امور داخلہ کی وزارت
داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے ہریانہ کے حصار میں مہاراجا اگرسین کے عظیم مجسمے کی نقاب کشائی کی اورنئے تعمیر شدہ آئی سی یو کا افتتاح کیا اور پی جی ہاسٹل کا سنگ بنیاد رکھا
ہریانہ کی سرزمین قدیم زمانے سے ہی بھارت کی ثقافت، اقدار اور روایات کو فروغ دینے اور محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہے
مہاراجا اگرسین نے ریاست پر بوجھ ڈالے بغیر ہر فرد کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کی راہ ہموار کی
وزیر اعظم جناب نریندر مودی بھی مہاراجا اگرسین کے دکھائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں اور ملک کی ترقی کے لیے کوشاں ہیں
مودی حکومت نے عوامی صحت مراکز اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز پر 64,000 کروڑ روپے خرچ کیے، جس سے طبی ڈھانچے کی ایک مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے
اگلے 5 سالوں میں، ملک کے ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج ہوگا
ڈبل انجن حکومت کے تحت ہریانہ ایک بہترین مثال ہے، جہاں ہم خیال افراد اصولی سیاست کر رہے ہیں
سینی حکومت نے ہریانہ میں 80,000 نوجوانوں کو شفاف طریقے سے ملازمتیں فراہم کیں، بغیر کسی رشوت یا سفارش کے
او پی جندل نے عوامی فلاح و بہبود کو منافع سے پہلے، سماجی خدمت کو کاروبار سے پہلے اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے کی اقدار کو فروغ دیا
اگروال برادری میں زیادہ تر لوگ تاجر ہیں، جو ملک کی ترقی میں خدمت کے جذبے کے ساتھ اہم کردار ادا کر رہے ہیں
Posted On:
31 MAR 2025 5:00PM by PIB Delhi
داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج ہریانہ کے حصار میں مہاراجا اگرسین کے عظیم مجسمے کی نقاب کشائی کی، نو تعمیر شدہ آئی سی یو کا افتتاح کیا اور پی جی ہاسٹل کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر ہریانہ کے وزیر اعلیٰ جناب نایب سنگھ سینی سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔
اپنے خطاب میں، مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ ہریانہ کی سرزمین قدیم زمانے سے ہی بھارت کی ثقافت، اقدار اور روایات کو فروغ دینے اور محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہابھارت کے دور سے لے کر آزادی کی جدوجہد اور آزادی کے بعد بھی، ہریانہ کی ملک کی ترقی میں شراکت ہمیشہ بڑے بڑی ریاستوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ اس بڑے اسپتال میں، جہاں تقریباً 5 لاکھ افراد او پی ڈی خدمات سے مستفید ہوتے ہیں، ہر سال 180 طلبہ میڈیکل تعلیم مکمل کرتے ہیں، اور مریضوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، یہ سب او پی جندل کی رکھی ہوئی بنیاد کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ آج مہاراجا اگرسین کے مجسمے کے ساتھ ساتھ نئے تعمیر شدہ آئی سی یو کا افتتاح کیا گیا اور پی جی ہاسٹل کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام اقدامات اس ادارے کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی جانب ایک اور اہم قدم ہیں۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ مہاراجا اگرسین ایک منفرد حکمران تھے، اور کہا جاتا ہے کہ ان کے دور میں دارالحکومت کی آبادی ایک لاکھ تھی۔ جب بھی کوئی نیا فرد وہاں آتا، تو ہر شہری کی طرف سے اسے ایک اینٹ اور ایک روپیہ دیا جاتا تھا تاکہ وہ اپنا گھر بنا سکے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ مہاراجا اگرسین نے ریاست پر بوجھ ڈالے بغیر ہر فرد کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے پورے سماج میں اقدار اور اصولوں کو پروان چڑھایا۔
مہاراجا اگرسین نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کے راج میں کوئی بھوکا نہ سوئے، کوئی بے گھر نہ رہے، اور کسی کو روزگار کی کمی نہ ہو۔ ان تینوں چیزوں کی ضمانت ان کی اچھی حکمرانی نے دی۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ آج اگروال برادری کے تمام خاندانوں میں ہر فرد ایک کاروباری شخصیت ہے، جو ملک کی خدمت کے جذبے کے ساتھ قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی بھی مہاراجہ اگرسین کے دکھائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے 10 سالہ دور حکومت میں ملک کے 25 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے اوپر آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے 4 کروڑ مکانات فراہم کیے، 81 کروڑ لوگوں کو ہر ماہ فی کس 5 کلو مفت راشن دیا، 11 کروڑ خاندانوں کو گیس کنکشن فراہم کیے، اور 12 کروڑ خاندانوں کے لیے بیت الخلاء تعمیر کیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر گھر میں بیت الخلاء فراہم کرنے والی پہلی حکومت ہریانہ حکومت تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے 15 کروڑ لوگوں کو پائپ کے ذریعے پانی فراہم کیا، 60 کروڑ لوگوں کو 5 لاکھ تک کی صحت سہولت فراہم کی، ہر گھر کو بجلی پہنچائی، اور اب کوآپریٹیوز کے ذریعے ہر گھر میں خود روزگاری فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے دور حکومت میں گزشتہ 10 سالوں میں ملک کے مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے شہریوں کی صحت کے حوالے سے ایک جامع نقطہ نظر اپنایا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت نے سب سے پہلے ہر گھر کو گیس سلنڈر فراہم کیا، جو براہ راست خواتین کی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے بعد، یوگا کو عالمی سطح پر مقبول کیا گیا، پھر فٹ انڈیا مشن، تغذیہ مہم، مشن اندردھنش، اور آیوشمان بھارت یوجنا متعارف کروائی گئی، جو 5 لاکھ تک کی صحت سہولت فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات صحت سے جڑے ہوئے ہیں، اور وزیر اعظم مودی نے انہیں ایک متحدہ حکمت عملی کے طور پر مربوط کیا ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت نے طبی بنیادی ڈھانچے کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے عوامی صحت مراکز اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز پر 64,000 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں، جس سے طبی بنیادی ڈھانچے کی ایک مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 10 سالوں میں 730 مربوط عوامی صحت لیبز، 4,382 بلاک پبلک ہیلتھ یونٹس، اور 602 نئے کریٹیکل کیئر بلاکس قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سال 2013-14میں ملک کا صحت بجٹ 33,000 کروڑ روپے تھا، جسے وزیر اعظم مودی نے تین گنا سے زیادہ بڑھا کر 2025-26کے بجٹ میں 1 لاکھ 33 ہزار کروڑ روپے کر دیا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ 2014 میں ملک میں( 7 ایمس (تھے، جبکہ 2024 میں ان کی تعداد بڑھ کر 23 ہو چکی ہے۔ اسی طرح، 2014 میں ملک میں 387 میڈیکل کالجز تھے، اور آج ان کی تعداد بڑھ کر 766 ہو گئی ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ ایم بی بی ایس (ایم بی بی ایس ) کی نشستیں، جو 2014 میں 51,000 تھیں، اب بڑھ کر 1.15 لاکھ ہو گئی ہیں، اور اگلے 5 سالوں میں مزید 85,000 نشستیں شامل کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2014 میں (پی جی (کی 31,000 نشستیں تھیں، جو اب بڑھ کر 73,000 ہو گئی ہیں۔ جناب امت شاہ نے یقین دلایا کہ آئندہ 5 سالوں میں ملک کا کوئی بھی ضلع ایسا نہیں ہوگا جہاں میڈیکل کالج موجود نہ ہو۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ ہریانہ اصولوں پر مبنی سیاست کی بہترین مثال ہے، جہاں ہم خیال لوگ ڈبل انجن حکومت میں شامل ہیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ پچھلی حکومتوں میں ذات پات کی بنیاد پر بدعنوانی ہوتی تھی، اور نوکریاں رشوت اور سفارش کے ذریعے دی جاتی تھیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ ہریانہ میں سینی حکومت نے 80,000 نوجوانوں کو شفاف طریقے سے ملازمتیں فراہم کیں، بغیر رشوت یا سفارش کے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے 10 سالوں میں ہریانہ کے کھلاڑیوں نے تین گنا زیادہ تمغے جیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہریانہ باسمتی چاول کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، اور فوج میں ہر 10 میں سے ایک فوجی ہریانہ سے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہریانہ وہ ریاست ہے جہاں سب سے زیادہ 24 فصلیں کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خریدی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ، ہریانہ پہلا ریاست تھی جس نے "لال ڈور" کے ریڈ لائن کے اندر زمین کی ملکیت کے حقوق دیے، یہ یقینی بنایا کہ کوئی بھی پنچایت سربراہ ناخواندہ نہ ہو، اور پنچایتوں میں 50 فیصد خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہریانہ کا بجٹ، جو پہلے 37,000 کروڑ روپے تھا، نایب سینی حکومت کے تحت بڑھا کر 2 لاکھ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے ذکر کیا کہ 2004 سے 2014 کے درمیان ہریانہ کو مرکزی حکومت سے 41,000 کروڑ روپے ملے، جبکہ مودی حکومت نے 2014 سے 2024 کے درمیان ہریانہ کو 1 لاکھ 43 ہزار کروڑ روپے فراہم کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ، ہریانہ میں 1 لاکھ 26 ہزار کروڑ روپے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے، 72 ہزار کروڑ روپے کی سڑکوں کی تعمیر، اور 54 ہزار کروڑ روپے کے ریلوے منصوبے بھی مکمل کیے گئے ہیں۔
******
ش ح۔ ع ح۔ت ع
Uno-9220
(Release ID: 2117063)
Visitor Counter : 24