تعاون کی وزارت
امداد باہمی کے مرکزی وزیر مملکت جناب مرلی دھر موہول نے آج راجیہ سبھا میں تریبھوون سہکاری یونیورسٹی بل 2025 پر بحث کا جواب دیا
بحث کے بعد ایوان نے بل کی منظوری دی۔ لوک سبھا نے اس بل کو 26 مارچ 2025 کو منظور کیا تھا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں سال 2027 تک ہندوستان کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے میں دیہی معیشت کا اہم کردار ہوگا
جناب امت شاہ جی ملک کے پہلے امداد باہمی کے وزیر ہیں، جن کے پاس پی اے سی ایس ، مارکیٹ کمیٹی ،ضلع کوآپریٹو بینک کے صدر اور ریاستی کوآپریٹو بینک کے ڈائریکٹرکا وسیع تجربہ ہے
امداد باہمی کے شعبے کو اگلے پانچ برسوں میں تقریباً 17 لاکھ تربیت یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہوگی اور اسی کے پیش نظر تریبھون سہکاری یونیورسٹی کے قیام کی پہل کی گئی ہے۔
امداد باہمی کے شعبے اور اس کی توسیع کے لیے ایک ادارہ جاتی نظام ضروری ہے اور اسی مقصد کے لیے تریبھون سہکاری یونیورسٹی قائم کی گئی ہے
جناب امت شاہ کی قیادت میں امداد باہمی کی وزارت نے امداد باہمی کے شعبے کو نئی سمت دینے کے لیے 60 نئے اقدامات کیے
14-2023 میں کوآپریٹیو کے لیے 122 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا ، جوموجودہ وقت میں 10 گنے اضافے کے ساتھ 1190 کروڑ روپے ہو گیا ہے ۔
پی اے سی ایس کے ضمنی قوانین کو کثیرالمقاصد بنانے کے لیے ان میں ترمیم کی گئی اور ان ضمنی قوانین کو 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اپنایا ہے
آج 43 ہزارپی اے سی ایس ایز کامن سروس سینٹر چلا رہے ہیں، 36 ہزار پی اے سی ایس پی ایم کسان سمردھی کیندر چلا رہے ہیں اور 4 ہزارپی اے سی ایس ایز پردھان منتری جن اوشدھی کیندر چلا رہے ہیں
جب پی اے سی ایس اقتصادی طور پر مضبوط ہوں گے ،تب ہی کسان بااختیار ہوں گے اور گاؤں بھی خوشحال ہوں گے
پی ایم مودی کی قیادت اورامداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امیت شاہ کی رہنمائی میں قومی کوآپریٹو پالیسی بنائی جا رہی ہے اورہم اس پالیسی کے اعلان کے لیے پر عزم ہیں۔
رواں سال این سی ڈی سی نے ملک کی چنی ملوں کو تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے کی مالی امدادفراہم کرائی
Posted On:
01 APR 2025 10:16PM by PIB Delhi
امداد باہمی کے مرکزی وزیر مملکت جناب مرلی دھر موہول نے آج راجیہ سبھا میں تریبھون سہکاری یونیورسٹی بل 2025 پر بحث کا جواب دیا۔ بحث کے بعد ایوان نے بل کی منظوری دے دی۔ لوک سبھا نے اس بل کو 26 مارچ 2025 کو منظور کیا تھا۔
بحث کا جواب دیتے ہوئے امداد باہمی کے مرکزی وزیر مملکت جناب مرلی دھر موہول نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی سال 2027 تک ہندوستان کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے کےلیے پر عزم ہے ، جہاں دیہی معیشت کا اہم تعاون ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کی 50 فیصد سے زیادہ آبادی زراعت کے شعبے سے منسلک ہے ۔ ملک میں تقریباً 8 لاکھ امداد باہمی کی تنظیمیں ہیں، جن کے 30 کروڑ سے زیادہ اراکین ہیں ۔ جناب موہول نے کہا کہ ہر کسان خاندان میں سے ایک شخص کوآپریٹو سیکٹر سے وابستہ ہے ۔
وزیر مملکت برائے امداد باہمی نے کہا کہ14-2013 میں محکمہ امداد باہمی کے لیے122 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا، جو آج بڑھ کر1190 کروڑ روپے ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے ملک بھر میں امداد باہمی سے متعلق کام ایک جوائنٹ سکریٹری سطح کے افسر کے ذریعے کیا جا رہا تھا، لیکن وزیراعظم مودی جی نے کسانوں کی فلاح کے لیے امداد باہمی کی ایک آزاد وزارت قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی جی نے ایک بصیرت افروز فیصلہ کرتے ہوئے امداد باہمی کی وزارت کو تشکیل دی تاکہ پورے ملک میں پرائمری ایگری کلچرل کریڈٹ سوسائٹیز(پی اے سی ایس)، ڈیری، چنی ملوں ، کوآپریٹو بینک، ٹیکسٹائل ملز جیسی امداد باہمی کی کمیٹیوں کی ترقی اور توسیع کی جا سکے اور کوآپریٹو تحریک کو مضبوط بنایا جا سکے۔
جناب مرلی دھر موہول نے کہا کہ یہ ہم سب کے لیے فخر کی بات ہے کہ جناب امت شاہ جی اس ملک کے پہلے امداد باہمی کے وزیر بنے ، جنہوں نے گاؤں کی پی اے سی ایس اور مارکیٹ کمیٹی میں کام کیااس کے علاوہ ضلع کوآپریٹو بینک کے صدر اور ریاستی کوآپریٹو بینک کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا اور انہیں امداد باہمی کے شعبہ میں بڑا تجربہ اور اس شعبے میں ان کا بہت بڑا تعاون ہے۔
امداد باہمی کے وزیر مملکت نے کہا کہ وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی قیادت میں امداد باہمی کی وزارت نے امداد باہمی کے شعبے کو نیا رخ دینے کے لیے 60 نئے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان میں پی اے سی ایس کو مضبوط بنانے کا پہلا قدم شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی اے سی ایس امداد باہمی کے شعبے میں سب سے اہم کڑی ہے، اس لیے پی اے سی ایس کے ضمنی قوانین میں ترمیم کی گئی اور پی اے سی ایس کو کثیر المقاصد بنایا گیا اور اس ضمنی ضابطے کو 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اپنائے ہیں۔
جناب مرلی دھر موہول نے کہا کہ آج ملک میں 43 ہزار پی اے سی ایس کامن سروس سینٹر ، 36 ہزار پی اے سی ایس پردھان منتری کسان سمردھی کیندر چلا رہے ہیں، جبکہ 4 ہزار پی اے سی ایس پردھان منتری جن اوشدھی کیندر چلا رہے ہیں ۔ کئی پی اے سی ایس پیٹرول پمپ بھی چلا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب پی اے سی ایس اقتصادی طور پر مضبوط ہوں گے ، تب ہی کسان بااختیار ہوں گے اور گاؤں بھی خوشحال ہوں گے ۔
امداد باہمی کے وزیر مملکت نے کہا کہ ریاستوں میں امداد باہمی کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیےمرکزی وزرات برائے امداد باہمی کے ذریعے تقریباً 66 ہزارپی اے سی ا یس کو کمپیوٹرائزکرنے کا عمل جاری ہے، جس پر حکومتِ ہند2516 کروڑ روپےخرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک کے ہر گاؤں کو امداد باہمی کے ذریعے خوشحال بنانا ہے۔ اس کے لیے وزارت نے 2 لاکھ پی اے سی ایس بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جن میں سے 14 ہزار پی اے سی ایس پہلے ہی قائم ہو چکے ہیں۔ جناب موہول نے کہا کہ اگلے پانچ برسوں میں ملک میں پی اے سی ایس کی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔
جناب مرلی دھر موہول نے کہا کہ پی اے سی ایس تشکیل دیتے وقت ہم نے ملک کے سماجی ڈھانچے کو ذہن میں رکھا ہے اور کوآپریٹیو میں خواتین سمیت سماج کے تمام طبقات کو نمائندگی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ضمنی قوانین کے تحت حکومت نے پی اے سی ایس کے بورڈ آف ڈائریکٹرس میں درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل زمروں کے ارکان اور ایک خاتون رکن کا ہونا لازمی قرار دیا ہے۔ اس کے ذریعے ہم کوآپریٹو سیکٹر میں سماجی انصاف فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جناب موہول نے کہا کہ تمام ریاستوں کو ساتھ لے کر ایک نیشنل کوآپریٹیو ڈیٹا بیس بنایا گیا ہے۔ اب تمام کوآپریٹیو کے بارے میں معلومات ایک کلک سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
امداد باہمی کے مرکزی وزیر مملکت نے کہا کہ ملک کی قومی امداد باہمی کی پالیسی بھی وزیر اعظم مودی جی کی قیادت اور مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ کی رہنمائی میں تیار کی جا رہی ہے ۔ اگلے چند دنوں میں اس پالیسی کے اعلان کے لیے ہم پر عزم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 2023 میں پہلی بار جناب امت شاہ جی کی قیادت میں قومی سطح پر تین نئی کوآپریٹو سوسائٹیاں-بھارتیہ بیج سہکاری سمیتی لمیٹڈ (بی بی ایس ایس ایل) نیشنل کوآپریٹو ایکسپورٹس لمیٹڈ (این سی ای ایل) اور نیشنل کوآپریٹو آرگینکس لمیٹڈ (این سی او ایل) ملک کے کسانوں کو بیج سے لے کر بازار تک سہولتیں فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئیں ہیں ۔ ان تینوں سوسائٹیوں کے ذریعے 34 ہزار کوآپریٹو اداروں کو ممبر بنایا گیا ہے ۔ اس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا ۔
جناب مرلی دھر موہول نے کہا کہ امداد باہمی کی وزارت نے کسانوں کے لیے دنیا کی سب سے بڑی فوڈ اسٹوریج اسکیم بنائی ہے ۔ پی اے سی ایس کے ذریعے فوڈ اسٹوریج اسکیم کا کام شروع ہو چکا ہے ۔ اس سے نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آئے گی ، فصل کی حفاظت ہوگی اور کسانوں کو اپنے قریب کی جگہ پر ذخیرہ کرنے کی سہولت ملے گی جس سے انہیں مالی فوائد بھی ملیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ14-2013 میں نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این سی ڈی سی) کے ذریعے ملک کے کوامداد باہمی کے اداروں کو صرف 5300 کروڑ روپے دیے گئے تھے، جس کو مودی حکومت نے بڑھا کر 1 لاکھ 28 ہزار کروڑ روپے کر دیا ہے ۔ رواں برس این سی ڈی سی نے ملک کی چنی ملوں کو تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے کی مالی امداد فراہم کرائی ہے ۔
امداد باہمی کے مرکزی وزیر مملکت نے کہا کہ امداد باہمی کے شعبے کی رفتار بڑھانے اور اس کی توسیع کے لیے ایک ادارہ جاتی نظام ضروری ہے ۔ اس مقصد کے لیے یونیورسٹی قائم کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے امداد باہمی کے اداروں کو کارکردگی کی کمی ، انتظام میں بے ضابطگیاں اور تکنیکی وسائل کے محدود استعمال جیسے چیلنجز درپیش ہیں ، جو ان کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں ۔ اس یونیورسٹی کے ذریعے کوآپریٹو سیکٹر کا دائرہ کار اور موثریت یقینی طور پر بڑھے گی ، جس سے خود روزگار اور اختراع کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔جناب مرلی دھر موہول نے کہا کہ آج ہر سطح پرپی اے سی ایس کے سکریٹری سے لے کر ایپیکس بینک کے ایم ڈی تک کارکردگی اور نظم و ضبط کے لیے مناسب تربیت کی ضرورت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امداد باہمی کے شعبے کو اگلے پانچ برسوں میں تقریباً 17 لاکھ تربیت یافتہ نوجوانوں کی ضرورت ہوگی۔ اس ضرورت کے پیش نظر ایک یونیورسٹی قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امداد باہمی کے شعبے میں تدریس اور تربیت کا نظام مناسب نہیں ہے اور یہ بھی منتشر ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اورداخلی مور اور امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ کی رہنمائی میں تریبھون سہکاری یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ یونیورسٹی امداد باہمی کے شعبے میں تربیت یافتہ انسانی وسائل کی ضرورت کو پورا کرے گی اور ملک کے نوجوانوں میں امداد باہمی کی روح کو فروغ دے گی، اس کے ساتھ ہی انہیں اس میدان میں کریئر بنانے کی ترغیب دے گی۔
***
ش ح۔ م ع ن- ن ع
Urdu No. 9415
(Release ID: 2118186)
Visitor Counter : 7