں کے ساتھیوں کو متاثر کرنا بھی ہے ۔ متاثر کن کاوشوں کو اجاگر کرکے ، یہ ایوارڈ اختراع ، خدمت اور استقامت کے کلچر کو فروغ دیتا ہے ۔  اس پہل کے ذریعے ، بچوں کی فلاح و بہبود ، مجموعی ترقی ، اور نوجوان بہادروں میں قومی فخر کا جذبہ پروان چڑھانے کے حکومت ہند کےعزم کو تقویت ملتی ہے ۔

اہلیت کا معیار

یہ ایوارڈ ہندوستان میں مقیم  5 سے 18 سال کی عمر کے ہندوستانی شہریوں کو ہرسال 31 جولائی کو دیا جاتا ہے۔  وہ کارنامہ ، واقعہ ، یا حصولیابی جس کے لیے ایوارڈ یافتہ کو نامزد کیا جا رہا ہے ، درخواست کی آخری تاریخ سے دو سال پہلے تک کی مدت کے اندرہونا چاہیے۔

نامزدگی اور انتخاب

ایوارڈ یافتہ کاانتخاب پی ایم آر بی پی کمیٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے ، جو وزیربہبود خواتین واطفال کے ذریعہ تشکیل دی جاتی ہے اور اس کی صدارت ایم ڈبلیو سی ڈی کے سکریٹری کرتے ہیں، جس میں ڈومین کے ماہرین بطورممبر شامل ہوتے ہیں ۔  یہ ایوارڈ صرف کمیٹی کی سفارش پر دیے جاتے ہیں ، جو کامیابیوں کی غیر معمولی خوبی اور سماجی اثرات کی بنیاد پر پیش کی جاتی ہے، اور اس پر وزیر بہبود ی خواتین و اطفال کی منظوری حاصل کی جاتی ہے۔

ایوارڈ کی تعداد

ہر سال زیادہ سے زیادہ 25 ایوارڈز دیے جاتے ہیں ۔  پی ایم آر بی پی کمیٹی غیر معمولی معاملات میں اس حد میں نرمی کر سکتی ہے ۔  ہر ایوارڈ ایک میڈل اور ایک سرٹیفکیٹ پر مشتمل ہوتا ہے ۔

پس  مرگ ایوارڈ

 

ویر بال دیوس اور پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار کا پروگرام 2025

 

یہ ایوارڈ عام طور پر بعد از مرگ نہیں دیا جاتا ہے ۔  تاہم ، نادر اور انتہائی اہلیت کے معاملات میں ، پی ایم آر بی پی کمیٹی بعد از مرگ اعزاز دینے پر غور کر سکتی ہے ۔

 

اس سال 18 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 20 بچوں کو پردھان منتری راشٹریہ بال پرسکار کے لیے منتخب کیا گیا ہے ۔  یہ ایوارڈ صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرموکے ہاتھوں ، 26 دسمبر 2025 کو صبح 10:00 بجے وگیان بھون ، نئی دہلی میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران دیاگیا۔

ویر بال دیوس 2025 کا ایک قومی سطح کا پروگرام 26 دسمبر 2025 کو بھارت منڈپم ، نئی دہلی میں منعقد کیا گیا تھا ، جس میں  وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ہندوستان کے بچوں اور نوجوانوں سے خطاب کیا اور ملک کی تعمیر میں ان کے کردار پر زور دیا ۔  اس پروگرام میں بہادری ، استقامت اور بے لوث خدمات کی کہانیوں کو اجاگر کیا گیا ، بچوں اور نوجوانوں کو تحریک دی گئی اور وکست بھارت@2047 کے وژن کےمطابق  ملک کے باشندوں میں بااختیار اور ذمہ دار شہری کا جذبہ پروان چڑھانے کے لیے حکومت ہند کے عزم کا اعادہ کیا گیا ۔

ملک بھر سے اسکولی بچوں ، پی ایم آر بی پی کے ایوارڈ یافتگان ، اور معززین نے اس پروگرام میں شرکت کی ۔

نیچے پی ایم آر بی پی 2025 کے ایوارڈ یافتگان کی فہرست ان کے کارناموں اور ایوارڈ کے زمروں کے ساتھ درج ہے ۔

نمبر شمار

نام اور پتہ

عمر

ایوارڈ یافتگان کے بارے میں

بہادری

1

ویوما پریا (پس مرگ)

کوئمبٹور، تمل ناڈو

9 سال

اپنی عمر سے زیادہ غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ایک چھ سالہ بچے کو بجلی کے حادثے کے دوران بچانے کی بے لوث کوشش میں اپنی جوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

2

کملیش کمار (پس مرگ)

کیمور، بہار

11 سال

دوسرے بچے کو ڈوبنے سے بچانے کی بہادری اور فطری کوشش میں اپنی جان دے دی۔

3

محمد سیدان پی

پلکاڈ، کیرالہ

11 سال

اپنی جان پر دوسرے کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے، اپنے دو دوستوں کو بجلی کے کرنٹ سے بچانے کے لیے بغیر کسی خوف کے کام کیا۔

4

اجے راج

آگرہ، یوپی

9 سال

اپنے گاؤں کی ندی کے قریب مگرمچھ کے حملے سے اپنے والد کو بچا کر شاندار بے خوفی کا مظاہرہ کیا۔

فن اور ثقافت

5

ایستھر

لالدوہومی ہنمتے

لنگلی، میزورم

9 سال

اپنی نوخیزآواز کے ذریعے قومی فخر کو متاثر کرنے والے حب الوطنی کے نغمے گاکر ملک بھر میں لاکھوں لوگوں کے دل چھو لیا۔

6

سمن سرکار

ندیا، مغربی بنگال

16 سال

ایک ہونہار طبلہ نواز جس کی غیر معمولی صلاحیت سے اسے عالمی سطح پر پذیرائی اور تعریفیں حاصل ہوئیں۔

ماحولیات

7

پوجا

بارہ بنکی، یوپی

17 سال

اپنے اردگرد کے ماحول کی فکر میں مبتلا، اس نوجوان لڑکی نے زراعتی دھول اور فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے ایک جدید مشین بنائی۔

سماجی خدمات

8

شوان سنگھ

فیروز پور، پنجاب

10 سال

آپریشن سندور کے دوران فرنٹ لائن سپاہیوں کی مدد کے لیے خطرناک سپلائی رن چلا کر غیر معمولی ہمت کا مظاہرہ کیا۔

9

ونش طائل

چندی گڑھ

17 سال

ابتدائی مشکلات کے باوجود، اس نے آرام پر ہمدردی کا انتخاب کیا اور اپنے آپ کو بچوں کی بحالی کے لیے وقف کر دیا، جن میں خصوصی ضروریات والے بچےبھی شامل تھے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی

10

آئشی پریشا بورہ

جورہاٹ، آسام

14 سال

پائیداری سے متاثر ہو کر، اس نے قدرتی کاشتکاری اور ملچنگ کی جدید تکنیک جیسے ماحول کے ساز گار طریقوں کو فروغ دیاہے۔

11

ارنو انوپریا مہارشی

اورنگ آباد، مہاراشٹر

17 سال

ایک نوجوان ماجور اختراع کار جس نے ہاتھ کے فالج زدہ افراد کے لیےاے آئی پر مبنی بحالی کا آلہ تیار کرکے ذاتی چیلنجوں کو مقصد میں بدل دیا۔

کھیل

12

شیوانی ہوسورو اپارا

انامایہ، آندھرا پردیش

17 سال

ایک پرعزم ماجور پیرا ایتھلیٹ جس نے شاٹ پٹ اور جیولن میں اپنی کامیابیوں کے ذریعے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔

13

ویبھو سوریہ ونشی

سمستی پور، بہار

14سال

ایک کرکٹ سنسنی جو ریکارڈ ساز کارکردگی کی بدولت آئی پی ایل کا سب سے کم عمر کھلاڑی اور لیگ میں تیز ترین ہندوستانی سنچری بنانے والے کھلاڑی بنے۔

14

یوگیتا مانڈاوی

کونڈاگاؤں، چھتیس گڑھ

14 سال

نکسل سے متاثرہ علاقے سے نکل کر، اس نے قومی سطح کی کھیلو انڈیا جوڈوکا بننے کے لیے بے پناہ چیلنجوں پر قابو پایا۔

15

واکا لکشمی پرگنیکا

سورت، گجرات

7 سال

شطرنج کا ایک نوجوان کھلاڑی جس نے 9/9 کے اسکور کے ساتھ انڈر 7 ورلڈ چیمپئن بن کر دنیا کو حیران کر دیا۔

16

جیوتی

سرسا، ہریانہ

17 سال

ایک متاثر کن بین الاقوامی پیرا ایتھلیٹ جس کی تمغہ جیتنے والی پرفارمنس استقامت، طاقت اور عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

17

انوشکا کماری

رانچی، جھارکھنڈ

14 سال

جھارکھنڈ سے منتخب ہونے والی پانچ لڑکیوں میں سے ایک جس کو ہندوستانی انڈر 17 خواتین کی فٹ بال ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا، جو اپنی مستقل گول کرنے کی صلاحیت کے لیے جانی جاتی ہے۔

18

دھیندھی دیسنگھو

بنگلور، کرناٹک

15 سال

ایک ہونہار تیراک جس نے عالمی سطح پر ہندوستان کا سر فخر سے بلند کیا اور پیرس 2024 اولمپکس میں حصہ لینے والے سب سے کم عمر ہندوستانیوں میں سے ایک تھا ۔

19

جیوشنا صابر

گجپتی، اڈیشہ

16 سال

ایک طاقتور نوجوان ویٹ لفٹر جس نے یوتھ ایشین ریکارڈ قائم کیا اور ہندوستان کے لیے بین الاقوامی تمغے لانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

20

وشوناتھ کارتکیہ پدکانتی

میدچل-ملکاجگیری، تلنگانہ

16 سال

ایک نڈر کوہ پیما جس نے دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو طے کیا، سات چوٹیوں کا چیلنج مکمل کرنے والا سب سے کم عمر کو ہ پیما بن گیا۔

خاتمہ

ویر بال دیوس سکھ گرو کے صاحبزادوں کی شہادت کی یاد کو ادارہ جاتی درجہ دینے  اور تاریخی یادگار کو عصری تحریک کے وسیلے میں بدلنے کےاہم قومی اقدام کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہر سال 26 دسمبر کو منایا جانے والایہ دن حکومت ہند کے اقدار پر مبنی تعلیم، نوجوانوں کی مشغولیت اور تاریخی شعور کے تحفظ پر زور دینے کی عکاسی کرتا ہے۔ مربوط قومی تقریبات اور اسکول کی سطح پر وسیع پیمانے کی  شرکت کے ذریعے، ویر بال دیوس خراج عقیدت اور مستقبل رخی پہل دونوں کے طور پر ابھرا ہے جس کا مقصد آنے والی نسلوں کے درمیان ہمت، دیانت اور اخلاقی طاقت کو پروان چڑھانا ہے۔

حوالہ جات

وزارت بہبودی خواتین و اطفال

https://www.google.com/url?sa=t&source=web&rct=j&opi=89978449&url=https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s371e09b16e21f7b6919bbfc43f6a5b2f0/uploads/2025/05/20250524679249072.pdf&ved=2ahUKEwiasKqkktORAxU22TgGHS1AM3AQFnoECDMQAQ&usg=AOvVaw2WRZpS6y96_70GdCW5sgZL

https://www.google.com/url?sa=t&source=web&rct=j&opi=89978449&url=https://gurunanakcollege.edu.in/2024/1/2/The%2520Four%2520Sahibzadas%2520English.pdf&ved=2ahUKEwijttCq9MORAxWR7jgGHXK1FswQFnoECEUQAQ&usg=AOvVaw2LbXKeZue50Pn425qve8aI

امرت کال

https://amritkaal.nic.in/event-detail?183731

https://www.mygov.in/task/martyrdom-brave-sons-guru-govind-singh-ji-essay-contest/

پی آئی بی

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=1990383&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1991884&reg=3&lang=2https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1881187&reg=3&lang=2

پی ڈی ایف دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

*****

ش ح۔م ش ع۔ م ق ا

U- 14

          


(ریلیز آئی ڈی: 2210446) وزیٹر کاؤنٹر : 30