وزارت دفاع
سابق فوجیوں کے لیے روزگار کے مواقع
Posted On:
28 MAR 2025 3:11PM by PIB Delhi
وزارت دفاع کے وزیر مملکت جناب سنجے سیٹھ نے آج لوک سبھا میں جناب دیویش شاکیا کے سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت نے ملک میں سابق فوجیوں کے لیے مناسب پنشن اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے موجودہ ضابطے کے مطابق مناسب اقدامات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ‘ ون رینک ، ون پیشن’(او آر او پی)) اسکیم کا مقصد ایک ہی رینک میں اور ایک ہی مدت کی خدمت مکمل کرنے والے موجودہ اور سابق پنشنرز کے درمیان پنشن کی شرحوں کے فرق کو کم کرنا ہے۔ حکومت کی جانب سے سابق فوجیوں کو ان کی ضروریات کی بنیاد پر سرکاری اداروں، پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ، کارپوریٹ ہاؤسز، پرائیویٹ سیکٹر، سینٹرل پیرا ملٹری فورسز وغیرہ میں ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف ری سیٹلمنٹ/ اسکل ڈیولپمنٹ ٹریننگ کورسز، روزگار اور خود روزگار کی اسکیموں کی بھی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ سینٹرل پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز(سی پی ایس یو ایز) اور پبلک سیکٹر بینکوں میں سابق فوجیوں کے لیے گروپ‘ سی‘ میں 14.5؍فیصد اور گروپ 'ڈی' میں 24.5؍فیصد اسامیوں کا ریزرویشن ہے۔
مرکزی پبلک سیکٹر انٹرپرائزز(سی پی ایس یو ایز) اور پبلک سیکٹر بینکوں میں سابق فوجیوں کے لیے مختص کوٹے میں معذور سابق فوجیوں اور کارروائی میں جاں بحق ہونے والے سروس اہلکاروں کےلواحقین کے لیے 4.5؍فیصد اسامیاں شامل ہیں۔
سابق فوجیوں کی بیواؤں اور جنگی حادثے میں جاں بحق ہونے والے سروس اہلکاروں کے بچوں کے لیے ہندوستانی فوج کے افسران کی سیلیکشن میں مخصوص اسامیاں رکھی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے شارٹ سروس کمیشن میں 5؍فیصد ویکینسیز دفاعی اہلکاروں کی بیواؤں کو فراہم کی جاتی ہیں، جو خدمات کے دوران جاں بحق ہو گئے ہیں۔ بیوہ/سابق فوجیوں کے بچوں کو متعلقہ ریجمنٹل مراکز میں داخلہ دیا جاتا ہے اور انہیں اگنی پتھ اسکیم اور ریگولر کیڈر کے تحت بھرتی کے لیے آن لائن کامن انٹری امتحان میں اضافی نمبر دیے جاتے ہیں۔
جو فوجی خدمت کے دوران فوجی خدمات سے متعلق وجوہات کی بنا پر جاں بحق ہوئے، ان کے لیے خصوصی فیملی پنشن یا لبرلائزڈ فیملی پنشن جیسا کہ واجب تھا، منظور کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ واجب معاوضہ/گریجوئٹی بھی منظور کی گئی ہے۔ یہ تمام اقدامات وقت کی پابندی کے ساتھ کیے گئے ہیں۔
ملک میں سابق فوجیوں کی کل تعداد ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے مندرجہ ذیل ہے:
31 دسمبر 2023 تک سابق فوجیوں (ای ایس ایم ایز)کا مردم شماری کا ڈیٹا
|
نمبر شمار
|
ریاست ؍ مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
آرمی
|
بحریہ
|
فضائیہ
|
Total
|
1.
|
آندھرا پردیش
|
63,574
|
6,665
|
7,673
|
77,912
|
2.
|
اروناچل پردیش
|
980
|
5
|
1
|
986
|
3.
|
آسام
|
38,316
|
914
|
2,732
|
41,962
|
4.
|
بہار
|
100,849
|
15,746
|
16,931
|
133,526
|
5.
|
چھتیس گڑھ
|
6,746
|
334
|
411
|
7,491
|
6.
|
گوا
|
1,113
|
1,030
|
202
|
2,345
|
7.
|
گجرات
|
27,315
|
1,141
|
5,019
|
33,475
|
-
|
ہریانہ
|
154,153
|
9,258
|
12,226
|
175,637
|
9.
|
ہماچل پردیش
|
121,637
|
4,343
|
2,596
|
128,576
|
10.
|
جھارکھنڈ
|
25,680
|
1,666
|
2,747
|
30,093
|
11.
|
کرناٹک
|
78,579
|
3,089
|
12,335
|
94,003
|
12.
|
کیرالہ
|
143,296
|
14,506
|
23,734
|
181,536
|
13.
|
مدھیہ پردیش
|
53,344
|
1,566
|
2,118
|
57,028
|
14.
|
مہاراشٹر
|
167,788
|
15,533
|
13,166
|
196,487
|
15.
|
منی پور
|
8,397
|
150
|
197
|
8,744
|
16.
|
میگھالیہ
|
2,830
|
56
|
86
|
2,972
|
17.
|
میزورم
|
5,394
|
51
|
61
|
5,506
|
18.
|
ناگالینڈ
|
3,221
|
45
|
24
|
3,290
|
19.
|
اوڈیشہ
|
40,067
|
4,383
|
7,887
|
52,337
|
20.
|
پنجاب
|
335,328
|
9,767
|
14,369
|
359,464
|
21.
|
راجستھان
|
193,825
|
8,264
|
7,434
|
209,523
|
22.
|
سکم
|
1,000
|
63
|
12
|
1,075
|
23.
|
تمل ناڈو
|
104,533
|
4,015
|
11,975
|
120,523
|
24.
|
تلنگانہ
|
19,455
|
1,532
|
7,213
|
28,200
|
25.
|
تریپورہ
|
2,357
|
43
|
128
|
2,528
|
26.
|
اتر پردیش
|
349,880
|
29,534
|
41,731
|
421,145
|
27.
|
اتراکھنڈ
|
132,576
|
3,470
|
3,315
|
139,361
|
28.
|
مغربی بنگال
|
83,542
|
5,906
|
14,745
|
104,193
|
29.
|
انڈمان اور نکوبار (مرکز کے زیر انتظام علاقہ)
|
803
|
178
|
100
|
1,081
|
30.
|
چندی گڑھ (مرکز کے زیر انتظام علاقہ)
|
6,189
|
458
|
2,513
|
9,160
|
31.
|
دہلی(مرکز کے زیر انتظام علاقہ)
|
46,831
|
5,748
|
10,766
|
63,345
|
32.
|
جموں و کشمیر (مرکز کے زیر انتظام علاقہ)
|
74,940
|
789
|
895
|
76,624
|
33.
|
لیہہ اور لداخ (مرکز کے زیر انتظام علاقہ)
|
6,313
|
11
|
30
|
6,354
|
34.
|
پانڈیچیری (مرکز کے زیر انتظام علاقہ)
|
1,864
|
134
|
471
|
2,469
|
|
کل
|
2,402,715
|
150,393
|
225,843
|
2,778,951
|
|
|
|
|
|
|
|
* * * ** * * *
ش ح۔م ع ن-ا ک م
U-NO: 9100
(Release ID: 2116187)
|