نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدرجمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن کا این آئی ٹی کروکشیتر کے 20ویں کانووکیشن سے خطاب


نوآبادیاتی، میکالے دور کی ذہنیت ترک کرکے بھارت عالمی قائد بننے کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے: نائب صدر

این ای پی2020، ہندوستان کی ثقافت، روایات اور تہذیبی اقدار سے جڑی ہوئی ہے: نائب صدر

تحقیق کا مقصد دیہی بھارت کو بااختیار بنانا، شہری و دیہی فرق کو کم کرنا اور ایم ایس ایم ایز کو مضبوط کرنا ہونا چاہیے: نائب صدر

دماغی ہجرت سے دماغی واپسی تک: نائب صدر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی کامیابی کے سفر میں بھارت کو مرکز میں رکھیں

اگلا گوگل، ٹیسلا یا اسپیس ایکس بھارت سے ابھرنا چاہیے: نائب صدر

ٹیکنالوجی کا حقیقی مقصد مقصدی ترقی ہے: نائب صدر

بھارت اب صرف اپنانے والا نہیں بلکہ عالمی ٹیکنالوجیز کا تخلیق کار بن کر ابھر رہا ہے: نائب صدر

حکومت تخلیقی صلاحیتوں، رسک لینے اور روزگار پیدا کرنے والی مضبوط اسٹارٹ اَپ ثقافت کو پروان چڑھا رہی ہے: نائب صدر

کروکشیتر دھرم کی اَدھرم پر ابدی فتح کی علامت: نائب صدر

प्रविष्टि तिथि: 30 NOV 2025 3:32PM by PIB Delhi

ہندوستان کے نائب صدر جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج این آئی ٹی، کروکشیتر ہریانہ کے 20ویں کانووکیشن میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ اُن کے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ وہ بھارت کے معروف ترین تکنیکی اداروں میں سے ایک کے سنگِ میل جیسے اس اہم موقع کا حصہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے این آئی ٹی کروکشیتر کو ایک ایسے ادارے کے طور پر سراہا جس کا ماضی شاندار، حال تابناک اور مستقبل ملک میں تکنیکی تعلیم کے معیارات کو مسلسل نئی بلندیوں تک پہنچا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کروکشیتر ایک مقدس سرزمین ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دھرم ہمیشہ ادھرم پر غالب آتا ہے، چاہے ادھرم بظاہر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے۔

نائب صدر نے کہا کہ کانووکیشن صرف ایک تقریب نہیں بلکہ وہ لمحہ ہے جب برسوں کی محنت و لگن فخر، امید اور نئے مواقع سے بھرپور ایک نئے سفر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

عالمی تبدیلی کی تیز رفتاری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی کے نظام، خلائی ٹیکنالوجی، بایوٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور سیمی کنڈکٹرز جیسے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا احوال پیش کیا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی ایک طاقتور سہولت کار بن چکی ہے جو صنعتوں کو نیا رخ دے رہی ہے اور سماجی ڈھانچے کو نئی ترتیب دے رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ذمہ دارانہ جدت کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کا اصل مقصد صرف ترقی نہیں، بلکہ مقصد کے ساتھ ترقی ہے۔

طلبہ کو تحقیق، اختراع اور بھارت سے متعلق مسائل کے حل میں گہرائی سے مشغول ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ وہ دو انجن ہیں جو بھارت کی تکنیکی قیادت کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے نوجوان اختراع کاروں پر زور دیا کہ وہ پائیدار مال سازی، اسمارٹ نقل و حمل، کوانٹم ٹیکنالوجیز، ہیلتھ کیئر ٹیکنالوجیز، زرعی اختراعات اور گرین انفراسٹرکچر جیسے قومی اہمیت کے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تحقیق کریں۔

نائب صدر نے کہا کہ بھارت اب ٹیکنالوجی کے صارف سے بڑھ کر دنیا کو جدید حل فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل انڈیا، اسٹارٹ اپ انڈیا اور میک ان انڈیا جیسے اقدامات کو فعال اختراعی و کاروباری ماحول کی تشکیل کا محرک قرار دیا اور فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی سوچ کو ایسے کاروباروں میں تبدیل کریں جو روزگار پیدا کریں اور قومی ترقی میں اضافہ کریں۔

عالمی نوعیت کے موجودہ چیلنجز، ماحولیاتی تبدیلی، سائبر سکیورٹی خطرات، ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ چیلنجز جدت اور قیادت کے بڑے مواقع بھی پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیشی کی تعریف کی کہ اُنہوں نے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 نافذ کی، جو کثیر شعبہ جاتی تعلیم کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے اور بھارت کی ثقافت، وراثت اور اقدار میں گہرائی سے پیوست ہے۔

نائب صدر نے کہا کہ این ای پی 2020 نے بھارت کو ایک تبدیلی کی راہ پر ڈال دیا ہے جس نے مکالے کے نوآبادیاتی طرزِ تعلیم کی باقیات کو ختم کیا، ایک ایسا نظام جو ہندوستان پر حکمرانی کے لیے متعارف کرایا گیا تھا اور جس کا مقصد صرف کلرک تیار کرنا تھا۔

انسٹی ٹیوٹ کی جامع تعلیم پر توجہ کی تعریف کرتے ہوئے نائب صدر نے مجموعی شخصیت سازی مرکز کے قیام کو سراہا، جو بھگوت گیتا، عالمگیر انسانی اقدار، ادراکی علوم اور ذہنی صحت سے متعلق کورسز کے ذریعے ذہنی، جذباتی اور اخلاقی ارتقاء کو فروغ دیتا ہے۔

وِکست بھارت @ 2047 کے قومی نظریے کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر نے اعتماد ظاہر کیا کہ این آئی ٹی کروکشیترہ کے فارغ التحصیل طلبہ اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ادارے کو اب تک 64 پیٹنٹس مل چکے ہیں، جو تحقیق، اختراع اور فکری املاک کے حوالے سے اس کی مضبوط ثقافت کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے اے آئی پر مبنی جنگی صلاحیت، دفاعی تحقیق اور چندریان و مریخ آربیٹر مشن جیسے خلائی منصوبوں میں ڈی آر ڈی او اور اِسرو کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ادارے کی اہم خدمات کو سراہا۔ انہوں نے آتم نربھر بھارت کے تحت کم لاگت، مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجیز پر ہونے والی تحقیق کی بھی تعریف کی، جو دیہات اور کچی بستیوں میں لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے مقصد سے کی جا رہی ہے۔

طلبہ کو بھارت کی ترقی کے سفر سے جڑے رہنے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحقیق کو شہری و دیہی فرق مٹانے، ایم ایس ایم ایز کو مضبوط بنانے، زراعت کو جدید بنانے اور دیہی معیشتوں کو سہارا دینے میں مدد کرنی چاہیے تاکہ ٹیکنالوجی آخری فرد تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا: ’’ہمیں برین ڈرین سے برین گین کی طرف بڑھنا ہوگا‘‘ اور فارغ التحصیل طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ جہاں بھی جائیں اپنے دل میں بھارت کو ساتھ لے کر جائیں۔

نوجوانوں کے لیے اپنے ویژن کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’میرا یقین ہے کہ اگلا گوگل، اگلا ٹیسلہ، اگلا اسپیس ایکس بھارت سے — این آئی ٹی کروکشیتر جیسے اداروں سے ابھرنا چاہیے‘‘۔

نائب صدر نے طلبہ سے منشیات کو ’’نہ‘‘ کہہ کر ایک نظم و ضبط والی زندگی گزارنے کی بھی اپیل کی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو یاد دلایا کہ ان کی ڈگری اختتام نہیں بلکہ ایک نئی ذمہ داری کی شروعات ہے۔ انہوں نے انہیں تخلیقی صلاحیت، انکساری اور ہمدردی کے جذبے کے ساتھ سماج کی خدمت کرنے کی نصیحت کی۔

اس موقع پر ہریانہ کے گورنر پروفیسر اشیم کمار گھوش، وزیر اعلیٰ ہریانہ جناب نائب سنگھ سینی، ڈائریکٹر این آئی ٹی کروکشیتر پروفیسر بی۔ وی۔ رمانا ریڈی، چیئرپرسن بورڈ آف گورنرز ڈاکٹر تیجسونی آننتھا کمار اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno- 2057


(रिलीज़ आईडी: 2196574) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Gujarati